Getty Images
انڈیا نے ویتنام کو براہموس سُپرسونک کروز میزائل فروخت کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
انڈیا کے سیکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ نے سنیچر کو سنگاپور میں شانگری لا ڈائیلاگ کے پروگرام میں شرکت کے دوران نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سلسلے میں ویتنام کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جا چکے ہیں، تاہم ابھی تک اس کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا کے ساتھ بھی براہموس کی فروخت کی بات چیت آخری مرحلے میں ہے۔
انڈیا اور ویتنام کے درمیان براہموس میزائل کے معاہدے سے متعلق بات چیت سنہ 2012 سے چل رہی تھی، تاہم انڈیا اس معاہدے کے بارے میں تھوڑی ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔
چین اور ویتنام کے درمیان سمندری حدود کے تنازع کے سبب انڈیا کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر اس نے ویتنام کو یہ میزائل فروخت کیا تو چین اس سے ناخوش ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھے گی۔
اب انڈیا کے سیکریٹری دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے، لیکن اس معاہدے کا حجم کیا ہے اور کتنے میزائل فروخت کیے جائیں گے، اس حوالے سے تفصیلات اب بھی پوری طرح راز میں رکھی گئی ہیں۔
سنہ 2022 میں فلپائن کے ساتھ بھی انڈیا نے 375 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔ دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کا کہنا ہے ’اس سودے کے تحت براہموس کے تین میزائل سسٹم فلپائن کودیے جانے تھے، جن میں اب تک شاید دو میزائل سسٹم انھیں منتقل کیے جا چکے ہیں ۔ فلپائن نے ان میزائلوں کو اپنے ساحلی علاقوں میں نصب کر رکھا ہے۔‘
Getty Images
براہموس مزائل روس اور انڈیا نے دو عشروں سے زیادہ عرصے کے اشتراک کے بعد بنایا ہے۔ اس کا نام انڈیا کی برہم پترا ندی کے برہم اور روس کی ندی موسکوا کے نام کے موس کو ملا کر بنایا گیا ہے۔
اس میزائل کی پروڈکشن حیدرآباد میں ہوتی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ روس اور انڈیا کے درمیان اس میزائل کے سلسلے میں کس طرح کا معاہدہ ہے، اس کے بارے میں معلومات عام نہیں کی گئی ہیں۔ لیکن یہ واضح ہے کہ انڈیا کو اس میں تبدیلی کرنے، اسے بہتر بنانے اور اسے فروخت کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔
دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے بتایا کہ ’اس میزائل کا وزن تقریباً 3000 کلوگرام ہے اور اس کی اونچائی 10 میٹر ہے۔ اس کی اوریجنل رینج 300 کلومیٹر تھی لیکن انڈیا نے اسے اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال سے تقریباً 500 کلومیٹر کر دیا ہے۔‘
’یہ بہت مؤثر اور کامیاب میزائل ہے۔ حملے کے وقت یہ تقریباً 4 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتا ہے۔ یہ ایک کروز میزائل ہے یعنی یہ زمین سے بہت کم اونچائی پر پرواز کرتا ہے، جس کے سبب ریڈار کے ذریعے اس کی موجودگی کا پتا لگانا بہت مشکل کام ہے۔ اس کی نشانے پر وار کرنے کی صلاحیت غیر معمولی ہے۔‘
راہل بیدی مزید کہتے ہیں کہ براہموس ایک نان نیوکلئیر میزائل ہے اور اسی سبب انڈیا اسے دوسرے ممالک کو فروخت کر پا رہا ہے۔
ان کے مطابق اگر اس میں جوہری مواد لے جانے کی صلاحیت ہوتی تو بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اس کی فروخت پر پابندی ہوتی۔
’اس میزائل میں انڈیا نے 85 فیصد دیسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے لیکن جو باقی 15 فیصد ٹکنالوجی ہے، مثال کے طور پر اس کا انجن اور اس کی لوہے کی چادر وغیرہ وہ روس سے ہی آتی ہے۔ وہ یہاں نہیں بن سکتے اور نہ ہی انڈیا کے پاس انھیں بنانے کی صلاحیت ہے۔‘
پاکستان کے فتح تھری کروز میزائل کا موازنہ انڈین براہموس سے کیوں کیا جا رہا ہے؟میزائل پروگرام پر خدشات سے ’حقیقی دوستی‘ تک: پیٹ ہیگسیتھ نے شنگریلا کانفرنس میں پاکستان امریکہ تعلقات پر کیا کہا؟راکٹ فورس، سٹیلتھ طیارے، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی: پاکستان اور انڈیا کی دفاعی حکمت عملی میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟’سارمات‘: 35 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے روسی میزائل کی خصوصیات کیا ہیں؟
راہل بیدی کہتے ہیں کہ فلپائن، ویتنام اور انڈونیشیا جیسے ممالک براہموس جیسے جدید میزائل کی خریداری کے لیے بڑے ملکوں کے بجائے انڈیا کا رخ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ براہموس میزائل ایک آزمودہ اور کامیاب میزائل ہے اور دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ یہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے پاس موجود اس طرح کے میزائلوں کی بہ نسبت بہت سستا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق انڈیا ان میزائلوں کی تنصبیب، ٹریننگ اور فاضل کل پرزے بہت کم قیمت پر یا فری فراہم کرتا ہے، اس کے سبب وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے بھی کئی ممالک ان میزائلوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
