سعودی عرب میں مالدار غیر ملکیوں کو شراب کی فروخت کی اجازت: ’جانی واکر کی ایک بوتل 124 ڈالر کی مل رہی ہے‘

بی بی سی اردو  |  Feb 08, 2026

Getty Imagesاس سٹور تک رسائی کے لیے خصوصی رہائش کا پرمٹ ہونا لازمی ہے

سعودی عرب نے خاموشی کے ساتھ کچھ امیر غیر سعودی باشندوں کو شراب خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پابندیوں میں نرمی کو مستقبل میں سیاحوں تک بڑھایا جائے گا۔

کئی دہائیوں سے ریاض کا سفارت کاروں کے لیے مخصوص علاقہ باقی شہر سے الگ تھلگ لگتا ہے۔ یہ علاقہ پرتعیش رہائش گاہوں، سایہ دار راستوں اور سبز جگہوں سے آراستہ ہے، جہاں ہر جانب شان و شوکت اور امارت جھلکتی ہے۔

یہ علاقہ چائے خانوں اور کافی شاپس پر مبنی ثقافت کی بھی علامت ہے، یہ علاقہ سعودی اور غیر ملکی دونوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔

اب اسی علاقے میں ایک غیر معمولی رہائشی کمپلیکس کے مرکز میں ایک چھوٹا سے سٹور سعودی عرب کی انتہائی حساس پالیسی تبدیلیوں میں سے ایک کو جانچنے کے لیے پوشیدہ جگہ بن گیا ہے۔ یہاں امیر غیر مسلموں کو شراب کی محدود فروخت کی جاتی ہے۔

مسلمانوں کے دو مقدس ترین مقامات کی سرزمین سعودی عرب نے سنہ 1952 میں شراب کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن اپنی بین الاقوامی تصویر کو نیا رنگ دینے کے لیے سعودی عرب نے حالیہ عرصے میں سماجی اور اقتصادی اصلاحات کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے، تاکہ خود کو ایک معتدل معاشرے کے طور پر پیش کیا جا سکے، جہاں سرمایہ کاری کے بھی مواقع ہوں۔

حالیہ برسوں میں خواتین کو آزادی دی گئی ہے اور سنہ 2018 میں اُنھیں گاڑی چلانے کی اجازت بھی دی گئی تھی، سعودی عرب میں میوزک فیسٹیول، کامیڈی شوز اور فیشن شوز کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔

لیکن شراب کی قانونی طور پر فروخت کی اجازت شاید حکومت کا سب سے زیادہ جرات مندانہ اقدام ہے۔

Getty Imagesغیر ملکی سیاحوں کو اس سٹور میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے

ریاض میں شراب کا پہلا سرکاری سٹور جنوری 2024 میں کھولا گیا تھا۔ لیکن ابتدائی طور پر غیر مسلم سفارت کاروں کے داخلے پر پابندی تھی۔

سنہ 2025 کے آخر میں سرکاری اطلاع کے بغیر نافذ ہونے والے نئے ضوابط کے تحت، امیر غیر مسلم تارکین وطن بھی اب بیئر اور وائن خریدنے کے لیے سٹور کا رُخ کر سکتے ہیں۔

خصوصی رہائش کا پرمٹ یا 50 ہزار ریال ماہانہ تنخواہ

اس سٹور تک رسائی کے لیے خصوصی رہائش کا پرمٹ ہونا لازمی ہے جس کی سالانہ قیمت ایک لاکھ سعودی ریال ہے۔ ماہانہ 50 ہزار ریال آمدنی والے شخص کو بھی اس سٹور تک رسائی کی اجازت ہو گی۔

خصوصی رہائش کے معیار مختلف ہوتے ہیں اور عام طور پر سینئر غیر ملکی ایگزیکٹوز، سرمایہ کاروں اور مخصوص مہارتوں کے حامل پیشہ ور افراد کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔

دونوں صورتوں میں درخواست دینے والوں کو داخلے کے وقت سکیورٹی گارڈز کو اپنا رہائشی کارڈ یا تنخواہ دار غیر ملکی کو تنخواہ کا سرٹیفکیٹ دکھانا ہو گا۔

غیر ملکی سیاحوں کو اس سٹور میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

سٹور جانے والے مختلف افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی ہے۔

ایک یورپی شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹور میں بہت سی اقسام کی شراب دستیاب ہے، لیکن ان کی قیمت مغربی ممالک کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہے۔ لیکن بلیک مارکیٹ کے مقابلے میں یہ اب بھی کم ہے۔

ایک برطانوی کمپنی کے عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ جانی واکر کی ایک بوتل 124 ڈالرز میں مل رہی ہے۔ ’یہ بہت زیادہ قیمت ہے، لیکن میں خوشی سے یہ خرید رہا ہوں۔‘

صارفین کے مطابق شراب کی خریداری ماہانہ پوائنٹس پر مبنی راشننگ سسٹم سے مشروط ہوتی ہے جو پیچیدہ ہونے کے باوجود ہر شخص کو ہر ماہ درجنوں لیٹر شراب ملنے کے لیے کافی ہے۔ سفارت کاروں کو اس شرط سے چھوٹ حاصل ہے۔

سعودی حکومت نے اس تبدیلی کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ لیکن کئی خریداروں کا کہنا ہے کہ انھیں بھی اس سے متعلق کسی سے پتہ چلا۔ سٹور کا نام آن لائن نقشوں پر بھی نظر نہیں آتا۔

