پاکستان سپر لیگ کے لیے کھلاڑیوں کی نیلامی کا عمل بدھ کو مکمل ہو گیا جس کے دوران آٹھ ٹیموں نے کل 103 کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کر کے ٹورنامنٹ کے11ویں ایڈیشن کے لیے اپنا سکواڈ تیار کر لیا ہے۔
ان ٹیموں نے نیلامی سے قبل ہی ’ریٹینشن پالیسی‘ اور ڈائریکٹ سائننگ کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 38 کھلاڑی اپنے سکواڈ میں شامل کر لیے تھے یوں پی ایس ایل 11 میں کل 141 کھلاڑی حصہ لیں گے۔
پی ایس ایل کے11 ویں سیزن کا آغاز 26 مارچ سے ہو رہا ہے اور حال ہی میں دو نئی ٹیموں کے اضافے کے بعد اب مجموعی طور پر آٹھ ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے مدمقابل ہوں گی۔
پی ایس ایل کے 11 ویں سیزن میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے بعد سب سے مہنگے کھلاڑی سٹیو سمتھ ثابت ہوئے ہیں، جن کی خدمات سیالکوٹ سٹالینز نے 14 کروڑ روپے میں حاصل کی ہیں۔ ان کے علاوہ صائم ایوب کی خدمات حیدرآباد کنگزمین نے 12 کروڑ 60 لاکھ میں حاصل کی ہیں۔
بدھ کو ہونے والی نیلامی میں بولی کا آغاز آل راؤنڈر فہیم اشرف کے نام سے ہوا جنھیں اپنی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے فرنچائز مالکان کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا تاہم آخر میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ساڑھے آٹھ کروڑ کیبولی دے کر انھیں اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا۔
نیلامی میں سب سے زیادہ بولی فاسٹ بولر نسیم شاہ کے لیے لگی جنھیں راولپنڈی کی ٹیم نے آٹھ کروڑ 65 لاکھ میں خریدا۔ جبکہ حارث رؤف کو لاہور قلندرز نے سات کروڑ 60 لاکھ میں دوبارہ اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔
فخر زمان کے لیے سخت مقابلہ دیکھنے کو ملااور چار کروڑ 20 لاکھ کی بنیادی قیمت والے اوپنر کو انھیں ریلیز کرنے والی ٹیم لاہور قلندرز نے سات کروڑ 95 لاکھ روپے کی بولی دے کر دوبارہ ٹیم میں شامل کر لیا۔
پاکستان کی قومی ٹی 20 ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کے لیے اسلام آباد اور کراچی کی ٹیموں میں مقابلہ ہوا اور کامیاب بولی پانچ کروڑ 85 لاکھ روپے کی تھی جو کراچی کنگز نے دی جبکہ صاحبزادہ فرحانپانچ کروڑ 70 لاکھ روپے میں سیالکوٹ سٹالیئنز کا حصہ بنے۔ اس کے علاوہ محمد عامر کو راولپنڈی کی ٹیم نے پانچ کروڑ 40 لاکھ روپے کے عوض حاصل کیا۔
غیر ملکی کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو کراچی کنگز نے آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر کے لیے سات کروڑ 90 لاکھ روپے کی کامیاب بولی دی جبکہ نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل کے اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقابلہ ہوا جس کا نتیجہ راولپنڈی کے حق میں نکلا جس نے مچل کی خدمات آٹھ کروڑ پانچ لاکھ روپے کے عوض حاصل کیں۔
اس کے علاوہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم نے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مارک چیپمین کی خدمات سات کروڑ روپے کے عوض حاصل کی ہیں۔
