Ferrariاس گاڑی کی مالیت پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 18 کروڑ روپے ہے
آئی فون کو ڈیزائن کرنے والے سر جونی آئیو کے تصور کا نتیجہ نئی فراری ’لُوچے‘ (Luce)ایک ایسی گاڑی بن گئی ہے جسے ملنے والا ردِعمل انتہائی غیر معمولی ہے۔
اس گاڑی کی تقریب رونمائی اتنی بڑی تھی کہ جس میں اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا اور مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی فراری کی اس پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی (ای وی) کو دیکھنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
تاہم، انٹرنیٹ پر ناقدین، سرمایہ کاروں اور حتیٰ کہ سیاستدانوں نے بھی فراری ’لُوچے‘ پر سخت تنقید کی ہے۔ لوچے کا اطالوی زبان میں مطلب ’روشنی‘ ہے۔
اس گاڑی کی تقریب رونمائی کے اگلے ہی دن فراری کے شیئرز میں آٹھ فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ 640,000 ڈالر (پاکستانی کرنسی کے حساب سے لگ بھگ 18 کروڑ روپے) مالیت کی اس کار پر بے تحاشہ میمز بھی بنائے گئے۔ یہ ناصرف فراری کمپنی کی پہلی مکمل الیکٹرک کار ہے بلکہ پہلی پانچ نشستوں والی گاڑی بھی ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی آٹو انڈسٹری کو کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جن میں الیکٹرک کاریں بنانے والی چینی کمپنیوں سے سخت مقابلہ بھی شامل ہے۔
ماضی میں فراری اپنے طاقتور پیٹرول انجنوں اور زور دار آواز والی سپر کارز کے لیے مشہور رہی ہے اور اُن کی جانب سے الیکٹرک گاڑی متعارف کروانے کو ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا تھا۔
کئی برسوں تک فیاری نے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں شامل ہونے سے گریز کیا، اس کے برعکس کے آٹو انڈسٹری سے وابستہ بڑی کمپنیاں پہلے ہی اس تبدیلی کو اپنا چکی تھیں۔
کارکردگی کے لحاظ سے 'لُوچے' بہت سی سپر کارز کے برابر ہے: یہ تقریباً 2.5 سیکنڈ میں 0 سے 60 میل فی گھنٹہ (96 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 190 میل فی گھنٹہ سے بھی زیادہ ہے۔
لیکن سب سے زیادہ تنقید اس کے ڈیزائن پر کی جا رہی ہے۔
فراری کے سابق چیئرمین لوکا کورڈیرو ڈی مونتیزیمولو نے گذشتہ دنوں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’لُوچے ایک لیجنڈ (فراری کمپنی) کو تباہ کرنے کے خطرے سے دوچار کر رہی ہے‘ اور یہ کہ کمپنی کو چاہیے کہ وہ اس کار سے اپنا معروف لوگو ہٹا دے۔
آسٹریلیا میں مقیم معروف کار ڈیلر اور کلیکٹر شان بیکر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’لُوچے‘ کو ’لوزر‘ (یعنی ناکام) کہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’فراری ایک ایسا برانڈ تھا جسے اپنانا ایک خواب سمجھا جاتا تھا، لیکن لُوچے بنا کر انھوں (فراری) نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
Shaun Bakerشان بیکر اس گاڑی کو ’لوزر‘ قرار دیتے ہیں
اس گاڑی کا ڈیزائن روایتی فراری کاروں کی طرح نیچا اور سٹریم لائن نہیں ہے، جبکہ الیکٹرک موٹرز کی وجہ سے اس میں مخصوص فراری انجن کی آواز بھی نہیں ہے۔
اٹلی کے نائب وزیر اعظم اور وزیر ٹرانسپورٹ ماتیو سالوینی نے بھی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا یہی جدت ہے؟ میں سوچتا ہوں اس پراڈکٹ پر اینزو فراری کیا سوچتے؟‘ اُن کا اشارہ فراری کمپنی کے بانی اینزو فراری کی جانب تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ لُوچے ’پریسنگ ہارس‘ (فراری کا نشان) والی کار بالکل نہیں لگتی۔
اگرچہ کچھ لوگوں نے اسے ڈیزائن کا بہترین نمونہ قرار دیا، لیکن ناقدین کی کمی نہیں۔
ایک صارف نے اسے ’بے ڈھنگا‘ کہا جبکہ دوسرے نے لکھا کہ ’اینزو فراری قبر سے اٹھ کر دوبارہ کمپنی کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔‘
