Getty Imagesپولیس کے مطابق انسانی جسم کے اعضا ایک زیر تعمیر ٹینک سے ملنے پر تفتیش کا دائرہ کار بڑھایا گیا
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر چکوال کی پولیس نے بازو پر لگے انگوٹھی کے زخم کے نشان کی مدد سے اندھے قتل کا سراغ لگا لیا۔
اندھے قتل کا یہ واقعہ چکوال شہر کے تھانہ صدر کی حدود میں پیش آیا تھا، جہاں پر پولیس کو گذشتہ برس مارچ میں اس علاقے میں تعمیر ہونے والی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے زیرِ تعمیر تالاب میں سے انسانی اعضا ملے۔
پولیس کو جو اعضا ملے ان میں ایک شخص کے دونوں بازو تھے جو کندھے سے لے کر ہاتھوں تک کاٹے گئے تھے جبکہ اس کی دونوں ٹانگیں گھٹنوں سے لے کر اس کے پاؤں تک تیز دھار آلے سے کاٹی گئی تھیں۔
پولیس کو بھی اس واقعہ کا علم اُس وقت ہوا تھا جب برآمد ہونے والے یہ انسانی اعضا پانی کے اوپر آ گئے تھے۔
پولیس نے جسم کے دیگر حصوں کو بھی اس تالاب سے تلاش کرنے کی کوشش کی جس میں سے کچھ حصے تو ملے لیکن اس کا سر ان اغصا کے بازیاب ہونے کے 10 دن بعد کسی دوسرے تالاب سے برآمد ہوا تھا جو کافی دن پانی میں رہنے کی وجہ سے شناخت کے قابل نہیں رہا تھا۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ انسپکٹر احمد نواز کا کہنا تھا کہ انسانی اعضا ملنے سے متعلق صوبے کی پولیس کو مطلع کیا گیا اور صوبے کے تمام پولیس سٹیشنز سے پوچھا گیا کہ اگر ان کے علاقے میں گذشتہ دو ہفتوں کے دورانکسی شخص کے گمشدہ ہونے کی رپورٹ درج ہوئی ہے تو اس بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ اس بارے میں کچھ بچوں کی گمشدگی رپورٹس تو ضرور درج ہوئی تھیں لیکن کسی بالغ شخص کی گمشدگی کی رپورٹ اس عرصے کے دوران صوبے کے کسی پولیس سٹیشن میں درج نہیں ہوئی تھی۔
انسپکٹر احمد نواز کے مطابق پولیس نے انسانی اعضا کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ان کو مقامی قبرستان میں دفنا دیا۔
Getty Imagesپولیس نے اس مقدمے کے لیے اندھے قتل کی وارداتوں کا سراغ لگانے والے پولیس افسران کو ذمہ داری سونپیدائیں بازو پر زخم کا نشان
انسپکٹر احمد نواز نے کہا کہ انسانی اعضا کا جب ڈی این اے کروایا جا رہا تھا تو اس کے دائیں بازوں پر ایک زخم کا نشان تھا۔
’بظاہر لگ رہا تھا کہ نامعلوم شخص کو قتل کرنے سے پہلے ملزم اور مقتول کا جھگڑا ہوا ہو گا اور اس دوران ملزمنے مقتول کے بازو پر مُکا مارا ہو گا جس سے زخم کا نشان آ گیا اور انسانی اعضا برآمد ہونے تک زخم کا یہ نشان مقتول کے بازو پر برقرار رہا۔
انھوں نے کہا کہ زخم کے نشان کے قریب سے تصاویر حاصل کی گئیں جن کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس تفتیش کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر چکوال کاشف ذوالفقار نے اس اندھے قتل کی تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے ان افسران کو بھی شامل کیا جن کے پاس ایسے انذھے قتل کا سراغ لگانے کا تجربہ تھا۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ جس قسم کا نشان مقتول کے بازو پر تھا اس طرح کی انگوٹھیاں عمومی طور پر علاقے میں منعقد ہونے والے میلوں کے دوران سٹالز پر ملتی تھی۔
اہلکار کے مطابق پولیس اس معاملے کی چھان بین کر رہی تھی کہ اس دوران گذشتہ برس 14 جولائی کو ایک شخص جن کا نام فضل نبی تھا، متعلقہ تھانے میں آئے اور کہا کہ جو انسانی اعضا برآمد ہوئے ہیں وہ ان کے جواں سال بیٹے عمران خان کے ہیں جو گذشتہ ایک ماہ سے گھر سے غائب ہے۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم نے فضل نبی نامی شخص کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا اور پھر قبر کشائی کے بعد انانسانی اعضا کے نمونوں کے بھی ٹیسٹ کروائے گئے جو فضل نبی کے ڈی این اے سے میچ کر گئے۔
