Getty Images
آسٹریلوی حکام نے نیو ساؤتھ ویلز میں ایک کمرشل بریڈر سے ایک لاکھ سے زائد کاکروچ ضبط کیے ہیں جن میں سے کچھ کا سائز انسانی ہتھیلی جتنا ہے۔
ان دیو ہیکل کاکروچز کی مجموعی مالیت ایک لاکھ 43 ہزار ڈالرز بتائی گئی جن میں آواز نکالنے والے مڈغاسکر کاکروچ اور ڈوبیا کاکروچ شامل ہیں۔
دونوں اقسام کو آسٹریلیا میں قانونی طور پر درآمد کرنا یا رکھنا، پالنا یا فروخت کرنا ممنوع ہے۔ حکام کے مطابق یہ اس نوعیت کے حشرات ضبط کرنے کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کیڑے بیماریاں پھیلا سکتے ہیں اور مقامی جنگلی حیات اور زراعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یہ کاکروچ، جنھیں عموماً پالتو رینگنے والے جانوروں کے لیے خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حکام کے ذریعے تلف کر دیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ کاکروچ پالتو رینگنے والے جانوروں بشمول چھپکلیوں کی خوراک کے طور پر فروخت کیے جاتے رہے ہوں۔
آسٹریلیا کے محکمہ برائے ماحولیاتی تبدیلی کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم غیر ملکی کاکروچوں کی غیر قانونی افزائش اور تجارت دیکھ رہے ہیں اور ہم پالتو جانوروں کے کاروبار اور مالکان کو خبردار کر رہے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے پاس ڈوبیا کاکروچ اور مڈغاسکر کے آواز نکالنے والے لال بیگ ہیں یا آپ انھیں پالنے یا تجارت کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو انھیں ضبط کر لیا جائے گا اور آپ کو قانون کے تحت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دنیا میں سانپوں کی دس خطرناک ترین اقسام: ’ان لینڈ پائیتھن کے منھ سے خارج ہونے والا زہر 100 لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے‘’کوبرا کے کٹے ہوئے سر نے ڈس لیا‘: کیا سانپ اپنی موت کے بعد بھی کاٹ سکتا ہے؟وہ چھوٹے چوہے جن کا ڈی این اے ’لمبی عمر کا راز‘ بتا سکتا ہے مویشیوں میں پھیلنے والا ’بلیو ٹنگ‘ وائرس جس سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک متاثر ہو رہے ہیں
ترجمان نے رینگنے والے جانوروں کے مالکان سے کہا کہ وہ ڈوبیا یا مدغاسکر نسل کے ان بڑے کاکروچز کو خوراک کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ٹڈی یا وڈ روچ جیسے متبادل اختیار کریں۔
مدغاسکر کے آواز نکالنے والے کاکروچ، دُنیا کی سب سے بڑی اقسام میں سے ایک ہیں اور یہ اتنی بلند سیٹی جیسی آواز پیدا کرتے ہیں جو دُور دُور تک سنی جا سکتی ہے۔
Getty Images
سانپ پکڑنے والی سٹیفنی لیسر نے کہا کہ اُنھوں نے دیکھا کہ یہ کیڑے آن لائن فروخت کے لیے بھی پیش کیے جاتے رہے ہیں۔
آسٹریلوی براڈ کاسٹر ’اے بی سی نیوز‘ سے گفتگو میں اُنھوں نے بتایا کہ لوگ انھیں پالتے بھی ہیں کیونک یہ بڑے ہوتے ہیں اور ایک وقت میں ان کا سائز انسانی ہتھیلی جتنا ہو جاتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ شاید یہ بہت زیادہ سستا پڑتا ہے کیونکہ جن لوگوں نے گھروں میں چھپکلیاں پال رکھی ہیں، وہ روزانہ انھیں تین یا چار مرتبہ چھوٹے کیڑے خوراک کے لیے دینے کے بجائے یہ ایک ہی کاکروچ دے سکتے ہیں۔
220 ڈالر کی ایک چیونٹی: کینیا میں منافع بخش کاروبار یا جنگلی حیات کی سمگلنگ کا نیا محاذ؟سمندر کی گہرائی میں دہائیوں تک جاری رہنے والی دعوت: جب ایک وہیل کو کھانے عجیب و غریب جاندار پہنچ جاتے ہیںزہریلے مینڈکوں کا شکار کرنے والا سانپ موت کو چکما کیسے دیتا ہے؟