نیلامی کا طریقۂ کار
پی ایس ایل کی انتظامیہ نے رواں برس سیزن 11 کے لیے انڈین پریمیئر لیگ کی طرز پر پہلی مرتبہ کھلاڑیوں کی نیلامی کا طریقۂ کار متعارف کروایا۔ پاکستان سپر لیگ میں کھلاڑیوں کا انتخاب پلیئرز ڈرافٹ کے طریقہ کار کے تحت کیا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ آئی پی ایل کی طرز پر کھلاڑیوں کی ’بیس پرائس‘ مقرر کر کے نیلامی کی گئی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق پی ایس ایل میں کھلاڑیوں کی نیلامی کے لیے اس بار بھی چار کیٹیگریز رکھی گئی تھیں۔
پہلی کیٹیگری میں بنیادی معاوضہ چار کروڑ 20 لاکھ، دوسری میں دو کروڑ 20 لاکھ روپے، تیسری میں ایک کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ چوتھی کیٹیگری میں 60 لاکھ روپے رکھا گیا۔ پی ایس ایل کے پہلے 10 سیزنز میں کھلاڑیوں کو ڈالرز میں ادائیگی کی جاتی تھی، تاہم اس مرتبہ اُنھیں پاکستانی روپوں میں معاوضہ دیا جائے گا۔
نیلامی کے دوران جس کھلاڑی کی بولی چار کروڑ 20 لاکھ سے شروع ہوئی، اس کے بعد ہر بولی کے دوران فرنچائز کو کم سے کم 15 لاکھ روپے کا اضافہ کرنا لازمی تھا۔
Getty Images
اسی طرح جس کھلاڑی کی بیس پرائس دو کروڑ 20 لاکھ تھی، اس میں ہر بولی کے دوران پانچ لاکھ جبکہ ایک کروڑ 10 کروڑ والے کرکٹر کی بولی بڑھانے کے لیے کم از کم ڈھائی لاکھ روپے بڑھانا تھے۔
نیلامی میں پہلی کیٹیگری میں اٹھ پاکستانی کھلاڑی شامل تھے جو پاکستان کی ٹی 20 کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان آغا کے علاوہ صاحبزادہ فرحان، حارث رؤف، محمد عامر، نسیم شاہ، عماد وسیم اور فخر زمان کے علاوہ فہیم اشرف ہیں۔
پانچ پاکستانی کھلاڑیوں کی بیس پرائس دو کروڑ 20 لاکھ روپے رکھی گئی یعنی وہ دوسری کیٹیگری کا حصہ تھے اور یہ تمام کھلاڑی پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ان میں شان مسعود، افتخار احمد، اسامہ میر، سعود شکیل اور محمد وسیم جونیئر شامل ہیں۔
زیادہ سے زیادہ بیس پرائس پانے والے غیرملکی کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے چھ، انگلینڈ کے چار، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے تین، تین اور سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے دو، دو کھلاڑی شامل ہیں۔
ابتدائی طور پر ایسے کھلاڑیوں کی مجموعی تعداد 22 تھی لیکن افغان کھلاڑیوں کے پی ایس ایل کا حصہ نہ بننے کے فیصلے کے بعد فضل حق فاروقی اور مجیب الرحمان اب نیلامی میں شامل نہیں ہوں گے۔
پی ایس ایل کے نئے قواعد و ضوابط کے مطابق ہر ٹیم کے پاس نیلامی میں کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے 45 کروڑ روپے کی مجموعی رقم دستیاب تھی جبکہ براہِ راست ’سائننگ‘ کے لیے مزید ساڑھے پانچ کروڑ روپے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ یوں زیادہ سے زیادہ بجٹ ساڑھے 50 کروڑ روپے تھا۔
