’انڈیا اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھ رہا ہے۔ جو کبھی انڈیا کی ٹیم کی سب سے بڑی طاقت تھا، وہ اب اس کی کمزوری بن چکا ہے اور پاکستان کے خلاف میچ میں سپن باؤلنگ کا سامنا کرنا انڈین ٹیم کے لیے آسان نہیں ہو گا۔‘
نمیبیا کے خلاف انڈین ٹیم کی 93 رنز سے کامیابی کے بعد آدتیہ نامی ایک صارف نے ایکس پر یہ سوال کیا۔
اگرچہ انڈین کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے ابتدائی دونوں میچ جیتے ہیں لیکن یہ سوال اٹھانے والے اکیلے آدتیہ نہیں ہیں۔
ان دو میچوں کے علاوہ حالیہ برسوں میں سپنرز کے خلاف خراب کارکردگی کی وجہ سے اسے ٹیم انڈیا کی سب سے بڑی کمزوری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
15 فروری کو پاکستان کے ساتھ ہونے والے میچ سے پہلے یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کیونکہ کولمبو کی پچیں سپنرز کے لیے انڈین پچوں سے زیادہ مددگار سمجھی جاتی ہیں۔
ان سوالات کے پیچھے دوسرا پہلو یہ ہے کہ پاکستان اب اپنے فاسٹ بالروں کے بجائے اپنے سپنرز کے ساتھ زیادہ پُراعتماد دیکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان نے نیدرلینڈ کے خلاف چار اور امریکہ کے خلاف پانچ سپنرز آزمائے اور پاکستانی سپنرز نے ان دو میچوں میں 13 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
سپنرز کے خلاف مُشکلات کا شکار دیکھائی دینے والے انڈین بلے بازوں کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ٹورنامنٹ کے اپنے اہم ترین میچ میں سپنرز کو استعمال کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے گا۔
انڈین بلے باز جیرارڈ کا سامنا نہیں کر پائے
نمیبیا کے خلاف انڈیا کا آغاز اتنا شاندار تھا کہ ٹیم نے سات اوورز میں صرف ایک وکٹ کے نقصان پر 104 رنز بنائے۔
لیکن نمیبیا کے کپتان جیرارڈ نے 20 گیندوں میں نصف سنچری بنانے والے ایشان کشن کو میچ کی پہلی گیند پر ہی پویلین بھیج دیا۔
اس کے بعد انڈین بلے باز جیرارڈ ایراسمس کی سپن بولنگ کا سامنا کرنے میں مُشکلات کا سامنا کرتے نظر آئے۔
کشن کے علاوہ انھوں نے چار اوورز میں صرف 20 رنز دے کر تلک ورما، ہاردک پانڈیا اور اکشر پٹیل کی وکٹیں لیں۔
نمیبیا کے فاسٹ باؤلر روبن کی اس میچ میں بولنگ اوسط نو اعشاریہ پانچ جبکہ دیگر تمام بالروں کی بولنگ اوسط 10 سے زیادہ تھی۔
’ایسا لگتا ہے ان پر ربڑ کی تہہ چڑھی ہو‘: انڈین کرکٹرز کے بیٹ پر سری لنکن کھلاڑی کا بیان اور پھر وضاحت28 ہزار کی گنجائش مگر ’ٹکٹوں کی 88 ہزار درخواستیں‘: پاکستان، انڈیا میچ کے لیے شائقین کو جہاز، گراؤنڈ کے ٹکٹس کے حصول میں دشواریعثمان طارق کا ’وقفہ‘، انڈین شائقین کرکٹ کی پریشانی اور ایشون کی وضاحت: ’یہ انڈیا کے خلاف ٹرمپ کارڈ ہو گا‘انڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
اس سے قبل امریکی سپنرز نے بھی انڈین بلے بازوں کو کافی پریشان کیا۔
لیگ سپنر محمد محسن نے انڈیا کے خلاف چار اوورز میں 16 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
ہرمیت سنگھ نے دو انڈین بلے بازوں کو چار اوورز میں صرف 26 رنز دے کر پویلین واپس بھیج دیا۔
Getty Imagesپاکستان نے نیدرلینڈ کے خلاف چار اور امریکہ کے خلاف پانچ سپنرز آزمائے اور پاکستانی سپنرز نے ان دو میچوں میں 13 وکٹیں حاصل کی ہیں۔کیا انڈیا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟
ٹورنامنٹ میں انڈیا کی لگاتار دو میچوں میں کامیابی کے باوجود، سپنرز کے خلاف انڈین بلے بازوں کی مُشکلات کے بارے میں سوشل میڈیا پر کافی بحث ہو رہی ہے۔
ارجن نامی ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’بقیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈین ٹیم کو سپنرز کے خلاف بہتر بیٹنگ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
