Getty Images
پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں اتوار کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پہلی بار آمنے سامنے ہوں گی۔
کولمبو کا موسم معمول کے مطابق گرم اور مرطوب ہے، سمندر کی طرف سے آنے والی مستقل ہوا کچھ راحت ضرور دیتی ہے، خاص طور پر اگر آپ سائے میں کھڑے ہوں۔ لیکن جہاں موسم میں حدت ہے، وہیں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے اس اہم مقابلے کے گرد فضا میں ایک عجیب سی سرد مہری محسوس ہوتی ہے۔
انڈیا کی ٹیم جمعہ کی رات کولمبو پہنچی اور جس ہوٹل میں قیام کر رہی ہے وہ پاکستان کی ٹیم کے ہوٹل کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کو اپنے شیشے کی عمارتوں سے دور سے دیکھ تو سکتی ہیں، لیکن براہِ راست بات نہیں کر سکتیں۔ ماحول میں خاموشی اور فاصلے کا اثر واضح ہے، اور کبھی جو دوستانہ تعلقات عام ہوا کرتے تھے، وہ اب صرف محدد نگاہوں تک رہ گئے ہیں۔
گذشتہ سال ہونے والے ایشیا کپ کے برعکس، جہاں دونوں ٹیمیں ایک ہی جگہ پر اور تقریباً ایک ہی وقت میں پریکٹس کرتی تھیں، اس بار کولمبو میں آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ سے پہلے کی تیاریوں میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ آر پریماداسا سٹیڈیم میں ٹریننگ سیشن جان بوجھ کر الگ الگ اوقات میں رکھے گئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میچ کے گرد انتظامات کس قدر محتاط انداز میں کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی پریکٹس دوپہر کے وقت شیڈول ہے، جو عموماً دو بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہتی ہے۔ اس کے بعد ایک گھنٹے کا وقفہ رکھا گیا ہے تاکہ سٹیڈیم میں کسی قسم کی ملاقات نہ ہو۔ اس وقفے کے بعد انڈین ٹیم اپنی شام کی ٹریننگ شروع کرتی ہے۔ اس ترتیب سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ دونوں ٹیمیں سٹیڈیم کے اندر کسی بھی وقت ایک ساتھ موجود نہ ہوں۔
یہ الگ الگ انتظامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس مقابلے کے حوالے سے حساسیت اب بھی بہت زیادہ ہے۔ لاجسٹک کی منصوبہ بندی اس طرح کی گئی ہے کہ کرکٹ کی اس مشہور روایتی مقابلے سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان مکمل فاصلہ برقرار رکھا جا سکے۔
جمعہ کی دوپہر سٹڈیم کے باہر انڈیا اور پاکستانی صحافیوں کے درمیان تناؤ دیکھنے میں آیا جب پاکستانی اور انڈین صحافی ویڈیو بلاگز بنا رہے تھے۔ اس دوران انڈیا صحافی وکرنت گپتا، جو اکثر پاکستانی صحافیوں کے ساتھ گھل مل جاتے تھے، کو نظر انداز کیا گیا اور زیادہ تر صحافیوں نے انھیں سلام تک نہیں کیا۔
پاکستان اور انڈیا جب پریماداسا سٹیڈیم، کولمبو میں آمنے سامنے یہ مقابلہ اب محض کھیل کی سپورٹس مین سپرٹ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس پر دونوں ممالک کے سیاسی بیانیے کی چھاپ بھی واضح دکھائی دیتی ہے۔ کرکٹ اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس کے گرد محسوس ہونے والا تناؤ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ یہ صرف بیٹ اور گیند کا مقابلہ نہیں رہا۔
کئی دہائیوں تک پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ کا مقابلہ دنیا کے سب سے بڑے مقابلوں میں شمار ہوتا رہا۔ دونوں ٹیمیں سخت حریف تھیں، مگر میدان کے باہر کھلاڑیوں کے تعلقات خوشگوار رہتے تھے۔ وہ ایک دوسرے سے ملتے، ساتھ کھانا کھاتے اور دوستانہ انداز میں بات کرتے تھے۔
لیکن اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ جب دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے سامنے آتی ہیں تو کھلاڑیوں کے درمیان وہ گرمجوشی کم دکھائی دیتی ہے جو کبھی عام تھی۔ اب تعلقات پہلے جیسے دوستانہ نظر نہیں آتے۔ ایک وقت تھا جب باہمی احترام اور کھیل کی روح کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی، مگر اب ماحول بدلا ہوا لگتا ہے۔