پی ایس ایل انتظامیہ نے ہر فرنچائز کو کسی بھی ایسے غیر ملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کی اجازت دی ہے جو پی ایس ایل 10 کا حصہ نہیں تھا اور اس آپشن کو استعمال کرتے ہوئے تین فرنچائزز نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کو اپنے سکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔ ان میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سپنسر جانسن، سیالکوٹ سٹالیئنز نے سٹیو سمتھ جبکہ حیدرآباد کنگزمین نے مارنس لبوشان کو سائن کیا ہے۔
اس نیلامی میں ہر فرنچائز کو اپنے سکواڈ میں کم سے کم 16 یا زیادہ سے زیادہ 20 کھلاڑی شامل کرنے کی اجازت تھی جبکہ سکواڈ کے حجم کے لحاظ سے غیرملکی کھلاڑیوں کی تعداد پانچ سے سات ہے۔
اس سکواڈ میں سے فرنچائز کے لیے پلیئنگ الیون میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار غیرملکی کھلاڑیوں کو کھلانا لازمی ہوگا۔
ٹیموں کے لیے سکواڈ میں 23 برس سے کم عمر کے کم از کم دو اور پلیئنگ الیون میں ایک کھلاڑی کو شامل کرنا بھیضروری ہو گا۔
کون سے کھلاڑی نیلامی کا حصہ نہیں تھے
پی ایس ایل 11 کے لیے ہونے والی نیلامی میں بابر اعظم اور شاہین آفریدی جیسے کئی بڑے نام شامل نہیں تھے جس کی وجہ ’ریٹینشن پالیسی‘ ہے۔
کراچی کنگز نے اس سیزن کے لیے حسن علی، خوشدل شاہ، سعد بیگ اور عباس آفریدی کو ٹیم میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ کراچی کنگز نے حسن علی کو چار کروڑ 76 لاکھ، عباس آفریدی کو تین کروڑ آٹھ لاکھ، خوشدل شاہ کو تین کروڑ 36 لاکھ جبکہ سعد بیگ کو 60 لاکھ روپے میں ریٹین کیا ہے یوں نیلامی میں اس فرنچائز کے پاس 33 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ہو گی۔
پشاور زلمی نے بابر اعظم کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے اور انھیں سات کروڑ روپے ملیں گے۔ ڈائمنڈ کیٹیگری میں سپنر سفیان مقیم کو رکھا گیا ہے جنھیں چار کروڑ 48 لاکھ روپے کی رقم ملے گی جبکہ گولڈ کیٹیگری میں عبدالصمد دو کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کریں گے اور پشاور کی جانب سے ریٹین کیے جانے والے چوتھے کھلاڑی علی رضا ہیں جن کی قیمت ایک کروڑ 96 لاکھ روپےرکھی گئی ہے۔
ان چار کھلاڑیوں پر پشاور زلمی نے 16 کروڑ 24 لاکھ روپے کی رقم خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے پاس نیلامی میں خرچ کرنے کے لیے 28 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ہو گی۔
اسلام آباد یونائیٹڈز نے پی ایس ایل 11 کے لیے کپتان شاداب خان کو پلاٹینم کیٹیگری، سلمان ارشاد کو گولڈ کیٹیگری اور اندریس گوس کو سلور کیٹیگری میں سکواڈ میں برقرار رکھا ہے۔
اسلام اباد یونائیٹڈ نے کپتان شاداب خان کو سات کروڑ روپے میں ریٹین کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ معاوضہ انھیں پلاٹنیم کیٹیگری میں ادا کیا جائے گا جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے سلور کیٹیگری میں اندریس گوس کو ایک کروڑ 40 لاکھ روپے اور گولڈ کیٹیگری میں سلمان ارشاد کو ایک کروڑ 20 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
