بغیر شرٹ گھڑ سواری سے ’روسی نجات دہندہ‘ تک، پوتن تصویر بنوانے کے ماہر کیسے بنے؟

بی بی سی اردو  |  Jun 02, 2026

BBC

ولادیمیر پوتن اپنے دور صدارت میں ہمیشہ اس بات سے آگاہ رہے کہ تصاویر اور ویڈیوز لوگوں پر کتنا گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

جب میں نے 2001 میں پہلی بار ان کا انٹرویو کیا تو کیمرا آن ہونے سے چند لمحے پہلے ایک معاون نے جلدی سے میز پر رکھے پانی کے گلاس ہٹا دیے۔

میں نے پوچھا کہ ’آپ نے ایسا کیوں کیا؟‘

انھوں نے جواب دیا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ کوئی یہ سمجھے کہ یہ ووڈکا (شراب) کے گلاس ہیں۔ اور ہم یہ خطرہ بھی نہیں لے سکتے کہ لائیو ٹی وی پر جاتے وقت گلاس گِر جائے۔ تشہیر کے معاملے میں ٹی وی ایٹم بم جتنا طاقتور ہے۔‘

مصنف اور سیاسی تجزیہ کار پیٹر پومیرانٹسیو کہتے ہیں کہ روس میں سب لوگ، خاص طور پر پوتن، یہ سمجھ گئے تھے کہ طاقت مضبوط کرنے کے لیے ٹی وی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ پوتن نے روس کو ایک کمزور اور ابھرتی ہوئی جمہوریت سے بدل کر زیادہ تر ایک ایسا نظام بنا دیا ہے جو بطور صدر ان کی ذات کے گرد گھومتا ہے۔ اس دوران انھوں نے خود کو بھی نمایاں طور پر بدل لیا ہے۔

ابتدائی تصاویر میں وہ ایک دبلے پتلے اور کم بولنے والے شخص کے طور پر دکھائی دیتے ہیں جو کیمرے سے ہچکچاتے تھے۔ تو پھر یہ بظاہر خاموش اور خود کو پس منظر میں رکھنے والا فرد کیسے ایک ایسے صدر میں بدل گیا جو نمایاں طور پر توجہ کا مرکز بننے لگا؟

ٹی وی کے ذریعے بنائی گئی شخصیت

تصویر کی اہمیت میں ان کی دلچسپی اقتدار میں آنے سے بہت پہلے کی ہے۔ پوتن 1960 اور 1970 کی دہائی میں بڑے ہوئے تھے جس دوران ٹی وی کا دور تھا۔

ان کے پسندیدہ کردار سوویت ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے جاسوس ہیرو تھے۔ ان کے مطابق یہی خاموش اور طاقتور خفیہ ایجنٹ انھیں کے جی بی (روسی خفیہ ایجنسی) میں جانے کی طرف لے گئے۔

کے جی بی میں کام کرتے ہوئے وہ خود کو سامنے آنے سے بچاتے رہے۔ بعد میں سرکاری اہلکار کے طور پر بھی وہ زیادہ نمایاں نہیں ہوتے تھے۔

لیکن 1999 میں جب وہ روس کے قائم مقام صدر بنے اور پھر چند ماہ بعد صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے اور ان کے مشیروں نے سمجھ لیا کہ میڈیا اور تصاویر ایک رہنما کی شخصیت بنانے میں بہت اہم ہیں۔

اسی وجہ سے انٹرویو کے دوران غیر ضروری چیزوں کو ہٹا دیا گیا۔ پوتن کو ایسا دکھایا گیا جیسےغالباً وہ شراب نہیں پیتے۔ مثال کے طور پر ویلڈائی ڈسکشن کلب کی نشستوں میں جہاں مہمانوں کو شراب پیش کی جاتی تھی، پوتن وہاں صرف شہد والی چائے پیتے تھے۔

AFP via Getty Imagesپوتن نے ایسے معاشرے میں، جہاں شراب نوشی عام ہے، خود کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جو شراب نہیں پیتا