Getty Images
گذشتہ سال ایشیا کپ میں حالات نے نیا رخ اختیار کیا۔ کھیل کی رقابت اچانک بہت نیچے چلی گئی۔ انڈیا کی ٹیم نے میچ کے بعد مصافحہ نہیں کیا، جس پر کئی لوگ حیران ہوئے۔ فاتح ٹیم ہونے کے باوجود انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے بھی انکار کر دیا۔ میدان میں بھی دونوں طرف کے کھلاڑیوں کے ردعمل سخت اور جذباتی تھے۔ بعض اشارے اور جملے ایسے لگ رہے تھے جیسے ان پر سیاست کا اثر ہو۔
موجودہ نسل کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے ملک میں زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی۔ آخری بار دوستانہ لمحات سنہ 2023 میں دیکھنے کو ملے، جب شاہین آفریدی نے کولمبو میں پریما داسا سٹیڈیم کے باہر جسپریت بمراہ کو ان کے نومولود بچے کی خوشی میں تحفہ دیا۔ اسی طرح پلے کیلے سٹیڈیم میں پاکستانی کھلاڑی وراٹ کوہلی کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے نظر آئے۔ اس وقت دونوں ٹیمیں ایک ہی مقام پر پریکٹس کر رہی تھیں، پریکٹس کے دوران گیندیں ایک دوسرے کی طرف جانا معمول کی بات تھی، لیکن مسکراتے ہوئے گیندیں واپس کر دی جاتی تھیں۔ کھلاڑی آپس میں باتیں کر رہے تھے اور ماحول خوشگوار تھا۔
اس نئی نسل کی کرکٹ کا آغاز بھی ایک مثبت انداز میں ہوا تھا۔ اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان اے اور انڈیا اے کے درمیان 23 جولائی 2023 کو کولمبو میں ہونے والا مقابلہ صرف دو روایتی حریفوں کے درمیان ایک میچ نہیں تھا بلکہ ایک نئے تعلق کی شروعات بھی بنا۔ یہیں پاکستان کے مہران ممتاز اور انڈیا کے ابھیشیک شرما کی پہلی بار شناسائی ہوئی۔
اس ٹورنامنٹ کے دوران ہونے والی مختصر ملاقات وقت کے ساتھ باہمی احترام کے ایک خوبصورت اظہار میں بدل گئی۔ چند ماہ بعد ابھیشیک شرما نے اپنی ایک بیٹ بطور تحفہ مہران ممتاز کو بھیجی، جو دبئی میں انھیں موصول ہوئی۔ یہ ایک چھوٹا مگر بامعنی لمحہ تھا، جو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کرکٹ کی شدید ترین حریفانہ فضا میں بھی ذاتی احترام اور تعلق کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
لیکن 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا۔ میدان کے باہر بڑھتی ہوئی سیاسی اور سفارتی دوریوں کا اثر کرکٹ پر بھی واضح نظر آنے لگا، جہاں کبھی دوستانہ اشارے اور باہمی احترام عام تھے، وہاں اب فاصلوں اور خاموشی نے جگہ لے لی۔ وہ تعلقات جو کبھی ایک بیٹ کے تحفے اور مختصر گفتگو سے مضبوط ہوتے تھے، اب غیر یقینی صورتحال اور محتاط فاصلے کی نظر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
سابق کپتان شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے کرکٹرز کے درمیان زبردست تعلقات رہے ہیں، ہم لوگ ایک دوسرے کے کمروں میں چلے جاتے تھے۔ کھانا کھاتے تھے یا اکٹھے باہر چلے جاتے تھے۔ وہ بہت زبردست دور تھا، انڈیا کی ٹیم جب پاکستان آتی تھی تو میں پوری ٹیم کو اپنے گھر کھانے پر بلاتا تھا۔
Getty Images
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اظہر الدین، گنگولی کے ساتھ تحائف کا تبادلہ ہوتا تھا۔ ہم لوگ میدان میں تگڑے مقابلے کے لیے اُترتے تھے۔ لیکن میدان سے باہر ہمارے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں، چاہے وہ یوراج سنگھ ہوں یا ہربھجن، ظہیر خان یا اشیش نہرا ان سب کے ساتھ ہم لوگ بہت عزت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ کرتے تھے۔
