Getty Images
ریمپ پر کیٹ واک کرتی ماڈلز، روشنیوں کی چکا چوند اور زرق برق ملبوسات ۔۔۔ یہ الفاظ پڑھتے ہی آپ کو کسی فیشن شو کا خیال آیا ہو گا۔ اس شو کے پیچھے اصل تخلیق کار ایک فیشن ڈیزائنر ہوتا ہے۔
ماڈل نے جو لباس پہنا ہوتا ہے اُس کے پیچھے سوچ اور شناخت بھی فیشن ڈیزائنر کی ہوتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کسی بڑی تقریب میں کوئی معروف شخصیت شرکت کرے تو اس بات کا تذکرہ بھی ضرور ہوتا ہے کہ اس نے فلاں کا ڈیزائن کردہ لباس پہنا تھا۔ حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے کی شادی ہوئی تو اُن کا پہنا گیا جوڑا بھی زیر بحث رہا۔
گذشتہ برس برطانوی شاہی خاندان کی بڑی بہو پرنسس آف ویلز کیٹ مڈلٹن نے عید الفطر کے موقع پر مسلم کمیونٹی سے ملاقاتیں کیں تو پاکستانی فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ نے اپنی انسٹا گرام پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ کیٹ مڈلٹن نے اُن کے کلوتھنگ برانڈ ’ایلان‘ کا تیار کردہ لباس پہن رکھا تھا۔
خدیجہ شاہ کے مطابق پرنسس آف ویلز عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران پاکستان آئی تھیں تو تب بھی اُنھوں نے یہی لباس زیب تن کیا تھا۔
لیکن کپڑے تو درزی سیتا ہے، پھر فیشن ڈیزائنر کا کیا کام ہے اور درزی تو سوٹ چند ہزار میں میں تیار کر دیتا ہے، پھر فیشن ڈیزائنر کا تیار کردہ لباس کئی ہزار سے لے کر کئی کئی لاکھ روپے تک میں کیوں ملتا ہے؟ اور یہ فیشن ڈیزائننگ ہے کیا؟
اس سے پہلے جان لیتے ہیں کہ پاکستان میں مختلف برانڈز کس قیمت میں کپڑے فروخت کر رہے ہیں؟
معروف ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات پاکستان میں کس قیمت پر ملتے ہیں؟
ماریہ بی پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر ہیں اور اسی نام سے کپڑوں کا برانڈ بھی چلاتی ہیں، جہاں اُن کے ڈیزائن کردہ کپڑے فروخت کیے جاتے ہیں۔
ماریہ بی کی ویب سائٹ پر کوٹیوئر کے زمرے میں جو ملبوسات موجود ہیں ان کی قیمتیں 51 ہزار روپے سے لے کر تقریباً تین لاکھ روپے تک ہیں جبکہ ٹو پیس (شلوار قمیص) کپڑوں کی قیمتیں تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار روپے سے شروع ہو کر تقریباً 70 ہزار روپے تک ہیں۔
ماریہ بی کی ویب سائٹ کے مطابق لگژری پریٹ کے زمرے میں اُن کے ڈیزائن کردہ ملبوسات کی قیمتیں تقریباً 32 ہزار روپے تک ہیں۔
ڈیزائنر ملبوسات کی قیمتیں یکساں نہیں، مختلف برانڈز کے پہناوؤں کے نرخ بھی مختلف ہیں۔
فیشن اور لائف سٹائل برانڈ کھاڈی کی ویب سائٹ پر درج قیمت کے مطابق یہاں ٹو پیس سوٹ تقریباً ساڑھے تین ہزار روپے سے لے کر ساڑھے چھ ہزار روپے تک میں دستیاب ہیں۔ تھری پیس سوٹ (شلوار، قمیص اور ڈوپٹہ) دس ہزار روپے تک کا ہے۔
ایک اور برانڈ سیفائر کی ویب سائٹ پر تھری پیس سوٹ کی زیادہ سے زیادہ قیمت تقریباً 24 ہزار روپے درج ہے۔
فیشن ڈیزائننگ کیا ہے؟
اس سوال کا جواب لینے کے لیے بی بی سی نے رابطہ کیا ایمن گیلانی سے جو لاہور کی بیکن ہاؤس یونیورسٹی میں شعبہ ٹیکسٹائل، فیشن اینڈ ایکسسریز کی کوآرڈینیٹر ہیں۔
