BBC
ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے پر جاری تنازع کا ایک اہم نکتہ ہیں مگر ان ذخائر کا مستقبل اور مقام پیچیدہ معمہ ہے۔
یہ تنازع دراصل یورینیئم کے ان سینکڑوں کلوگرام ذخائر پر ہے جسے ایران نے حالیہ برسوں میں 60 فیصد تک افزودہ کیا۔ یہ سطح اگرچہ ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال کے لیے ناکافی ہے مگر تکنیکی طور پر 90 فیصد افزودگی کے قریب ہے جو ایٹم بم بنانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان ذخائر کو ایران کے ’اندر یا باہر‘ تباہ کیا جانا چاہیے مگر ایرانی حکام نے مسلسل اس مطالبے کو مسترد کیا۔
حال ہی میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ چاہے تو تہران سے معاہدے کے بغیر بھی افزودہ یورینیئم ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔ انھوں نے حالیہ بیان میں کہا کہ ’ہم چاہیں تو اسے ابھی حاصل کر سکتے ہیں۔ میرا نہیں خیال وہ ہمیں روک سکیں گے اگر ہم نے ایسا چاہا لیکن مجھے فی الحال اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اسے زیرِ زمین دفن کر دیا گیا ہے۔‘
12 روزہ جنگ کے دوران فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے تقریباً ایک سال بعد بھی کوئی آزاد تنظیم یقین کے ساتھ یہ نہیں بتا سکی کہ ان ذخائر میں سے کتنا یورینیئم باقی ہے، یہ کس حالت میں ہیں، اور اسے کہاں محفوظ رکھا گیا۔
فوجی حملوں کے باعث جوہری تنصیبات کی تباہی، آئی اے ای اے انسپکٹرز کی رسائی کی معطلی اور ایرانی و امریکی حکام کے متضاد بیانات نے ان ذخائر کی قسمت کے بارے میں مبہم تصویر پیش کی ہے۔
کچھ جائزے کہتے ہیں کہ حملوں سے پہلے کچھ ذخائر منتقل کر دیے گئے تھے جبکہ دیگر کے مطابق اس کا کچھ حصہ تباہ شدہ تنصیبات کے ملبے تلے دبا ہو سکتا ہے۔
ایران کے پاس ایسے ذخائر کیوں ہیں اور یہ کہاں موجود ہو سکتے ہیں؟
ایران کے پاس 60 فیصد افزودہ یورینیئم کیوں ہے؟
2015 کے امریکہ-ایران جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کے تحت تہران نے یورینیئم کی افزودگی 3.67 فیصد تک رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ سطح ایٹمی بجلی گھروں کے لیے ایندھن تیار کرنے کے لیے درکار ہے۔
2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں امریکہ کے جوہری معاہدے سے نکلنے اور ایران کی جانب سے شرائط کی خلاف ورزی کے بعد تہران نے پہلے افزودگی کی سطح 4.5 فیصد اور پھر 20 فیصد تک بڑھا دی۔ اس کے تین سال بعد تہران 60 فیصد تک پہنچا۔
یہ تبدیلی اپریل 2021 میں آئی۔
نطنز تنصیب میں دھماکے اور بجلی کی بندش کے بعد، جسے ایران نے اسرائیلی تخریب کاری قرار دیا، تہران کے حکام نے اعلان کیا کہ وہ 60 فیصد افزودگی شروع کریں گے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اس وقت کہا تھا کہ ایران دنیا کا واحد غیر جوہری ملک ہے جس نے اس سطح تک پہنچ حاصل کی۔
ایرانی حکام نے کہا کہ یہ اقدام امریکی دباؤ اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ہے۔ اس نے زور دیا کہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام کے لیے درکار افزودگی کی سطح طے کرنے کا حق حاصل ہے۔
مگر مغربی ممالک کا کہنا تھا کہ 60 فیصد افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ روایتی سویلین ضروریات سے زیادہ ہے اور یہ ایران کو ہتھیاروں کے معیار کی افزودگی کے قریب لے آتا ہے۔
اگلے برسوں میں جب جے سی پی او اے کی بحالی کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے اور ایران کے مغرب کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوئے تو 60 فیصد یورینیئم کا ذخیرہ تیزی سے بڑھا۔
