ترکی میں ایپسٹین کی ’مساج گرل‘: ڈی پی ورلڈ کے سربراہ کا استعفیٰ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم سے مبینہ روابط کی کہانی

بی بی سی اردو  |  Feb 14, 2026

عالمی بندرگاہوں کو آپریٹ کرنے والی کمپنی ڈی پی ورلڈ کے سربراہ نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سےروابط کے انکشاف پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد کمپنی چھوڑ دی ہے۔

سلطان احمد بن سلیم کا چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے استعفیٰ اس وقت سامنے آیا جب نئی جاری کی گئی فائلوں سے ظاہر ہوا کہ اماراتی بزنس ٹائیکون نے ایک دہائی کے دوران ایپسٹین کے ساتھ سینکڑوں ای میلز کا تبادلہ کیا۔

فائلوں میں ذکر ہونا کسی غلط کام میں ملوث ہونے کو ظاہر نہیں کرتا، لیکن بی بی سی نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے سلطان احمد بن سلیم سے رابطہ کیا ہے۔

ڈی پی ورلڈ نے جمعے کو اُن کے استعفے کا اعلان کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’یہ استعفی فوری طور پر مؤثر‘ ہو گا۔ کمپنی نے عیسیٰ کاظم کو چیئرمین اور یوراج نارائن کو چیف ایگزیکٹو نامزد کیا ہے۔ ڈی ورلڈ کی ویب سائٹ سے سلطان احمد بن سلیم کی تصویر بھی ہٹا دی گئی ہے۔

دبئی کی کمپنی ڈی پی ورلڈ کا شمار دُنیا کی بڑی لاجسٹک فرم کے طور پر ہوتا ہے جو دُنیا کے چھ براعظموں میں پورٹ ٹرمینلز چلاتی ہے اور عالمی تجارتی انفراسٹرکچر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

لیکن ایپسٹین فائلز کے سامنے آنے کے بعد ڈی پی ورلڈ کا دیگر کمپنیوں کے ساتھکاروبار متاثر ہوا ہے اور یہ دباؤ میں آ گئی ہے۔

اس ہفتے کے آغاز میں یو کے ڈیولپمنٹ فنانس ایجنسی اور کینیڈا کے دوسرے بڑے پینشن فنڈ لا کیس نے کہا کہ وہ فرم میں نئی ​​سرمایہ کاری کو منسوخ کر رہے ہیں۔

پرنس آف ویلز کا ’ارتھ شاٹ پراجیکٹ‘ جسے ڈی پی ورلڈ سے بھی فنڈنگ حاصل ہوتی ہے، نے فائلوں میں نام آنے کے بعد اس معاملے پر یو کے چیریٹی کمیشن کو رپورٹ کیا ہے۔

Getty Images

سلطان احمد بن سلیم پر دو امریکی قانون سازوں رو کھنہ اور تھامس میسی کی طرف سے بھی الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ’چھ طاقتور شخصیات‘ میں سے ایک ہیں جو بدنام فنانسر ایپسٹین کے ساتھ منسلک تھے۔

کانگریس کے وہ ارکان جنھوں نے یہ فائلز عام کرنے سے متعلق قانون کی معاونت کی تھی کا کہنا ہے کہ کچھ فائلز کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی جن میں ان طاقتور شخصیات کے نام تھے۔

نئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟رومانوی مشوروں سے مالیاتی مدد تک: امیر اور طاقتور لوگ سزا یافتہ مجرم ایپسٹین کو انکار کیوں نہیں کر پاتے تھے؟ ایپسٹین فائلز میں ٹرمپ اور عمران خان سمیت کن معروف شخصیات کا ذکر ہے؟’ایپسٹین فائلز‘ اور وہ سازشی نظریات جو ٹرمپ کو مشکل میں ڈال رہے ہیں

نو فروری کو تھامس میسی نے جیفری ایپسٹین کے دستاویزات میں حذف شدہ مواد کی نشاندہی کی۔ ان میں سے ایک 2009 کی ای میل تھی جس میں ایپسٹین نے ’ٹارچر ویڈیو‘ کا ذکر کیا تھا۔

ای میل موصول کرنے والے شخص نے جواب دیا کہ وہ چین اور امریکہ کے درمیان سفر کر رہے ہیں۔ تاہم اس مکالمے کا پورا سیاق و سباق معلوم نہیں ہے۔

امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ ایپسٹین کی یہ ای میل موصول کرنے والے شخص سلطان احمد سلیم تھے۔

’قابلِ اعتماد دوست‘

بی بی سی عربی کی جانب سے کیے گئے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلیم کا 2007 سے ایپسٹین کے ساتھ رابطہ تھا۔

