’شکریہ شہباز شریف‘: پی سی بی اور آئی سی سی میٹنگ میں ایسا کیا ہوا کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ بدل دیا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 10, 2026

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو 15 فروری کو انڈیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کھیلنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ دوست ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف کو پی سی بی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے نمائندوں اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر کے درمیان ہونے والے اجلاس میں کیے گئے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔

حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی کو دی گئی باضابطہ درخواستوں کے ساتھ ساتھ سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر رکن ممالک سے موصول ہونے والے پیغامات کی بنیاد پر کیا ہے۔‘

بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی شام سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے فون پر بات بھی کی جس کے دوران سری لنکا کے صدر نے وزیراعظم سے موجودہ صورت حال کو خوش اسلوبی سے حل کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی درخواست کی۔

حکومتی بیان کے مطابق دوست ممالک کی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت پاکستان نے پاکستانی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شیڈول میچ کے لیے میدان میں اترے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ فیصلہ کرکٹ کے جذبے کو برقرار رکھنے اور تمام شریک ممالک میں اس عالمی کھیل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔‘

اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کی اتوار کو لاہور میں ملاقات ہوئی۔

آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن مبشر عثمانی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کی اور اس اجلاس میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب بنگلہ دیش نے اپنی ٹیم کی سیکیورٹی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے میچز انڈیا سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ان کی درخواست کو آئی سی سی نے مسترد کر دیا تھا۔ جس کے بعد حکومت پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی ٹیم 15 فروری کو انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔

آئی سی سی نے کیا کہا؟

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھی ایکس پر پوسٹ کرکے اس کی تصدیق کی۔

آئی سی سی نے لکھا کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور آئی سی سی کے درمیان کامیاب بات چیت کے بعد، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ میں اپنے تمام میچ کھیلے گا۔‘

اپنے بیان میں آئی سی سی نے کہا کہ ’آئی سی سی اور پی سی بی کے درمیان بات چیت ایک وسیع تر عمل کا حصہ تھی جس میں دونوں فریقوں نے تعمیری کام کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا اور کھیل کے مفادات میں دیانتداری، انصاف اور تعاون کے ساتھ متحد، پرعزم اور بامقصد رہنے پر اتفاق کیا۔‘

آئی سی سی نے مزید لکھا کہ ’اس جذبے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام رکن ممالک آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کی شرائط کے مطابق اپنے وعدوں کا احترام کریں گے اور آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے موجودہ ایڈیشن کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘

بنگلہ دیش کے حوالے سے آئی سی سی نے لکھا کہ ’بنگلہ دیش کے پاس کرکٹ کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اور اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آئی سی سی نے بنگلہ دیش میں کرکٹ کی ترقی کو مسلسل فروغ دینے کے لیے اپنے کردار کا اعادہ کیا ہے۔ یہاں 200 ملین سے زیادہ کرکٹ شائقین موجود ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے سے ملک میں کرکٹ پر کوئی طویل مدتی اثر نہ پڑے۔‘

اسی بیان میں آئی سی سی نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش کے ٹورنامنٹ میں نہ کھیلنے کے فیصلے کے باوجود اس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کو سنہ 2031 کے ورلڈ کپ سے پہلے ایک آئی سی سی ایونٹ منعقد کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

’اگر بنگلہ دیش کی جگہ انڈیا مطالبہ کرتا۔۔۔‘ ٹی 20 ورلڈ کپ پر ناصر حسین کا تبصرہ زیرِ بحثپاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟دبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانیانڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

یاد رہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر کوئی ملک سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی بھی ملک میں کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو بنگلہ دیش کو بھی یہ حق ملنا چاہیے۔‘

اس کا حوالہ گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کا تھا جہاں انڈین کرکٹ ٹیم نے کھیلنے سے انکار کر دیا تھا اور پھر انڈیا کے میچ دبئی میں کرائے گئے تھے۔

سری لنکا کے صدر نے کیا کہا؟

سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے ایک پوسٹ میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے لکھا ’شکریہ شہباز شریف، آپ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہم سب کو پیارا کھیل جاری رہے، یہ جان کر خوشی ہوئی کہ کولمبو میں جاری ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان انڈیا میچ شیڈول کے مطابق کھیلا جائے گا۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’ٹورنامنٹ کے شریک میزبان ہونے کے ناطے سری لنکا آئی سی سی اور اس میں شامل تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سری لنکا پاکستان اور انڈیا کی کوششیں نہیں بھولا جب 1996 کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں نے کولمبو میں میچ کھیلے جبکہ دوسرے ممالک سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے دستبردار ہو گئے۔‘

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے کیا کہا؟

اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بھی پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ 15 فروری کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں انڈیا کے خلاف اپنا میچ کھیلے۔

ایک بیان میں بی سی بی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن رضا نقوی، پی سی بی اور پاکستان کے کرکٹ شائقین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران، ’پی سی بی نے بہترین یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

بی سی بی کے صدر محمد امین الاسلام نے کہا کہ ’ہم اس دوران بنگلہ دیش کی حمایت میں پاکستان کی زبردست کوششوں سے بہت متاثر ہیں۔ ہمارا بھائی چارہ طویل عرصے تک پھلے پھولے۔‘

بی سی بی کے صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’گزشتہ روز پاکستان کے مختصر دورے کے بعد اور ہماری بات چیت کے ممکنہ نتائج کو دیکھتے ہوئے، میں کرکٹ کے مفاد میں پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ 15 فروری کو انڈیا کے خلاف آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلے۔‘

سوشل میڈیا پر بحث

اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا پر کافی بحث ہو رہی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر پاکستان کو اس بائیکاٹ کے فیصلے کو بدلنے سے کیا حاصل ہوا؟

عمر فاروق نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’پاکستان نے بنگلہ دیش کے لیے لڑائی لڑی اور کافی حد تک بیانیے کی جنگ جیتنے میں کامیاب رہا۔ یہ موقف آئںدہ کے لیے ایک نئی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دو قوتیں ہیں۔‘

عمر فاروق کے مطابق ’اس تمام شور کے بیچ ایک سادہ سی بات گم ہو رہی ہے اور وہ یہ کہ بنگلہ دیش ورلڈ کپ میں شامل نہیں اور اس کے کھلاڑیوں کو ایک بڑے سٹیج پر کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔‘

صحافی فیضان لاکھانی نے سری لنکا کے صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’جب ایک ایسے ملک کا صدر عوامی سطح پر آپ کا شکریہ ادا کر رہا ہو اور وہ بھی ایسے میچ کے لیے جس میں اس کی اپنی ٹیم نہ کھیل رہی ہو تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ سب کھیل سے کہیں بڑا معاملہ تھا۔‘

ان کے مطابق ’اس سے پاکستانی کی کرکٹ کی دنیا میں اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی علم ہوتا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے حکومتی مداخلت کی ضرورت کیوں تھی۔‘

کرکٹ میں ’سیاست اور پیسے کی کہانی‘: ٹی 20 ورلڈ کپ کے بحران میں آئی سی سی بے بس کیوں ہے؟پاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟’اگر بنگلہ دیش کی جگہ انڈیا مطالبہ کرتا۔۔۔‘ ٹی 20 ورلڈ کپ پر ناصر حسین کا تبصرہ زیرِ بحثانڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟’شکریہ پاکستان‘: شہباز شریف کا بیان اور بنگلہ دیش کا ردعمل، کیا انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا دفاع ممکن ہے؟دبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More