اُنھوں نے ایک جملے میں سمجھایا کہ ’فیشن ڈیزائننگ کا مطلب ہے کپڑوں کو خوبصورت اور دلکش انداز میں تخلیق کرنا۔‘
سلمان افضل نے بھی ٹیکسٹائل ڈیزائن کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور اسی شعبے کے محقق اور معلم رہے ہیں۔ وہ دستکاروں کے ساتھ مل کر کپڑے، چینی کے برتنوں اور لکڑی پر ڈیزائن بنا کر فروخت بھی کرتے ہیں۔
سلمان افضل وضاحت کرتے ہیں کہ ڈیزائن کے بہت سے جزو ہیں، فیشن ڈیزائننگ اُن میں سے ایک ہے۔
’ایک فیشن ڈیزائنر اپنی تخلیقی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے کپڑوں کا ایسا ڈیزائن بناتا ہے جو منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ آسانی سے پہنا بھی جا سکے۔‘
تو کیا بات اتنی ہی سادہ ہے؟ جو منفرد اور نئے ڈیزائن کے کپڑے بنا سکے وہ فیشن ڈیزائنر ہو گیا؟
سلمان افضل کے مطابق ’بنیادی طور پر فیشن ڈیزائنر ایسا شخص ہے جو کسی سوچ کے تحت لباس تخلیق کرتا ہے۔ سینے سلانے کی مہارت بھی اُس کے پاس ہونی چاہیے۔ وہ اپنی تخلیقی سوچ اور صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے کاغذ پر ایک خاکہ بناتا ہے۔ اسی خاکے کو پھر ایک سانچے کی شکل دی جاتی ہے اور اُسی سانچے کے تحت پھر کپڑے کی کٹائی کی جاتی ہے، اُسے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ہوتی ہے فیشن ڈیزائننگ۔‘
سلمان افضل بتاتے ہیں کہ فیشن ڈیزائنر کی بھی کئی اقسام ہیں۔ ’ایک ہے کوٹیوئر، یہ وہ لباس ہے جو ہر کسی کے لیے نہیں بلکہ صرف کسی ایک فرد کے لیے یا چند مخصوص افراد کے لیے بنایا جاتا ہے جبکہ کپڑوں کا جو ڈیزائن سب کے لیے ہو اسے پریٹ یا سٹریٹ ویئر کہتے ہیں۔‘
فیشن ڈیزائنر اور ہمارے محلے کے درزی میں کیا فرق ہے؟
اگر فیشن ڈیزائنر نے بھی کپڑے کی کٹائی اور سلائی ہی کرنی ہے تو پھر اُس میں اور کسی بھی درزی میں کیا فرق ہے؟
سلمان افضل وضاحت کرتے ہیں کہ درزی کے پاس صرف سلائی مشین استعمال کرتے ہوئے کپڑے سینے کا ہنر ہے جبکہ فیشن ڈیزائنر پہلے ایک تصور یا کانسیپٹ تیار کرتا ہے۔
’اُسے مختلف کپڑوں کی مختلف خصوصیات کا بھی علم ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کس طرح کی شخصیت پر کس طرح کا کپڑا اور کس طرح کی سلائی اچھی لگے گی۔ کس موقع کے لیے کس طرح کا لباس ہونا چاہیے۔‘
سلمان افضل کے مطابق فیشن ڈیزائنر کو جدید رجحانات کا بھی علم ہوتا ہے اور رنگوں کے استعمال پر دسترس بھی۔
’یوں اپنے تصور، علم اور مہارت کو استعمال کرتے ہوئے وہ ایک سانچہ تیار کرتا ہے۔ یہی سانچہ درزی کے حوالے کر کے لباس بنایا جاتا ہے۔‘
وقت کے ساتھ بدلتے عروسی ملبوساتفرشی شلوار: مغلیہ دور کا شاہانہ لباس جو 2025 میں فیشن ٹرینڈ بن گیاکترنوں سے ڈیزائنر مصنوعات بنانے والی پاکستانی بہنوں نے عالمی شہرت کیسے حاصل کی؟امریکی اشرافیہ اور خاندانی رئیسوں کا لباس بن جانے والا ’مدراس چیک‘ ایک سٹائل کیسے بنا
سلمان افضل کے مطابق فیشن ڈیزائنر کے تیار کردہ سانچے کے تحت پھر صنعتی سطح پر کئی ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں، دکانوں پر فروخت کیے جاتے ہیں، بیرون ملک بھی بھجوائے جاتے ہیں۔