ای میلز کے تبادلے سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں میں گہری دوستی تھی اور دونوں ایک دوسرے کو باقاعدگی سے اپنے سفری منصوبوں، کاروباری آئیڈیاز اور رابطوں کے ساتھ ساتھ خبریں اور لطیفے بھی بھیجتے رہتے تھے۔

ایپسٹین نے جون 2013 کی ایک ای میل میں سلیم کو ’اپنے سب سے قابلِ اعتماد دوستوں میں سے ایک‘ کے طور پر بیان کیا۔ دونوں دُنیا بھر میں کاروبار سے متعلق خیالات، دبئی میں ’اسلامی‘ ڈیجیٹل کرنسی شروع کرنے جیسے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرتے رہے۔

کئی برسوں کے دوران کی گئی ای میلز میں ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سلیم نے ایپسٹین سے اپنے، اپنی بیٹی اور اپنے خاندان اور دوستوں کی صحت کے معاملات پر بھی مشورے طلب کیے۔

ای میلز سے پتہ چلتا ہے کہ سلیم 2019 میں ایپسٹین کی وفات سے دو برس قبل سنہ 2017 تک اُن کے ساتھ رابطے میں رہے۔ حالانکہ سنہ 2008 میں جب اُنھیں 18 سال سے کم عمر فرد کو جسم فروشی کے لیے طلب کرنے کے لیے پہلی مرتبہ سزا سنائی گئی تو اس عرصے میں بھی وہ ایپسٹین کے ساتھ رابطے میں رہے۔

Getty Imagesخواتین کے بارے میں ای میلز

ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلیم اور ایپسٹین نے اپنے آس پاس کی لڑکیوں اور خواتین کے بارے میں بہت سے پیغامات کا تبادلہ کیا۔

ان ای میلز کا سیاق و سباق ہمیشہ واضح نہیں ہوتا ہے۔

سنہ 2013 کی ایک ای میل میں دونوں دو خواتین کی خوبصورتی کا موازنہ کر رہے ہیں جس میں وہ مالدوا کی ایک خاتون کو یوکرینی لڑکی سے کم خوبصورت قرار دے رہے ہیں۔

چار سال بعد کی ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلطان احمد بن سلیم نے جیفری ایپسٹین کا ’پرائیویٹ مساج کرنے والی خاتون‘ کے لیے ترکی کے ایک ہوٹل میں ’تمام طرح کے ٹریٹمنٹ‘ کی تربیت کا بندوبست کیا۔ ہوٹل کے رابطہ کار نے بھی تصدیق کی ہے کہ اُس وقت اس خاتون کو ’ایک وسیع اور مکمل تربیتی پروگرام‘ دینے کا کہا گیا تھا۔

اس ای میل ٹریل سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ خاتون نے تصدیق کی کہ اُن کے پاس روس کا پاسپورٹ ہے۔

سنہ 2015 کی ایک ای میل میں سلیم نے ایپسٹین کو بتایا کہ اُن کے خیال میں سب سے زیادہ حسین خواتین روس میں ہوتی ہیں۔

دو الگ الگ ای میلز جو بظاہر سلیم کی ہیں، میں انکشاف کیا گیا کہ اُن کی ایک آئرش اور ازبک گرل فرینڈز تھیں۔

سنہ 2017 کی ایک ای میل میں بظاہر ایک خاتون کے پاسپورٹ کے ساتھ یہ لکھتے ہیں کہ ’یہ میری 22 سالہ نئی ازبک دوست ہے‘ جوابی ای میل میں ایسپٹین یہ تصحیح کرتے ہیں کہ ’اس کے پاسپورٹ کے مطابق وہ 23 سال کی ہے۔‘

ایک موقع پر سلیم اپنے دوست کو جنسی اور نسل پرستی پر مبنی لطیفے بھی بھیجتے ہیں۔

ایپسٹین کے ساتھ برسوں سے سلیم کی خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شادی شدہ تھے اور ایک موقع پر اُن کی دو بیویاں تھیں۔

Getty Images’سلطان کے ساتھ اچھا سلوک کریں‘

ایسا لگتا ہے کہ سلطان سلیم نے ایپسٹین کو برطانوی حکومت میں لابنگ کے لیے استعمال کیا۔ ایپسٹین نے برطانوی سیاست دان لارڈمینڈیلسن سے رابطہ کیا تھا، جس کا مقصد سلیم کی کمپنی کو لندن گیٹ وے پورٹ چلانے کا کانٹریکٹ دلوانے کی کوشش کرنا تھا۔

ایپسٹین اور لارڈ پیٹر مینڈلسن کے درمیان تعلق خاص طور پر برطانیہ میں زیرِ بحث رہا، جہاں آخرکار مینڈلسن کو ستمبر میں امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