جب وسیم اکرم نے بابر اعظم سے سوال کرتے ہوئے پی ایس ایل میں ’روٹی‘ کا قصہ سنایاراشد لطیف کی معافی پر نجم سیٹھی اور محسن نقوی آمنے سامنے: ’نہیں سر، میری تشویش بے جا نہیں‘ملتان سلطانز کے علاوہ پی ایس ایل کی تمام ٹیموں کے نئے 10 سالہ معاہدے، علی ترین کا ’الوداع‘آٹھ گیندوں پر آٹھ چھکے اور صرف نو منٹ میں نصف سنچری بنانے والے انڈین کھلاڑی کون ہیں؟
لاہور قلندرز نے شاہین شاہ آفریدی، عبداللہ شفیق، زمبابوے کے پاکستانی نژاد آل راؤنڈر سکندر رضا کے علاوہ محمد نعیم کو نیلامی کے لیے پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرنچائز نے شاہین آفریدی کو سات کروڑ، عبداللہ شفیق کو دو کروڑ 20 لاکھ، سکندر رضا کو دو کروڑ 80 لاکھ جبکہ محمد نعیم کو 70 لاکھ کی رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور کی ٹیم نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو چھ کروڑ 44 لاکھ روپ میں براہِ راست سائن بھی کیا ہے۔
ٹورنامنٹ کے قواعد کے مطابق ہر فرنچائز کو صرف ایک کھلاڑی کو پلیٹینم، ڈائمنڈ، گولڈ اور سلور/ایمرجنگ کیٹیگری میں برقرار رکھنے کی اجازت تھی۔ اس ضابطے کے تحت قلندرز نے کپتان شاہین شاہ آفریدی کو پلیٹینم میں برقرار رکھا، لیکن حارث رؤف اور فخر زمان کو ریلیز کرنا پڑا۔ نیلامی کے دوران حارث رؤف پر 18 بولیاں لگیں جبکہ فخر زمان کے لیے 26 بولیوں کی سخت کشمکش ہوئی۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بولر سپنسر جانسن کو براہِ راست سائن کیا ہے جبکہ سپنر ابرار احمد اور عثمان طارق کے علاوہ حسن نواز اور ایمرجنگ کھلاڑی شمائل حسین کو ’ریٹین‘ کرنے کا اعلان کیا ہے جنھیں بالترتیب سات کروڑ، پانچ کروڑ 60 لاکھ، تین کروڑ 92 لاکھ اور 84 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
سیالکوٹ سٹالیئنز نے جہاں سٹیو سمتھ کو 14 کروڑ روپے کی خطیر رقم کے عوض براہِ راست ٹیم کا حصہ بنایا ہے وہیں یہ ٹیم محمد نواز کو چھ کروڑ 16 لاکھ، سلمان مرزا کو تین کروڑ 92 لاکھ، احمد دانیال کو دو کروڑ 24 لاکھ جبکہ سعد مسعود کو 84 لاکھ روپے کی رقم دے گی۔
ٹیم کے ہیڈ کوچ، سابق آسٹریلوی وکٹ کیپر ٹم پین نے اعلان کیا کہ وہ سیالکوٹ سٹالینز میں آسٹریلین کرکٹ کا رنگ شامل کرنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق سٹیو سمتھ جیسے عالمی معیار کے بیٹر کی موجودگی ٹیم کے لیے نہایت قیمتی ثابت ہوگی۔
پی ایس ایل 11 میں شامل کی جانے والی دوسری نئی ٹیم حیدرآباد کنگزمین نے جہاں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے مارنس لبوشان کو پانچ کروڑ 88 لاکھ کے عوض براہِ راست ٹیم کا حصہ بنایا ہے وہیں صائم ایوب کو 12 کروڑ 60 لاکھ روپے، عثمان خان کو چار کروڑ 62 لاکھ، ایمرجنگ کھلاڑی معاذ صداقت کو ساڑھے تین کروڑ جبکہ عاکف جاوید کو ایک کروڑ 96 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
سابقہ ملتان سلطانز اور اب راولپنڈی کے نام سے پی ایس ایل 11 میں شرکت کرنے والی ٹیم نے محمد رضوان کو پانچ کروڑ 60، سیم بلنگز کو تین کروڑ آٹھ لاکھ، زمان خان کو ایک کروڑ 12 لاکھ اور یاسر خان کو 60 لاکھ میں ’ریٹین کیا ہے۔
