احمد شہزاد نے ماضی میں ہونے والی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اپنی نادانیوں کی وجہ سے میں قومی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں اور اب سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پرفارمنس کی بنیاد پر ایک بار پھر سے قومی ٹیم کے لئے کھیلنا چاہتا ہوں۔
احمد شہزاد کا کہنا تھا کہ ڈوپنگ پر پابندی میرے لئے ایک نہایت مشکل وقت تھا اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ میں میرا ہاتھ نہیں تھا مگر اس کا الزام میرے سر آیا کیونکہ اس وقت میں ڈومیسٹک ٹیم کا کپتان تھا۔ ان مشکل حالات میں پی سی بی نے مجھے بھرپور سپورٹ کیا جس پر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
میرا فوکس اپنی پرفارمنس پر ہے اور موجودہ سال ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں اپنی اچھی کارکردگی سے پی سی بی کی توجہ اپنی طرف لاؤنگا اور میری یہ خواہش ہے کہ اپنی ٹیم کوئٹہ گلیڈیٹرز کو پی ایس ایل 5 کے فائنل میچ میں ٹیم کو فتح دلواؤں۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ پی ایس یل 5 کے تمام میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نوجوان باؤلر نسیم شاہ نے عمر پوچھنے پر مداح کو کیا جواب دیا؟
احمد شہزاد نے کا بھی کہنا تھا کہ میرے حوالے سے یہ بات بالکل درست نہیں کہ شاہد آفریدی کی قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کے بعد میں قومی ٹیم سے باہر ہوا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس بات کا شدید دکھ ہے کہ سری لنکا کے خلاف 2 میچز میں خاص پرفارم نہ کرسکا ، سیلیکٹرز دوبارہ ملک کے لئے کھیلنے کا موقع دیں تو بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کرونگا