’والد نے میرے شوہر کو قتل کر کے مجھے بے جان جسم کی طرح چھوڑ دیا‘

بی بی سی اردو  |  Feb 14, 2026

دن کے گیارہ بجے تھے جب میں بہار کے تلپاتی گاؤں پہنچی۔ لوگ اپنے گھروں کے باہر بیٹھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے لیکن ایک گھر کے ایک چھوٹے سے تاریک کمرے میں ایک 20 سالہ خاتون کمبل اوڑھے سونے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اس کے سسرال والوں نے اسے پکارا کہ ’تنو بیٹا کوئی تم سے ملنے آیا ہے۔‘

دو تین بار پکارنے کے بعد اس نے کمبل ایک طرف پھینک دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹیب تھا، جس پر اس کے خوشگوار دنوں کی ویڈیو چل رہی تھی۔

نوجوان خاتون کا نام تنوپریا ہے اور ان کے والد پر ان کے شوہر راہول کو گولی مار کر قتل کرنے کا الزام ہے۔

وہ ایک دبلی پتلی لڑکی ہیں جس کی بڑی بڑی آنکھیں اس کی موجودہ زندگی کا درد ظاہر کرتی ہیں۔ وہ صبح جلدی اٹھنا نہیں چاہتی۔ وہ دیر سے سونا چاہتی ہے تاکہ اس کی زندگی کا ایک اور دن کسی طرح گزر سکے۔

تنوپریا کی کہانی انڈیا کی ایسی لڑکی کے بارے میں ہے جو پدرانہ نظام میں پھنسے معاشرے میں اپنے فیصلے خود لیتی ہے۔

تنوپریا اور راہول کی محبت کی کہانی

تنوپریا بہار کے ضلع سہرسہ کی رہنے والی ہیں جبکہ راہول سوپول ضلع کے تلپاتی گاؤں کے رہنے والے تھے۔

تنوپریہ پریم شنکر جھا اور گنجن کماری کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ پریم شنکر جھا ادویات کی دکان کے مالک ہیں۔ گنجن کماری ایک سرکاری سکول میں سنسکرت پڑھاتی ہیں۔

تنوپریا اور راہول کمار کی ملاقات دربھنگہ میڈیکل کالج میں ہوئی۔

راہول کا تعلق ایک عام کاشتکار خاندان سے تھا۔ ان کے والد گنیش منڈل نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور وہ ایک کسان ہیں۔ ان کی والدہ انیتا دیوی نے 12ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔

’منڈل‘ بہار کی انتہائی پسماندہ ذات ہے۔

راہول اور تنوپریا دونوں دربھنگہ میڈیکل کالج ہسپتال میں نرسنگ کر رہے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’راہول مجھ سے ایک سال بڑا تھا۔ طبی پیشے میں سینیئرز اور جونیئرز کے درمیان اکثر بات چیت ہوتی ہے اور اسی لیے راہول سے میری دوستی ہو گئی۔ وہ میرا بہترین دوست تھا۔ کالج میں ہر کوئی سوچتا تھا کہ ہماری کبھی لڑائی کیوں نہیں ہوئی۔‘

راہول تنوپریا کی پڑھائی میں مدد کرتے تھے تاہم بلٹ موٹر سائیکل نے دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا۔

راہول کے پاس بلٹ موٹر سائیکل تھی اور تنو کو اسے چلانا پسند تھا۔ آج بھی تنو کے انسٹاگرام پر راہول کے ساتھ بلٹ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے کئی ویڈیوز موجود ہیں۔

تنوپریا ویڈیو دکھا کر خوش ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم اکٹھے پڑھتے اور ساتھ سفر کرتے تھے۔ ڈیٹنگ جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔ ہم بلٹ موٹر سائیکل پر مندر جایا کرتے تھے۔ میرا تعلق ایک برہمن خاندان سے ہے۔ میرے شوہر کا تعلق ای بی سی (انتہائی پسماندہ طبقے) سے تھا۔‘

’کالج میں بہت سے لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ میرے والد پریم شنکر جھا کو اطلاع ملی کہ میرا ایک پسماندہ ذات کے لڑکے کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔‘

شوہر کے قتل کے الزام میں بیوی گرفتار: ’وہ زہر دینے کے بعد پورن ویڈیوز دیکھتی رہی‘’یقین نہیں آ رہا بہو نے میرے بیٹے کو قتل کر دیا‘: وہ واردات جس میں ’خاوند نے بیوی کو خود گولی مارنے کو کہا‘خوبصورت بچیوں کو قتل کرنے والی خاتون گرفتار: ’خوف تھا کہ یہ بڑی ہو کر مجھ سے زیادہ خوبصورت ہو جائیں گی‘وہ خاتون جس کی تشدد زدہ لاش عروسی جوڑے کے لیے خریدے جانے والے سوٹ کیس سے ملی

تنوپریا کا کہنا ہے کہ جب وہ گذشتہ سال 27 مارچ کو اپنے گھر گئیں تو ان کے گھر والوں نے انھیں ہراساں کرنا شروع کر دیا۔

تنوپریا نے بتایا کہ ان کے والدین نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ راہول کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کروائیں ’لیکن اس نے کبھی مجھے نامناسب انداز میں چھوا تک نہیں تھا تو میں ایسا کیسے کر سکتی تھی؟‘

تنوپریا کہتی ہیں کہ ’جب میں نے انکار کیا تو میرے گھر والوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ جب یہ سب میرے لیے برداشت کرنا بہت زیادہ ہو گیا تو میں نے انسٹاگرام پر راہول کو پیغام بھیجا کہ وہ مجھے بچائے۔ میرے پاس فون نہیں تھا اور میرا لیپ ٹاپ ہی واحد راستہ تھا جس سے میں راہول سے رابطہ کر سکتی تھی۔‘

