’بچے خدا کا روپ ہوتے ہیں‘: بچوں کو شہد کی مکھیوں کے حملے سے بچاتے ہوئے کنچن بائی نے موت کو گلے لگا لیا

بی بی سی اردو  |  Feb 08, 2026

Akash Srivastava55 سالہ آنگن واڑی اسسٹنٹ کنچن بائی نے بچوں کو بچانے کے لیے شہد کی مکھیوں کے ڈنک کو برداشت کیا

ران پور گاؤں کے بیشتر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’اگر کنچن بائی نے ہمت نہ دکھائی ہوتی تو نہ جانے کتنے بچے مر چکے ہوتے۔‘

انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے اس گاؤں میں ہر شخص کنچن بائی کی بہادری کی کہانی یہی کہہ کر سنا رہا ہے۔

درحقیقت ضلع ہیڈکوارٹر سے 26 کلومیٹر دور واقع ران پور کا آنگن واڑی کمپلیکس پیر دو فروری کی دوپہر کو شہد کی مکھیوں کے حملے کی زد میں آ گیا۔

Puneet Barnalaکنچن بائی نے جن بچوں کو بچانے کی کوشش کی ان میں ان کا پوتا بھی تھا

اس جگہ جہاں عموماً بچوں کی ہنسی اور شرارتیں سنائی دیتی ہیں، وہاں اچانک چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں۔ اسی آنگن واڑی کے احاطے میں پرائمری سکول دوپہر دو بجے سے شروع ہوتا ہے۔

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 3:30 بجے شہد کی مکھیوں کے جھنڈ نے آنگن واڑی کے ارد گرد جمع بچوں پر حملہ کر دیا۔ اس وقت احاطے میں تقریباً 20 سے 25 بچے موجود تھے۔

بی بی روشن: چھ گولیاں کھا کر اپنے شوہر اور بچوں کو بچانے والی خاتون، ’لیٹے رہو، بچے سیٹ کے نیچے چھپا دیے ہیں‘جھانسی کے ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کو آگ سے بچانے والے یعقوب جن کی اپنی جڑواں بیٹیاں جھلس گئیںانڈیا کی دائیاں جنھوں نے لڑکیوں کو قتل کرنے کے بجائے انھیں بچانا شروع کیا’اپنے بچوں کے بارے میں سوچتا تو شاید اتنے لوگوں کو نہ بچا پاتا‘’وہ بچوں کو بچانے کے لیے بھاگیں‘

سکول کے ایک استاد گناساگر جین کہتے ہیں کہ ’شہد کی مکھیاں سیدھی بچوں کی طرف بڑھ رہی تھیں اور مکمل افراتفری تھی۔‘

اسی وقت وہاں موجود 55 سالہ اسسٹنٹ کنچن بائی نے صورت حال کو محسوس کیا اور بچوں کو بچانے کے لیے بھاگیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کنچن بائی نے بچوں کو اندر لے جانے میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔

انھوں نے پہلے ان بچوں کو آنگن واڑی میں رکھی چٹائیوں اور کمبلوں سے ڈھانپ دیا اور پھر اپنی ساڑھی سے انھیں ڈھکنے کی کوشش کی۔

ان کے دلیرانہ عمل سے ان کے اپنے پوتے سمیت تقریباً 25 بچوں کی جانیں بچ گئیں لیکن وہ خود بھی شہد کی مکھیوں کے حملے میں بری طرح زخمی ہوگئیں۔

ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ انکت جیسوال نے میڈیا کو بتایا کہ ’پیر کی دوپہر کو آنگن واڑی پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا۔ اس دوران وہاں کام کرنے والی کنچن بائی نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ کنچن بائی کو شہد کی مکھیوں نے زخمی کر دیا، جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔‘

Aakash Srivastavaہینڈ پمپ کے قریب شہد کی مکھیوں کا ایک بڑا سا چھتا تھا ’ماں پر فخر ہے‘

کنچن بائی کے پسماندگان میں ان کا بیٹا روی میگھوال اور ان کے شوہر شیو لال ہیں۔ بیٹا شادی شدہ ہے اور کنچن بائی کا ایک پوتا ہے، جو حادثے کے وقت سکول میں تھا۔

