IMRAN QURESHIبچے کی والدہ اخیلہ جو پولیس تحویل میں ہیں
نوٹ: اس تحریر میں شامل بعض حصے قارئین کے لیے باعث تکلیف ہو سکتے ہیں۔
18 ماہ کے بچے کی لاش پر 51 سنگین چوٹیں تھیں اور سگریٹ سے جلائے جانے کے داغ۔
یہ داغ بچے کے نجی اعضا، پیروں اور انگلیوں سمیت جسم کے کئی حصوں پر تھے۔ پولیس کا کہنا ہے ان زخموں کے نتیجے میں اندرونی خون بہا جس سے بچے کی موت واقع ہو گئی۔
یہ واقعہ انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کا ہے۔
پولیس نے بچے کے قتل کے الزام میں ان کی 21 سالہ ماں اخیلہ اور ان کے گھر میں پارٹنر کے طور پر رہنے والے 31 سالہ اشکر کو گرفتار کیا ہے۔
اشکر پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور جبکہ اخیلہ ایک رقاصہ ہیں۔ پولیس نے دونوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کیرالہ کے شہر نیدومنگڈ کے ڈی ایس پی بیجو کمار نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچے کے جسم پر 51 زخموں کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ کئی چھوٹے زخم بھی پائے گئے ہیں۔‘
سپرنٹنڈنٹ پولیس جواناپوڈی مہیش نے بتایا کہ پولیس اشکر کے پس منظر کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا: ’اشکر کی اہلیہ اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اشکر کی ساس نے شکایت درج کرا کے اپنی بیٹی کے لیے قانونی مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘
ایس پی مہیش کے مطابق اشکر کے خلاف عوامی مقام پر شراب نوشی کا ایک مقدمہ بھی درج ہے۔
Imran Qureshiاخیلہ کے پارٹنر اشکرملزم نے جرم قبول کر لیا: پولیس کا دعویٰ
پولیس کے مطابق سنیچر کے روز بچے کو قے ہوئی، جس کے بعد اسے ہسپتال لے جایا گیا۔
پوسٹ مارٹم میں یہ بھی معلوم ہوا کہ بچے کے دونوں ہاتھ ٹوٹے ہوئے تھے۔ بچے کی ماں اور ان کے پارٹنر نے دعویٰ کیا تھا کہ بچہ سائیکل سے گر گیا تھا۔
تاہم ڈی ایس پی بیجو کمار نے کہا: ’اشکر نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔‘
اب تک نہ تو اشکر اور نہ ہی اخیلہ کے کسی رشتہ دار یا وکیل نے عوامی طور پر ان کا دفاع کیا ہے۔
مقدمات لڑنے کے لیے پسماندہ طبقات کو قانونی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق اشکر کی پہلی بیوی کی والدہ کی شکایت پر کارروائی کی جا رہی ہے اور جلد انھیں قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔
فی الحال ایف آئی آر میں معاملے کی مکمل تفصیل موجود نہیں ہے۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ ملنے کے بعد ہی دونوں ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا۔
مزید معلومات ریمانڈ رپورٹ میں سامنے آئیں گی، جو عدالت میں پیش کی جائے گی۔
بیجو کمار نے کہا: ’ابتدائی طور پر ایسا لگتا ہے کہ دونوں اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے تھے اور بچہ ان کے لیے رکاوٹ بن رہا تھا۔‘
ایک اور پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اخیلہ کی والدہ نے بچے کی دیکھ بھال کرنے کی پیشکش کی تھی، خاص طور پر اس وقت جب اس کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے تھے۔
بچے کے دادا اور دادی نے بھی اسے اپنے پاس رکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ تاہم اخیلہ بچے کو کسی کے بھی حوالے کرنے پر رضا مند نہیں ہوئیں۔
بچے کے والد نے تقریباً دو سال قبل خودکشی کر لی تھی۔
واقعے پر اٹھنے والے سوالات
ماہرینِ نفسیات کے مطابق اپنے ہی بچے کے ساتھ اس طرح کے پُر تشدد رویے کے پیچھے کئی عوامل ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے غیر روایتی تعلقات میں، جب کوئی فرد پارٹنر کے طور پر آپ کے ساتھ رہ رہا ہو۔
