Getty Images
افغانستان کے وکٹ کیپر بلے باز رحمان اللہگرباز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سیزن 11 سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد افغانستان میں فلاحی کاموں کے لیے بنائی گئی فاؤنڈیشن کو وقت دیں گے۔
سنیچر کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو میں گرباز کا کہنا تھا کہ وہ پی ایس ایل کے اس سیزن میں ذاتی وجوہات کی بنا پر شرکت نہیں کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز پشاور زلمی نے رحمان اللہ گرباز کو غیر ملکی کھلاڑی کے طور پر براہ راست سائن کیا تھا۔
نئے آکشن ماڈل کے تحت ہر فرنچائز کو کسی بھی ایسے غیر ملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جو پی ایس ایل 10 کا حصہ نہیں تھا۔
اس کے ذریعے ٹیموں کو نئے غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کے علاوہ اپنے سکواڈز کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔
اس حوالے سے پانچ فروری کو پشاور زلمی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ میں رحمان اللہ گرباز کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’ہمیں افغانستان کے سٹار وکٹ کیپر بلے باز سے براہ راست معاہدے کی تصدیق کرنے پر فخر ہے، وہ ایک جارحانہ بلے باز، بجلی کی سی رفتار جیسے وکٹ کیپر اور بہترین فیلڈر ہیں، ہم اُنھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔‘
پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے بھی رحمان اللہ گرباز کو سائن کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پشتو میں اُنھیں خوش آمدید کہا تھا لیکن سوشل میڈیا پر آنے والے ردعمل کے بعد اُنھوں نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی تھی۔
رحمان اللہ گرباز کو سائن کرنے پر پشاور زلمی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سوشل میڈیا پر صارفین افغانستان کے ساتھ پاکستان کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں افغان کرکٹر کو پی ایس ایل کا حصہ بنانے پر ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
Getty Images
رحمان اللہ گرباز کے پی ایس ایل سے دستبرداری کا معاملہ سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث ہے۔
احتشام الحق نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ پشاور زلمی نے رحمان اللہ گرباز کو سائن تو کر لیا تھا لیکن سوال یہی تھا کہ کیا اُنھیں افغانستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے این او سی ملے گا؟ اور لگتا ایسا ہی ہے کہ انھیں این او سی نہیں ملا۔
فرید خان نامی صارف نے لکھا کہ پشاور زلمی کو رحمان اللہ گرباز کو سائن کرنا ہی نہیں چاہیے تھا بلکہ افغانستان کا کوئی کھلاڑی پی ایس ایل میں نہیں ہونا چاہیے۔
جان اچکزئی نے لکھا کہ ’وہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے شکرگزار ہیں، جنھوں نے انھیں ویزا دینے سے انکار کیا، پاکستان کی سالمیت اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔‘
سپورٹس جرنلسٹ سلیم خالق نے لکھا کہ ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر افغان کرکٹر رحمان اللہ گرباز پی ایس ایل سے دستبردار ہو گئے۔
ثنا یوسفزئی نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ گرباز نے پی ایس ایل سے دستبرداری اختیار کر لی۔ ہمیں آئی پی ایل سے مسترد شدہ کھلاڑی جو پاکستان کی توہین کرتے ہوں کو پی ایس ایل میں نہیں لینا چاہیے۔‘
رحمان اللہ گرباز کون ہیں؟
24 سالہ رحمان اللہ گرباز افغانستان ٹیم کے دائیں ہاتھ کے اوپننگ بلے باز اور وکٹ کیپر ہیں۔
رحمان اللہ گرباز کا شمار افغانستان کے جارح مزاج اوپننگ بلے باز کے طور پر ہوتا ہے۔ وہ پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے پاکستان سپر لیگ کا حصہ رہے چکے ہیں۔
رحمان اللہ گرباز انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے بھی کھیل چکے ہیں۔ وہ آئی پی ایل میں پنجاب کنگز اور لکھنؤ سپر جائنٹس کی ٹیموں کے لیے بھی کھیل چکے ہیں۔
انھوں نے سنہ 2019 میں ٹی 20 اور سنہ 2021 میں افغانستان کی ون ڈے ٹیم میں ڈیبیو کیا۔
گرباز نے 83 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور 52 ون ڈے کھیلے ہیں۔ جس میں وہ ون ڈے میں آٹھ سنچریاں بھی بنا چکے ہیں۔
سنہ 2023 کے ورلڈ کپ میں انھوں نے نو میچز میں 280 رنز بنائے، جس میں دو نصف سنچریاں شامل تھیں۔
’اتنی گھاس والی وکٹ کبھی نہیں دیکھی‘: ثقلین مشتاق کا بیان اور پاکستان کو سری لنکا میں ملنے والی کنڈیشنز پر بحث’میکس او ڈاؤڈ نے پاکستان کو بچا لیا‘دبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانیملتان سلطانز کی دوبارہ نیلامی: علی ترین سمیت کن پانچ کمپنیوں کے درمیان مقابلہ ہو گا؟پی ایس ایل 11: نیلامی کے طریقہ کار کا اعلان، پاکستانی روپے میں ادائیگی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو راغب کرنے کے لیے بجٹ میں اضافہ