گردن توڑ کر قتل کرنے والا لاہور کا مالشیا ’سیریل کِلر‘ کیسے بنا؟عابد حسین ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ عابد باکسر کیسے بنا؟’مفخر نے پہلے بھی دو بار دوست کو مارنے کی کوشش کی تھی‘گوجرانوالہ کا ’سیریل کلر‘: ’چھت پر اینٹ نہ ملتی تو ڈھونڈ کر لاتا اور پھر قتل کرتا تھا‘ایک ہی نمبر پر بار بار رابطہ
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ میچ کرنے کے بعد پولیس کو یہ اُمید ہو چکی تھی کہ پولیس اس اندھے قتل کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
انسپکٹر احمد نواز کے مطابق پولیس نے فضل نبی سے عمران خان سے متعلق تفصیلات معلوم کیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے پہلے تو مقتول کے زیرِ استعمال موبائل سے اس کا ڈیٹا نکالا۔
انھوں نے کہا کہ موبائل کے اس ڈیٹا کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں ان لوگوں سے پوچھ گچھ کی جائے جن کے ساتھ مقتول نے 10 یا اس سے زیادہ مرتبہ رابطہ کیا۔
تفتیشی ٹیم کے سربراہ کے مطابق اس ضمن میں متعدد افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا اور ان کے اور مقتول کے درمیان رابطوں کی نوعیت کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس ڈیٹا کے مطابق مقتول ایک ہی نمبر پر روزانہ کی بنیاد پر کسی شخص سے رابطہ کرتا تھا اور وقوعے سے پہلے سات روز کے دوران دن میں پانچ یا چھ مرتبہ رابطہ ہوتا تھا۔
انھوں نے کہا کہ جب اس موبائل نمبر کی تفصیلات حاصل کی گئیں جس پر مقتول روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں تھا تو یہ نمبر چکوال کے ایک رہائشی محمد اسحاق کا تھا جو پولیس کے بقول علاقے میں قبضہ مافیا کے طور پر جانا جاتا تھا۔
Getty Images
تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق پولیس اسحاق کو شاملِ تفتیش کرنے کے لیے جب اس کے ڈیرے پر پہنچی تو ملزم کے دائیں ہاتھ میں اسی طرحکی ہی انگوٹھی تھی جس قسم کا نشان مقتول کے بازو پر تھا۔
انھوں نے کہا کہ پولیس نے ملزم کے ہاتھ کی انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی کو اتروایا اور اس کو زخم کی ان تصاویر کے ساتھ میچ کیا جو مقتول کے بازو پر تھا۔
انھوں نے کہا کہ اسی بنیاد پر پولیس نے گذشتہ ماہ ملزم اسحاق کو تفتیش کے سلسلے میں حراست میں لیا اور پھر گرفتاریڈال کرعدالت سے ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔
انھوں نے کہا کہ پہلے تو ملزم مقتول کو شناخت کرنے سے ہی انکاری تھا اور پھر دو دن بعد ملزم نے اقبالِ جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ہی عمران کو قتل کیا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا کہ عمران کو قتل کرنے سے پہلے ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ملزم اسحاق کو ضمانت پر رہا کر دیا تاہم اس مقدمے کا ٹرائل آئندہ ہفتے شروع ہو گا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چکوال نے پہلے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی لیکن پھر ملزم نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
ملزم کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس وقوعہ سے متعلق پولیس کے پاس کوئی عینی شاہد نہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ملزم اسحاق کے وکیل قیصر عباس کا کہنا تھا کہ پولیس کا یہ دعویٰ کہ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا، اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