اپنی رپورٹس میں آئی اے ای اے نے بتایا کہ نہ صرف ذخائر کی مقدار بڑھی بلکہ فردو اور نطنز میں جدید سینٹری فیوجز نصب کرنے سے مزید افزودگی تک پہنچنے میں درکار وقت بھی کم ہو گیا۔
BBCامریکی حملے کے بعد فردو میں زیرِ زمین یورینیئم افزودگی کی تنصیب کی سیٹلائٹ تصاویر
گذشتہ سال 12 روزہ جنگ سے پہلے آئی اے ای اے کے اندازے کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد یورینیئم کا ذخیرہ تقریباً 440 کلوگرام تک پہنچ گیا تھا۔
مگر جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد ان ذخائر کی قسمت ایران کے جوہری پروگرام کا سب سے اہم مگر مبہم پہلو ہے۔
یہ مواد اکثر یورینیئم ہیکسافلورائڈ گیس (یو ایف سِکس) کی شکل میں رکھا جاتا ہے جسے خصوصی سٹیل سلنڈروں میں بھر کر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ادارے کے مطابق ان ذخائر کی تیاری کے مقامات واضح تھے۔ فردو 60 فیصد افزودگی کا مرکزی مرکز تھا جبکہ نطنز کا پائلٹ پلانٹ معاون کردار ادا کرتا تھا۔
اپنی مئی 2025 کی رپورٹ میں ادارے نے کہا کہ اس سال فروری سے مئی کے درمیان صرف فردو میں 166 کلوگرام سے زیادہ اور نطنز میں تقریباً 19 کلوگرام 60 فیصد یورینیئم تیار کیا گیا۔
مگر یہ ضروری نہیں کہ ذخیرہ وہیں ہو جہاں یہ تیار کیا جاتا ہے اور یہی اصل معمہ ہے۔
یورینیم کی افزودگی کا وہ ’خطرناک لمحہ‘ جب یہ مواد تباہ کُن جوہری ہتھیار میں بدل جاتا ہے’تہران اب بھی ایٹمی ہتھیار کے لیے افزودہ یورینیئم تیار کر سکتا ہے‘: امریکی حملے سے ایرانی جوہری تنصیبات کو کتنا نقصان ہوا؟ایران میں یورینیم کی افزودگی: 3.67 فیصد کی حد کہاں سے آئی اور دنیا کے لیے 60 فیصد افزودہ یورینیم پریشانی کا باعث کیوں؟ایران کے جوہری پروگرام میں کیا باقی بچا ہے اور کیا یہ اب بھی ایک ’خطرہ‘ ہے؟زیرِ زمین تنصیبات توجہ کا مرکز کیوں؟
پہلا اشارہ خود آئی اے ای اے سے ملا جس نے کہا تھا کہ دسمبر 2024 سے تہران نے فردو کے علاوہ اصفہان میں ایک مقام کو ’بہتر حفاظتی نظام‘ کے لیے رکھا۔
یوں جون 2025 کے حملوں سے پہلے اصفہان نہ صرف یورینیئم کی تبدیلی اور ایندھن کی تیاری کا مرکز تھا بلکہ حساس مواد کے ذخیرے کے لیے بھی اہم مقام بن چکا تھا۔
یہ اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب فروری 2026 کی رپورٹ میں آئی اے ای اے نے کہا کہ اس نے اصفہان کے زیرِ زمین اور سرنگوں والے کمپلیکس کے داخلی راستے پر گاڑیوں کی معمول کی نقل و حرکت دیکھی ہے۔
اسی رپورٹ میں ادارے نے واضح کیا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں ایران کی چار اعلان شدہ تنصیبات سے تعلق رکھنے والا 20 اور 60 فیصد افزودہ یورینیئم ہیکسافلورائڈ محفوظ کیا گیا تھا۔
تاہم جون کی جنگ کے بعد انسپکٹرز کی رسائی معطل ہونے کی وجہ سے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ تمام مواد اب بھی وہیں موجود ہے۔
مگر ادارے نے قابلِ اعتبار معلومات کی بنیاد پر اندازہ لگایا کہ اس کا بڑا حصہ زیرِ زمین کمپلیکس میں ہی ہے۔
مارچ 2026 میں آئی اے ای اے کے سربراہ گروسی نے کہا کہ 200 کلوگرام سے زیادہ 60 فیصد یورینیئم ممکنہ طور پر اب بھی اصفہان میں موجود ہے۔
اپریل میں خبر رساں ادارے اے پی اسے گفتگو میں گروسی نے کہا کہ زیادہ تر مواد وہیں ہے مگر ادارے کو اس کی تصدیق کے لیے رسائی نہیں۔
اصفہان پر توجہ کی ایک اور وجہ 12 روزہ جنگ کے اختتام پر امریکی حملوں کے بعد اس کمپلیکس کی حالت تھی۔
سی این این نے رپورٹ کیا کہ فردو اور نطنز کے برعکس جہاں بنکر شکن بم استعمال ہوئے، اصفہان کے زیرِ زمین نیٹ ورک کا بڑا حصہ ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور گہرے حصوں میں بڑی تباہی نہیں ہوئی۔