مطلب اس کا یہ ہوا کہ درزی پہلے سے موجود پیٹرن پر لباس سلائی کر دیتا ہے، فیشن ڈیزائنر نئے سے نئے پیٹرن تخلیق کرتا ہے۔ درزی کے پاس صرف سلائی کا ہنر ہوتا ہے جبکہ فیشن ڈیزائنر کے پاس تخلیقی انداز سے سوچنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔
فیشن ڈیزائنر کیسے بنا جا سکتا ہے؟
سلمان افضل بتاتے ہیں کہ فیشن ڈیزائنر بننے کے لیے پیشہ ورانہ اہلیت چاہیے ہوتی ہے جو کہ ایک یونیورسٹی آپ کو دیتی ہے۔
’چار سال کی انڈر گریجویٹ ڈگری ہوتی ہے، بعد میں لوگ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی بھی کر سکتے ہیں۔‘
ایمن گیلانی کے مطابق ’بہتر تو یہی ہے کہ تعلیمی ادارے سے چار سال کی ڈگری حاصل کی جائے لیکن اس شعبے میں ڈپلومہ کورسز بھی کرائے جاتے ہیں جن کی مدت دو سال ہوتی ہے۔ زیادہ بہتر یہی ہے کہ چار سال کی تعلیم حاصل کی جائے۔‘
ایمن گیلانی نے بتایا کہ تعلیم کے دوران طلبہ کو بنیادی طور پر ڈیزائن کی جمالیات (ایستھیٹیکس) سمجھائی جاتی ہیں۔
’کپڑوں (گارمنٹس) کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ تاریخ پڑھائی جاتی ہے کہ ماضی میں لباس کیسے ہوتے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ پہناوے کیسے بدلے۔‘
’فیشن ڈیزائننگ کے طلبہ بین الاقوامی ڈیزائنرز کے بارے میں بھی پڑھتے اور سیکھتے ہیں۔ طلبہ کو رنگوں کا مطالعہ کروایا جاتا ہے اوردنیا بھر میں چلنے والے رجحانات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔‘
Getty Imagesدرزی پہلے سے موجود پیٹرن پر لباس سلائی کر دیتا ہے، فیشن ڈیزائنر نئے سے نئے پیٹرن تخلیق کرتا ہےفیشن ڈیزائنر بننے پر خرچہ کتنا ہے؟
فیشن ڈیزائنر بننے کے لیے مختلف تعلیمی شعبہ جات کے اخراجات مختلف ہیں۔
تخلیقی شعبے کی تعلیم کے لیے معروف ادارے نیشنل کالج آف آرٹس کی ویب سائٹ کے مطابق یہاں فیشن ڈیزائننگ سمیت سبھی انڈر گریجویٹ کورسز کی فیس تقریباً ایک لاکھ 27 ہزار روپے فی سمسٹر ہے۔
داخلہ لینے کے اخراجات، سکیورٹی فیس، لائبریری فیس، رجسٹریشن فیس اس کے علاوہ ہے جو تقریباً 56 ہزار روپے بنتی ہے اور بس ایک ہی بار دینا ہوتی ہے۔
داخلہ لینے کے خواہش مند جو لوگ میرٹ پر نہ آ سکیں انھیں اضافی فیس ادا کر کے تعلیم حاصل کرنے کی سہولت دی جاتی ہے۔
این سی اے کی ویب سائٹ کے مطابق سیلف فنانس یا سیلف سپورٹ پر فیشن ڈیزائن پڑھنے والوں کو دیگر اخراجات کے ساتھ ٹیوشن فیس کی مد میں تقریباً سات لاکھ 64 ہزار روپے کی رقم ایک ساتھ ادا کرنا ہو گی۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی ویب سائٹ کے مطابق یہاں ایک سمسٹر کی فیس ایک لاکھ 85 ہزار روپے ہے۔ داخلے کے اخراجات (18 ہزار روپے) اور ہاسٹل، ٹرانسپورٹ وغیرہ کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔
اوسط نکالی جائے تو اوپن میرٹ پر آئے طلبہ کے لیے یونیورسٹی میں فیشن ڈیزائننگ کے ایک سمسٹر کی فیس ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک ہے۔ چار سالہ ڈگری میں آٹھ سمسٹر ہوتے ہیں، تو اس حساب سے فیشن ڈیزائنر بننے کے لیے 12 لاکھ روپے سے لے کر 16 لاکھ روپے تک درکار ہوتے ہیں۔ سیلف سپورٹ پر پڑھنے والوں کے لیے یہ اخراجات اس سے بھی زیادہ ہیں۔