پوتن جب کبھی شراب پیتے بھی تو ان کے ساتھ موجود مددگار اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک بار میری ملاقات ایک مقامی عجائب گھر کے نگراں سے ہوئی جس نے بتایا کہ وہ صدر کے ساتھ بیٹھ کر روسی پین کیکس کھا رہا تھا جن میں ذائقہ بڑھانے کے لیے ووڈکا شامل کی گئی تھی۔

اس نے مجھ سے کہا کہ ’لیکن یہ بات کسی کو نہ بتائیں۔ وہ اس معاملے میں بہت سخت تھے۔ میں مشکل میں پڑ سکتا ہوں۔‘

منصوبے کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ واضح کیا جائے کہ وہ اپنے پیشرو بورس یلسن جیسے نہیں جن کی سرعام نشے کی حالت نے بہت سے روسیوں کو شرمندہ کیا تھا۔

Getty Imagesیلسن کی شراب نوشی شرمندگی کا باعث بن جاتی تھی

پوتن نے ایک جنگی طیارہ اُڑانے کے لیے پائلٹ کا ہیلمٹ پہنا۔ جوڈو میں بھی اپنی مہارت دکھائی۔ یہ سب اس پیغام کو عام کرنے کے لیے تھا کہ وہ ایک طاقتور، صحت مند اور عملی آدمی ہیں، نہ کہ کوئی بیمار یا شرابی۔

سب سے زیادہ مشہور شاید وہ تصاویر تھیں جو 2007 میں سامنے آئیں، جن میں وہ بغیر شرٹ کے گھوڑے پر سوار نظر آئے، یا دریا میں مچھلی پکڑتے دکھائی دیے یا تیراکی کے جوہر دکھانے کے دوران اپنے مسلز نمایاں کرتے دکھائی دیے۔

تو کیا یہ سب حقیقت تھا؟ یا ان تصاویر میں جان بوجھ کر کچھ مزاح کا عنصر بھی شامل تھا؟ پومیرانٹسیو کے خیال میں ان کی تشہیری ٹیم کو بخوبی معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

’ایک طرح کے ناظرین کے لیے یہ بہت سطحی لگتا ہے، مگر ہم اسے ہلکے طنزیہ انداز میں دکھاتے ہیں تاکہ یہ کچھ حد تک متاثر کن بھی لگے۔ دوسرے ناظرین کے لیے یہ پیغام تھا کہ روس کی قیادت ایک روایتی مضبوط شخصیت کے پاس ہونی چاہیے۔‘

Reuters 2007 میں وہ بغیر قمیض کے گھوڑے پر سوار نظر آئے

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’پوتن ایک طرح سے روایتی سوویت دور کے لیڈر کا کردار ادا کر رہے تھے لیکن یہ سب وہ ایسے وقت میں کر رہے تھے جب ریئلیٹی شوز، ایم ٹی وی اور بدلتی ہوئی جدید ثقافت کا دور تھا۔‘

روس کی ماہر اور امریکی صدور کی مشیر فیونا ہل کا کہنا ہے کہ ’پوتن انئے اندازمتعارف کروانے والوں میں سے ہیں۔ انھوں نے 21ویں صدی میں ایک ایسے مقبول رہنما اور طاقتور شخصیت کی تصویر بنائی جسے بہت سراہا گیا۔‘

واضح طور پر پوتن مختلف لوگوں کے لیے مختلف پیغامات دے رہے تھے۔ بیرونی دنیا کوغالباً وہ یہ دکھانا چاہتے تھے کہ روس اب کمزور نہیں بلکہ ایک مضبوط طاقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے وہ خود کہتے تھے، ایک ایسا ریچھ جس کے تیز دانت اور پنجے ہیں۔

دیگر کچھ اور نمایاں مظاہرے اور بھی عجیب لگتے تھے۔ شاید ان میں اس لینن گراڈ کے سکول کے لڑکے کی جھلک تھی جو اب اپنے بچپن کے خواب پورے کر رہا تھا۔

بحیرہ اسود میں غوطہ لگا کر پہلے سے رکھی گئی چیزیں ’دریافت‘ کرنا، موٹر والے ہینگ گلائیڈر کے ساتھ آسمان میں اڑنا جبکہ نایاب پرندے ساتھ ہوں اور سائبیرین چیتے کے بچے کو ہاتھ لگانا یہ سب تصویروں میں نمایاں نظر آتا تھا۔

