پاکستان سپر لیگ کا آغاز 2016 میں متحدہ عرب امارات میں کیا گیا تھا۔ پی ایس ایل کی خاص بات یہ ہے کہ اس لیگ نے بہت ہی کم وقت میں شائقین کی توجہ حاصل کرلی اور اس کی مقبولیت میں اب بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ پی ایس ایل کے آغاز کا مقصد یہ تھا کہ اس لیگ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو نئے ینگ پلیئر حاصل ہوں تاکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں وہ قومی ٹیم کو مزید مضبوط بنا سکیں۔ پاکستان سپر لیگ کی ابتداء اس وقت کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کے دور میں ہوئی اور اس لیگ کا انعقاد کروانے میں نجم سیٹھی کا بہت اہم کردار ہے۔
پاکستان سپر لیگ کے گزشتہ چار ایڈیشن کے دوران متعدد دلچسپ اور سنسنی خیز میچز کھیلے گئے ہیں جس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان سپر لیگ بھی دیگر کرکٹ لیگز کی طرح اپنی مثال آپ ہے۔
1۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ لاہور قلندرز
پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں کھیلا جانے والا دلچسپ ترین میچ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز کے درمیان ہوا تھا- اس میچ میں لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 202 رنز کا ہدف دیا تھا جسے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اننگز کے آخری اوور کی آخری گیند پر حاصل کر لیا۔ آخری اوور میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جیتنے کے لیے 15 رنز درکار تھے۔ لاہور کی جانب سے آخری اوور ذوہیب خان کو دیا گیا جس میں محمد نبی نے دو چوکے اور ایک چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو کامیابی دلوا دی۔ محمد نبی نے 12 گیندوں پر 30 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جس میں تین چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔
2۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ پشاور زلمی
پی ایس ایل کے دوسرے مقابلے میں کھیلے جانے والے میچ میں پشاور کے کپتان شاہد آفریدی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پشاور زلمی کے باؤلرز نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کر کے اپنے کپتان کے اس فیصلے کو درست ثابت کیا اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے تمام کھلاڑیوں کو 19.3 اوورز میں صرف 133 کے اسکور پر آوٹ کردیا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے شاندار اننگز کا آغاز کرتے ہوئے 4 اوورز میں ہی 29 رنز بنالئے۔ اس موقع پر اننگز کے پانچویں اوور کی تیسری گیند پر انور علی نے کامران اکمل کو کلین بولڈ کرکے جہاں اپنی ٹیم کو کچھ امید دلائی وہیں اگلے ہی اوور میں محمد نواز نے محمد حفیظ اور بریڈ ہوگ کو آؤٹ کرکے کھیل کا نقشہ ہی بدل دیا۔ پانچویں اوور سے 15ویں اوور تک پشاور زلمی نے 6 وکٹوں کے نقصان پر صرف 55 رنز بنائے۔
ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی ڈیرن سیمی اور وہاب ریاض نے تیز کھیل پیش کر کے 3 اوورز میں 29 رنز کا اضافہ کیا ۔ 18ویں اوور میں سیمی اور وہاب ریاض نے 14 رنز بنائے مگر اسی اوور کی آخری گیند پر ڈیرن سیمی نے چھکا مارنے کی کوشش کی تو وہیں باؤنڈری لائن پر کییچ دے کر وکٹ گنوا بیٹھے۔
دوسری جانب پشاور زلمی کو 2 اوورز میں 21 رنز کی ضرورت تھی اور 19ویں اوور کے لیے کپتان سرفراز احمد نے انور علی کا انتخاب کیا ۔ ان کے سامنے حسن علی تھے جنہوں نے پہلی ہی بال پر 4 رنز حاصل کرلیے۔ دونوں پلیئر کی شراکت نے اس اوور میں 13 رنز کا اضافہ کیا جس کے بعد پشاور کو آخری اوور میں جیت کے لئے صرف 8 رنز درکار تھے۔
