Police handoutپیر کے روز وکرم ڈگوا کو عمر قید کی سزا سنائی گئی اور اسے کم از کم 21 سال قید کا حکم دیا گیا
انتباہ: اس خبر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ افراد کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
باڈی کیم فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہتھکڑی میں جکڑے طالب علم ہنری نوواک پولیس افسران سے کہہ رہے ہیں کہ ’میں سانس نہیں لے سکتا‘۔ وہ مرنے کے قریب تھے۔
یہ واقعہ سنہ 2025 میں پیش آیا جب 3 دسمبر کی رات ہنری نوواک ساؤتھمپٹن میں دوستوں کے ساتھ رات گزارنے کے بعد تنہا پیدل گھر جا رہے تھے۔
ہتھیاروں کے جنون میں مبتلا قاتل 23 سالہ وکرم ڈِگوا نے 18 سالہ طالب علم ہنری نوواک کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
اگرچہ وکرم ڈِگوا نے اپنے کپڑوں کے نیچے روایتی کرپان پہنی ہوئی تھی جس کے متعلق ڈگوا نے کہا کہ اپنے سکھ مذہب کے تحت وہ یہ کرپان ساتھ رکھتے تھے۔ لیکن جس ہتھیار سے انھوں نے ہنری نوواک پر حملہ کیا، وہ اس سے بھی بڑا چاقو تھا۔ انھوں نے یہ کپڑوں کے اوپر ایک میان میں پہنا ہوا تھا۔
یہ ہتھیار 21 سینٹی میٹر (8 انچ) لمبا بلیڈ یعنی کرپان تھا۔ نوواک کو مارنے کے بعد ڈگوا نے یہ کرپان اپنی والدہ کو دے دیا اور بعد میں یہ پولیس کو ان کے خاندانی گھر سے 20 سے زائد دیگر ہتھیاروں کے ساتھ ملا۔
قاتل وکرم ڈگوا نے جائے وقوعہ پر پولیس سے جھوٹ بولا کہ وہ نسل پرستانہ حملے کا شکار ہوئے ہیں۔
نوواک کو پانچ مرتبہ چاقو مارا گیا، جن میں ان کی ٹانگوں کے پچھلے حصے میں دو وار، ایک چہرے پر اور دل پر ایک مہلک وار کیا گیا۔
پولیس کی جانب سے جاری کی گئی فوٹیج، جو نوواک کے خاندان کی اجازت سے شائع کی گئی، میں دکھایا گیا ہے کہ وہ التجا کر رہے ہیں کہ ’مجھے چاقو مارا گیا ہے‘ اور ’میں سانس نہیں لے سکتا‘۔ اس پر ایک افسر جواب دیتا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا دوست‘۔
فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ افسران نوواک کو کروٹ کے بل لٹاتے ہیں اور ان کے ہاتھ پیچھے کی طرف کر کے ہتھکڑیاں لگا دیتے ہیں۔
چند منٹ بعد نوواکبے ہوش ہو جاتے ہیں۔ ایک افسر انھیں بتاتا ہے کہ انھیں حملے کے الزام میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔
اس کے بعد پولیس نوواک کی حالت جانچنے کے لیے ایمبولینس کو کال کرتی ہے۔
عارضی ڈپٹی چیف کانسٹیبل رابرٹ فرانس نے معذرت کی اور کہا کہ افسران کو ڈگوا کے بھائی کی جانب سے کی گئی 999 کال میں گمراہ کیا گیا تھا اور انھیں ایک ’نہایت پیچیدہ‘ جائے واردات کا سامنا تھا۔
وکرم ڈگوا کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جس میں کم از کم 21 سال قید شامل ہے۔
BBCعدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ہنری نوواک کے والد مارک نے کہا کہ ان کا بیٹا ’وقار کے ساتھ نہیں مرا‘۔
جج ولیم موزلی کے سی نے ساؤتھمپٹن کراؤن کورٹ میں کھچا کھچ بھرے کمرۂ عدالت کو بتایا کہ ڈگوا نے اپنے خاندان اور اپنے مذہب کو ’شرمندگی‘ سے دوچار کیا ہے۔
موزلی نے ڈگوا کی جانب سے کیے گئے نسل پرستی کے دعوؤں کو مسترد کر دیا، اور مزید کہا کہ اس کے اقدامات نے ’ساؤتھمپٹن اور ملک بھر میں نسلی کشیدگی کو ہوا دی جس کے باعث بہت سے سکھ اپنی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہو گئے ہیں۔‘