پوتن کا کہنا تھا کہ ان سب کا مقصد ماحولیات اور سائنسی شعور بڑھانا تھا۔ لیکن کیا انھیں احساس تھا کہ یہ سب کچھ حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کرنا لگتا ہے؟ یا اب کوئی ان سے یہ بات کہنے کی ہمت نہیں کرتا تھا؟ یا پھر وہ دوسروں کی رائے کی پروا ہی نہیں کرتے تھے؟

بار بار نئے انداز میں سامنے آنا

پوتن کی ابتدائی تصاویریہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے پُرسکون چہرے کے پیچھے ایک مضبوط عزم تھا جیسا کہ 1985 میں سٹازی (مشرقی جرمنی کی خفیہ پولیس) کے لیے ان کے شناختی کارڈ والی تصویراور یہ خودساختہ سنجیدگی ان کے جی بی کی ذمہ داری کے لیے موزوں تھی جسے اس ادارے کی تربیت نے مزید نکھارا۔

1991 کے آخر میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد انھوں نے خود کو ایک سرکاری افسر کے طور پر نئے انداز میں پیش کیا جس کی پہچان وفاداری اور کارکردگی تھی۔

ابتدا میں انھوں نے سینٹ پیٹرزبرگ کے میئر کے ساتھ کام کیا اور پھر ماسکو منتقل ہونے کے بعد یلسن کی صدارتی انتظامیہ میں شامل ہو گئے۔

اس دور کی تصاویر میں وہ اکثر پیچھے یا ایک طرف کھڑے نظر آتے ہیں اور کبھی کیمرے کی طرف براہ راست نہیں دیکھتے اور نہ ہی تصویر کے مرکز میں دکھائی دیتے ہیں۔

سوویت رہنما نکیتا خروشیو کی پڑپوتی نینا خروشیو کے مطابق انھیں 1990 کی دہائی میں بتایا گیا تھا کہ کے جی بی کے حلقوں میں پوتن کو ’پتنگا‘ کہا جاتا تھا یعنی ایسا شخص جو جہاں چاہے چھپ سکتا ہو، یا سائے میں رہنے والا آدمی۔

لیکن جب وہ صدر بنے تو صورتحال مختلف تھی۔ ایسا لگا کہ وہ مختلف کردار اختیار کرنے کا موقع خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

چند سال بعد جب 2007 میں ٹائم میگزین کی ’پرسن آف دی ایئر‘ کے لیے ان کی تصویر لی گئی تو وہ کرسی پر پیچھے جھک کر بیٹھ گئے اور سیدھا کیمرے میں دیکھنے لگے جیسے کوئی شہنشاہ اپنے تخت پر بیٹھا ہو یا کسی مافیا کے سربراہ۔

اس یادگار تصویر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے والے ٹائم کے فوٹوگرافر پلاٹون کہتے ہیں کہ ’وہ میرے لیے طاقت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، پوتن کو یہ تصاویر پسند ہیں۔ ان کے بہت سے حامیوں کو بھی یہ تصاویر پسند ہیں۔ یہ انھیں ایک مضبوط قوم پرست رہنما کے طور پر دکھاتی ہیں۔‘

Bloomberg via Getty Imagesٹائم میگزین کی یہ تصویر پوتن کے بہت سے حامیوں میں مقبول رہی

یہ وہ چیز تھی جسے پومیرانٹسیو ’اختیاری حکمرانی کے پروپیگنڈا کی ایک جدید شکل‘ کہتے ہیں، جہاں پوتن ایک فنکار کی طرح مختلف کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔

ایک مضبوط رہنما کی جو مختلف شکلیں انھوں نے اپنائیں وہی انداز ان کی پالیسیوں میں بھی نظر آئے۔

روس کو دوبارہ طاقتور بنانے کے لیے پوتن کا کہنا تھا کہ زیادہ نظم و ضبط اور اوپر سے سخت نگرانی ضروری ہے۔ اسی لیے انھوں نے بتدریج روسی معاشرے پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا، آزاد اظہار اور تنقید کی گنجائش کو کم کیا۔