اس فرق نے بعض تجزیہ کاروں کو یہ خیال پیش کرنے پر آمادہ کیا کہ کچھ ذخائر زیرِ زمین محفوظ رہے ہوں گے۔
ٹرک، پانی کے ٹینک اور حملے سے قبل منتقلی کا مفروضہBBCفردو تک پہنچنے کے لیے طاقتور ’بنکر شکن بم‘ کی ضرورت ہوگی جو صرف امریکہ کے پاس موجود ہے
28 مارچ 2026 کو فرانسیسی اخبار لی موند نے ایک ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصویر شائع کی جسے بعد میں دیگر اداروں نے بھی استعمال کیا۔
9 جون 2025 کی اس تصویر میں اصفہان کمپلیکس کے قریب ایک بڑا ٹرک دکھایا گیا جس پر 18 نیلے سلنڈر موجود ہیں۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سلنڈر یورینیئم ہیکسافلورائڈ لے جانے کے لیے ہو سکتے ہیں۔
اندازوں کے مطابق اس قسم کا ٹرک ایران کے 60 فیصد یورینیئم کے ایک بڑے حصے کو منتقل کر سکتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تصویر سے مواد کی تصدیق ممکن نہیں اور آئی اے ای اے نے بھی اس کی تصدیق نہیں کی۔
اسی دوران سرنگوں کے داخلی راستے بند کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
فروری 2026 میں ایک رپورٹ کے مطابق کمپلیکس کے تینوں داخلی راستے مٹی سے بند کیے گئے جبکہ اپریل میں ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات مواد کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہو سکتے ہیں۔
Getty Imagesتہران میں آویزاں ایک پوسٹر پر یورینیم افزودگی کے آلات اور جون 2025 میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی سائنس دانوں کی تصویر بنائی گئی’نامعلوم مقام‘
12 روزہ جنگ کے اختتام پر نیویارک ٹائمز نے امریکی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی کی ایک ابتدائی اور خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کا بڑا حصہ حملوں سے پہلے منتقل کر دیا گیا تھا۔ حملوں میں صرف جوہری مواد کا ایک چھوٹا حصہ تباہ ہوا۔ ممکن ہے کہ ایران نے اس مواد کا کچھ حصہ خفیہ مقامات پر منتقل کر دیا ہو۔‘
اخبار نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ بعض اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ ’ایرانی حکومت نے ایک چھوٹی، خفیہ افزودگی کی تنصیب برقرار رکھی تاکہ بڑے مراکز پر حملے کی صورت میں وہ اپنا جوہری پروگرام جاری رکھ سکے۔‘
ایک اور اشارہ، جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی، افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کی قسمت کے بارے میں ایرانی حکام کے بیانات ہیں۔ جون 2025 میں آئی اے ای اے کو لکھے گئے ایک خط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جوہری آلات اور مواد کے تحفظ کے لیے ’خصوصی اقدامات‘ کرے گا۔
انھوں نے چند ہفتوں بعد فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ وہ ’یقین سے نہیں جانتے‘ کہ ذخیرے کی درست صورتحال کیا ہے ’کیونکہ وہ ان مقامات پر تھے جن پر بمباری کی گئی۔‘
اس کے بعد کے مہینوں میں ایرانی حکام نے مواد کے ملبے تلے دفن ہونے پر زور دیا۔ ستمبر 2025 میں عراقچی نے کہا کہ ’ہمارا یورینیئم بمباری شدہ جوہری تنصیبات کے ملبے کے نیچے ہے‘ اور مارچ 2026 میں انھوں نے سی بی ایس کو بتایا کہ ایران کے پاس اس وقت مواد نکالنے کا ’کوئی منصوبہ‘ نہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے بارہا ایران سے باہر ذخائر کی منتقلی کی مخالفت کا اظہار کیا۔ اپریل 2026 میں وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ایران کا افزودہ یورینیئم کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا‘ اور مئی 2026 میں روئٹرز نے دو سینیئر ایرانی اہلکاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران کے رہنما نے ہدایت دی ہے کہ اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم ایران سے برآمد نہ کیا جائے۔
