پکڑے جانے والے طلبہ اور طالبات کا فیصلہ

ہماری ویب  |  May 01, 2014

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر انوار احمد زئی نے کہا ہے کہ امتحانات میں نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے اُمیدواروں کے کیسز کا جلد فیصلہ کرنے کی حکمتِ عملی تیار کرلی گئی ہے تا کہ نقل کرنے کی سزا کو سامنے رکھ کر نقل کا ارادہ کرنے والے اُمیدوار عبرت پکڑیں۔ اُنہوں نے یہ بات گیارہویں اور بارہویں کلاس کے امتحانات میں نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے 235 طلبہ اور طالبات کو الزام ثابت ہونے پر مختلف سزاؤں کا فیصلہ سناتے ہوئے کہی۔ تفصیلات کے مطابق سینئر اساتذہ اور ماہرین تعلیم پر مشتمل نقل پر سزا دینے والی کمیٹی نے 2013ء کے ضمنی امتحانات تک کے دوران نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے امیدواروں کے کیسز کا جائزہ لے کر پر اپنی سفارشات سے چیئرمین اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ پروفیسر انوار احمد زئی کو آگاہ کیا تھا، کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرتے ہوئے انفرادی طور پر ہر کیس پر غور کیا اور نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے طلبہ و طالبات کو صفائی کا پورا موقع دینے کے ساتھ ان کی جوابی کاپیوں سے منسلک نقل کے مواد کا بھی جائزہ لیا۔ چیئرمین انٹربورڈ پروفیسرانواراحمدزئی نے اس موقع پر بتایا کہ انہوں نے نقل پر سزا دینے والی کمیٹی کی سفارشات کی توثیق کرتے ہوئے 4 امیدواروں کو ایک سال کے لئے کسی بھی امتحان میں شریک ہونے سے روک دیا ہے اور 30امیدواروں کے موجودہ امتحانی نتائج منسوخ کردیئے ہیں جبکہ 180 امیدواروں کے صرف وہ پرچے منسوخ کئے گئے ہیں جن کے دوران انہیں نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، اس کے علاوہ کمیٹی کی سفارش کے مطابق 21 امیدواروں کو ثبوت نہ ملنے پر بے قصور ٹھہراتے ہوئے ان کی کاپیوں کی جانچ کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ پروفیسر انوار احمد زئی نے بتایا کہ نقل کے خلاف اقدامات جاری رہیں گے اور نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے مزید اُمیدواروں کے کیسز کے جلد فیصلے کئے جائیں گے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More