’’میں دونوں طرف کے اپنے نانا اور دادا کا پوتا ہوں، دونوں ہی ملک سے بے پناہ محبت کرنے والے تھے۔ میرے نانا نے ایک اہم سرکاری عہدے پر خدمات انجام دیں جبکہ دادا نے ایئرفورس میں ملک کی خدمت کی۔ میری والدہ زیبا بختیار نے بھی ساری زندگی پاکستان کی عزت اور نام کے لیے کام کیا۔ میں بھی ایک محب وطن پاکستانی ہوں اور اپنے ملک سے بے حد محبت کرتا ہوں۔ میرے والد کی سیاسی رائے سے میرا اتفاق نہیں لیکن بطور بیٹا میں نے ہمیشہ ان کا احترام کیا ہے۔ مجھ سے بارہا کہا گیا کہ میں سرعام ان کے خلاف بات کروں لیکن میں یہ نہیں کر سکتا، وہ میرے والد ہیں۔ لوگ مجھے سوشل میڈیا پر ’’غدار کا بیٹا‘‘ جیسے القابات سے پکارتے ہیں، لیکن مجھے بار بار یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ میں اپنے ملک سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ اگر میں چاہتا تو اپنے والد کے ساتھ بھارت جا سکتا تھا، لیکن میں نے کبھی پاکستان نہیں چھوڑا۔‘‘
یہ الفاظ ہیں گلوکار و اداکار اذان سمیع خان کے، جو اس وقت ڈرامہ میں منٹو نہیں ہوں میں ’’فرہاد بن یامین‘‘ کا کردار ادا کر کے مداحوں کے دل جیت رہے ہیں۔
اذان سمیع خان نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں کھل کر اس سوال کا جواب دیا جس کا سامنا وہ برسوں سے کر رہے ہیں۔ ان کے والد عدنان سمیع خان بھارت میں رہائش پذیر ہیں اور اکثر و بیشتر اپنے بیانات کے باعث پاکستانی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنے رہتے ہیں۔ عدنان سمیع کے بیٹے ہونے کے ناطے اذان کو بھی کئی بار تنقید اور طنزیہ جملوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ہمیشہ وقار اور صبر کے ساتھ یہ سب سہا۔
اداکار نے واضح کیا کہ ان کی پہچان پاکستان ہے اور وہ اپنے والد کے سیاسی خیالات سے اتفاق نہیں کرتے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور بیٹا وہ کبھی اپنے والد کے خلاف زبان استعمال نہیں کریں گے۔
ان کے اس بیان نے مداحوں کو ایک نئی جہت میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا ایک شخص کو ہر بار اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کی ضرورت ہونی چاہیے یا نہیں۔