افغانستان، جنوبی افریقہ کے درمیان ڈبل سپر اوور میچ اور رحمان اللہ گرباز کی پرفارمنس: ’کیا یہ ٹی 20 آئی کی تاریخ کا بہترین مقابلہ تھا؟‘

بی بی سی اردو  |  Feb 11, 2026

ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مقابلے کا فیصلہ سپر اوور میں ہو اور ایسا تو بالکل ہی شاذونادر ہوتا ہے کہ سپر اوور میں بھی فیصلہ نہ ہو پائے اور دوسرا سپر اوور کھیلنے کی نوبت آئے۔

بدھ کے روز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ اور افغانستان کے درمیان ہونے والے میچ میں ایسا ہی ہوا اور بالآخر جنوبی افریقہ نے دوسرے سوپر اوور میں افغانستان کو شکست دے دی۔ کچھ صارفین اسے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ کا بہترین میچ قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں صرف ایک ڈبل سپر اوور کا میچ کھیلا گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوری 2024 میں کھیلے گئے اس میچ میں بھی افغانستان شامل تھا۔ تاہم اس میچ میں بھی اسے انڈیا کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی تھی۔

بدھ کے روز کھیلے گئے میچ میں جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے رایان رکلٹن نے 28 گیندوں پر چار چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنائے۔ ان کے علاوہ جنوبی افریقہ کی جانب سے دوسرے نمایاں بلے باز کوئنٹن ڈی کاک رہے جنھوں نے 41 گیندوں پر 59 رنز بنائے۔

افغانستان کی جانب سے عظمت اللہ عمر زئی نے تین جبکہ راشد خان نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

رحمان اللہ گرباز نے افغانستان کی بیٹنگ کو شاندار آغاز فراہم کیا اور ابراہیم زردان کے ساتھ 50 رنز سے زائد کی اوپننگ پارٹنرشپ کھیلی۔

تاہم افغانستان کی پہلی وکٹ اس وکٹ گری جب زردان پانچویں اوور میں 10 گیندوں میں 12 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے افغانستان کی مزید دو وکٹیں گر گئیں لیکن گرباز نے اپنی اننگز جاری رکھی۔

افغانستان کو بڑا نقصان اس وقت ہوا جب 13ویں اوور میں گرباز 84 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

تاہم راشد خان اور نور احمد نے میچ کو سننسی خیز مقابلے میں تبدیل کر دیا۔

اس کے بعد میچ کا فیصلہ کرنے کے لیے سوپر کھیلا گیا۔

افغانستان کو جیت کے لیے کو آخری تین گیندوں میں محض دو رنز درکار تھے، تاہم ان کے آخری کھلاڑی فضل الحق فاروقی دوسرا رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔ اس طرح میچ ڈرا ہو گیا۔

عثمان طارق کا ’وقفہ‘، انڈین شائقین کرکٹ کی پریشانی اور ایشون کی وضاحت: ’یہ انڈیا کے خلاف ٹرمپ کارڈ ہو گا‘عثمان طارق کی ’حیرت‘ امریکہ پر بھاری پڑ گئیٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور غیر ملکی ٹیموں کے لیے کھیلنے والے پاکستانی نژاد کرکٹرز: ٹیلنٹ پول کی نشاندہی یا کرکٹ کے نظام میں خرابی؟پہلا سوپر اوور

پہلے سوپر اوور میں افغانستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 17 رنز بنائے۔ افغانستان کی جانب سے عظمت اللہ عمر زئی نے پانچ گیندوں پر 15 رنز سکور کیے۔

جواب میں جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈیوالڈ بریوس اور ڈیوڈ ملر نے اننگز کا آغاز کیا۔ تاہم بریوس اوور کی تیسری گیند پر سات رنز کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد ٹرسٹن سٹبز کھیلنے آئے اور انھوں نے پہلی گیند پر چوکا لگا دیا لیکن فضل اللہ فاروقی انھیں اگلی ہی گیند مِس کروانے میں کامیاب ہو گئے۔