ڈپلومہ اس سے کہیں کم قیمت پر کیا جا سکتا ہے۔ ایمن گیلانی کہتی ہیں کہ ’ڈپلومہ کی فیس 80 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک سالانہ ہوتی ہے۔‘
یوں فیشن ڈیزائننگ میں دو سالہ ڈپلومہ کرنے پر لگ بھگ دو لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔
کیا اس شعبے میں ملازمتیں موجود ہیں؟
ایمن گیلانی نے بتایا کہ ڈگری مکمل ہونے کے بعد ’کچھ طلبہ تو کسی ڈیزائنر کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں اور اُسے خدمات فراہم کرتے ہیں۔ کچھ طلبہ ایسے برانڈز میں ملازمت اختیار کرتے ہیں جو کپڑے ڈیزائن کر کے اپنی دکانوں (آؤٹ لیٹس) پر انھیں فروخت بھی کرتے ہیں جبکہ کچھ طلبہ اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور کپڑے ڈیزائن کر کے فروخت کرتے ہیں۔‘
سلمان افضل کے مطابق فیشن ڈیزائننگ پڑھنے کے بعد کچھ لوگ کپڑوں کی فروخت اور مارکیٹنگ سے منسلک ہو جاتے ہیں جبکہ دیگر لوگ سٹریٹیجی والے شعبے میں جاتے ہیں، جہاں سوچا جاتا ہے کہ اس سال یا موسم میں کیسے ملبوسات مارکیٹ میں لائے جائیں۔ اس کے علاوہ گارمنٹس کی تیاری جیسے تکنیکی شعبوں میں بھی فیشن ڈیزائنرز درکار ہوتے ہیں۔
انشال علوی پاکستانی برانڈ کھاڈی کے ساتھ ٹیکسٹائل ڈیزائنر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ فیشن اور ٹیکسٹائل ڈیزائن پڑھنے والے گھر بیٹھے بھی پیسے کما سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’کئی برانڈز ہر ہفتے یا ہر ماہ فری لانس کام کرنے والے ڈیزائنرز کے ڈیزائن خریدتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیزائنرز بیرون ملک کمپنیوں کو بھی اپنی خدمات فراہم کر سکتے ہیں اور کسی ایڈورٹائزنگ یا میڈیا کمپنی کے ساتھ بھی بطور فیشن ڈیزائنر منسلک ہو سکتے ہیں۔‘
ایمن گیلانی کا کہنا تھا کہ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی سے گذستہ برس فیشن ڈیزائننگ کی تعلیم مکمل کرنے والے 82 فیصد افراد کو ملازمتیں ملیں۔ اس سے پچھلے سال یہ شرح 85 فیصد تھی۔ کچھ طلبہ ذاتی وجوہات کی بنا پر بھی نوکریاں نہیں کرتے، کچھ طلبہ اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔
انشال علوی نے بتایا کہ ’تعلیم کے دوران اگر آپ کا پورٹ فولیو (کام کے نمونہ جات) اچھا بن گیا تو نوکری ملنے کا امکان بہتر ہو جاتا ہے۔‘
ایک فیشن ڈیزائنر کتنا کماتا ہے؟
اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی کیوںکہ کمائی کا انحصار ڈیزائنر کی مہارت پر ہوتا ہے۔ کوئی جتنا اچھا اور معروف ڈیزائنر ہو گا اتنا ہی زیادہ کمائے گا۔
سلمان افضل کہتے ہیں کہ آمدن کا انحصار بہت سے عناصر پر ہے۔ ’جیسے آپ کام کس ادارے میں اور کس شہر میں کر رہے ہیں اور اپنے کام میں کتنے ماہر ہیں۔‘
سلمان افضل کے مطابق شروع میں تنخواہ 50 ہزار روپے ماہانہ کے قریب ملتی ہے جبکہ درمیانے درجے کی مہارت رکھنے والا ڈیزائنر ماہانہ ایک لاکھ روپے تک کما سکتا ہے۔
ایمن گیلانی کے مطابق ’تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کو 80 ہزار روپے سے لے کر 95 ہزار روپے ماہانہ تک تنخواہ پر ملازمت ملتی ہے۔‘