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اُس دور کو آج کل کے بچے بہت مس کر رہے ہوں گے، وہ بہت اچھا دور تھا۔ ہم لوگ انتظار کرتے تھے کہ انڈیا کا دورہ ہو، اسی طرح انڈین ٹیم کا دل چاہتا تھا کہ وہ پاکستان کے دورے پر آئے۔
شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ اب سیاست کی وجہ سے چیزیں بدل چکی ہیں۔ جب سیاستدان اپنے دروازے بند کرتے ہیں تو کھیل ایک ایسا ذریعہ ہوتا ہے جو بند دروازے کھولتا ہے۔ اب حالات بدل چکے ہیں اور یہ سب انڈیا کی طرف سے شروع ہوا۔ ہاتھ نہ ملانا، یا سٹیج پر پی سی بی کے چیئرمین کھڑے ہیں، آپ اُن سے ٹرافی نہیں لے رہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کھلاڑی اب بھی ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں، بلکہ ابھی بھی ملتے ہیں۔ یہ کیمرے کے سامنے بظاہر نہیں ملتے، لیکن کیمرے کے پیچھے ملتے ہیں۔ یہ سب انڈیا کی حکومت کی وجہ سے ہے، حالانکہ انڈین کرکٹ بورڈ بھی ایسا نہیں چاہتا اور وہ بھی پاکستان کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے۔ لیکن انڈیا کے جو بڑے ہیں، نہیں معلوم کہ اُن کی سمت کس طرف ہے۔ یہ کرکٹ کی دُنیا کے لیے بہت ہی منفی بات ہے۔
شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک میں ایک دوسرے کی کرکٹ ٹیموں کے فینز ہیں۔ لیکن نفرتوں کی وجہ سے اور دُوریوں کی وجہ سے سارے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔
اُن کے بقول مشرف کے دور میں بھی تعلقات خراب تھے۔ لیکن اس کے باوجود کرکٹ چلتی رہی تھی اور ایشوز پر بیٹھ کر بات ہوتی رہی۔ میرا خیال ہے کہ کھیل سفارت کاری کا بڑا ذریعہ ہے اور پاکستان اس معاملے میں ہمیشہ پہل کرتا رہا ہے، اصل رکاوٹ انڈیا کی طرف سے ہی ہے اور نہ ہی اُن کی نیت ہے۔
کھیل میں سیاست کی مداخلت کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟سپنرز سے لیس پاکستانی بولنگ اٹیک اور انڈین بلے بازوں کی ’کمزوری‘: کیا پاکستان کے پاس انڈیا کو شکست دینے کا یہ اچھا موقع ہے؟28 ہزار کی گنجائش مگر ’ٹکٹوں کی 88 ہزار درخواستیں‘: پاکستان، انڈیا میچ کے لیے شائقین کو جہاز، گراؤنڈ کے ٹکٹس کے حصول میں دشواریعثمان طارق کا ’وقفہ‘، انڈین شائقین کرکٹ کی پریشانی اور ایشون کی وضاحت: ’یہ انڈیا کے خلاف ٹرمپ کارڈ ہو گا‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی شردھا اُگرا نے کہا کہ وراٹ کوہلی پاکستانی کھلاڑیوں میں بہت مقبول تھے اور سب ان کا احترام کرتے تھے۔ وہ پاکستانی کھلاڑیوں سے کھل کر بات کرتے تھے اور گرمجوشی سے پیش آتے تھے۔ روہت شرما کے ساتھ مل کر ان کا انداز دیکھنے لائق ہوتا تھا۔ ان کے مطابق کوہلی اور روہت اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے پاکستان اور انڈیا کو زیادہ باقاعدگی سے کھیلتے دیکھا، اور اب ایسا تعلق کم ہوتا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’2004 کے دورے میں شامل کئی کھلاڑی تقریباً دس بارہ سال پہلے تک کھیلتے رہے۔ ان کے درمیان سچی دوستی تھی جو مشترکہ یادوں اور تجربات پر بنی تھی۔ میدان میں مقابلہ سخت ہوتا تھا، لیکن میدان سے باہر تعلقات اچھے رہتے تھے۔ کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ آج کے دور میں ہر چیز اس بات سے جڑی ہوتی ہے کہ لوگ اسے کیسے دیکھیں گے، اور یہی دباؤ ماحول کو بدل دیتا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کسی انڈیا کھلاڑی کو پاکستانی کھلاڑی کے ساتھ دوستانہ انداز میں دیکھا جائے یا اس کے برعکس، تو اس تصویر یا ویڈیو پر دونوں ملکوں میں تنقید ہو سکتی ہے۔ سوشل میڈیا اور سیاسی بیانیہ ہر وقت لوگوں کے موبائل فون پر موجود ہوتا ہے۔ کھلاڑی اس ماحول سے واقف ہیں۔ عوامی رائے تیزی سے بنتی ہے اور اکثر سخت ہوتی ہے۔‘
Getty Images