کانگریس کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لارڈ مینڈلسن نے 2016 کے آخر تکایپسٹین سے رابطہ برقرار رکھا ہوا تھا۔

ای میل چین سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ کی حکومت کو ڈی پی ورلڈ ڈیل کی حمایت کے لیے قائل کرنے کے لیے ہفتے پہلے سلیم اور لارڈ مینڈیلسن کے درمیان ایک میٹنگ بھی ہوئی تھی۔

دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایپسٹین نے سلیم کو لارڈ مینڈیلسن کو خط تیار کرنے میں مدد کی تھی اور بزنس سیکریٹری کا ذاتی ای میل ایڈریس بھی شیئر کیا تھا۔

دستاویزات سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایپسٹین کی مداخلت نے اس منصوبے کی حتمی منظوری میں کوئی کردار ادا کیا۔ لیکن تبادلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایپسٹین سلیم اور سینیئر سیاسی شخصیات کے درمیان ایک غیر رسمی ثالث کے طور پر کام کر رہے تھے۔

اس معاملے میں لارڈ مینڈیلسن کی طرف سے کسی غلط کام کی کوئی تجویز نہیں دی گئی ہے۔ بی بی سی نے اس پر تبصروں کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔

مارچ 2016 میں سلیم نے ایپسٹین کو بتایا کہ اُنھوں نے لندن گیٹ وے بندرگاہ پر پرنس ولیم کا استقبال کیا اور اگلے دن بکنگھم پیلس میں ان کے ساتھ ایک تقریب میں شریک ہوئے۔ ای میلز سے پتہ چلتا ہے کہ ایپسٹین نے لفظ ’تفریح‘ کے ساتھ جواب دیا۔

Getty Imagesمتعدد شخصیات سے تعارف

دستاویزات میں ایسی ای میلز شامل ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے سلیم کو سیاست اور کاروبار سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شخصیات سے ای میل کے ذریعے متعارف کرایا جن میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم یہود بارک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر سٹیو بینن شامل ہیں۔

اس کے بعد کی خط و کتابت میں سلیم اور وہ شخصیات دکھائی دیتی ہیں جو ایپسٹین کو کاپی کرتے ہوئے یا اسے پیغامات فارورڈ کرتے ہوئے ای میلز کے ذریعے براہ راست بات چیت کرتے ہیں۔

سنہ 2015 میں سلیم کی طرف سے بھیجی گئی ای میل میں ایپسٹین سے پوچھا گیا ہے کہ کیا اُنھوں نے ایلون مسک سے ان کی ’تجویز‘ کا ذکر کیا۔

ایسپٹین نے سلیم کو کینیا، سینیگال، گببون اور کانگو کے صدور سے متعارف کرنے کی بھی پیشکش کی۔ بی بی سی کی طرف سے دیکھی گئی دستاویزات سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ پیشکش قبول کی گئی تھی۔

سلیم نے سنہ 2017 میں ٹرمپ کے صدارتی حلف برداری کی دعوت کے حوالے سے ایپسٹین سے مشورہ بھی طلب کیا تھا۔ خط و کتابت میں سلطان نے پوچھا کہ ’کیا مجھے دعوت قبول کرنی چاہیے، کیا ٹرمپ سے مصافحہ ممکن ہو گا۔‘

کئی ای میلز میں سلیم کے نیو یارک میں ایپسٹین کے گھر یا یو ایس ورجن آئی لینڈ میں اس کے جزیرے پر جانے کے منصوبوں کے بارے میں بات چیت دکھائی گئی ہے۔ وہ اپنے بین الاقوامی سفری منصوبوں کے بارے میں ایک دوسرے کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرتے رہتے تھے۔

نابالغ لڑکیوں سے سیکس اور خفیہ جزیرہ: ’ایپسٹین فائلز‘ جو ٹرمپ کے لیے دردِ سر ہیںاینڈریو سے ’شہزادے‘ کا خطاب واپس لیے جانے کے بعد ان کی سابقہ اہلیہ اور بیٹیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ایپسٹین سکینڈل: شہزادہ اینڈریو، بل کلنٹن سمیت نامور شخصیات کا جنسی جرائم سے متعلق عدالتی دستاویزات میں ذکربدنام زمانہ امریکی قیدخانہ جہاں جج بھی مجرموں کو بھجوانے سے کتراتے ہیںایپسٹین سکینڈل: شہزادہ اینڈریو، بل کلنٹن سمیت نامور شخصیات کا جنسی جرائم سے متعلق عدالتی دستاویزات میں ذکر
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More