جنوبی افریقہ کو آخری گیند پر میچ ڈرا کرنے کے لیے چھ رنز درکار تھے اور سٹبز نے چھکا لگا کر پہلا سپر اوور ٹائی کر دیا اور جنوبی افریقہ کی امیدیں زندہ رکھیں۔

دوسرا سپر اوور

دوسرے سوپر اوور میں جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 23 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈیوڈ ملر نے چار بالوں پر 16 رنز بنائے۔

جواب میں افغانستان کی اننگز کا آغاز اچھا نہ رہا اور دوسری ہی گیند پر اوپننگ کے لیے آئے محمد نبی بنا کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے۔ اس موقع پر افغانستان کا مجموعی سکور ایک رن تھا۔

افغانستان کو چار گیندوں پر 23 رنز درکار تھے، جو بظاہر ناممکن سا لگ رہا تھا لیکن رحمان اللہ گرباز کیشو مہاراج کی اگلی تین گیندوں پر تین چھکے لگا کر ایک بار پھر افغانستان کو جیت کے قریب لے آئے۔

افغانستان کو ایک بال پر چھ رنز درکار تھے کہ جنوبی افریقہ کے کیشوو مہاراج نے وائیڈ بال کروا دی اور افغانستان کا سکور 19 رنز ہو گیا۔ لیکن مہاراج کی آخری گیند پر گرباز ڈیوڈ ملر کو کیچ دے بیٹھے اور اس طرح میچ جنوبی افریقہ کے نام رہا۔

'دو منٹ کی خاموشی ان کے لیے جنھوں نے یہ میچ مس کر دیا'

افغانستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سنسنی خیز مقابلے کا چرچا سوشل میڈیا پر ہر طرف دکھائی دے رہا ہے۔

ایک طرف جہاں لوگ رحمان اللہ گرباز کی بیٹنگ کی تعریف کرتے نظر آئے وہیں کچھ صارف اس میچ کو ورلڈ کپ کے بہترین میچوں میں سے ایک میچ قرار دے رہے ہیں۔

ایک صارف رحمان اللہ گرباز کی میچ کے بعد زمین پر بیٹھے ہوئے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھوں نے آخری گیند تک ہماری امیدیں زندہ رکھیں۔

سندیپان بینرجی نامی صارف لکھتے ہیں، ’کیا یہ ٹی 20 آئی کی تاریخ کا بہترین میچ تھا؟‘

ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ ہمیں ان لوگوں کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنی چاہیے جنھوں نے یہ میچ مس کر دیا، جبکہ ایک اور صارف کا کہنا ہے کہ آج T20 ورلڈ کپ کا وہ دن ہے جب کرکٹ عروج پر تھی۔

کچھ صارفین افغانستان کی جانب سے دوسرے سوپر اوور میں رحمان اللہ گرباز کی جگہ محمد نبی کو بھیجنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

صالحہ نامی صارف لکھتی ہیں کہ اس میچ میں افغانستان کو رحمان اللہ گرباز کی جگہ محمد نبی کو بیٹنگ کے لیے بھیجنے کے فیصلے کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔

رحمان اللہ گرباز پی ایس ایل سے دستبردار: ’ورلڈ کپ کے بعد افغانستان میں فلاحی کاموں پر توجہ دُوں گا‘ملتان سلطانز دو ارب 45 کروڑ میں فروخت، نیا نام’راولپنڈی‘ اور علی ترین کی مایوسی: ’آج ایک اور شخص نظام کے ہاتھوں ہار گیا‘’اتنی گھاس والی وکٹ کبھی نہیں دیکھی‘: ثقلین مشتاق کا بیان اور پاکستان کو سری لنکا میں ملنے والی کنڈیشنز پر بحثدبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانیعمر گل کے یارکرز، آفریدی اور اجمل کی گھومتی گیندیں،ٹی 20 کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا سنہرا دور اور پھر تنزلی کی کہانیسرفراز احمد کی انڈر 19 میچ کے دوران فون استعمال کرنے کی تصویر پر شور
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More