کنچن بائی کے شوہر چند سال پہلے فالج کا شکار ہو گئے تھے اور تب سے وہ بستر پر ہیں۔

پورا خاندان سوگ میں ہے لیکن ان کے بیٹے روی میگھوال کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی ماں پر بہت فخر ہے۔

روی نے بی بی سی کو بتایا ’میں اس وقت گاؤں میں نہیں تھا، لیکن سب نے مجھے بتایا کہ کس طرح میری ماں نے درجنوں بچوں کی جان بچائی۔‘

’میری والدہ بہت مہربان طبیعت کی مالک تھیں۔ وہ سب سے پیار کرتی تھیں، لیکن بچوں سے سب سے زیادہ۔ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ بچے خدا کا روپ ہوتے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ اپنے بچوں کی طرح نہیں بلکہ خدا کی طرح سلوک کرتی تھیں۔‘

کنچن بائی گاؤں کے جئے ماتا دی سیلف ہیلپ گروپ کی صدر تھیں اور آنگن واڑی کی منتظم تھیں۔ ان کی روزمرہ کی ذمہ داریوں میں کھانا پکانا، پانی پلانا اور بچوں کی دیکھ بھال شامل تھی۔

Aakash Srivastavaکنچن بائی کے بیٹے روی میگھوال کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی ماں پر بہت فخر ہے

روی کا کہنا ہے کہ جن بچوں کو ان کی ماں نے بچایا ان میں ایک ان کا اپنا بچہ بھی تھا۔ ’اس کے جسم سے شہد کی مکھیوں کے پانچ یا چھ ڈنک بھی نکالے گئے تھے۔‘

اپنی ماں کو یاد کرتے ہوئے روی کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے کبھی اس کام کو کام نہیں سمجھا۔ ان کے لیے یہ زندگی کا لازمی حصہ تھا۔ وہ کبھی دیر سے نہیں پہنچیں اور نہ ہی انھوں نے کبھی چھٹی لی۔ یہاں تک کہ اگر وہ انتہائی مشکل کی وجہ سے نہیں جا پاتیں تو سب سے پہلے بچوں کے لیے کھانے اور پانی کا بندوبست کرتیں۔‘

سریش چندر میگھوال، جن کا بیٹا اسی آنگن واڑی میں پڑھتا ہے، اس وقت اپنے بچے کو لینے آئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں باہر پہنچا تو میڈم چیخ رہی تھیں اور مجھے اندر سے بچوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں‘۔

’جب میں تھوڑا قریب گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہاں شہد کی مکھیوں کا حملہ ہے۔ کنچن بائی بچوں کو چٹائیوں، چادروں اور اپنی ساڑھی سے ڈھانپ رہی تھیں۔ وہاں شہد کی مکھیوں کا ایک بہت بڑا غول تھا۔‘

ان کے مطابق کنچن بائی نے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے شہد کی مکھیوں کے متعدد حملے برداشت کیے۔ سریش کہتے ہیں کہ ’اگر وہ اس دن وہاں نہ ہوتیں تو بہت سے بچے جان سے ہاتھ دھو سکتے تھے۔‘

BBCگاؤں والے کنچن بائی کو نہ صرف ایک آنگن واڑی ورکر بلکہ آنگن واڑی میں ایک قابل اعتماد منتظم کے طور پر یاد کرتے ہیں بچاؤ کو پہنچنے والے گاؤں والوں نے کیا کہا؟

دلیپ میگھوال، جو کنچن بائی کے بہنوئی ہی، نے بتایا کہ انھیں اسی گاؤں کے ایک شخص کا فون آیا اور بتایا گیا کہ آنگن واڑی پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کیا ہے۔

دلیپ نے بتایا کہ جب وہ آنگن واڑی پہنچے تو حالات قابو سے باہر ہو چکے تھے۔

’میں نے کنچن بائی کو زمین پر پڑا دیکھا۔ ان کے جسم پر شہد کی مکھیوں کے بہت سے ڈنک تھے اور کچھ شہد کی مکھیاں اب بھی موجود تھیں۔ کنچن بائی بے ہوش تھیں، ان کے منھ سے جھاگ نکل رہی تھی اور وہ کچھ بولنے سے قاصر تھیں۔‘

