سیکس میں کمی اور بات چیت سے گریز: کیا آپ کا رشتہ بھی آپ کو تھکا رہا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Feb 07, 2026

Getty Imagesاگر آپ چاہتے ہیں کہ رشتہ قائم رہے تو روزمرہ تبدیلیوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان پر بات کرنا بےحد ضروری ہے

ایمانداری سے بتائیں: کیا آپ کا رشتہ واقعی آپ کے لیے کارآمد ہے؟

جس وقت صحافی ایوِ سیمَنز نے اپنے نو سال کے ساتھی سے شادی کی، شاید اس لمحے وہ اس سوال کا جواب ہاں میں ہی دیتیں۔

لیکن صرف چھ ماہ بعد ہی وہ اس وقت بالکل حیران رہ گئیں جب ان کے شوہر نے ’بظاہر اچانک‘ یہ اعلان کر دیا کہ وہ طلاق چاہتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی وومنز آور کو بتایا کہ ’میں بالکل ٹوٹ کر رہ گئی تھی۔ ایسا لگا جیسے میری دنیا کی بنیاد ہی ہل گئی ہو۔‘

لیکن برسوں بعد اب وہ اس جدائی کو ’اپنی زندگی میں ہونے والی ایک بہترین بات‘ سمجھتی ہیں۔

جب انھوں نے اس بارے میں دوسروں سے بات کرنا شروع کی تو انھیں احساس ہوا کہ بہت سے لوگوں کو بھی ایسے ہی تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کی غیر متوقع علیحدگی نے انھیں طویل مدتی تعلقات سے آزاد کر دیا، جنھیں ایو ’غیر معیار‘ قرار دیتی ہیں، یعنی ایسے رشتے جو بالآخر چل نہیں پاتے۔

لیکن آپ کو کیسے پتا چلے کہ آپ ایسے ہی کسی رشتے میں ہیں؟ یہاں وہ نشانیاں بتائی جا رہی ہیں جن سے آپ ایسے رشتے کو پہچان سکتے ہیں اور یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ آیا اس رشتے کو بچانا ضروری ہے یا پھر آپ کو آگے بڑھ جانا چاہیے۔

کیا آپ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں؟

رشتے مختلف شکلوں میں ہوتے ہیں: کچھ سہولت کے لیے، کچھ صرف تفریح کے لیے، کچھ قلیل مدتی یا صاف لفظوں میں کہیں تو صرف بہترین سیکس کے لیے۔

تاہم سنجیدہ رشتوں کی توقعات اور ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ پیسہ، طرزِ زندگی اور خاندانی منصوبہ بندی، یہ سب عوامل اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔

ماہرِ نفسیات اور رشتوں کی کوچ لوسی بیریسفورڈ کہتی ہیں کہ مشکل کا شکار رشتوں میں اکثر جوڑے حقیقی اور تعمیری گفتگو سے گریز کرتے ہیں۔

یعنی ان میں صرف مختصر بات ہوتی ہے کہ ’آپ ٹھیک ہیں؟‘ جس کا جواب آتا ہے ’ہاں میں ٹھیک ہوں۔‘

یہ سب صرف سطحی نوعیت کی بات چیت ہوتی ہے۔

لوسی کہتی ہیں کہ ’یہ بات چیت نہیں، یہ تو بےرخی ہے۔‘

’وہ مجھے سویٹ ہارٹ کہتا ہے، آنکھ مارتا ہے لیکن وہ میرا بوائے فرینڈ نہیں ہے، وہ اے آئی ہے‘دنیا میں مقبول ہم جنس پرست خواتین کی محبت پر مبنی ڈرامے کس طرح کروڑوں ڈالر کی منافع بخش صنعت بنے’رومانوی تعلق کے بغیر جنسی آزادی کی اجازت‘: اوپن ریلیشن شپ جس نے ایک ڈاکٹر کی زندگی بدل دیہم جنس پرستی، ایک ناکام سازش اور مردہ کتا: 50 برس پرانا سیکس سکینڈل جو ایک ڈرامائی مقدمے کی وجہ بنا

کوئی بھی کسی رشتے میں اس نیت سے داخل نہیں ہوتا کہ وہ ناکام ہو جائے، اس لیے مسائل پر بات کرنے کے بجائے دو لوگوں کے درمیان خاموش تناؤ بڑھتا جاتا ہے۔

یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ کیا آپ کچھ باتوں پر بہت محتاط رہتے ہیں یا جان بوجھ کر ایسے موضوعات سے بچتے ہیں کیونکہ کوئی بات کرنے میں آپ کو خطرہ محسوس ہوتا ہے؟

لوسی کہتی ہیں کہ اگر آپ کو محسوس ہو کہ ’ہم اب ایک ہی صفحے پر نہیں رہے‘ تو ممکن ہے کہ آپ اس رشتے سے آگے بڑھ چکے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب رشتہ آپ کو سہارا دینے کے بجائے تھکانے لگے تو غالب امکان ہے کہ اس میں کوئی عدم توازن موجود ہے۔‘

کیا آپ کے درمیان سیکس کم ہو گیا؟Getty Imagesرشتے ہمیشہ بہترین نہیں رہتے اور نہ ہی ہمیشہ ایک جیسے رہتے ہیں

شاید کئی ہفتوں سے آپ کے درمیان سیکس نہیں ہوا یا آپ کا ساتھی اب پہلے کی طرح آپ کے لیے ریستوران بُک نہیں کرتا اور نہ ہی پھول لاتا ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ رشتہ قائم رہے تو ان روزمرہ تبدیلیوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان پر بات کرنا بےحد ضروری ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ طویل مدتی رشتے کے قدرتی اُتار چڑھاؤ پر شک کریں۔ بات صرف یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھی کے رویّے میں آنے والی مستقل تبدیلیوں کو محسوس کریں اور ان پر بات کریں۔

کاؤنسلر جارجینا اسٹَرمر درج ذیل تجاویز پیش کرتی ہیں:

ہر جملہ ’میں‘ سے شروع کریں۔ ’تم مجھے ایسا محسوس کرواتے ہو‘ جیسے جملے الزام کی طرح محسوس ہو سکتے ہیں۔ اس کے بجائے ہر بات ’میں‘ سے شروع کریں تاکہ آپ بغیر کسی کو موردِ الزام ٹھہرائے اپنے احساسات بیان کر سکیں۔صحیح وقت کا انتخاب کریں۔ جب آپ پہلے ہی غصے میں ہوں یا آپ کے پاس وقت کم ہو تو نازک معاملات پر گفتگو کامیاب نہیں ہوتی۔ بہتر ہے کہ پرسکون ماحول میں بات کرنے کے لیے مناسب وقت نکالا جائے۔ٹائم آؤٹ لیں۔ اگر بات چیت فوراً ہی اختلاف یا جھگڑے میں بدل جائے تو کیا آپ دونوں کسی اشارے یا مخصوص جملے پر متفق ہو سکتے ہیں جو ٹائم آؤٹ یعنی وقفے کا کام دے۔ہم سب محبت ظاہر کرنے اور حاصل کرنے کے مختلف انداز رکھتے ہیں، چاہے وہ جسمانی لمس ہو، ایک ساتھ معیاری وقت گزارنا ہو یا حوصلہ افزا الفاظ۔ جب ہم ایک دوسرے کی یہ ترجیحات جان لیتے ہیں تو ایک دوسرے کو خوش رکھنا کہیں زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔

اسی طرح کی گفتگو نے 34 سالہ کیٹی سمتھ اور ان کے شوہر کی مدد کی جب وہ حال ہی میں ایک ’مشکل دور‘ سے گزرے۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ’ایک دوسرے کی ضروریات کو سمجھنے پر کام کیا اور کچھ ایسی دیرپا تبدیلیاں کیں جنھوں نے ہمیں مضبوط رہنے میں مدد دی۔‘

کیا اس رشتے کو درست کرنے کا کوئی فائدہ ہے؟

رشتے ہمیشہ بہترین نہیں رہتے اور نہ ہی ہمیشہ ایک جیسے رہتے ہیں۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وقت کے ساتھ ضروریات بدلتی رہتی ہیں۔ ایک دہائی میں آپ کو جو چاہیے ہوتا ہے اگلی دہائی میں وہ بالکل مختلف ہو سکتا ہے۔

کبھی کبھی یہ جاننے کا واحد طریقہ کہ کوئی شخص آپ کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے یا نہیں یہ ہے کہ آپ اس کے ساتھ رشتے میں رہیں۔

