پاکستانی کرکٹ میں کرپشن، میچ فکسنگ اور اسکینڈلز کوئی نئی بات نہیں۔ ہرلمحہ کچھ نہ کچھ نیا دیکھنے کو ملتا ہے جو کبھی تو کھیل کے شائقین کے لئے بہت دلچسپ ہوتا ہے تو کبھی کسی بڑے صدمے سے کم نہیں ہوتا۔
کھلاڑیوں پر پابندی عائد کردی جاتی ہے ،سزائیں دی جاتی ہیں لیکن اسکینڈلز وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں،کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ سزا ان کھلاڑیوں کے لئے کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔
اس مضمون میں ہم آپ کو گزری دہائی کے ان تمام اسکینڈلز کے بارے میں بتائیں گے جنہوں نے پاکستانی کرکٹ کو ہلاکر رکھ دیا۔
اسپاٹ فکسنگ کا جن ہوا، پی ایس ایل میں بے قابو
فروری 2017 میں پاکستان سپر لیگ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا انکشاف ہوا جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت پاکستان سپر لیگ کے دوران کرکٹرز کو اسپاٹ فکسنگ پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ کی جاری تحقیقات میں معطل کردیا۔
پی سی بی نے چھ کرکٹرز شرجیل خان اورخالد لطیف کو (10 فروری) ناصر جمشید (13 فروری ) ، محمد عرفان (14 مارچ ) ، شاہ زیب حسن (17 مارچ اور محمد نوازکو 16 مئی کو معطل کیا ۔
عمر اکمل کا انجری ڈرامہ
2011ء میں بھارتی اخبار نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی اسٹار بلے بازعمر اکمل نےاپنے بھائی کامران اکمل کی ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کے لئے جعلی انجری کا ڈرامہ رچایا ۔عمر اکمل کو وکٹ کیپنگ کا عہدہ سنبھالنا تھا جس کے سبب کامران کو پلئینگ الیون سے باہر کردیا جاتا۔ عمر اکمل کے اسکین رپورٹ اور ٹیسٹس میں کسی قسم کی کوئی انجری سامنے نہیں آئی تھی ۔
اسکینڈل اسٹار عمر اکمل نے ٹریفک وارڈن کو تشدد کا نشانہ بنایا
اکثر اپنے آپ کو مشکل میں پھنسانے والے عمراکمل نے فروری 2014 میں اس وقت شائقین کو حیرت میں ڈال دیا، جب فروری2014 میں انہیں ٹریفک پولیس افسر پر تشدد اوربدتمیزی کے الزام میں جیل میں بند کردیا گیا ۔
پاکستانی کرکٹ کی بنیادیں ہلانے والا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل
2011 میں منظر عام پر آنے والے ایک اسکینڈل نے پاکستانی کرکٹ کوہلا کر رکھ دیا ۔اپنے دور کے سب سے بڑے اسکینڈل کے باعث کئی برسوں تک پاکستانی کرکٹ پر مایوسی کے گہرے بادل چھائے رہے ۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس وقت کے کپتان سلمان بٹ اور باؤلرز محمد آصف ،محمد عامر پر 5 سے 10 سال کی پابندی عائد کردی۔
نومبر 2011 میں سلمان بٹ اور آصف کو لندن کی ایک عدالت نے اسپاٹ فکسنگ الزامات کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔ عامر اور بکی مظہر مجید پر انہی الزامات کے تحت درخواستیں داخل کی گئیں ۔
اس اسکینڈل کی وجہ سے پاکستان اپنی اسٹارباؤلنگ جوڑی سے محروم ہوگیا ۔ عامرکی واپسی توممکن ہوئی لیکن باؤلنگ کے جادوگر محمدآصف کا کیریئراختتام پذیر ہوگیا۔
دانش کنیریا بھی میچ فکسر نکلے
سال 2018 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ اسپنر دنیش کنیریا نے چھ سال کے مسلسل انکار کے بعد بلآخر فکسنگ اسکینڈل میں اپنے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے خود پر لگنے والے الزامات کا اقرار کرلیا ۔کرکٹر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسیکس کاؤنٹی کرکٹ کلب میں ساتھی کھلاڑی کو فکسنگ کے لئے اکسایا اور معاملے میں مڈل مین کا کردار ادا کیا۔ اور بدنام زمانہ بُک میکر کے ذریعہ ادائیگی کی رقم حاصل کرتے ہوئے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کو کہا ۔
جب شاہد آفریدی گیند کو سیب سمجھ بیٹھے
2010پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پانچ میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں شاہد آفریدی نے جوکہ صرف اس میچ میں کپتانی کے فرائض بھی سر انجام دے رہے تھے، بالنگ کے دوران گیند کو خراب کرنے کی کوشش کی اور گیند کو سیب کی طرح چبا ڈالا جسے گراؤنڈ میں نصب کیمروں نے محفوظ کرلیا۔
ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے بال ٹمپرنگ کی کوشش کی ہے ،آفریدی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف گیندکو سونگھ رہے تھے ۔
بعدازاں ، میچ ریفری رنجن مدوگلے نے آفریدی کو سماعت کے لئے بلایا جہاں انہوں نے بال ٹمپرنگ کا اعتراف کیا۔ آفریدی نے اپنے اقدامات کو "غلط" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ شرمندہ ہیں۔ انہوں نے کہا ، "دنیا میں ایسی کوئی ٹیم نہیں ہے جو گیند سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔"میچ ریفری رنجن مدو گالے نے ان پر دو ٹونٹی ٹونٹی میچز کی پابندی عائد کر دی ۔
پی ایس ایل میں قومی کھلاڑیوں کا آپس میں ہی جھگڑا
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے مابین پاکستان سپر لیگ کے ایک میچ کے دوران اسٹار کھلاڑی وہاب ریاض اور احمد شہزاد کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اوردونوں کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے سخت جملوں کا تبادلہ کیا یہاں تک کہ بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی، دونوں کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا اور کرکٹ بورڈ نے انہیں خبردار کیا کہ وہ اپنے رویوں پرغور کریں ۔آج دونوں دوست ہیں تاہم وہاب ریاض کاکہنا ہے کہ اس واقعے پر ، "نہ تو میں نے ان سے معافی مانگی اور نہ ہی اس نے مجھ سے معذرت کی۔"
شاہد آفریدی اور جاوید میاند اد کے ایک دوسرے پر تابڑتوڑ حملے
تجربہ کار آل راؤنڈرشاہد آفریدی اور عظیم بلے باز جاوید میانداد کے درمیان شدید اختلافات منظرعام پر آئے۔
آفریدی نے ریٹائرمنٹ سے پہلے ایک الوداعی میچ کی درخواست کی تھی جسے جاوید میانداد نے پسند نہیں کیا اور منفی رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ آفریدی صرف رقم کے لئے میچ چاہتے ہیں۔ میانداد نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ آفریدی میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں اور ان کی اس طرح کی سرگرمیوں کے وہ خود گواہ ہیں۔
بعد ازاں اپنی سوانح عمری "گیم چینجر" میں آفریدی نے لکھا کہ میانداد ایک "چھوٹے انسان" ہیں ۔ میانداد نے اس کے جواب میں کہا کہ میری کسی سے لڑائی نہیں مگرآفریدی کی کتاب کی تحریر مناسب نہیں ہے، کتاب میں ہمیشہ مصالحہ چاہیے ہوتا ہے مگر میں نے ایسا نہیں کیا تھا اور میری کتاب غیر متنازع تھی۔
شعیب اختر نے کیریئر کی برباد ی کا الزام وسیم اکرم پر ڈال دیا
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کی سوانح عمری نے بہت سے تنازعات کو جنم دیا ۔ جس میں سے ایک میں انہوں نے لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم کو اپنے کیریئر کی تباہی کا ذمہ دار ٹہرایا ۔ شعیب نے انکشاف کیا کہ قومی ٹیم میں ان کی شمولیت میں تاخیر کے ذمہ دار وسیم اکرم ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اکرم ان سے ڈرتے تھے اوروہ انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرنے کو تیار نہیں تھے ۔
وسیم اکرم نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شعیب اختر کرکٹ کھیلتے ہوئے اور ریٹائرمنٹ کے بعدبھی ایک انتہائی پریشان کن آدمی رہے ۔
رمیزراجہ او رمحمد یوسف کی ٹی وی شو میں ایک دوسرے کے ساتھ بدکلامی
سابق کرکٹرز محمد یوسف اوررمیز راجہ کے درمیان ایک ٹی وی شو کے دوران فاسٹ بولر محمد عامر کو پاکستان کی طرف سے کھیلنے کی اجازت دینے کا مباحثہ طول پکڑ گیا ۔ لیجنڈری کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی اس بدکلامی نے پرستاروں کوحیران کردیا ۔
دونوں سابق کھلاڑیوں نے الفاظ کے نشتر چلاتے ہوئےایک دوسرے کی خوب توہین کی ۔ یوسف نے راجہ کو "بے شرم" اور ایک "انگریزی استاد " کہا ، جب کہ راجہ نے یوسف کی ظاہری وضع قطع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ، "داڑھی والے لوگوں کو جھوٹ بولنے سے باز آنا چاہئے۔" اس کے ساتھ انہوں نے اینکر سے یہ کہتے ہوئے بات کو ختم کیا کہ وہ ایسے بے شرم لوگوں کو شو میں مدعو نہ کریں ۔
Source: GNN