قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ٹرمپ سے درخواست: ایران پر ’بڑا حملہ‘ موخر ہونے سے پہلے کیا ہوتا رہا؟

بی بی سی اردو  |  May 19, 2026

Reuters

’آپ نے ایران پر حملہ کیوں نہیں کیا؟‘

رپورٹر کے اس سوال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’دوسرے ملکوں نے مجھے اس سے روکا۔ ہم کل ایران پر ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ میں نے اس منصوبے کو روک دیا ہے، شاید ہمیشہ کے لیے۔ لیکن ممکنہ طور پر کچھ دیر کے لیے۔‘

اس بارے میں ٹرمپ نے پہلے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ انھوں نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی درخواست پر اس ’بڑے حملے‘ کا منصوبہ موخر کیا ہے۔ ٹرمپ کے بقول فی الحال مذاکرات کا ’سنجیدہ‘ مرحلہ جاری ہے۔

ٹرمپ نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ’کسی بھی لمحے ایران پر مکمل، بڑے پیمانے کے حملے کے لیے آگے بڑھنے کو تیار ہوگا۔‘

اسرائیلی اور امریکی افواج نے 28 فروری کو ایران پر بڑے فضائی حملے شروع کیے جبکہ تہران نے خلیج کے مختلف ممالک میں اسرائیل اور امریکی اہداف پر ڈرونز اور میزائل داغ کر جواب دیا۔

اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان اسلام آباد کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تاہم حالات اس کے تناؤ کا شکار رہے جس دوران ایران اور خلیجی ممالک پر دوبارہ حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

محسن نقوی کا دورہ ایران اور اسحاق ڈار کی پاکستانی مشنز کو ہدایت

ایران کے دورے پر موجود پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران ’دونوں فریقین نے دو طرفہ تعلقات کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کی ثالثی میں ہونے والے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر بھی گفتگو کی۔‘

اس سے قبل دورۂ ایران کے دوران محسن نقوی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

پیر کو پاکستان کی طرف سے پہلے متحدہ عرب امارات میں ایک جوہری پاور پلانٹ پر حملے اور اس کے بعد سعودی عرب میں ڈرون حملوں کی مذمت کی گئی۔ دونوں ’برادر‘ ملکوں پر ان حملوں کو علاقائی امن اور استحکام کی سنگین خلاف ورزی بھی قرار دیا گیا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ریجنل انوائز کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے اختتامی کلمات میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے ’دیرینہ، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے‘ اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’سیاسی، اقتصادی اور عوامی روابط سمیت ہر شعبے میں ان اہم شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔‘

انھوں نے اقتصادی تعاون کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کو بھی دہرایا۔

انھوں نے ’خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور سہولت کار کردار کو بھی اجاگر کیا اور مسلسل رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔‘

نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ نے وزارتِ خارجہ، سفارتی مشنز کے سربراہان اور متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطہ مزید مضبوط رکھا جائے، فعال سفارتی روابط جاری رکھے جائیں اور سفارشات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

جنگ بندی کے بعد امریکہ اور ایران اس وقت کہاں کھڑے ہیں؟

پیر کے روز ایران کا کہنا تھا کہ اس نے امریکہ کی تازہ تجویز کا جواب دے دیا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ تبادلۂ خیال پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری ہے۔

اس سے قبل ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ تہران کو کوئی ٹھوس رعایت دینے میں ناکام رہا ہے۔

جبکہ رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہماری ایران سے بات چیت ہوئی ہے اور ہم یہ دیکھیں گے کہ ان کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات اور کچھ دیگر ملکوں نے ایران پر حملہ کرنے سے روکا۔ ٹرمپ کے بقول انھیں کہا گیا کہ ’اگر ہم یہ منصوبہ دو، تین دنوں کے لیے روک دیں یعنی قلیل مدت کے لیے کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے یہ قابل قبول ہو گا اگر ایران کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار نہ ہو۔ ’ہم نے اسرائیل کو مطلع کر دیا ہے۔ ہم نے مشرق وسطیٰ میں دیگر ملکوں کو بھی مطلع کیا ہے جو ہمارے ساتھ اس عمل میں شامل ہیں۔ یہ مثبت پیشرفت ہے لیکن ہم دیکھیں گے کیا اس کا کوئی نتیجہ نکلتا ہے۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کے دوران کئی بار ایسا لگا کہ وہ معاہدے کے قریب ہیں لیکن ’اس بار کچھ مختلف ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ کیسے امریکہ ایران پر ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا کیونکہ ’ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔‘

دوسری طرف ایران کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے امریکہ سے کہا کہ وہ ’سٹریٹیجک غلطیاں اور غلط اندازے نہ دہرائے۔‘

اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کا مقصد مذاکرات کو آسان بنانا تھا۔ اگرچہ جنگ بندی برقرار رہی ہے تاہم کچھ جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔

ایران نے آبنائے ہرمز پر بھی اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے جس کے نتیجے میں یہ اہم آبی گزرگاہ عملی طور پر بند ہے۔ اس گزرگاہ کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب امریکہ تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے تاکہ وہ اس کی شرائط مان لے۔

متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے ’خفیہ دورے‘ کی تردید کیوں کی اور اسرائیل کے اعلان میں سعودی عرب کے لیے کیا پیغام چھپا ہے؟جارحانہ بیانات، ’وسیع فوجی تیاریاں‘ اور محسن نقوی کا ’غیر اعلانیہ دورہِ ایران‘: کیا امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ کر رہا ہے؟انڈین آرمی چیف کی پاکستان کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکی: اس طرح کا خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، پاکستانی فوج کا جوابپاکستان میں ایک بار پھر ’سائفر‘ کی بازگشت: ملکی سیاست میں موضوع گفتگو بننے والے ’حساس سفارتی مراسلے‘ کی داستانامریکی عوام کی ناراضی اور مجتبی خامنہ ای کا پیغام

ایران کے حوالے سے ٹرمپ کا تازہ اعلان ان کی مقبولیت میں کمی کے دوران سامنے آیا ہے، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب مختلف سروے سے عندیہ ملتا ہے کہ ایران جنگ امریکہ میں تیزی سے غیر مقبول ہو رہی ہے۔

نیو یارک ٹائمز اور سیینا کے پیر کو شائع ہونے والے سروے کے مطابق 64 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ ’غلط تھا۔‘

سروے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف 37 فیصد ووٹرز صدر کے طور پر ٹرمپ کی کارکردگی سے ’مطمئن ہیں۔‘

یہ ریپبلکن جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں درپیش چیلنجز ظاہر کرتا ہے جس میں جنگ، معیشت اور امیگریشن سمیت دیگر امور پر عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

بظاہر ایک اور وجہ یہ ہے کہ خلیج کی عرب ریاستوں کو خدشہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے مزید حملوں کے بعد ایران کس طرح ردعمل دے سکتا ہے۔

ایران کے پاس ڈرونز اور میزائلوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن کے ذریعے وہ ہمسایہ ممالک، ان کے ہوائی اڈوں، پیٹروکیمیکل تنصیبات اور حتی کہ بڑھتی گرمی کے دوران پینے کے صاف پانی کے لیے قائم اہم ڈی سیلینیشن پلانٹس پر حملے دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔

EPAمجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب بیانات میں خبردار کیا گیا کہ ’نئی محاذ کھولے جائیں گے جہاں دشمن کو کم تجربہ ہوگا‘

پیر کی رات ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب بیانات شائع کیے جن میں خبردار کیا گیا کہ ’نئی محاذ کھولے جائیں گے جہاں دشمن کو کم تجربہ ہوگا اور وہ زیادہ کمزور ہوگا۔‘

تسنیم نے بظاہر خامنہ ای کے 12 مارچ کے بیانات کو دوبارہ شائع کیا ہے۔ بعض ایرانی ذرائع ابلاغ ان کے سابق تحریری پیغامات دوبارہ شائع کرتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ٹرمپ نے اتوار کر خبردار کیا تھا کہ ’ایران کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور انھیں فوراً قدم اٹھانا چاہیے، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔‘

چند روز قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ جنگ بندی ’انتہائی نازک حالت‘ میں ہے کیونکہ انھوں نے تہران کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ مطالبات ’ذمہ دارانہ‘ ہیں۔

تہران اور واشنگٹن میں کون سی نئی تجاویز زیرِ غور ہیں؟

ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کے مطالبات میں تمام محاذوں پر فوری طور پر جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔ اس میں تین چیزیں شامل ہیں: لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیلی حملے، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران پر مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت۔

اطلاعات کے مطابق ان مطالبات میں جنگی نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری بھی شامل ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نے اتوار کو کہا کہ واشنگٹن نے تہران کی تجویز کے جواب میں پانچ شرائط پیش کیں۔

اطلاعات کے مطابق ان میں یہ مطالبہ شامل ہے کہ ایران صرف ایک جوہری تنصیب کو فعال رکھے اور بلند سطح تک افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو امریکہ منتقل کر دے۔

جمعے کے روز ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کی 20 سالہ معطلی قبول کر سکتے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تنازع رہا ہے۔ یہ بظاہر امریکہ کے اس موقف سے مختلف ہے جس میں ہمیشہ کے لیے ایٹمی ہتھیار کی دوڑ سے دور رہنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔

ایک طرف امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کا دعویٰ ہے کہ ایران یورینیئم افزودگی کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر دوسری طرف تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

جارحانہ بیانات، ’وسیع فوجی تیاریاں‘ اور محسن نقوی کا ’غیر اعلانیہ دورہِ ایران‘: کیا امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ کر رہا ہے؟انڈین آرمی چیف کی پاکستان کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکی: اس طرح کا خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، پاکستانی فوج کا جوابآبنائے ہرمز سے مزاحمت کے محور تک: وہ نکات جن کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیںمتحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے ’خفیہ دورے‘ کی تردید کیوں کی اور اسرائیل کے اعلان میں سعودی عرب کے لیے کیا پیغام چھپا ہے؟پاکستان میں ایک بار پھر ’سائفر‘ کی بازگشت: ملکی سیاست میں موضوع گفتگو بننے والے ’حساس سفارتی مراسلے‘ کی داستان
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More