BBC
انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد کی ایک رہائشی سوسائٹی میں تین نو عمر بہنوں کی موت کی خبر نے آج کے جدید دور میں بچوں کی پرورش کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کو جنم دے دیا ہے۔
غازی آباد کے شالیمار گارڈن کے علاقے کا یہ واقعہ کچھ دنوں سے خبروں میں ہے۔
شالیمار گارڈن کے اسسٹنٹ کمشنر اتل کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ ’چار فروری کو سوا دو بجے اطلاع ملی کہ ٹیلا موڑ پولیس سٹیشن کی حدود میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔‘
’اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ تینوں لڑکیوں کی موت اونچی عمارت سے گرنے کے باعث ہوئی تھی۔ انھیں ایمبولینس کے ذریعے لونی کے ہسپتال لے جایا گیا۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔‘
پولیس نے تاحال اس واقعے کا کوئی مقدمہ درج نہیں کیا ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکیوں سے ان کے موبائل فون چھین لیے گئے تھے۔
ٹرانس ہندن غازی آباد کے ڈپٹی کمشنر نمیش پاٹل نے بی بی سی نیوز ہندی کو بتایا کہ پولیس فی الحال اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ خودکشی تھی یا نہیں۔
پولیس کا کیا کہنا ہے؟
ڈپٹی کمشنر نمیش پاٹل کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابھی تک اس معاملے کی ایف آئی آر درج نہیں کی ہے۔ ’ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ فون اور کورین ثقافت میں دلچسپی اس واقعے کی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔‘
’لڑکیوں کو کورین موسیقی، ڈرامے، مشہور شخصیات، جاپانی فلمیں اور کارٹون جیسے ’ڈوریمون‘، ’شن چین‘ کے ساتھ ساتھ آن لائن گیمز میں بھی بھی دلچسپی تھی۔‘
’اس کے علاوہ، وہ کوریائی ثقافت سے اس قدر متاثر تھیں کہ انھوں نے اپنے نام بھی بدل لیے تھے۔‘
تاہم نمیش پٹیل نے اس بات کا امکان رد کر دیا ہے کہ ’بلیو وہیل‘ جیسے ٹاسک پر مبنی گیمز ان لڑکیوں کی موت کی بنیادی وجہ ہو سکتی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا کہ تینوں لڑکیوں کی موت بنیادی طور پر خون بہہ جانے اور زخموں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اونچائی سے گرنے کی وجہ سے ان کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔
نمیش پاٹل نے کہا کہ خودکشی نوٹ میں مار پیٹ کا ذکر ہے، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لڑکیوں کے جسموں پر ایسی کسی چوٹ کے نشان نہیں ملے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ’ان کا خاندان مالی مشکلات کا شکار تھا اور گھریلو جھگڑوں نے حالات کو اور بھی مشکل بنا دیا تھا۔ کووڈ کے بعد خاندان کو بہت زیادہ مالی نقصان اٹھانا پڑا اور وہ بھاری قرضوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کچھ سال پہلے گھر والوں نے لڑکیوں کو سکول سے بھی نکال لیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’گھر میں لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے، باپ اپنی بیٹیوں کے ساتھ بہت سخت تھا، شروع میں بیٹیوں کے پاس دو موبائل فون تھے جو وہ مل کر استعمال کرتی تھیں، لیکن مالی تنگی کے باعث باپ نے چھ ماہ قبل ایک موبائل فون فروخت کر دیا تھا جبکہ واقعے سے 10 سے 15 دن پہلے دوسری موبائل فون بھی فروخت کر دیا تھا۔‘
لاہور میں خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ ’پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی‘، پولیس کا دعویٰ’میں چاہتی تھی چیٹ جی پی ٹی میری مدد کرے لیکن اس نے مجھے خودکشی کا طریقہ بتایا‘لاہور میں خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ ’پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی‘، پولیس کا دعویٰانڈیا کا ’کوچنگ کیپیٹل‘ اور طلبا کی خودکشیاں: ’اپنی موت کا میں خود ذمہ دار ہوں، کسی کو پریشان مت کرنا‘’بیٹیاں کہتی تھیں کہ پاپا کوریا چلو‘
لڑکیوں کے والد چیتن کمار پیشے کے اعتبار سے ایک سٹاک بروکر ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں 20 سے 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ لڑکیاں خودکشی جیسا قدم اٹھا لیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی بیٹیوں نے اپنا نام بھی تبدیل کر لیے تھے۔ ’بیٹیاں کہتی تھیں کہ ’پاپا، چلو کوریا چلتے ہیں۔‘ وہ اپنے انڈین ناموں سے چڑنے لگی تھیں۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ’چیتن کمار کی دو بیویاں ہیں جو کہ دونوں بہنیں ہیں۔ گھر میں اس کی ایک سالی بھی ساتھ رہتی ہے۔ دونوں بیویوں سے ان کے کل پانچ بچے ہیں۔‘
Getty Imagesچیتن کمار کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹیاں کہتی تھیں ’پاپا، چلو کوریا چلتے ہیں۔‘