راہول کی مدد سے تنوپریا نے اپنا گھر چھوڑ دیا۔ دونوں نے اپنی زندگی کے بارے میں سوچا اور پھر بہت غوروفکر کے بعد شادی کا فیصلہ کیا اور دونوں ساتھ رہنے لگے۔

5 اگست کو کیا ہوا تھا؟

تنوپریا 5 اگست کے دن کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس دن وہ اپنے شوہر کے ساتھ کالج کی کینٹین کی طرف جا رہی تھیں۔

’میں نے دیکھا کہ ایک شخص ماسک پہنے آیا اور وہ بار بار راہول سے پوچھ رہا تھا کہ یہ بلٹ موٹرسائیکل کس کی ہے۔‘

’راہول اسے اپنا ماسک اتارنے کا کہہ رہا تھا اور اسی لمحے اس شحض نے راہول کو گولی مار دی۔ راہول میری طرف بھاگا اور میں اس کی طرف۔ وہ میری گود میں گر گیا۔‘

’ہم انھیں ایمرجنسی وارڈ میں لے گئے۔ دوسرے طلبا نے جب اس شخص کے چہرے سے نقاب ہٹایا تو دیکھا کہ وہ میرے والد ہیں۔ میرے والد نے میرے شوہر کو مار ڈالا۔‘

اس واقعہ کے بعد نرسنگ کالج میں افراتفری مچ گئی۔ وہاں موجود طلبا نے تنوپریا کے والد پریم شنکر جھا کو پکڑ لیا اور ان کی پٹائی کی۔

بعد میں مقامی پولیس نے پریم شنکر جھا کو علاج کے لیے پٹنہ میڈیکل کالج ہسپتال بھیج دیا۔

راہول کمار کے والد گنیش منڈل کی طرف سے درج ایف آئی آر میں چار ملزمان کے نام درج ہیں۔

پریم شنکر جھا، گنجن کماری اور ان کے دو بیٹوں دربھنگہ جیل میں قید پریم شنکر جھا کی ضمانت کی درخواست نومبر میں سیشن جج نے مسترد کر دی تھی۔

سرکاری وکیل امریندر نارائن جھا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پریم شنکر جھا کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ اس معاملے میں چارج شیٹ بھی داخل کر دی گئی۔‘

بینٹا تھانے کے انچارج ہریندر کمار سے جب کیس کے دیگر ملزمان کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس معاملے میں گنجن کماری کو ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی جبکہ باقی دو ملزمان کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔‘

تنوپریا کہتی ہیں کہ ’تفتیش ٹھیک سے نہیں ہو رہی، میری ماں کو ضمانت مل گئی، دونوں بھائی آزاد گھوم رہے ہیں، اس سازش میں کون کون ملوث تھا، یہ تب ہی سامنے آئے گا جب صحیح تفتیش ہو گی۔‘

’اب یہ میرا بیٹا ہے‘

راہول کی موت کے بعد تلپاتی میں واقع ان کے گھر میں ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ تنوپریا کے کمرے کے دروازے پر تالا لگا دیا گیا تاکہ وہ اندر سے دروازہ بند نہ کر سکیں۔

تنوپریا کہتی ہیں کہ ’یہ لوگ ڈرتے ہیں کہ میں کچھ کر لوں گی۔ اسی لیے انھوں نے مجھے کبھی اندر سے دروازہ بند نہیں کرنے دیا۔‘

’انھوں نے آج تک میرے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ ان کا بیٹا میری وجہ سے مر گیا۔‘

راہول کے والد گنیش منڈل زیادہ بات نہیں کرتے لیکن ان کی ماں انیتا دیوی کہتی ہیں کہ ’میں نے کبھی ایسا باپ نہیں دیکھا جو اپنے ہی داماد کو مار دے۔ میرا بیٹا چلا گیا لیکن اب تنوپریا ہی میرا بیٹا ہیں۔ میں اسے اپنا بیٹا سمجھ کر زندگی گزاروں گی۔‘

لیکن گذشتہ برس اگست میں ہونے والے اس واقعے کے بعد تنوپریا نے دوبارہ کتابوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔

ان کے کمرے میں دو بیگ لٹک رہے ہیں، جن میں سے ایک راہول کا ہے۔ تنوپریا کہتی ہیں کہ ’اب میں صرف اپنے شوہر کو انصاف دلانے کے لیے زندہ ہوں۔‘

تنوپریا کہتی ہیں کہ ’میرے والد نے میرے شوہر کو قتل کر کے مجھے ایک بے جان جسم کی طرح چھوڑ دیا، میں نہیں چاہتی کہ کوئی مجھے قاتل کی بیٹی کہے۔‘

شوہر کے قتل کے الزام میں بیوی گرفتار: ’وہ زہر دینے کے بعد پورن ویڈیوز دیکھتی رہی‘’یقین نہیں آ رہا بہو نے میرے بیٹے کو قتل کر دیا‘: وہ واردات جس میں ’خاوند نے بیوی کو خود گولی مارنے کو کہا‘وہ خاتون جس کی تشدد زدہ لاش عروسی جوڑے کے لیے خریدے جانے والے سوٹ کیس سے ملیشادی کے دن ’دلہن‘ کا قتل، خون آلود پائپ اور ہتھیلی پر لکھا ہوا مبینہ قاتل ’ساجن‘ کا نامقتل کے بعد شوہر کو کچن میں دفنا کر خاتون دو ماہ تک وہیں کھانا بناتی رہیخوبصورت بچیوں کو قتل کرنے والی خاتون گرفتار: ’خوف تھا کہ یہ بڑی ہو کر مجھ سے زیادہ خوبصورت ہو جائیں گی‘
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More