’صحرا کا بحری جہاز‘: سعودی عرب نے لاکھوں اونٹوں کو پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟’زبردست سفارتی اور خفیہ ہتھیار‘: برطانوی شہزادے ولیم کا دورہ سعودی عرب اور محمد بن سلمان سے ملاقات سے جڑی اُمیدیں، خدشاتاربوں ڈالر کی تجارت یقینی بنانے والی اہم بحری گزرگاہیں سعودی عرب اور امارات کے درمیان رقابت کا میدان کیسے بنیں؟کروڑوں ڈالر معاوضے اور پروٹوکول کے باوجودرونالڈو سعودی کلب ’النصر‘ چھوڑنے والے ہیں؟

گذشتہ برس سعودی حکومت نے ملک کے دارالحکومت ریاض میں ایک شراب خانہ کھولا تھا، جہاں صرف غیرملکی سفارت کاروں کو شراب کی فروخت کی اجازت تھی تاہم متعدد متعدد خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی حکومت میں اب دیگر غیر مسلم غیر ملکیوں کو بھی شراب کی فروخت کی جا رہی ہے۔

یاد رہے سعودی عرب میں 73 برس تک شراب پر مکمل پابندی عائد رہی تاہم گذشتہ برس ریاض میں شراب خانہ کھلنے کے بعد اس پابندی میں نرمی برتنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

نیوز ویب سائٹ سیمافور کے مطابق ریاض میں گذشتہ برس کھلنے والے سٹور نے اب سفارت کاروں کے علاوہ پریمیم ریزیڈنسی پروگرام کے تحت دیگر غیر مسلم غیرملکی شہریوں کو بھی شراب کی فروخت شروع کر دی ہے۔

سعودی عرب میں موجود ایک غیرملکی شہری نے بلومبرگ کو بتایا کہ انھوں نے حال ہی میں ریاض میں واقع شراب خانے سے شراب خریدی تھی۔

سعودی حکومت نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Getty Imagesریاض میں واقع اے 12 کیفے میں ایک بار ٹینڈر سعودی گاہک کو بیئر دے رہے ہیں

تاہم گذشتہ برس سعودی حکام نے کہا تھا کہ ریاض میں واقع دکان سے شراب کی فروخت صرف مملکت میں مقیم اس سفارتی عملے تک ہی محدود ہو گی، جو گذشتہ کئی دہائیوں سے سفارتی پاؤچز کے نام سے سیل بند سرکاری پارسلوں میں اپنے ممالک سے پینے کے لیے شراب سعودی عرب منگواتے ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ شراب کی فروخت کی یہ دکان کھولنے کا مقصد ’شراب کے غیرقانونی کاروبار‘ کا قلعہ قمع کرنا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی پریمیم ویزا رکھنے والے غیر ملکیوں سے بات کی، جنھوں نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے حال ہی میں ریاض میں واقع شراب خانے سے شراب خریدی۔

ایک غیر ملکی شہری نے اے ایف پی بتایا کہ ’میں نے اس کے بارے میں اپنے کچھ دوستوں سے سنا تھا۔ میں دو دن پہلے وہاں گیا اور جیسا انھوں نے بتایا ویسا ہی تھا۔‘

’اس سے میرے پیسے بھی بچ گئے۔ قیمت بہت مناسب ہے اور ہم اب بالآخر شراب خرید سکتے ہیں۔‘

سعودی عرب میں دو نئے شراب خانے کھولنے کی منصوبہ بندی

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب ظہران اور جدہ میں بھی دو نئے شراب خانے کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ ایک نیا شراب خانہ ظہران میں واقع آرامکو کے کمپاؤنڈ میں کمپنی میں کام کرنے والے غیر مسلم ملازمین کے لیے بنایا جائے گا اور اس حوالے سے سعودی حکام نے انھیں آگاہ کر دیا ہے۔

Getty Imagesذرائع کا کہنا ہے کہ ایک شراب خانہ ظہران میں آرامکو میں غیرمسلم ملازمین کے لیے بنایا جائے گا

دو مزید ذرائع کہتے ہیں کہ ایک اور شراب خانہ جدہ میں غیر مسلم سفارت کاروں کے لیے بنایا جائے گا، جہاں متعدد ممالک کے قونصلیٹ واقع ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نئے شراب خانوں کی سنہ 2026 میں کھلنے کی توقع ہے۔

ماہرین کی جانب سے سعودی حکومت کے اس اقدام کو ولی عہد محمد بن سلمان کے ’وژن 2030‘ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد سعودی معاشرے کو کسی حد تک لبرل کرنا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد متعدد تبدیلیاں آئی ہیں اور سعودی مملکت میں شراب خانہ کھولنے کے عمل کو اُن ہی کے ایجنڈے کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کو جون 2017 میں شہزادہ محمد بن نائف کو ہٹا کر ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔

شاہ عبدالعزیز کے بیٹے کے ہاتھوں سفارتکار کے قتل کے بعد شراب پر لگائی گئی پابندی سعودی حکام اب کیوں ختم کرنے جا رہے ہیں؟نیوم: سعودی شہزادے کا 90 لاکھ شہری بسانے کا جدید منصوبہ ’دیوانے کا خواب‘ کیوں؟سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اثر و رسوخ کی کہانیسعودی عرب میں اربوں ڈالر کے ’جدہ سینٹرل‘ منصوبے میں ایسا کیا ہے؟سعودی عرب کا قدیم خانہ بدوش بدو گروہ سے ملک بننے تک کا سفر
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More