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اسے نسبتاً سستی نسان لیف اور چینی الیکٹرک گاڑیوں سے بھی تشبیہ دی، تاہم اس تنقید کو فراری کے موجودہ سربراہ بینی ڈیٹو وینا نے مسترد کیا ہے۔
کچھ لوگوں نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نئے ڈیزائن بھی شیئر کیے، جن میں گاڑی کو زیادہ سپورٹس شکل دی گئی ہے۔
شان بیکر نے کہا کہ ’یہ ڈیزائن (اے آئی سے تیار کردہ) 10 سیکنڈ میں تیار کیے گئے ہیں اور پھر بھی فراری لوچے کے اصل ڈیزائن سے بہتر لگتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ شان بیکر 50 سے زائد فراری گاڑیوں کے مالک رہ چکے ہیں۔
Getty Images
گذشتہ پانچ برسوں سے فراری کمپنی کی قیادت کرنے والے ڈیٹو وینا کے لیے اس نوعیت کی تنقید اور تنازعات بالکل نئے نہیں ہیں۔
سنہ2022 میں کمپنی کی پہلی ایس یو وی 'پورو سانگوئے' بھی متعارف ہونے پر متنازع ثابت ہوئی تھی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ چار دروازوں والی یہ گاڑی فراری کی خصوصی سپرکار شناخت کو نقصان پہنچائے گی، تاہم اس کی فروخت نے کمپنی کو نئی مارکیٹ میں قدم جمانے میں مدد دی تھی۔
فراری واحد کمپنی نہیں جو اپنی پہلی الیکٹرک گاڑی پر تنقید کا سامنا کر رہی ہے۔
ہر سال لاکھوں کاریں تیار کرنے والا یہ چھوٹا سا ملک آٹو انڈسٹری کا بڑا کھلاڑی کیسے بنا؟پاکستان میں 1000 کلومیٹر رینج کا دعویٰ کرنے والی نئی ’ریو‘ گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ کا فیصلہ متنازع کیوں بنا؟’بی وائی ڈی‘: سستی الیکٹرک کاریں بنانے والی چینی کمپنی نے ایلون مسلک کی ’ٹیسلا‘ کو کیسے مات دی؟جیکو جے فائیو: ’کم قیمت اور زیادہ فیچرز‘ والی ایس یو وی پاکستانی آٹو مارکیٹ کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
سنہ 2024 میں جیگوار نے خود کو ایک اعلیٰ درجے کے الیکٹرک برانڈ میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور ’ٹائپ 00‘ نامی تصوراتی گاڑی پیش کی تھی، جس نے شدید بحث چھیڑ دی تھی۔
ناقدین کے مطابق یہ گاڑی اپنے غیر معمولی لمبے بونٹ اور بھاری پہیوں کے باعث کمپنی کے روایتی ڈیزائن سے ہٹ کر تھی۔
جیگوار کے سربراہ راڈن گلوور نے اُس وقت کہا تھا کہ کمپنی کو نمایاں ہونے کے لیے جرات مندانہ اور منفرد ہونا ہو گا۔
اب فراری کو بھی ایسے ہی الزامات کا سامنا ہے کہ اس نے لوچے متعارف کروا کر اپنی شناخت کھو دی ہے۔
سنگاپور کے آٹو تجزیہ کار جیمز وونگ نے گاڑی کے اندرونی ڈیزائن کی تعریف کی، لیکن کہا کہ مجموعی طور پر اس گاڑی کو ’فراری کے طور پر پہچانا نہیں جا سکتا۔‘
صنعتی ماہر جیسیکا چیم کے مطابق لُوچے کی ’انتہائی زیادہ قیمت‘ بھی ایسے وقت میں غیر معمولی لگتی ہے جب مارکیٹ میں نسبتاً سستی مگر لگژری الیکٹرک گاڑیاں موجود ہیں۔
تاہم وینا کا کہنا ہے کہ یہ قیمت جدت کی عکاسی کرتی ہے اور ممکنہ خریداروں کی جانب سے گاڑی میں بھرپور دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔
فراری کا الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں داخلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دیگر بڑی کمپنیاں اپنے الیکٹرک گاڑیوں کے سابقہ منصوبوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔
لامبورگینی نے کم طلب اور صارفین کی پیٹرول انجن کی ترجیح کے باعث اپنے الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے ختم کر دیے ہیں۔ کمپنی کے سربراہ سٹیفن ونکل مین کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر توجہ دینا درست حکمت عملی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہر برانڈ کو اپنا فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے۔‘