حتمی سکواڈ کیا رہے؟
حیدرآباد ہیوسٹن کنگز
حیدرآباد کی ٹیم نے آسٹریلیا کے مارنس لبوشین کو ڈائریکٹ سائن کیا جبکہ صائم ایوب، عاکف جاوید، معاز صداقت اور عثمان خان ریٹینشن پالیسی کے تحت ٹیم کا حصہ بنے۔
نیلامی میں اس ٹیم نے محمد علی، کوشال پریرا، محمد عرفان خان، حسن خان، شایان جہانگیر، اوٹنیل بارٹمین، حماد اعظم، رائلی میریڈتھ، شرجیل خان، آصف محمود، حنین شاہ، رضوان محمود، سعد علی اور طیب عارف کو خریدا ہے۔
اسلام آباد یونائیٹڈ
اسلام آباد کی ٹیم کی براہ راست سائننگ ڈیون کونوے تھے جبکہ ریٹین کیے گئے کھلاڑیوں میں ٹیم کے کپتان شاداب خان، سلمان ارشاد اور آندریس گوس شامل تھے۔
نیلامی کے نتیجے میں اسلام آباد کی ٹیم کا حصہ بننے والوں میں فہیم اشرف، مہران ممتاز، میکس برائنٹ، مارک چیپمین، محمد وسیم جونیئر، میر حمزہ سجاد، ثمین گل، سمیر منہاس، شمر جوزف، عماد وسیم، رچرڈ گلیسن، حیدر علی، محمد حسنین اور دیپندر سنگھ ایری شامل ہیں۔
کراچی کنگز
کراچی کی ٹیم نے انگلینڈ کے معین علی کو براہِ راست سائن کیا جبکہ ٹیم میں برقرار رکھے جانے والوں میں حسن علی، محمد عباس آفریدی، خوشدل شاہ اور سعد بیگ شامل تھے۔
کراچی کنگز نے نیلامی میں ڈیوڈ وارنر، اعظم خان، سلمان علی آغا، شاہد عزیز، میر حمزہ، ایڈم زمپا، حمزہ سہیل، عاقب الیاس، خزیمہ بن تنویر، جانسن چارلس، محمد وسیم، احسان اللہ اور رضوان اللہ کو خریدا ہے۔
لاہور قلندرز
تین مرتبہ پی ایس ایل جیتنے والی ٹیم نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولرمستفیض الرحمان کو براہِ راست سائن کیا جبکہ اپنے کپتان شاہین شاہ آفریدی کے علاوہ عبداللہ شفیق، سکندر رضا اور محمد نعیم کو برقرار رکھا تھا۔
نیلامی میں لاہور کی ٹیم نے اپنے دیرینہ ارکان حارث رؤف اور فخر زمان کے علاوہ اسامہ میر، عبید شاہ، محمد فاروق، داسون شناکا، پرویز حسین ایمون، آصف علی، حسین طلعت، طیب طاہر اور گدکیش موتی کے لیے کامیاب بولی دی۔
راولپنڈی
ماضی میں ملتان سلطانز کے نام سے پی ایس ایل میں حصہ لینے والی ٹیم نے اپنے سکواڈ میں محمد رضوان، سیم بلنگز، زمان خان اور یاسر خان کو برقرار رکھا۔
نیلامی میں اس ٹیم نے نسیم شاہ، رشاد حسین، ڈیرل مچل، محمد عامر، عبداللہ فضل، عماد بٹ، ڈیان فاریسٹر، لوری ایونز، آصف آفریدی، کامران غلام، فواد علی،محمد عامر خان اور شہزاد خان کو حاصل کیا۔
پشاور زلمی
پشاور کی ٹیم کی ڈائریکٹ سائننگ ایرن ہارڈی تھے جبکہ ٹیم میں برقرار رکھے گئے کھلاڑیوں میں بابر اعظم، سفیان مقیم، عبدالصمد اور علی رضا شامل تھے۔
اس ٹیم نے نیلامی میں عامر جمال، خرم شہزاد، محمد حارث، خالد عثمان، عبدالسبحان، جیمز ونس، مائیکل بریسویل، کوشال مینڈس، ناہید رانا، مرزا طاہر بیگ، کاشف علی اور افتخار احمد کو سکواڈ کا حصہ بنایا۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
کوئٹہ کی ٹیم کی ڈائریکٹ سائننگ سپنسر جانسن رہے جبکہ سپنر ابرار احمد، عثمان طارق، حسن نواز، شمائل حسین کو برقرار رکھا گیا۔