یہی نہیں بلکہ ڈوما (روس کی پارلیمنٹ) کو محض منظوری دینے والا ادارہ بنا دیا، سیاسی مخالفین کو کمزور یا ختم کیا اور مغربی ممالک کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ روس کو اہمیت نہیں دیتے۔

خامنہ ای کا قتل: کیا پوتن ذاتی خطرے کی وجہ سے اپنے ’دوستوں‘ کے زوال کا باعث بننے والوں کا نام نہیں لیتے؟چوہوں سے لڑائی، خفیہ ایجنٹ بننے کا شوق اور دھوکہ دینے کی صلاحیت: غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے پوتن روس کے طاقتور صدر کیسے بنےیوکرین کو امریکہ سے ٹوماہاک ملنے کا امکان: کیا یہ میزائل روس کے خلاف جنگ میں گیم چینجر ثابت ہوں گے؟ٹرمپ، شی جن پنگ یا ’20 سال تک جاری رہنے والے تنازع‘ کا خوف: پوتن یوکرین جنگ ختم کرنے پر کیسے مجبور ہو سکتے ہیں؟نقاب کے پیچھے

پوتن کی برہنہ تصاویر کو اکثر ان کے اعتماد اور طاقت کی علامت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ مگر ممکن ہے کہ یہ تصاویر ان کی کچھ کمزوریوں کی بھی عکاسی کرتی ہوں یعنی یہ خواہش کہ وہ سب کو، حتیٰ کہ خود کو بھی یقین دلا سکیں کہ وہ اب بھی مرکزی شخصیت ہیں اور پہلے کی طرح مضبوط اور فٹ ہیں۔

2008 کے بعد جب وہ صدارت چھوڑ کر چار سال کے لیے وزیرِاعظم بنے تو اس طرح کی توجہ حاصل کرنے والی تصاویر یہ پیغام بھی دے رہی تھیں کہ اصل طاقت کا سرچشمہ صدر دمتری میدویدیف نہیں بلکہ پوتن خود ہیں۔

2011 میں ان کی شکل و صورت میں ایک بڑی اور نمایاں تبدیلی دیکھی گئی جو ان کے سیاسی سفر میں بھی ایک اہم موڑ تھا۔

پوتن اچانک عوام کے سامنے ایسے چہرے کے ساتھ آئے جو پہلے سے زیادہ بھرا ہوا، کم حرکت کرنے والا اور بے تاثر تھا۔ یہ بات حیران کن تھی۔ کیا یہ کسی بیماری کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کا اثر تھا یا پھر عمر کے اثرات کو چھپانے کے لیے بوٹوکس کا استعمال کیا گیا تھا؟

پوتن چند ماہ بعد وہ دوبارہ صدارت کے لیے میدان میں اترے۔ نتیجہ تو پہلے سے ہی واضح تھا لیکن اپنی کامیابی کے اعلان کے لیے منعقدہ جلسے میں ان کا نیا چہرہ آنسوؤں سے تر نظر آیا۔

میرے اندازوں کے مطابق ان کے وہ آنسو حقیقی تھے۔ ان کی آواز بھی جذبات سے بھری ہوئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے انھیں اس بات کا اطمینان ہے کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا حالانکہ انتخابات سے پہلے بڑے پیمانے پر احتجاج بھی ہوئے تھے اور کچھ مظاہرین نے تو حیران کن طور پر ان کے خلاف نعرے بھی لگائے تھے۔

تاہم کچھ تجزیہ کاروں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا یہ بھی ایک سوچا سمجھا مظاہرہ تھا جس کا مقصد ایک ایسی مذہبی شبیہ دینا تھا جس میں آنسو بہاتا ہوا رہنما نظر آئے، تاکہ وہ خود کو روس کے ’نجات دہندہ‘ کے طور پر دکھا سکیں۔

حقیقت چاہے کچھ بھی ہو یہ ایک اہم موڑ تھا۔ کئی سالوں سے ان کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔ اس کے بعد کے دور میں کسی بھی طرح کا عوامی اختلاف نہ صرف ناپسندیدہ بلکہ کھلے طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا۔

پوتن مزید سخت گیر ہوتے گئے اور روس میں مخالف آوازوں کے لیے گنجائش کم ہوتی گئی۔

پسی رائٹ فیمینسٹ گروپ کی کارکن نادیا تولوکونیکوو وہ رہنما ہیں جنھیں احتجاج کرنے پرغیرملکی ایجنٹ قرار دے کر جیل بھیجا گیا تھا۔