امریکی حکام نے گذشتہ موسمِ گرما میں ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد سے مختلف بیانات دیے ہیں۔ 12 روزہ جنگ کے فوراً بعد انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام کی ’مکمل تباہی‘ پر زور دیا لیکن ساتھ کہا کہ ان کے پاس اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں کہ ایران امریکی حملوں سے پہلے اپنے افزودہ یورینیئم کے زیادہ تر ذخیرے کو منتقل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے جوہری مواد ہدف بنائی گئی تنصیبات میں چٹان، کنکریٹ اور فولاد کی تہوں کے نیچے دفن ہو اور اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ حملوں سے پہلے مواد کی بڑے پیمانے پر منتقلی کے کوئی آثار نہیں تھے۔
اب افزودہ یورینیئم کے ذخائر کی قسمت تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلاف کے اہم نکات میں سے ایک بن چکی ہے۔
Reutersاصفہان نیوکلیئر پلانٹ’کوه کلنگ‘ کمپلیکس
دو مرکزی بیانیوں کے علاوہ ایک تیسرا مفروضہ بھی پیش کیا گیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے کچھ ذخائر یا آلات نئے اور کم معروف زیرِ زمین مراکز میں منتقل کر دیے گئے ہیں جیسا کہ اسرائیلی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا۔
سب سے نمایاں نام ’کوہ کلنگ‘ کا سامنے آیا جو نطنز کے قریب ایک کمپلیکس ہے جس کی تعمیر واشنگٹن پوسٹ کے بقول 2020 میں شروع ہوئی اور 12 روزہ جنگ کے بعد وہاں تعمیراتی سرگرمی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
گذشتہ ستمبر شائع ہونے والی اس رپورٹ نے سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا کہ اس مقام پر پہاڑ کے اندر سرنگیں کھودی گئی ہیں جہاں مضبوط داخلی راستوں، بڑھتی ہوئی کھدائی اور سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کے آثار ملتے ہیں۔
پی بی ایس نے دسمبر 2025 میں رپورٹ کیا کہ نطنز کے قریب ’کوہ کلنگ‘ کمپلیکس ایران کے کم معروف زیرِ زمین منصوبوں میں سے ایک ہے جہاں 2020 سے گہری سرنگیں اور حفاظتی ڈھانچے تعمیر کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کے مبصرین نے کبھی اس مقام کا دورہ نہیں کیا اور ایران نے جنگ کے بعد بعض مقامات کے معائنے کی اجازت نہیں دی۔
پی بی ایس کے مطابق ایرانی حکام نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اس کمپلیکس کا مقصد افزودہ یورینیئم ذخیرہ کرنا نہیں بلکہ سینٹری فیوجز کی تنصیب اور تحفظ کے لیے زیرِ زمین مرکز قائم کرنا ہے۔
دی سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز نے بھی اکتوبر 2025 میں رپورٹ کیا کہ کوہ کلنگ کمپلیکس مستقبل میں حساس جوہری سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جن میں جوہری آلات یا مواد کا تحفظ شامل ہے۔
کیونکہ سرنگوں کی گہرائی زیادہ ہے، داخلی راستے مضبوط بنائے گئے ہیں اور حفاظتی ڈھانچہ تیار کیا گیا۔
تاہم یہ جائزے زیادہ تر سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلیجنس تجزیے پر مبنی ہیں اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی باضابطہ رپورٹس نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ایران کا 60 فیصد افزودہ یورینیئم اس مقام پر منتقل یا ذخیرہ کیا گیا۔
ایران نے یورینیئم ذخائر کے بارے میں کیا کہا؟
13 جون 2025: عباس عراقچی نے ایک خط میں ایجنسی کو آگاہ کیا کہ ایران جوہری آلات اور مواد کے تحفظ کے لیے ’خصوصی اقدامات‘ کرے گا۔ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے جواب دیا کہ حفاظتی نگرانی کے تحت کسی تنصیب سے ایران میں کسی دوسرے مقام پر جوہری مواد کی منتقلی کی صورت میں ایجنسی کو مطلع کرنا ضروری ہے۔
