’’آپ دوسروں کو گھر میں رہنے کی تلقین کر رہے ہیں اور خود اُس پل پر کھڑے ہیں جو کسی بھی وقت گر سکتا ہے‘‘
’’رپورٹنگ کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ اپنی جان خطرے میں ڈالیں، ڈرون فوٹیج میں سب کچھ صاف دکھ رہا ہے‘‘
’’جس طرح وہ پانی کے بیچ کھڑے ہیں، کسی بھی لمحے کرنٹ لگنے سے جان جا سکتی ہے‘‘
’’اگر یہ پانی میں کھڑے ہو کر رپورٹنگ نہ کریں تو انہیں ویوز کیسے ملیں گے؟‘‘
بجلی کے پول کے آگے پانی میں کھڑے ہو کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
یہ وہ جملے ہیں جو سوشل میڈیا صارفین نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے صحافیوں اور ڈیجیٹل کری ایٹرز کی وائرل ویڈیوز دیکھنے کے بعد لکھے۔ بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے جہاں پورے ملک کو جکڑ رکھا ہے، وہیں رپورٹنگ کا انداز بھی ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔
خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور کشمیر سمیت ملک کے ہر کونے میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی۔ بونیر، صوابی، کشمیر اور خوشاب کے علاقے شدید متاثر ہوئے جبکہ کراچی میں بارش کے بعد ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ دوسری جانب بھارت کی جانب سے ڈیموں کے اسپِل ویز کھولنے سے سیالکوٹ ڈوب گیا اور پنجاب و سندھ میں مزید بڑے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
رپورٹس کے مطابق اب تک پاکستان میں سیلاب کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جب کہ 900 سے زائد افراد زخمی یا لاپتہ ہیں۔ دو ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے اور انفراسٹرکچر بھی بری طرح متاثر ہوا۔ البتہ حالیہ اسپیل میں بروقت وارننگ کے باعث کئی زندگیاں بچا لی گئیں، ورنہ نقصان مزید بڑھ سکتا تھا۔
ان حالات میں صحافیوں نے عوام کو لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ رکھنے کی کوشش کی، لیکن کچھ رپورٹرز اور ڈیجیٹل کری ایٹرز نے خطرناک حد تک پانی کے اندر جا کر رپورٹنگ شروع کردی۔ ان کی یہ ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں لیکن سوشل میڈیا پر غصے اور تنقید کا طوفان بھی کھڑا ہوگیا۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ انداز نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ بجلی کے کرنٹ کا خطرہ، پانی کے تیز بہاؤ اور گرنے والے ڈھانچوں کے بیچ کھڑے ہو کر رپورٹنگ کرنا کسی بھی وقت حادثے کو جنم دے سکتا ہے۔