نادیہ کہتی ہیں کہ ’پوتن اس بات میں حد سے زیادہ دلچسپی لینے لگے کہ تاریخ میں خود کو نہ صرف روس کے بلکہ پوری دنیا کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کریں اور یہی وہ لمحہ ہے جب وہ اس پوتن میں تبدیل ہوئے جنھیں ہم آج جانتے ہیں۔‘

1999 کی طرح اب 73 سال کی عمر میں بھی پوتن اقتدار چھوڑنے کے پر آمادہ نہیں دکھائی دیتے۔ بالکل ویسے ہی جیسے 1999 میں بھی وہ اقتدار تھے تاہم اب وہ پہلے کی نسبت کم نظر آتے ہیں۔

بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ برسوں میں وہ زیادہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں خاص طور پر یوکرین پر روس کے مکمل حملے اور کووڈ 19 کی عالمی وبا کے بعد۔

اب جب وہ کیمرے کے سامنے آتے ہیں تو یہ مواقع بہت سوچ سمجھ کر ترتیب دیے جاتے ہیں جیسے وہ بیرونی دنیا سے فاصلہ رکھنا چاہتے ہوں۔

فیونا ہل کے مطابق ’وہ واضح طور پر محتاط رہنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ آسانی سے ان تک نہ پہنچ سکیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں چاہے وہ جراثیم ہوں یا دشمن کے ممکنہ حملے۔‘

یوکرین کی جنگ اب ان کی شناخت کا مرکزی حصہ بن گئی ہے۔ تجربہ کار روسی صحافی میخائل فشمان کہتے ہیں کہ ’اگر ہم 2012 میں کریملن واپسی کے وقت کے پوتن کو دیکھیں تو انھیں خود بھی واضح نہیں تھا کہ وہ کیا ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ لیکن اب انھیں لگتا ہے کہ انھوں نے اپنا مشن اور کردار ڈھونڈ لیا ہے، اور وہ جنگ ہے۔‘

تاہم چار سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یوکرین کے ساتھ مکمل جنگ ایک بوجھ بھی بن چکی ہے۔ اسے جاری رکھنا دن بہ دن مشکل دکھائی دیتا ہے، لیکن اسے ختم کرنا بھی خطرات سے خالی نہیں۔

پوتن نے ایک معاشی جنگی نظام اور اندرونِ ملک جبر کا ایسا ڈھانچہ قائم کیا ہے جسے وہ اپنے لیے بڑے خطرے کے بغیر آسانی سے ختم نہیں کر سکتے۔

اقتدار سنبھالنے کے 25 برس بعد وہ ایک فاصلے پر اور غیر لچکدار نظر آتے ہیں، گویا وہ اپنے ہی بنائے ہوئے جال میں پھنس گئے ہوں۔ یہ اس متحرک کھلاڑی اور ایکشن ہیرو کی شکل سے بہت مختلف ہے جس سے وہ کبھی اپنی پہچان بنانا چاہتے تھے۔

خامنہ ای کا قتل: کیا پوتن ذاتی خطرے کی وجہ سے اپنے ’دوستوں‘ کے زوال کا باعث بننے والوں کا نام نہیں لیتے؟یوکرین کو امریکہ سے ٹوماہاک ملنے کا امکان: کیا یہ میزائل روس کے خلاف جنگ میں گیم چینجر ثابت ہوں گے؟کیا پوتن چین سے خالی ہاتھ واپس لوٹے؟ٹرمپ، شی جن پنگ یا ’20 سال تک جاری رہنے والے تنازع‘ کا خوف: پوتن یوکرین جنگ ختم کرنے پر کیسے مجبور ہو سکتے ہیں؟پوتن کا ’گاجر اور چھڑی‘ کا فارمولہ جس نے یوکرین جنگ کے دوران ارب پتی ’اولیگارک‘ کو خاموش رکھاافغانستان کا روس کے ساتھ ’تکنیکی فوجی‘ معاہدہ: ’پاکستان دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کرے‘، طالبان وزیر دفاع
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More