موزلی نے کہا ’تم ہوش میں تھے لیکن ایک بڑا سکھ خنجر (کرپان) اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ڈگوا نے ایک ’بہت پیارے‘ نوجوان کو قتل کیا، جس سے اس کے خاندان کو ’زندگی بھر کا صدمہ‘ پہنچا۔
انڈپینڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ (آئی او پی سی) کا کہنا ہے کہ پولیس کے اقدامات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل ہاؤس آف کامنز میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بتایا کہ ایک پولیس افسر، جن کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کی غلط شناخت کی گئی اور انھیں اور ان کے خاندان کو تحفظ کے لیے کہیں اور منتقل ہونا پڑا۔
اٹارنی جنرل کا دفتر بھی ڈگوا کو دی گئی سزا پر غور کر رہا ہے، کیونکہ اسے ’متعدد درخواستیں‘ موصول ہوئی ہیں کہ اسے غیر معمولی طور پر نرم سزا (یو ایل ایس) سکیم کے تحت دوبارہ دیکھا جائے۔
سکھ خاتون کو مسلمان سمجھ کر ریپ کرنے والے شخص کو عمر قید: ’تم خواتین کے لیے خطرہ ہو‘برطانوی پولیس کے خواتین مخالف اور نسل پرستانہ رویے بی بی سی کی خفیہ فلمنگ میں بے نقابنوعمر لڑکیوں کے ’گھناؤنے استحصال‘ پر برطانوی گرومنگ گینگ کو سزائیں: ’وہ میرے ساتھ سیکس کرتا اور پھر مجھے دوسرے مردوں کے پاس بھیجا جاتا‘گرومنگ گینگ کے پاکستانی نژاد سرغنہ کو 35 سال قید کی سزا: ’جنسی استحصال کرنے والے اتنے زیادہ تھے کہ اُن کی گنتی مشکل تھی‘
نوواک کا خاندان، جو ایسیکس کے علاقے شیفرڈ ہنڈرڈ سے تعلق رکھتے ہیں، نے پولیس کے رویے کو ’غیر انسانی اور تذلیل آمیز‘ قرار دیا ہے اور پولیس نے معذرت کی ہے۔
ان کے والد مارک نے کہا: ’ہنری نے نو مرتبہ افسران کو بتایا کہ وہ سانس نہیں لے سکتا۔ اس نے چار مرتبہ کہا کہ اسے چاقو مارا گیا ہے۔ ہنری کو پتھروں پر گھسیٹا گیا، اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف موڑے گئے اور اسے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے اور ڈگوا کے ساتھ سلوک میں فرق ’ناقابل برداشت‘ تھا۔
انھوں نے مزید کہا: ’ہنری کی موت ساؤتھمپٹن کی سڑکوں پر پولیس حراست میں نہیں ہونا چاہیے تھی۔‘
فوٹیج میں ایک پولیس افسر کو جائے وقوعہ پر پہنچ کر کہتے سنا جا سکتا ہے: ’تمہارا نام کیا ہے؟‘
نوواک، جو زمین پر چت لیٹا ہے، مدھم آواز میں جواب دیتا ہے: ’ہنری‘۔
ویڈیو آگے بڑھتی ہے تو ڈگوا فریم میں آتا ہے۔
وہ دعویٰ کرتا ہے کہ نوواک نے اس کی پگڑی اتار دی اور اسے بالوں سے پکڑا۔
افسر ڈگوا سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ زخمی ہے، جس پر وہ جواب دیتا ہے: ’ہاں، ہاں، یہاں میری آنکھ سوجی ہوئی ہے، یہاں تھوڑا سا نشان ہے۔‘
پھر افسران نوواک کی جانب متوجہ ہوتے ہیں، جو بار بار کہتا ہے ’مجھے چاقو مارا گیا ہے‘ اور پھر ’میں سانس نہیں لے سکتا‘ جبکہ اس وقت اسے بٹھا کر ہتھکڑیاں لگائی جا رہی ہیں۔
فوٹیج جاری رہتی ہے تو افسر کو یہ پوچھتے سنا جا سکتا ہے کہ ہنری کو کہاں چاقو مارا گیا۔ پھر وہ کہتا ہے: ’مجھے نہیں لگتا دوست۔‘
ہتھکڑیاں لگاتے وقت نوواک مزید تین بار کہتا ہے ’میں سانس نہیں لے سکتا۔‘
افسر کو یہ کہتے سنا جاتا ہے: ’یہ کہہ رہا ہے کہ اسے چاقو مارا گیا ہے، تو ذرا چیک کر لیتے ہیں۔‘
وہ مختصر طور پر نوواک کی قمیص کمر کے قریب سے اٹھاتا ہے، اس کے بعد اسے ایک طرف لیٹا دیا جاتا ہے۔
پھر ایک خاتون افسر پوچھتی ہے: ’تمہیں کیا لگتا ہے اسے کہاں چاقو مارا گیا؟ چہرے پر؟‘
ایک مرد آواز جواب دیتی ہے: ’اسے چاقو نہیں مارا گیا۔‘