اس میزائل کو زمینی لانچر، بحری جہاز، آبدوز اور فضا سے وار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دفاعی حلقوں کی خبروں کے مطابق گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کی جنگ میں بھی اس کا استعمال ہوا تھا اور انڈیا میں اس کی کارکردگی کی بہت تعریف کی گئی تھی، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے بارے میں نہ تو کوئی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید۔
انڈیا میں 25 برس پہلے تک ملک کے ڈیفینس سیکٹر پر حکومت کی اجارہ داری تھی، لیکن سنہ 2001 کے بعد دفاعی صنعت میں نجی کمپنیوں کو بھی کام کرنے کی اجازت دی گئی۔
حالیہ برسوں میں پرائیویٹ کمپنیاں جنگی جہاز اور بحری جہاز سمیت بڑے پیمانے پر دفاعی ساز وسامان کی تیاریوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
براہموس کے بھی بہت سے حصے پرائیویٹ کمپنیاں بنانے لگی ہیں۔ انڈیا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ آنے والے عشروں میں دفاع کے شعبے میں پوری طرح خود انحصاری حاصل کرنا اس کا ہدف ہے۔
Getty Images
خود انحصاری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انڈیا نے ابتدا سے ہی اپنا دفاعی ساز وسامان دیگر ملکوں کو ایکسپورٹ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔
تجزیہ کار راہل بیدی نے بتایا کہ تقریباً 20 برس قبل انڈیا کے سرکاری دفاعی ادارے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ (ہیل) کے ذریعے بنائے گئے سات ہیلی کاپٹر ایکواڈور کو فروخت کیے تھے، لیکن ایکسپورٹ کیے جانے کے چند مہینوں بعد ہی ان میں سے چار ہیلی کاپٹر کریش ہو گئے تھے، جس کے بعد ایکواڈور نے انڈیا سے یہ معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔
اس سے ہیل کمپنی کو شدید دھچکا لگا تھا، یہ کمپنی اب انڈیا کا جدید لڑاکا طیارہ تیجس بنا رہی ہے۔
انڈیا اس طیارے کو بھی ایکسپورٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن گذشتہ برس دبئی کے فضائی شو کے دوران ایک تیجس گِر کر تباہ ہوگیا تھا، جس سے ایک بار پھر ان کوششوں کو دھچکا لگا۔
راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’اس طرح کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں لیکن انڈیا کو بین الاقوامی کمپنیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ابھی بہت طویل مسافت طے کرنی ہے۔‘
انڈیا براہموس میزائل کو اپنے ایک بڑے دفاعی ہتھیار کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فلپائن، ویتنام اور انڈونیشیا کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اس کروز میزائل میں دلچسپی لی ہے۔ ان کے مطابق انڈیا اگرچہ براہموس روس کی مدد کے بغیر نہیں بنا سکتا، لیکن دوسرے ملک کے اشتراک سے بننے والے اس میزائل کے ساتھ دفاعی ہتھیاروں کے بازار میں بڑے بڑے ملکوں کے ساتھ مسابقت کرنا انڈیا کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
تجزیہ کار راہل بیدی نے بتایا کہ انڈیا کے ہتھیاروں کی برآمد گذشتہ پانچ چھ برسوں میں کافی بڑی ہے۔
وہ کہتےہیں کہ ’2023 -24 میں انڈیا کے دفاعی ساز سامان کے ایکسپورٹ کا کُل حجم تقریباً 21 ہزار کروڑ روپے تھا۔ 2024-25 میں یہ 28 ہزار کروڑ روپے ہو گیا اور 2025-26 میں یہ تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ 2029 -30 تک دفاعی سازوسامان کی برآمدات 50 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی اور اس میں براہموس کی فروخت بھی شامل ہے۔‘
Getty Images
انڈیا کی دفاعی ایکسپورٹ میں گولہ بارود، کئی طرح کے ڈرونز، براہموس، زمین سے فضا میں مار کرنے والا آکاش میزائل اور ملٹی بیرل گائیڈڈ پیناکا میزائل شامل ہیں۔
انڈیا اب اسرائیل کے اشتراک سے آرمڈ ڈرونز بھی بنا رہا ہے اور وہ یہ ڈرونز اسرائیل کو برآمد کرتا ہے۔
انڈیا نے دو برس قبل آرمینیا کو آکاش اور پیناکا میزائل فروخت کیے تھے، یہ ایک ایسا ملٹی بیرل میزائل سسٹم ہے، جس میں ایک مرحلے پر فرانس نے بھی دلچسپی دکھائی تھی۔
راہل بیدی کا کہنا ہے انڈیا کے ڈیفنس سیکٹر میں پرائیویٹ کمپنیوں کا کردار بہت تیزی سے بڑھا ہے اور انڈیا اس وقت اپنے بیشتر دفاعی ہتھیار اور ساز وسامان پرائیویٹ اور غیر ملکی کمپنیوں کے اشتراک سے بنا رہا ہے۔
کیا پاکستان واقعی ایسے میزائل بنا سکتا ہے جن کی پہنچ امریکہ تک ہو؟کیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟پاکستانی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کا سلسلہ جاری: جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟’راکٹ سٹی‘: سُرنگوں میں بنے ایران کے خفیہ میزائل اڈوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟’میں نے میزائل تباہ ہوتے اور عمارتوں سے دھواں نکلتے دیکھا‘: کیا دبئی ایک محفوظ مقام ہونے کا درجہ کھو رہا ہے؟