لیکن 50 ہزار سے شروع ہو کر ایک لاکھ روپے ماہانہ تک جانے والی تنخواہ ضروری نہیں کہ یہاں تک ہی محدود رہے۔
سلمان افضل نے بتایا کہ ’اگر کسی ڈیزائنر نے اپنا ایک لیبل بنا رکھا ہے، اُس کی دکان ہے یا وہ اپنے ڈیزائن کردہ کپڑے آن لائن فروخت کرتا ہے تو آمدن کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ کپڑے کس تعداد میں اور کس منڈی میں فروخت ہوئے۔ وہ سٹریٹ ویئر تھے یا کوٹیوئر۔‘
سلمان افضل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان میں عروسی ملبوسات کی قیمت تو 10 لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ ملبوسات صرف شادیوں کے موسم میں ہی فروخت ہوتے ہیں جو پاکستانی علاقوں میں عموماً اکتوبر کے وسط سے شروع ہو کر فروری تک رہتا ہے۔‘
یعنی مہارت اور معیار کے حساب سے ایک فیشن ڈیزائنر کی آمدن چند ہزار روپے سے لے کر کئی لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔
زیادہ ترقی کے لیے زیادہ صبر
فیشن ڈیزائنر احتشام انصاری بتاتے ہیں کہ ایک معروف اور مستحکم فیشن ڈیزائنر بننے کے لیے مسلسل نئی چیزیں سیکھنا اور اپنی صلاحیتیوں کو نکھارنا ضروری ہے۔ اُنھوں نے کہا: ’یہ کوئی راتوں رات کامیابی کی کہانی نہیں کہ آپ آئے اور فوراً مشہور ہو گئے یا اپنا نام بنا لیا۔‘
احتشام انصاری کے مطابق فیشن ڈیزائنر کا نام اُن کے کام اور کام کے معیار سے بنتا ہے، ’اس شعبے میں جدت اور تخلیقی انفرادیت بہت اہمیت رکھتی ہے۔‘
انشال علوی کا کہنا ہے کہ مستقبل کی معاشی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس برانڈ یا ادارے سے منسلک ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ایک ادارے میں کام کرنے والے ڈیزائنرز کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔ اِن میں سے چند ہی اوپر کے درجوں تک پہنچتے ہیں۔
انشال علوی کا کہنا تھا کہ ’اس شعبے میں بہت مسابقت ہے۔ ایک دم ترقی نہیں ملتی، بہت صبر سے کام لینا ہوتا ہے۔‘
انشال علوی سے جب پوچھا گیا کہ کسی بھی کمپنی کے سب سے سینیئر عہدے تک پہنچنے میں اندازاً کتنے سال لگ سکتے ہیں؟ تو اُنھوں نے وضاحت کی کہ اس سوال کا بھی کوئی ایک جواب نہیں۔
’اسسٹنٹ کے درجے پر بھرتی ہونے والے ڈیزائنر کو سب سے اونچے درجے تک ترقی ملتے ملتے آٹھ سال یا اس سے بھی زیادہ لگ سکتے ہیں تاہم زیادہ قابل لوگوں کے لیے یہ مدت کم ہو سکتی ہے۔‘
تنازعے کے بعد پرادا کا ’میڈ ان انڈیا‘ کولہاپوری لانچ کرنے کا اعلان، چپل کی قیمت 84 ہزار روپے ہو گیایلا واڈیا: پیرس کی فیشن تقریب میں شرکت کرنے والی انڈین رئیس زادی کا بانی پاکستان سے کیا رشتہ ہے؟نانی سے قرض لے کر شروع کیا گیا کاروبار، جس کی آمدن اب اربوں میں ہے: ’والدہ نے سکھایا کہ تم وہ سب بن سکتی ہو، جو تم چاہتی ہو‘’پتلی ٹانگیں اور ابھری ہڈیاں‘: ماڈلز کے انتہائی دُبلا نظر آنے پر فیشن برانڈ زارا کے دو اشتہارات پر پابندی’ایک کروڑ ڈالر‘: دنیا کے سب سے مہنگے اور اصلی ’برکن‘ ہینڈ بیگ میں ایسا کیا خاص ہے؟وہ نوکیلے جوتے جنھیں لندن میں ’شیطانی پنجے‘ قرار دے کر پابندی لگائی گئی