نوواک، جو جواب دینے کی حالت میں نہیں نظر آتا، کو پھر بتایا جاتا ہے کہ اسے حملے کے الزام میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔
ہیمپشائر پولیس کے ڈپٹی چیف کانسٹیبل رابرٹ فرانس نے کہا کہ نوواک کے ساتھ بات چیت کے تین منٹ کے اندر افسران سی پی آر شروع کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا: ’یہ ایک مکمل سانحہ ہے اور مجھے افسوس ہے کہ وہ اس رات ہنری کو بچا نہیں سکے اور مجھے افسوس ہے کہ ہنری کو ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کیا گیا جب وہ ہوش کھو رہا تھا۔‘
انھوں نے کہا: ’عدالت میں بیان دینے والے پیتھالوجسٹ نے واضح کہا کہ اس دن افسران کچھ بھی کرتے، ہنری کو نہیں بچایا جا سکتا تھا۔
’اس کا زخم گہرا اور اندرونی تھا، شدید خون بہہ رہا تھا مگر اندرونی تھا۔‘
Crown Prosecution Serviceوہ چاقو جو وکرم ڈگوا کے پاس تھا
ہاؤس آف کامنز سے خطاب کرتے ہوئے شبانہ محمود نے چاقو مارے جانے کو’ایک شیطانی عمل‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ’نوواک خاندان کو خراج تحسین پیش‘ کرنا چاہتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ باڈی کیم فوٹیج دیکھنا ’پریشان کن اور افسوسناک‘ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’آئی او پی سی کو حقیقت تک پہنچنے کے لیے بااختیار بنایا جائے گا اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ اگر ضروری ہو تو اس کے نتائج بھی سامنے آئیں۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ اس ’ہولناک جرم‘ پر کچھ ردعمل میں ایک ’خطرناک رجحان‘ بھی دیکھا گیا ہے۔
سر کیئر سٹارمر نے ایکس پر پوسٹ میں کہا: ’یہ ایک خوفناک، چونکا دینے والا کیس ہے۔ ہمیں چاقو کے جرائم کے خوفناک سلسلے کو ختم کرنا ہوگا۔‘
ریفارم یو کے کے رہنما نائجل فراج نے سوشل میڈیا پر کہا کہ لوگوں کو نوواک کے ساتھ سلوک پر ’سرد اور غصے‘ سے ردعمل دینا چاہیے۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہنری کے خاندان نے اس کا جواب انتہائی باوقار طریقے سے دیا ہے‘ اور دعویٰ کیا کہ برطانیہ میں ایک ’دوہرا معیار موجود ہے جہاں سفید فام افراد کے حقوق اور مراعات نسلی اقلیتوں کے مقابلے میں کم اہم ہیں۔‘
کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈنک نے فراج پر تقسیم کو گہرا کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پولیس کو نسل سے قطع نظر سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرنا چاہیے۔
لبرل ڈیموکریٹ رہنما ایڈ ڈیوی نے کہا کہ یہ ’ایک شیطانی قتل تھا جسے پولیس کے ردعمل نے مزید بدتر بنا دیا۔‘
ہیمپشائر اور آئل آف وائٹ پولیس اینڈ کرائم کمشنر ڈونا جونز نے نوواک کی موت کو ’قومی سانحہ‘ قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ وہ اس کے خاندان سے ملاقات کر رہی ہیں اور وزیر اعظم کو خط لکھا ہے جس میں مذہبی اور رسمی مقاصد کے لیے دھاری دار ہتھیار رکھنے کے قوانین کے ’فوری جائزے‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل کے ترجمان نے کہا: ’ہمیں وکرم ڈگوا کی سزا کو غیر معمولی حد تک نرم سزا کے منصوبے کے تحت دیکھنے کے لیے متعدد درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔‘
’قانونی افسران کے پاس سزا سنائے جانے کے بعد 28 دن ہوتے ہیں کہ وہ کیس کا بغور جائزہ لیں اور فیصلہ کریں۔‘
موجودہ قانون کے تحت، سکھ مذہب پر عمل کرنے والوں کو ایک چھوٹی خم دار تلوار، جسے کرپان کہا جاتا ہے، مذہبی مقصد کے لیے اپنے ساتھ رکھنے کی قانونی اجازت ہوتی ہے۔
