مجتبی خامنہ ای سے ملاقات کی خواہش اور نیتن یاہو کے ساتھ تلخی: امریکہ اور ایران کے نئے حملوں کے بعد ٹرمپ نے کیا کہا؟

بی بی سی اردو  |  Jun 03, 2026

Getty Images

امریکہ اور ایران کے نئے حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ جبکہ انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ فون پر ہونے والی تلخ بات چیت کی بھی تصدیق کی ہے۔

یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں نشر ہوا کہ جب امریکہ اور ایران کی طرف سے نئے حملے کیے گئے ہیں۔

امریکی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کے خلاف ’حقِ دفاع‘ کا استعمال کرتے ہوئے حملے کیے اور بحری جہازوں اور خلیجی ممالک کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرایا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹ کام‘ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم پر کیے گئے حملے ’مشرقِ وسطیٰ بھر میں ایران کی جانب سے حملوں کی کوششوں کے جواب‘ میں کیے گئے۔

سینٹ کام کے مطابق ایران نے کویت پر دو اور بحرین پر تین میزائل داغے، جنھیں اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ ایران نے کہا کہ اس نے جوابی کارروائی کے طور پر خطے میں امریکہ کے اتحادی مُمالک میں موجود امریکی اڈوں اور ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

حکام کے مطابق کویت میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

کویت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل سعود عبدالعزیز العتیبی نے اس حملے کو ’ایرانی مجرمانہ جارحیت‘ قرار دیا، جبکہ بعد ازاں کویتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سفارتی مشنز سمیت بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق قشم جزیرے پر کیا گیا حملہ ایران کے ایک فوجی گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن کو نشانہ بنانے کے لیے تھا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے تین حملہ آور ڈرون بھی مار گرائے جو ایران نے اُن شہری بحری جہازوں کی طرف بھیجے تھے جو علاقائی پانیوں سے گزر رہے تھے۔

سینٹ کام نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے 13 اپریل سے جاری آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی کے تحت ایران کی جانب جانے والے ایک خالی آئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر ’غیر فعال‘ کر دیا۔

اس کے مطابق ایک امریکی طیارے نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایم ٹی جہاز کے انجن روم پر ہیل فائر میزائل داغا، کیونکہ اس کے عملے نے ’بار بار کی جانے والی گئی تنبیہ کو نظر انداز کیا تھا۔‘

Reutersکویت میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچاایران نے نئے حملے کیوں کیے؟

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کی سلامتی میں خلل ڈالنے کی اگر کوئی بھی کوشش کی گئی تو امریکی فوج کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’گزشتہ رات کی جارحانہ کارروائیوں‘ کی ’براہِ راست اور ناقابلِ تردید ذمہ داری‘ کویت اور بحرین کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔

ایران ماضی میں متعدد بار بحرین اور کویت میں اہداف پر حملے کر چکا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر ہفتے کے اختتام تک بھی پیش رفت نہ ہو سکی۔

سیٹلائٹ تصاویر: آٹھ ممالک میں 20 امریکی فوجی مقامات پر ایرانی حملے اور کروڑوں ڈالر کا نقصانایرانی افسران پر جاسوسی کے الزام سے رہبر اعلی کے ساتھ اختلافات اور نااہلی تک، محمود احمدی نژاد کون ہیں؟سرو ابرکوه: ایران میں موجود 4500 سال پرانا درخت اور صدر مسعود پزشکیان کا تاریخ سے متعلق اشارہمیزائل پروگرام پر خدشات سے ’حقیقی دوستی‘ تک: پیٹ ہیگسیتھ نے شنگریلا کانفرنس میں پاکستان امریکہ تعلقات پر کیا کہا؟X/US Central Commandامریکی فوج نے ایک ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر جہاز کو نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے اپنے ناقدین سے کہا کہ ’پرسکون رہیں اور اطمینان رکھیں‘، اور یہ بھی کہ ایران ’واقعی ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور یہ امریکہ کے لیے ایک اچھا معاہدہ ہوگا۔‘

امریکی میڈیا نے اس سے قبل خبر دی تھی کہ ٹرمپ نے جنگ بندی کے فریم ورک میں توسیع پر اپنے سینئر مشیروں کے ساتھ ملاقات کے بعد ممکنہ امن معاہدے کی شرائط میں ترامیم کی درخواست کی تھی۔

بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار خبر رساں ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق یہ تبدیلیاں آبنائے ہرمز، ایران سے انتہائی افزودہ یورینیم کے اخراج اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے فریم ورک سے متعلق تھیں۔

پیر کے روز ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کی تردید کی کہ یہ امور مذاکرات میں زیرِ غور تھے اور کہا کہ واشنگٹن ’مسلسل اپنا مؤقف تبدیل کر رہا ہے اور نئی یا متضاد شرائط پیش کر رہا ہے۔‘

ٹرمپ کی مجتبی خامنہ ای سے ملاقات کی خواہش

بدھ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران ’پہلے ہی اس بات پر رضامند ہو چکا ہے‘ کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای مذاکرات میں ’شامل‘ تھے۔

BBC

ٹرمپ نے پوڈ فورس ون پوڈکاسٹ میں کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ہمارے تعلقات کافی اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ ان سے ملاقات کرنا چاہیں گے تو انھوں نے کہا کہ ’میں ان سے ملاقات کرنا چاہوں گا۔ غالباً ہم کسی موقع پر ملاقات کریں گے مگر اس ملاقات کا انحصار اس بات پر ہے کہ معاملات کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز کانگریس کو بتایا کہ مذاکرات کاروں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بدلے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیشکش نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ان کے ساتھ جو بھی بات چیت ہوئی ہے اس میں پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی شرائط سے مشروط ہے یعنی یہ انہی وجوہات کے بدلے میں ہو سکتی ہے جن کی بنیاد پر یہ پابندیاں لگائی گئی تھیں اور وہ ان کا جوہری پروگرام ہے۔‘

ایک سینیٹر کے ساتھ ایک اور لفظوں کے سخت تبادلے کے دوران انھوں نے کہا کہ ’جنگ ختم ہو چکی ہے‘، جبکہ کمیٹی کے ارکان امریکی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھا رہے تھے۔

’غصے میں نہیں تھا‘: ٹرمپ کی نیتن یاہو سے فون پر گفتگو کی تصدیق

نیو یارک پوسٹ یارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ فون پر ہونے والی اس گفتگو کی بھی تصدیق کی، جس میں انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے لیے نامناسب الفاظ بھی استعمال کیے تھے۔

انٹرویو کے دوران میزبان نے سوال کیا کہ: ’(نیوز ویب سائٹ) ایگزیوس نے رپورٹ کیا کہ آپ کی بی بی نیتن یاہو سے فون پر بات ہوئی تھی، جس میں آپ نے ان پر غصہ کیا تھا اور کہا تھا ’کیا آپ پاگل ہو؟ یہ آپ کیا کر رہے ہو؟ میں نے آپ کی جیل سے باہر رہنے میں مدد کی۔‘ کیا آپ (ٹرمپ) نے ان سے اس طرح سے بات کی تھی؟‘

امریکی صدر نے اس گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’جی ہاں، میں نے کی تھی۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، میں ان کی لبنان سے مسلسل لڑائی کے سبب کچھ پریشان سا ہو گیا تھا۔‘

’میں نے کہا ہمیں اسے روکنا پڑے گا۔‘

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا ان سے ایک بہت اچھا تعلق ہے۔ ہم نے ساتھ مل کر اچھا کام کیا ہے، میں بی بی (نیتن یاہو) کو بہت پسند کرتا ہوں اور میں نے ان کے ساتھ اچھا کام کیا ہے۔‘

ٹرمپ کی خواہش کے راستے میں تہران اور نیتن یاہو کیسے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟محمود احمدی نژاد ایران جنگ کا سب سے عجیب معمہ کیسے بنے؟نئے حملے، پاکستان کی پیچیدہ سفارت کاری اور ٹرمپ کی مشکل: امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے یا دوبارہ جنگ چھڑ سکتی ہے؟لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز: ایران جنگ میں امریکہ کے فضائی نقصانات سے متعلق کانگریس کی رپورٹ میں کیا ہے؟متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے ’خفیہ دورے‘ کی تردید کیوں کی اور اسرائیل کے اعلان میں سعودی عرب کے لیے کیا پیغام چھپا ہے؟سیٹلائٹ تصاویر: آٹھ ممالک میں 20 امریکی فوجی مقامات پر ایرانی حملے اور کروڑوں ڈالر کا نقصان
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More