اسی دوران ورون نے ایکس پر لکھا کہ ’سب سے بڑا مسئلہ سپنرز کے خلاف ٹیم انڈیا میں بلے بازوں کی ناکامی ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’انڈین بلے باز جس طرح سے سپنرز کے خلاف دباؤ کا شکار نظر آرہے ہیں وہ آنے والے میچوں سے قبل ٹیم کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ امریکہ کے بعد نمیبیا کے سپن اٹیک نے بھی انڈین بلے بازوں کو پریشان کر دیا۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ ’ہم ابھی انڈیا میں کھیل رہے تھے اس لیے ابھی معاملات ہاتھ سے نہیں نکلے۔ لیکن اگلا میچ کولمبو میں ہے جہاں بالروں کو انڈیا کے مقابلے میں زیادہ ٹرن ملتا ہے۔ اگر انڈین بلے باز اس طرح کھیلتے ہیں تو انھیں پاکستان کے خلاف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہی تشویشناک بات ہے۔‘
شری رام نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کے خلاف میچ انڈیا کے لیے آسان نہیں ہونے والا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈین بلے باز اس وقت اوسط سپنرز پر مشتمل باؤلنگ اٹیک کے خلاف بھی دباؤ کا شکار نظر آرہے ہیں۔ پاکستان کا سپن اٹیک کولمبو میں انڈیا کو مشکل میں ڈال سکتا ہے اور انڈیا کے لیے میچ جیتنا آسان نہیں ہو گا۔‘
Getty Imagesشری رام نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ 'پاکستان کے خلاف میچ انڈیا کے لیے آسان نہیں ہونے والا۔'انڈیا پاکستان کے درمیان میچ سے قبل اُٹھنے والے سوالات
سپنرز کے خلاف انڈین بلے بازوں کی مُشکلات پر سنہ 2024 سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سنہ 2024 میں انڈیا 12 سال کے وقفے کے بعد ہوم سرزمین پر ٹیسٹ سیریز ہار گیا۔
اس کے بعد نیوزی لینڈ نے انڈیا کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں تین صفر سے شکست دی۔ بعد ازاں گذشتہ سال جنوبی افریقہ نے انڈین سرزمین پر دو صفر کی برتری سے ٹیسٹ سیریز بھی جیت لی تھی۔
جنوبی افریقہ کی کامیابی کے ہیرو سپنر سائمن راس ہارمر رہے جنھوں نے دو میچوں میں 17 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کارکردگی پر انھیں سیریز کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔
انڈیا کی شکست کے بعد نیوزی لینڈ کے کرکٹ کمنٹیٹر اور سابق کرکٹر ایان سمتھ نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ برسوں میں سپنرز کے خلاف انڈین بلے بازوں کی کارکردگی پہلے جیسی نہیں رہی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سپنرز کو کھیلنے کی بات کی جائے تو انڈین بلے باز پہلے سے کمزور ہو گئے ہیں۔ اگر آپ نمبر دیکھیں تو وہ اس حوالے سے پہلے کافی اچھے اور پُراعتماد نظر آتے تھے۔ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ ان کا اعتماد ختم ہو گیا ہے یا وہ خود پر شک کر رہے ہیں، کیونکہ یہ حیران کن ہے۔‘
گذشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف شکست کے بعد انڈیا کے دوسرے کامیاب سپنر آر اشون نے بھی اس پر سوالات اٹھائے تھے۔
انھوں نے اپنے یوٹیوب چینل ’آش کی بات‘ پر کہا تھا کہ ’اس وقت ہماری بیٹنگ یونٹ سپنرز کا سامنا کرنے میں دنیا میں شاید سب سے خراب ہے۔‘
’ایسا لگتا ہے ان پر ربڑ کی تہہ چڑھی ہو‘: انڈین کرکٹرز کے بیٹ پر سری لنکن کھلاڑی کا بیان اور پھر وضاحتعثمان طارق کا ’وقفہ‘، انڈین شائقین کرکٹ کی پریشانی اور ایشون کی وضاحت: ’یہ انڈیا کے خلاف ٹرمپ کارڈ ہو گا‘28 ہزار کی گنجائش مگر ’ٹکٹوں کی 88 ہزار درخواستیں‘: پاکستان، انڈیا میچ کے لیے شائقین کو جہاز، گراؤنڈ کے ٹکٹس کے حصول میں دشواریعثمان طارق کی ’حیرت‘ امریکہ پر بھاری پڑ گئی’شکریہ شہباز شریف‘: پی سی بی اور آئی سی سی میٹنگ میں ایسا کیا ہوا کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ بدل دیا؟’اتنی گھاس والی وکٹ کبھی نہیں دیکھی‘: ثقلین مشتاق کا بیان اور پاکستان کو سری لنکا میں ملنے والی کنڈیشنز پر بحث