واقعے کے منظر کو یاد کرتے ہوئے دلیپ کہتے ہیں کہ ’قریبی بچے رو رہے تھے اور لوگ گھبرا گئے۔ میں نے کنچن بائی کو اٹھایا اور ایک بچے کے ساتھ باہر لے آیا۔ تب تک سریش چندر بھی وہاں پہنچ چکے تھے اور انھوں نے ایمبولینس اور پولیس کو بلایا۔‘

پولیس کی گاڑی پہنچنے کے بعد کنچن بائی کو قریبی سرونیا مہاراج پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی) لے جایا گیا، جہاں انھیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

Aakash Srivastavaجب کنچن بائی کے بہنوئی دلیپ میگھوال آنگن واڑی پہنچے، کنچن بائی زمین پر گر چکی تھی

سرونیا مہاراج پرائمری ہیلتھ سینٹر کے انچارج واحد ڈاکٹر سندیپ شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں ایک میٹنگ کے لیے کلکٹریٹ گیا تھا۔ اسی دوران شام کو مجھے فون آیا کہ ایک خاتون کو شہد کی مکھی کے شدید حملے کے بعد ہسپتال لایا گیا ہے۔‘

’اس وقت موجود ہسپتال کے عملے کے مطابق وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں۔ شہد کی مکھیوں کے حملے میں یہ کافی ممکن ہے کیونکہ شخص اینافائلیکٹک شاک میں چلا جاتا ہے جو جان لیوا ہو سکتا ہے۔‘

اینافائلیکٹک جھٹکا ایک شدید، اچانک اور ممکنہ طور پر جان لیوا الرجک رد عمل ہے جو الرجین کے سامنے آنے کے چند منٹوں میں ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر سندیپ کے مطابق شہد کی مکھی کا ڈنک اس طرح کے صدمے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

کنچن بائی کی موت سے پورا گاؤں ران پور سوگ میں ڈوب گیا ہے۔

گاؤں والے انھیں نہ صرف ایک آنگن واڑی ورکر کے طور پر یاد کرتے ہیں، بلکہ آنگن واڑی میں ایک قابل اعتماد موجودگی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

ایک دیہاتی نے کہا ’جب کنچن بائی وہاں رہتی تھیں، ہمیں یقین تھا کہ بچے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور ان کی دیکھ بھال کی کوئی فکر نہیں ہے۔‘

دلیپ بتاتے ہیں کہ وہ بچوں کو ان کے ساتھ بیٹھ کر کھلاتی تھیں اور ان کے ساتھ مذاق بھی کرتی تھیں۔

Aakash Srivastavaکنچن بائی گاؤں کے جئے ماتا دی سیلف ہیلپ گروپ کی صدر تھیں

واقعے کے بعد گاؤں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

آنگن واڑی کے قریب ہینڈ پمپ پورے گاؤں کے لیے پانی کا واحد ذریعہ ہے۔

اسی علاقے میں شہد کی مکھیوں کے چھتے کی موجودگی کی وجہ سے لوگ وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔

روی کہتے ہیں ’سکول کی عمارت خستہ حال ہے، اس لیے بچوں کو آنگن واڑی میں پڑھنا پڑتا ہے۔‘

انھوں نے اپیل کی کہ ’میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ سکول کی حالت کو بہتر بنایا جائے، چاردیواری اور پانی کی فراہمی کی جائے تاکہ بچوں کو آنگن واڑی میں نہ بیٹھنا پڑے۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہوتا تو میری ماں اس وقت آنگن واڑی میں نہ ہوتیں۔‘

مقامی صحافی آکاش سریواستو کی اضافی رپورٹنگ

’اپنے بچوں کے بارے میں سوچتا تو شاید اتنے لوگوں کو نہ بچا پاتا‘شنگھائی ریلوے سٹیشن پر ایک شخص کی جان بچانے والے پاکستانی طالب علم جو چین میں ’ہیرو‘ بن گئےبی بی روشن: چھ گولیاں کھا کر اپنے شوہر اور بچوں کو بچانے والی خاتون، ’لیٹے رہو، بچے سیٹ کے نیچے چھپا دیے ہیں‘جھانسی کے ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کو آگ سے بچانے والے یعقوب جن کی اپنی جڑواں بیٹیاں جھلس گئیںانڈیا کی دائیاں جنھوں نے لڑکیوں کو قتل کرنے کے بجائے انھیں بچانا شروع کیاایک خفیہ کمرہ جس نے ایک بچی کی جان بچائی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More