نیلامی میں ٹیم کا حصہ بننے والوں میں رائلی روسو، فیصل اکرم، عرفات منہاس، جہانداد خان، خواجہ محمد نافع، وسیم اکرم جونیئر، خان زیب، بسم اللہ خان، ثاقب خان، بریٹ ہیمپٹن، سیم ہارپر، بیوون جیکبز، سعود شکیل، بین میکڈرمٹ اورٹام کرن شامل ہیں۔
سیالکوٹ سٹالیئنز
اس نئی ٹیم نے سٹیو سمتھ کو 14 کروڑ کے عوض ڈائریکٹ سائن کیا جبکہ محمد نواز، محمد سلمان مرزا، احمد دانیال اور سعد مسعود کو برقرار رکھا۔
نیلامی میں سیالکوٹ کی ٹیم نے جہانزیب سلطان، صاحبزادہ فرحان، ایشٹن ٹرنر، پیٹر سڈل، تبریز شمسی، لیچلن شا، ڈلانو پوٹگیٹر، جوش فلپے، شان مسعود، مومن قمر اور محمد اویس ظفر کو خریدا۔
ٹیم کے ہیڈ کوچ ٹم پین نے کہا کہ وہ گذشتہ چھ سال سے پی ایس ایل دیکھ رہے ہیں اور اب کوچنگ کے بعد لیگ میں حصہ لینا ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ دوسری جانب بولنگ کوچ سہیل تنویر نے بتایا کہ ٹیم کی باؤلنگ میں ویری ایشنز شامل کی گئی ہیں، اور نوجوان فاسٹ باؤلرز جیسے سلمان مرزا اور احمد دانیال اس سکواڈ کا اہم حصہ ہیں۔
ایک مہنگا کھلاڑی خریدنے کا اثر باقی ٹیم پر؟
پی ایس ایل 11 کے لیے سیالکوٹ سٹالیئنز نے سٹیو سمتھ کو 14 کروڑ روپے کی خطیر رقم کے عوض براہِ راست ٹیم کا حصہ بنایا ہے جبکہ حیدرآباد کنگزمین نے صائم ایوب کو 12 کروڑ 60 لاکھ روپے اور لاہور قلندر نے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کو چھ کروڑ 44 لاکھ روپے میں سائن کیا ہے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ایک غیر ملکی کھلاڑی کو بڑی رقم دے کر ڈائریکٹ سائن کرنے سے باقی غیر ملکی و ملکی کھلاڑیوں کے لیے رقم بچے گی ؟ اور کیا فرنچائز کے پاس اتنا بجٹ (پرس) ہے کہ وہ باقی کھلاڑیوں کو بھی ایڈجسٹ کر سکے؟ اس سے دوسرے کھلاڑیوں کا معاوضہ متاثر نہیں ہو گا؟
اس حوالے سے سیالکوٹ سٹالیئنز کے مالک کامل خان نے بی بی سی اردو کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یقیناً سٹیو سمتھ جیسے کھلاڑی کو اتنی رقم کے عوض سائن کرنے سے ہمارا مجموعی بجٹ متاثر ہو گا۔۔۔ مگر اب ہم باقی کھلاڑی بہت سوچ سمجھ کر ٹیم میں شامل کریں گے۔‘
تاہم لاہور قلندر کے سی ای او عاطف رانا نے بی بی سی اردو کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹیم ایک کھلاڑی سے نہیں بنتی، 11 کھلاڑیوں اور مجموعی بجٹ کو دیکھتے ہوئے ہی کسی کھلاڑی کو رقم آفر کی جاتی ہے۔‘
لاہور قلندر کے سی ای او کا مزید کہنا تھا کہ ’جو کچھ بھی ہو گا سب کے سامنے ہو گا‘۔۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ آپ گھر سے بازار سامان لینے گئے ہیں اور آپ کا ایک لاکھ بجٹ ہے تو آپ ساری چیزیں اس کی مناسبت سے ہی لیں گے نا۔۔۔۔ اسی طرح کھلاڑیوں کے آکشن کی بھی یہی صورتحال ہے۔‘
عاطف رانا کا کہنا تھا کہ ’جتنے فرنچائز مالکان ہیں وہ کاروبار کرکے ہی یہاں تک پہنچے ہیں اور انھیں آئیڈیا ہے کہ انھوں نے اپنی ٹیمیں کیسے بنانی ہیں۔۔۔ جیسے وہ کارپورٹ کی ٹیمیں بناتے ہیں ویسے ہی انھیں کھیل کی ٹیم بھی بنانی آتی ہے۔ ہمیں پتا ہے کہ ہمارا بجٹ کتنا ہے اور اس کے اندر ہی ہم نے کھلاڑیوں کا سب سے بہترین کامبینیشن (امتزاج) بنانا ہے جس سے ہم فینز کو بہترین انداز میں انٹرٹین کر سکیں۔‘