اگرچہ ڈگوا نے اپنے کپڑوں کے نیچے روایتی کرپان پہنی ہوئی تھی، لیکن جس ہتھیار سے اس نے نوواک پر حملہ کیا وہ کہیں بڑا تھا اور اس نے اسے کپڑوں کے اوپر ایک میان میں پہنا ہوا تھا۔ یہ ہتھیار بعد میں پولیس کو ان کے خاندانی گھر سے 20 سے زائد دیگر ہتھیاروں کے ساتھ ملا۔
جب ڈگوا نے اپنی والدہ کرن کور سے کہا کہ وہ اسے جائے وقوعہ سے لے جائیں تو اس نے اسے ’شستر‘ کہا، جو پنجابی میں ہتھیار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
کرن کور کو ایک مجرم کی مدد کرنے کے الزام میں اس ماہ کے آخر میں سزا سنائی جائے گی۔
سکھ برادری نے اس قتل کی سخت مذمت کی ہے اور بی بی سی کو بتایا کہ ماضی میں ڈگوا کے رویے پر تشویش کے باعث ساؤتھمپٹن میں ایک عبادت گاہ آنے سے روک دیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ نوواک کے قتل سے بہت پہلے ہوا تھا۔
سکھ فیڈریشن نے کہا کہ ڈگوا کے زیر استعمال بلیڈ کرپان نہیں تھا، جبکہ سکھ پریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ برطانیہ میں تمام سکھوں کو کرپان کے قوانین اور ذمہ داری سے متعلق آگاہ کرنے کے منصوبے جاری ہیں۔
ایک بیان میں، ڈگوا کے خاندان نے کہا کہ وہ ’نوواک خاندان کو ہونے والے درد اور تکلیف پر دل سے معذرت خواہ ہیں۔‘
اس میں مزید کہا گیا: ’ہم وقت کو پیچھے لے جانا چاہتے ہیں تاکہ ہنری اور وکرم کی راہیں اس رات نہ ملتیں۔ ہم جو ہو چکا اسے بدل نہیں سکتے، ہم صرف یہ امید کرتے ہیں کہ اس کے نام پر مزید تکلیف نہ ہو۔‘
خاندان نے مزید کہا کہ وہ ’اپنے بیٹے کے عمل پر سکھ برادری سے معذرت کرتے ہیں جس سے بلاجواز بدنامی ہوئی‘ اور درخواست کی کہ ’اس سانحے کو تقسیم یا دشمنی بھڑکانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔‘
آئی او پی سی کے مطابق، واقعے پر بلائے گئے افسران کو اب بھی گواہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹر آئی او پی سی ڈیرک کیمبل نے کہا: ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس کیس نے جائے وقوعہ پر موجود افسران کے اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ مجرمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد پولیس کی باڈی کیم فوٹیج کے چند منٹ جاری کیے گئے ہیں۔‘
’ہماری جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر ہم بڑی مقدار میں پولیس فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں، جسے ہمیں دیگر شواہد کے ساتھ سیاق و سباق میں دیکھنا ہوگا، جن میں قتل کے مقدمے میں پیش کیے گئے مواد کا جائزہ بھی شامل ہے، تاکہ مکمل حالات کا تعین کیا جا سکے۔‘
نوعمر لڑکیوں کے ’گھناؤنے استحصال‘ پر برطانوی گرومنگ گینگ کو سزائیں: ’وہ میرے ساتھ سیکس کرتا اور پھر مجھے دوسرے مردوں کے پاس بھیجا جاتا‘سکھ خاتون کو مسلمان سمجھ کر ریپ کرنے والے شخص کو عمر قید: ’تم خواتین کے لیے خطرہ ہو‘برطانوی خفیہ ایجنسیوں پر مخبری کا الزام جو انڈین نژاد شہری پر ’تشدد‘ کی وجہ بنابرطانوی پولیس کے خواتین مخالف اور نسل پرستانہ رویے بی بی سی کی خفیہ فلمنگ میں بے نقابگرومنگ گینگ کے پاکستانی نژاد سرغنہ کو 35 سال قید کی سزا: ’جنسی استحصال کرنے والے اتنے زیادہ تھے کہ اُن کی گنتی مشکل تھی‘’جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے لیے صرف غیر سفید فام ہونا کافی ہے‘: برطانیہ میں ریپ کے واقعات کے بعد ایشیائی خواتین خوف میں مبتلا