جب بی بی سی نے اس واقعے کے بارے میں مقامی لوگوں سے بات کی تو لڑکیوں کی ہی بلڈنگ میں رہنے والے آر کے سنگھانیہ نے بتایا کہ واقعے کے روز ایک زوردار آواز سے ان کی آنکھ کھلی۔
ان کا کہنا تھا کہ شور سن کر سوسائٹی کے لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلے تو دیکھا کہ تینوں لڑکیوں کی لاشیں زمین پر پڑی ہیں۔ اس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع کر دی گئی۔
سوسائٹی کے سکریٹری راہول کمار جھا نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ جب وہ چیتن کمار کے گھر میں گئے تو دیکھا کہ لڑکیوں کا کمرہ اندر سے بند تھا۔ ’کہا جا رہا ہے کہ لڑکیوں نے اس ہی کمرے سے چھلانگ لگائی تھی۔‘
’پولیس نے دروازہ توڑا۔ اندر فرش پر فیملی کی تصاویر پڑی ہوئی تھیں اور کمرے سے ایک خودکشی نوٹ بھی ملا جس پر ’سوری، ڈیڈ‘ لکھا تھا۔‘
اس واقعے کے بعد بچوں میں فون کی لت پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
سوسائٹی کی رہائشی کلثوم کا کہنا ہے کہ ’ہمارے بچے اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ رات کو سو نہیں پاتے۔ میری رائے میں والدین کو کم از کم معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بچے فون پر کیا کر رہے ہیں۔‘
اس کے ساتھ ہی سوسائٹی میں رہنے والے لوگ فون مینجمنٹ اور کونسلنگ پر بات چیت کرتے نظر آئے۔
بچوں میں سمارٹ فونز کی لت
بچوں کی ماہرِ نفسیات نیلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ فون کی لت بھی کسی نشے کی لت کے مترادف ہوتی ہے۔
’نوجوانی ایک بہت نازک دور ہوتا ہے۔ بدلتے ہوئے معاشرے میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر بچوں سے اچانک فون چھین لیا جائے تو اس سے بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک چھوٹے بچے کے لیے یہ کسی نشے کی لت جیسا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’فون کے استعمال سے ہارمون ڈوپامین خارج ہوتا ہے، جس سے ہمیں خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی کیمیائی مادے کی طرح موثر ہے۔ جب والدین اچانک اپنے بچوں سے فون چھین لیتے ہیں، تو ان کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسے ان سے اچانک نشہ چھڑوا دیا گیا ہو۔‘
دہلی سے تعلق رکھنے والی ماہر نفسیات ڈاکٹر بھاونا برمی کا کہنا ہے کہ ’طویل عرصے تک سکول نہ جانے کا مطلب صرف تعلیم سے محرومی نہیں، اس سے ذہنی کمزوری بھی ہو جاتی ہے۔‘
’سکول صرف علم سیکھنے کی جگہ نہیں، یہ نوعمروں کی صحت مند نشوونما میں ایک اہم ڈھانچے کی حیثیت رکھتا ہے۔‘
ڈاکٹر بھوانا کہتی ہیں کہ ’میں نے ایسے بہت سے نوجوانوں اور خاندانوں کے ساتھ کام کیا ہے جن میں کے پاپ، کورین ڈراموں، کوریائی خوبصورتی کے رجحانات، اور بتوں کے بارے میں دلچسپی محض دلچسپی سے کہیں آگے بڑھ گئی تھی۔ لامتناہی مواد اور مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کے ساتھ رول پلے اور بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘
Getty Images
وہ کہتی ہیں کہ کئی سالوں تک سکول نہ جانے کے بعد بچے گھر میں اکیلے رہ جاتے ہیں اور ایسے میں بہن بھائی ایک ہی طرح کا مواد دیکھنے لگتے ہیں۔ ’وہ ایک ساتھ دیکھتے ہیں، ایک ساتھ بات چیت کرتے ہیں، اور مشترکہ کوریائی شناخت بناتے ہیں۔ وہ دنیا سے الگ اپنی ایک چھوٹی سی دنیا بنا لیتے ہیں جہاں ان کا تخیل ہی ان کی واحد محفوظ اور دلچسپ جگہ بن جاتا ہے۔‘
دونوں نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں والدین کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
والدین اپنے بچوں کے فون کی لت پر قابو پانے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کر سکتے ہیں۔ انھیں خود اپنے فون کا استعمال کم کرکے بچوں کے لیے رول ماڈل بننا چاہیے۔ فون کے استعمال کے لیے ایک وقت کی حد مقرر کریں، یعنی بچوں کو بتائیں کہ وہ دن میں کتنے گھنٹے فون یا آئی پیڈ استعمال کر سکتے ہیں۔ کھیلوں جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں، ان سے بات کرتے رہیں۔
کورین ڈراموں نے کس طرح انڈیا فتح کر لیا ہےبچوں میں سمارٹ فون کی لت: ’پڑھائی، صحت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی تناؤ بھی پیدا ہوتا ہے‘’میری بیٹی فون کے بغیر کھانا نہیں کھاتی‘، بچوں کو سمارٹ فون کی لت سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟’چیونٹیوں کا خوف‘ اور خودکشی: ’میں ان چیونٹیوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی، بچے کا خیال رکھنا‘25 سالہ انڈین پائلٹ کو خودکشی پر اُکسانے کے الزام میں بوائے فرینڈ گرفتار: ’وہ توہین آمیز سلوک کرتا اور گوشت کھانے سے بھی روکتا تھا‘کورین ڈراموں کی بے بس اور نازک خواتین جو اب مضبوط اور پر تشدد ہو گئیں