2 اگست 2025: فنانشل ٹائمز کے ایک انٹرویو میں جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ایران کے پاس اب بھی 60 فیصد افزودہ یورینیئم کے ذخائر موجود ہیں تو عباس عراقچی نے جواب میں کہا ’میں نہیں جانتا۔‘ پھر انھوں نے مزید کہا کہ ’میں یقین سے نہیں جانتا کیونکہ ذخائر ان مقامات پر تھے جن پر بمباری کی گئی۔‘ انھوں نے کہا کہ انھیں عمومی طور پر معلوم ہے کہ یہ مواد ان تنصیبات میں تھا جن پر حملہ ہوا اور ایٹمی توانائی تنظیم اس کا جائزہ لے رہی ہے۔
11 ستمبر 2025: عباس عراقچی نے ٹی وی خطاب کے دوران کہا کہ ’ہمارا یورینیئم بمباری شدہ جوہری تنصیبات کے ملبے کے نیچے ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایٹمی توانائی تنظیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا مواد تک رسائی ممکن ہے اور نتیجہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کو بتایا جائے گا۔
12 ستمبر 2025: کیا ذخائر کی منتقلی پر ایجنسی کو آگاہ کیا جائے گا، اس سوال پر عراقچی نے جواب دیا تھا کہ اس کا فیصلہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کرے گی۔
15 فروری 2026: نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں، بشمول تقریباً 400 کلوگرام اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو محدود کرنے کے اقدامات، پر بات کرنے کے لیے تیار ہے بشرط یہ کہ واشنگٹن پابندیاں ہٹانے پر آمادہ ہو۔ انھوں نے زور دیا کہ ’صفر افزودگی‘ ایران کے لیے قابلِ قبول نہیں۔
15 مارچ 2026: عباس عراقچی نے سی بی ایس کو بتایا کہ ایران کا افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ ’ملبے کے نیچے‘ ہے اور تہران کے پاس اسے نکالنے کا فوری کوئی منصوبہ نہیں۔ انھوں نے کہا ’ہماری جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا اور سب کچھ ملبے کے نیچے ہے۔۔۔ ہمارے پاس انھیں ملبے سے نکالنے کا فوری کوئی منصوبہ نہیں۔‘
17 اپریل 2026: وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان رپورٹس کی تردید کی کہ ایران نے افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک منتقل کرنے پر اتفاق کیا اور کہا کہ ’افزودہ یورینیئم ہمارے لیے مقدس ہے جس طرح ایرانی سرزمین مقدس ہے۔‘
21 مئی 2026: روئٹرز نے ’دو سینیئر ایرانی حکام‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران کے رہبر اعلی نے حکم دیا ہے کہ اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم ایران سے برآمد نہ کیا جائے۔ روئٹرز نے لکھا کہ ایرانی حکام اب سمجھتے ہیں کہ ذخیرے کو بیرونِ ملک منتقل کرنا ایران کو مستقبل کے حملوں کے لیے زیادہ کمزور بنا دے گا۔
25 مئی 2026: وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے اور اس وقت جوہری معاملات پر مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایران کے جوہری پروگرام میں کیا باقی بچا ہے اور کیا یہ اب بھی ایک ’خطرہ‘ ہے؟اسرائیل ایران تنازع: سیٹیلائٹ سے حاصل تصاویر میں اصفہان کی ایئر بیس پر کتنا نقصان دیکھا جا سکتا ہے؟ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے سے کیا خطرات جنم لے سکتے ہیں؟’تہران اب بھی ایٹمی ہتھیار کے لیے افزودہ یورینیئم تیار کر سکتا ہے‘: امریکی حملے سے ایرانی جوہری تنصیبات کو کتنا نقصان ہوا؟ایران میں یورینیم کی افزودگی: 3.67 فیصد کی حد کہاں سے آئی اور دنیا کے لیے 60 فیصد افزودہ یورینیم پریشانی کا باعث کیوں؟یورینیم کی افزودگی کا وہ ’خطرناک لمحہ‘ جب یہ مواد تباہ کُن جوہری ہتھیار میں بدل جاتا ہے