’امیر کھلاڑی مزید امیر ہوتے جائیں گے اور غریب کھلاڑی مزید غریب ہوتے جائیں گے‘
سپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے بی بی سی اردو کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک مہنگا کھلاڑی سائن کر لینے سے باقی ٹیم پر اثر ضرور پڑتا ہے۔‘
اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس میں ایک دو نہیں بلکہ تین اہم نکات ہیں۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق ’ہم نے جو حالیہ نیلامیاں دیکھی ہیں جہاں قیمتیں ایک ارب 75 کروڑ روپے، 185 کروڑ روپے اور دو ارب 45 کروڑ تک گئی ہیں، یہ سب خسارے کا باعث بھی بنتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرنچائزز بیرونی ذرائع سے کمائی بھی کرتی ہیں مگر امریکی ڈالر اور روپے کے فرق کی وجہ سے وہ بھی دباؤ میں آ جاتی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’دوسری اہم بات یہ ہے کہ اب ایسی فرنچائزز آ رہی ہیں جن کی ڈیپ پاکٹس ہیں یعنی مالی طور پر مضبوط مالکان ہیں۔ اس لیے کم از کم ان کے پاس بیک اپ تو ہو گا۔ حالیہ تین مثالیں ملتان سلطانز، سیالکوٹ اور حیدرآباد کی ہیں۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق باقی ٹیموں میں ’ہم نے ڈرافٹ کے دوران دیکھا کہ کم قیمت پر کھلاڑی لینے کی کوشش کی گئی اور کھلاڑیوں کے لیے حالات خاصے مجبوری والے تھے۔‘
نیلامی کے متعلق ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ میرا نظریہ یہ ہے کہ ’امیر کھلاڑی مزید امیر ہوتے جائیں گے اور غریب کھلاڑی مزید غریب ہوتے جائیں گے، اس طرح عدم توازن پیدا ہو گا اور کھلاڑیوں کے درمیان فرق مزید بڑھ جائے گا۔۔۔کہیں 12 کروڑ، کہیں چھ کروڑ، کہیں چار کروڑ۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق ’جب فرنچائزز اس طرح کھلاڑی حاصل کر رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مالی طور پر مضبوط تو ہیں، مگر وہ کھلاڑی جن کی نیلامی میں زیادہ قدر نہیں، وہ اس سے متاثر ہوں گے۔‘
کیا 16 لاکھ ڈالرز کا پرس اچھے کھلاڑیوں پر مشتمل سکواڈ بنانے کے لیے کافی ہے؟
اس سوال کے جواب میں سیالکوٹ سٹالیئنز کے مالک کامل خان کا کہنا تھا کہ 16 لاکھ ڈالر کی کیپ ایک اچھی چیز ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کیپ سے ساری ٹیموں کو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بہتر مالی حالات کی وجہ سے کوئی ایک ٹیم بازی نہیں لے پاتی، اس طرح سب کو برابر موقع ملتا ہے۔‘
اس حوالے سے لاہور قلندر کے سی ای او عاطف رانا کا کہنا تھا کہ ’یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے اور اس کا اندازہ تو آکشن کے بعد ہی ہو پائے گا۔‘