پورشے، ہونڈا اور فورڈ سمیت دیگر کمپنیوں نے بھی اپنے الیکٹرک منصوبے محدود کر دیے ہیں۔
کار ساز اداروں کو چین میں بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے، جہاں لگژری گاڑیوں کی بڑی مارکیٹ موجود ہے اور صارفین کم قیمت، لمبی بیٹری رینج اور جدید فیچرز کی توقع رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، چین میں الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات کی وسیع سپلائی چین پیداوار کی لاگت دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کم از کم 30 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔
سرکاری سبسڈی کے باعث وہاں کار ساز اداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس نے کمپنیوں کو قیمتیں کم کرنے اور جدت لانے پر مجبور کیا ہے۔
اس شدید مقابلے کے نتیجے میں ٹیسلا اور ووکس ویگن سمیت مغربی کمپنیوں کو بھی چین میں اپنی گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنا پڑیں۔
چینی کمپنیاں اب زیادہ منافع کے لیے اعلیٰ درجے کے مارکیٹ کی طرف بڑھ رہی ہیں اور پورشے اور ٹیسلا کے ماڈلز کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
چینی کمپنیوں نے الیکٹرک سپرکارز بھی متعارف کروائی ہیں، جیسے 250,000 ڈالر کی بی وائی ڈی ’یانگ وانگ U9‘، جو محض 2.3 سیکنڈ میں 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔
اسی لیے فراری ’لُوچے‘ کے ذریعے ایک مختلف مارکیٹ کو ہدف بنا رہی ہے، جو روایتی سپرکار خریداروں سے ہٹ کر ہے۔
Getty Imagesجیگوار ٹائپ 00
جیسیکا چیم کے مطابق یہ گاڑی نوجوان صارفین کو متوجہ کر سکتی ہے جو الیکٹرک گاڑیوں کے حصول کی خواہش رکھتے ہیں۔
جیمز وونگ کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ فراری کی روایتی شکل سے مختلف ہے، اس لیے یہ نئے صارفین کو بھی اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ کمپنی کو اپنے وفادار صارفین پر ایک 'ابتدائی ردعمل ٹیسٹ' کرنا چاہیے تھا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا ایسا ڈیزائن انھیں پسند آئے گا یا نہیں۔
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'ممکن ہے یہ سب جان بوجھ کر کیا گیا ہو، کیونکہ لُوچے نے میڈیا میں زبردست توجہ حاصل کی ہے۔'
بی بی سی نے لُوچے پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے فراری سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
Getty Images’پانچ سال میں تیار ہونے والی روشنی‘
فراری کے چیف ایگزیکٹیو بینیڈیٹو وگنا نے روم میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لوچے‘ کا لفظ اطالوی زبان میں روشنی کا مطلب رکھتا ہے اور اس ماڈل کو تیار ہونے میں پانچ سال کا عرصہ لگا ہے۔
لوچے کار کے ہر پہیے میں فراری کی ہی تیار کردہ موٹر نصب کی گئی ہے جن کی مدد سے صرف ڈھائی سیکنڈ میں یہ گاڑی 96 کلومیٹر کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس کے تمام پرزے انھوں نے خود ہی تیار کیے ہیں جس کا مقصد مستقبل میں اس کی دیکھ بھال کو آسان بنانا ہے اور اس کی قدر کو بھی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
ہر سال لاکھوں کاریں تیار کرنے والا یہ چھوٹا سا ملک آٹو انڈسٹری کا بڑا کھلاڑی کیسے بنا؟’بی وائی ڈی‘: سستی الیکٹرک کاریں بنانے والی چینی کمپنی نے ایلون مسلک کی ’ٹیسلا‘ کو کیسے مات دی؟جیکو جے فائیو: ’کم قیمت اور زیادہ فیچرز‘ والی ایس یو وی پاکستانی آٹو مارکیٹ کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟ پاکستان میں 1000 کلومیٹر رینج کا دعویٰ کرنے والی نئی ’ریو‘ گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ کا فیصلہ متنازع کیوں بنا؟گاڑی میں ٹوائلٹ سیٹ: کیا چینی کمپنی کار میں بیت الخلا نصب کرنے جا رہی ہے؟