لوسی خبردار کرتی ہیں کہ ’کبھی بھی سمجھوتہ مت کریں۔ آپ دہائیاں یہ سوچتے ہوئے نہیں گزارنا چاہیں گے کہ شاید آپ اس رشتے کو موقع دیتے، ذہنی طور پر اس میں شامل ہوتے یا وہ خاندان بنا پاتے جو آپ چاہتے تھے۔‘

تو پھر یہ کیسے کیا جائے؟ لوسی کہتی ہیں ’اپنی اقدار اور اپنی خواہشات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے ساتھی کی بھی۔‘

لوسی مشورہ دیتی ہیں کہ ’ٹِپنگ پوائنٹ‘ پر نظر رکھیں، یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جو اشارہ دیتا ہے کہ شاید اب رشتہ ختم کرنے کا وقت آ گیا۔

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب سوال ’مجھے کب رشتہ ختم کرنا چاہیے؟‘ یا ’کیا میں یہ کر سکتا ہوں ؟‘ سے بدل کر ’مجھے رشتہ ختم کرنا ہو گا‘ بن جاتا ہے۔

34 سالہ مارگوٹ ڈیوس کے لیے یہ لمحہ اُس وقت آیا جب انھوں نے اپنے تین سال پرانے ساتھی کے ساتھ شادی اور بچوں کے بارے میں ایک سنجیدہ گفتگو کی۔

وہ ابھی ابھی ایک ساتھ رہنے لگے تھے لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس گفتگو نے ان کے لاشعور کو حقیقت کی طرف لا کھڑا کیا، اگرچہ وہ ایک ’اچھے، محبت کرنے والے باپ‘ ثابت ہوتے مگر وہ بہت خاموش اور دَبے ہوئے مزاج کے تھے اور ان دونوں کی مختلف شخصیات والدین بننے کے مرحلے میں گھٹن کا باعث بنتیں۔

ایک ماہ بعد ہی مارگوٹ انھیں چھوڑ کرآگے بڑھ گئیں اور اب اپنے نئے ساتھی کے ساتھ خاندان بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

Getty Imagesیاد رکھیں خوش رہنا آپ کا حق ہے

جدید ڈیٹنگ ایپ کلچر کی وجہ سے بعض اوقات لوگ صرف تحفظ کے احساس کے لیے یا دوبارہ تنہا ہونے سے بچنے کے لیے ایک ناخوشگوار رشتے میں ہی موجود رہتے ہیں۔

جیسا کہ لوسی خبردار کرتی ہیں کہ ’رشتے میں رہ کر تنہا محسوس کرنے سے بدتر کچھ نہیں ہوتا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے کلائنٹس اکثر ریستورانوں میں خوش و خرم جوڑوں کو دیکھنے کا ذکر کرتے ہیں اور اکیلے رہ جانے کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

لوسی انھیں یاد دلاتی ہیں کہ ظاہری چیزیں دھوکا دے سکتی ہیں۔ بہت کم ہی لوگ واقعی اتنے خوش ہوتے ہیں جتنے نظر آتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ’اگر میں ناکام ہو گئی تو کیا ہوگا‘ بلکہ یہ ہے کہ ’اگر میں ٹوٹ گئی تو کیا ہوگا۔‘

’اپنے آپ کو اُس محبت اور خوشی کا حقدار سمجھیں جس کی آپ خواہش رکھتے ہیں۔‘

سیکس کی بڑھتی خواہش اور موڈ میں اُتار چڑھاؤ: جنوری کے سرد دن اور طویل راتیں ہمارے مزاج کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟انڈونیشیا میں شراب نوشی اور شادی کے بغیر سیکس پر جوڑے کو سرعام 140 کوڑوں کی سزااندام نہانی میں موجود ’سینکڑوں بیکٹریا‘ خواتین کی حفاظت کیسے کرتے ہیں؟بچے کی پیدائش کے بعد خواتین سیکس سے کیوں کتراتی ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟آٹھ وجوہات جن کی وجہ سے خواتین جنسی تعلق قائم کرنے کے باوجود تسکین حاصل نہیں کر پاتیںسیکس، پورن اور سوٹ کیس میں بند لاشیں: دہرے قتل کی واردات جس نے ایک خفیہ آن لائن دنیا سے پردہ اٹھایا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More