قتل کرنے کی وجہ کیا تھی؟
چکوال کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر کاشف ذوالفقار کا کہنا تھا کہ دورانِ تفتیش ملزم اسحاق نے پولیس کو بتایا کہ مقتول عمران ملزم کے بھانجے کا گن مین تھا جسے 2023 میں ان کے مخالف گروپ کے ارکان نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ جس وقت ملزم کے بھانجے کا قتل ہوا تو اس وقت مقتول عمران اس کے ساتھ بطور گن مین ڈیوٹی کر رہا تھا۔
ڈی پی او کے مطابق مقتول عمران، ملزم اسحاق کے بھانجے کے قتل کا واحد چشم دید گواہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ قتل کے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی کے دوران عمران نے بطور عینی شاہد گواہی دی اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق عمران نے اپنے بیان میں ان ملزمان کو شناخت نہیں کیا جو مبینہ طور پر ملزم اسحاق کے بھانجھے کے قتل میں ملوث تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس بیان اور دیگر ثبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت نے ان ملزمان کو بری کر دیا جس کا ملزم اسحاق کو شدید رنج تھا۔
Getty Images(فائل فوٹو)’ملزم نے قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی‘
ڈی پی او چکوال کا کہنا تھا کہ ملزم اسحاق نے عمران کو قتل کرنے کے حوالے سے یہ منصوبہ بنایا کہ اس نے پہلے ایک کمرشل گاڑی کے ڈرائیور کو فون کر کے کہا کہ وہ اگلے دن اس کے ڈیرے پر پہنچ جائے کیونکہ اس نے مویشی منڈی جانا ہے اور وہاں سے ڈیرے کے لیے کوئی جانور بھی خریدنے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ منصوبے کے مطابق کمرشل گاڑی کا ڈرائیور جب متعلقہ جگہ پر پہنچا تو وہاں پر پولیس کے بقول ملزم اسحاق کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے اور جب اس کو رسیوں سے آزاد کیا گیا تو ملزم نے خود اس واقعے کے بارے میں پولیس کو 15 پر کال کی اور جائے حادثہ پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں کو اس واقعے کے بارے میں بتایا۔
انھوں نے کہا کہ پولیس نے اگرچہ اس مبینہ ڈکیتی کی واردات کا مقدمہ درج کیا تھا لیکن جب اس بارے میں تحقیقات کیں گئیں اور جو اس ضمن میں شواہد اکھٹے کیے گئے تو ان کے مطابق ایسا کوئی واقعہ رونما ہی نہیں ہوا تھا۔
ڈی پی اور کاشف ذوالفقار کا کہنا تھا کہ دورانِ تفتیش ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس نے ڈکیتی کا یہ ڈرامہ عمران کو قتل کرنے کے سات روز بعد بنایا تاکہ کسی کو ان پر شک نہ گزرے۔
اُنھوں نے کہا کہ ملزم نے عمران خان کے سر پر کوئی بھاری چیز ماری جس کے بعد تیز دھار آلے سے اس کے جسم کے ٹکڑے کر کے انھیں ایک بوری میں ڈال کر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے زیرِ تعمیر تالاب میں پھینک دیا۔
فوج کے سابق افسر توہینِ مذہب کے مقدمے میں بری: راولپنڈی میں ذاتی جھگڑے سے شروع ہونے والا تنازع اور ’موت کی سزا‘توہینِ مذہب کے الزام سے بری ہونے والے روپوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور: ’ایسا لگتا ہے کسی بھی وقت مار دیا جاؤں گا‘لاہور کے مین ہول میں گرنے سے خاتون اور بچی کی ہلاکت: کیا چند افسران کی معطلی یا گرفتاری ایسے واقعات کو روک پائے گی؟فرانس میں 30 سال قبل ہونے والا پراسرار قتل جو آج بھی متنازع ہےخاتون کے قتل اور ’لاش کو کُکر میں پکانے‘ کا الزام: انڈیا میں ایک پُراسرار گمشدگی پر اٹھنے والے سوالات