عاطف رانا کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جو قواعد و ضوابط بنائے ہیں وہ ان کے تھنک ٹینک نے بہت سوچ سمجھ کر بنائے ہیں، لہذا تمام ٹیموں کے مالکان اور ان کی پروفیشنل ٹیمز انھیں ذہن میں رکھتے ہوئے اور اپنے بجٹ کو دیکھتے ہوئے ہی پلاننگ کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ پہلے سے پتا نہیں تھا اور ابھی ہمیں اس بارے میں پتا چلا ہے، ہم سب کو اس بارے میں کافی عرصے سے معلوم تھا اور ہم سب کی مشاورت سے ہی سبھی کچھ طے پایا تھا۔‘
تاہم سپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ 16 لاکھ ڈالر کا پرس بڑھایا جانا چاہیے اور اگر نیلامی کی طرف جانا تھا اسے کم از کم 20 لاکھ ڈالر کرنا چاہیے تھا۔
Getty Images’اونٹ رکھنے ہیں تو دروازے بھی بڑے کریں‘
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پی ایس ایل میں بڑے نام نہیں آتے، تو اگر کسی ٹیم نے ایک دو بڑے نام اتنی بڑی رقم میں لے لیے ہیں تو وہ باقی کھلاڑیوں کو کیسے متوجہ کریں گے؟
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ ’ہر فرنچائز صرف ایک ڈائریکٹ سائننگ کر سکتی ہے۔ باقی کھلاڑی ڈرافٹ کے ذریعے آتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ممکن ہے کہ کرکٹ بورڈ کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر تک کی معاونت یا ایکویٹی بھی دی جائے۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق ’اگر آپ واقعی بڑے کھلاڑی لانا چاہتے ہیں تو مواقع بڑھانے ہوں گے۔ اونٹ رکھنے ہیں تو دروازے بھی بڑے کریں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہی تو ہمارا مسئلہ رہا ہے اسی لیے بڑے کھلاڑی متوجہ نہیں ہوتے اوریہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر کھلاڑی زیادہ تر تین بڑی لیگز کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں مالی سہولتیں بہتر ہوتی ہیں۔‘
ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ ’نیلامی ایک درست قدم ہے، یہ درست سمت میں پیش رفت ہے۔ دنیا میں اب ڈرافٹ نہیں ہوتے، صرف نیلامیاں ہوتی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ مالی بجٹ بھی بڑھانا ہو گا۔۔۔ ’کرکٹ بورڈ کب تک سبسڈی دے گا اور کب تک ڈالر اور روپے کے فرق کے ساتھ گزارا کیا جائے گا؟‘
’میرا خیال ہے کہ اگر نیلامی کی طرف جانا تھا تو کم از کم 20 یا 25 لاکھ ڈالر کا بجٹ رکھنا چاہیے تھا۔‘
کوہلی کی 54 ویں سنچری اور انڈیا کا ’نیا وِلن‘: بلیو شرٹس کو تین سال بعد ہوم گراؤنڈ پر ون ڈے سیریز میں شکستملتان سلطانز کی نیلامی کے اشتہار پر علی ترین کا طنز: ’جب آپ کی ایکس کی دوبارہ شادی ہو رہی ہو‘آئی پی ایل کی نیلامی میں کرکٹرز کے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں: ’اب پی ایس ایل کو بھی کچھ نیا کرنا ہوگا‘’وسیم اکرم کسی وجہ سے لیجنڈ ہیں‘: اسلام آباد میں پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے دوران کیا کچھ ہوتا رہا؟علی ترین اور ’ملتان سلطانز‘ کو چلانے کا خرچہ: پی ایس ایل کی فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟قانونی نوٹس پھاڑنے سے علی ترین کو بولی میں شامل ہونے کی دعوت تک: ’مجھے یقین نہیں آ رہا میری سلیکشن ہو گئی ہے‘