موجودہ کھلاڑیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شردھا اُگرا نہ کہا کہ ’یہ تبدیلی صرف رویوں میں نہیں بلکہ تجربے میں بھی ہے۔ موجودہ کھلاڑی اس دور میں بڑے ہوئے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ سیریز نہیں ہو رہی تھیں۔ ان کی ملاقاتیں زیادہ تر آئی سی سی ٹورنامنٹس تک محدود ہیں، جو مختصر اور سخت نگرانی میں ہوتی ہیں، اس لیے آپس میں گہرا تعلق بننے کا موقع کم ملتا ہے۔‘
پاکستان نے آخری بار 2012-13 میں انڈیا میں وائٹ بال سیریز کھیلی تھی۔ اس کے مقابلے میں انڈیا نے آخری بار پاکستان کا دورہ 2006 میں کیا تھا۔ جس میں ٹیسٹ اور محدود اوورز کے میچ شامل تھے۔ اس کے بعد سے انڈیا نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ کرکٹ معطل رہی۔ گذشتہ ایک دہائی میں دونوں ٹیمیں صرف بڑے عالمی ٹورنامنٹس جیسے آئی سی سی ورلڈ کپ، آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی اور ایشیا کپ میں ہی آمنے سامنے آئی ہیں۔
شردھا اُگرا کے مطابق ’سارو گنگولی اور راہول ڈریوڈ کی نسل پاکستان کو قریب سے جانتی تھی۔ وہ وسیم راجا، ظہیر عباس اور عمران خان جیسے کھلاڑیوں کو صرف بڑے نام نہیں بلکہ حقیقی حریف کے طور پر دیکھتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے اشارے، جیسے میچ کے دوران کسی کی مدد کرنا، عام بات سمجھی جاتی تھی۔ احترام فطری تھا، دکھاوے کا نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے باوجود کرکٹ نے حالات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔ کرکٹ کو سفارتی ذریعہ بھی سمجھا جاتا تھا۔ بورڈز کے درمیان رابطہ قائم رہتا تھا اور دورے جاری رہتے تھے۔ وقت کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطے کم ہوتے گئے۔ اس کا اثر نیچے تک آیا، بورڈز سے کھلاڑیوں تک۔ آج سوشل میڈیا ہر چیز کو زیادہ سنسنی خیز بنا دیتا ہے۔ کھلاڑی زیادہ محتاط ہو گئے ہیں اور اسی لیے ملاقاتیں بھی کم ہو گئی ہیں۔
ماضی میں سیاسی تعلقات خراب ہونے کے باوجود کرکٹ سیریز جاری رہتی تھیں۔ کھلاڑی ایک ہی ہوٹل میں قیام کرتے، لمبے دوروں پر ساتھ وقت گزارتے اور اسی سے شناسائی بڑھتی تھی۔ آج سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں، ٹیمیں الگ ہوٹلوں میں رہتی ہیں اور ملاقاتیں محدود ہو گئی ہیں۔ اس سے ذاتی قربت کم ہو گئی ہے اور فاصلہ بڑھ گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’حالیہ ایشیا کپ نے اس فاصلے کو اور بڑھا دیا۔ مصافحہ نہ ہونا اور میدان میں تناؤ نے ماحول کو مزید سخت کر دیا۔ ایسے واقعات کھلاڑیوں کے درمیان اعتماد بڑھانے کے بجائے فاصلے کو مضبوط کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’موجودہ نسل نے وہ دور دیکھا ہی نہیں جب تعلقات بہتر تھے۔ وہ صرف آئی سی سی ایونٹس میں ملتے ہیں۔ سنہ 2023 تک عمومی رویہ اچھا تھا، لیکن سنہ 2025 کے ایشیا کپ کے بعد ماحول بدل گیا۔ یہ صورتحال کب تک رہے گی اور کیسے بہتر ہوگی، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔‘
سپنرز سے لیس پاکستانی بولنگ اٹیک اور انڈین بلے بازوں کی ’کمزوری‘: کیا پاکستان کے پاس انڈیا کو شکست دینے کا یہ اچھا موقع ہے؟’ایسا لگتا ہے ان پر ربڑ کی تہہ چڑھی ہو‘: انڈین کرکٹرز کے بیٹ پر سری لنکن کھلاڑی کا بیان اور پھر وضاحت28 ہزار کی گنجائش مگر ’ٹکٹوں کی 88 ہزار درخواستیں‘: پاکستان، انڈیا میچ کے لیے شائقین کو جہاز، گراؤنڈ کے ٹکٹس کے حصول میں دشواریعثمان طارق کا ’وقفہ‘، انڈین شائقین کرکٹ کی پریشانی اور ایشون کی وضاحت: ’یہ انڈیا کے خلاف ٹرمپ کارڈ ہو گا‘ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور غیر ملکی ٹیموں کے لیے کھیلنے والے پاکستانی نژاد کرکٹرز: ٹیلنٹ پول کی نشاندہی یا کرکٹ کے نظام میں خرابی؟کھیل میں سیاست کی مداخلت کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