میچ کا آخری اوور اعزاز چیمہ نے کرایا ۔ انہوں نے اپنے اوور کی چوتھی اور پانچویں بال پر حسن علی اور وہاب ریاض کو پویلین بھیجا ۔ آخری گیند پر 3 رنز درکار تھے مگر پشاور زلمی 1 رن ہی بنا سکی جس سے
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو فتح نصیب ہوئی۔
3۔ لاہور قلندرز بمقابلہ کراچی کنگز
پاکستان سپر لیگ کا ایک اور دلچسپ میچ جس میں کراچی کنگز کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے لاہور قلندر کو بیٹنگ کی دعوت دی جنہوں نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 155 رنز بنائے۔
دوسری جانب کراچی کنگز کی بیٹنگ کرنے کی باری آئی تو اہم وقت پر بابر اعظم اور سنگا کارا آؤٹ ہوجاتے ہیں جس سےٹیم کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے۔ میچ کے آخری دو اوورز میں 29 رنز کی ضرورت تھی۔
سہیل تنویر 19واں اوور کراتے ہوئے 15رنز دیتے ہیں جس کے بعد آخری اوور میں کراچی کو 14رنز درکار ہوجاتے ہیں ۔ عامر یامین نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور ابتدائی 4 گیندوں پر صرف 4 رنز دیے۔ یوں اگلی 2 گیندوں پر کراچی کو جیت کے لیے 10 رنز درکار تھے۔ اس مشکل صورتحال میں پولارڈ عامر یامین کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ پولارڈ نے پانچویں گیند کو 6 رنز کے لیے باؤنڈری کے باہر پھینک دیا۔ آخری گیند پر کراچی کو فتح کے لیے 4 رنز درکار تھے جس کے بعد آخری بال پر پولارڈ چھکا لگا کر جیت کو یقینی بنا دیتے ہیں۔
4۔ کراچی کنگز بمقابلہ لاہور قلندرز
اس میچ میں لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر کراچی کنگز کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ کراچی نے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 163 رنز بنائے۔ لاہور قلندرز نے ہدف کے تعاقب میں 17ویں اوور تک 131 رنز بنالئے تھے جبکہ ان کے صرف 3 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ 18ویں اوور میں لاہور نے 9 رنز بنائے لیکن اس اوور میں ان کے 2 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔ 19ویں اوور میں محمد عامر نے صرف 8 رنز دیئے اور ایک وکٹ بھی حاصل کی۔ یوں لاہور کو آخری اوور میں جیت کے لیے 16رنز درکار تھے۔
سہیل اختر نے پہلی 3 گیندوں پر 12رنز بنالئے اور چوتھی گیند پر میکلیناگھن رن آؤٹ ہوگئے۔ آخری بال پر 3 رنز درکار تھے مگر سہیل اختر ایک زوردار شاٹ لگاکر کیچ آؤٹ ہوگئے ۔ مگر امپائر نے نو بال کا اشارہ دیا جس پر انہیں فری ہٹ مل گئی۔ اب تو بس یہ طے ہوگیا تھا کہ لاہور کی ٹیم میچ جیت گئی کیونکہ نو بال کے بعد فری ہٹ بھی مل گئی، لیکن میچ میں مزید ٹوئسٹ تب آیا جب 2 رنز کے تعاقب میں صرف ایک رن بن سکا اور میچ سوپر اوور میں داخل ہوگیا جہاں سنیل نارائن بہترین باؤلنگ کر کے لاہور کو فتح دلواتے ہیں۔
5۔ لاہور قلندرز بمقابلہ ملتان سلطانز
پاکستان سپر لیگ کے اس سنسنی خیز میچ میں لاہور قلندرز نے دلچسپ مقابلے کے بعد ملتان سلطانز کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی۔
دونوں جنوبی افریقی پلیئر اے بی ڈی ویلیئرز اور ڈیوڈ وائز کی جارحانہ بیٹنگ کر کے لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کی جانب سے دیا گیا 201 رنز کا بڑا ٹارگٹ آخری اوور کی آخری گیند پر حاصل کر لیا تھا ۔ جس میں اے بی ڈی ویلیئرز مین آف دی میچ قرار پائے تھے۔
اے بی ڈی ویلیئرز 29 گیندوں پر 52 رنز کی اننگز کھیل کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ ڈیوڈ وائز 20 گیندوں پر 45 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
لاہور قلندرز کو جیت کے لئے آخری گیند پر تین رنز درکار تھے۔ ڈیوڈ وائز نے چھکا لگا کر قلندرز کو فتح دلوائی۔