کیرالہ کے دار الحکومت ترواننت پورم کے سرکاری میڈیکل کالج میں بچوں کے ماہر نفسیات ڈاکٹر آر جے پرکاش کہتے ہیں: ’ایسے تعلقات میں مرد کا عورت پر غلبہ ہو سکتا ہے۔ عورت کو اکثر یہ خدشہ رہتا ہے کہ اگر وہ مرد کی بات نہ مانے تو وہ اسے چھوڑ دے گا۔‘
سرکاری میڈیکل کالج سے منسلک ہسپتال کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر موہن رائے کہتے ہیں: ’عام طور پر سوتیلے والدین بھی بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں مرد یہ محسوس کرتا ہے کہ بچہ اس کا حیاتیاتی بیٹا نہیں ہے، جس سے حسد پیدا ہو سکتا ہے اور وہ بچے کو رشتے میں رکاوٹ کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر رائے کے مطابق اس قسم کی پر تشدد رویے کو ذہنی صحت کے مسائل سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ انھوں نے عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں لگ بھگ 20 فیصد افراد کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا سامنا کرتے ہیں۔
تاہم ابھی اس بات کی تحقیقات ہونی ہے کہ بچے کی موت میں ماں کا کردار تھا یا نہیں۔
’یقین نہیں تھا جیل سے زندہ نکل آؤں گا‘: سعودی عرب میں 34 کروڑ روپے دیت ادا کرنے والے انڈین شہری واپس وطن پہنچ گئے کراچی میں پسند کی شادی کرنے والے نوبیاہتا جوڑے کے قتل کے الزام میں مقتولہ کا بھائی گرفتار: ’نائن ایم ایم پستول سے سات گولیاں چلائیں‘انڈین ماڈل کی ’پراسرار موت‘ کی تحقیقات اور ریٹائرڈ جج ساس کی گرفتاریجلی ہوئی دیواریں اور راکھ سے بھرے گھر: جیکب آباد میں محبت کی شادی پر پورا گاؤں جلا دینے کا الزامنشے اور تشدد کا تعلق
ڈاکٹر رائے اور ڈاکٹر جے پرکاش دونوں کا کہنا ہے کہ نشہ بھی پر تشدد رویے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر رائے کہتے ہیں: ’ایسے لوگوں کے لیے صحت مند اور مثبت تعلقات قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب گھر میں بار بار تشدد ہوتا ہے تو خاندان کے افراد اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے اس معاملے میں ماں بھی اسی کیفیت کا شکار ہو۔‘
ڈاکٹر جے پرکاش کے مطابق: ’ابھی واضح نہیں کہ ماں نے خود بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا یا خاموشی سے اسے تشدد کا نشانہ بنتے دیکھتی رہیں۔ لیکن ایسے تعلقات میں اکثر عورت کی آزادی سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ان کے تجربے میں خواتین اکثر مرد کے سابقہ تعلقات سے پیدا ہونے والے بچوں کو قبول کر لیتی ہیں، مگر مرد خواتین کے سابقہ تعلقات سے پیدا ہونے والے بچوں کو آسانی سے قبول نہیں کر پاتے۔
Getty Imagesبچوں پر تشدد کے بڑھتے واقعات
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر موہن رائے کے مطابق دستیاب اعداد و شمار یہی ظاہر کرتے ہیں اور یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: ’مسئلہ ہمارے نظام میں بھی ہے۔ کمیونیٹی کی سطح پر آگاہی کی کمی ہے، جس کے باعث بر وقت مداخلت نہیں ہو پاتی۔‘
ان کے مطابق کیرالہ میں بچوں کی پیدائش کی شرح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ 2014 میں ریاست میں پانچ لاکھ سے زیادہ بچوں کی پیدائش ہوئی تھی، جو 2024 میں کم ہو کر تقریباً ساڑھے تین لاکھ رہ گئی۔
یعنی ایک دہائی میں تقریباً 1.8 لاکھ کم بچے پیدا ہوئے ہیں۔
انھوں نے سوال اٹھایا: ’کیا ہم واقعی بچوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کر پا رہے ہیں؟ ہر بچے کو جینے کا حق ہے، اور اس کے لیے پالیسی اور سماجی ڈھانچے میں وسیع تبدیلیاں ضروری ہیں۔‘
’پانی بہت گرم ہے ممی‘: پانچ سالہ بچی کی قاتل سوتیلی ماں جو 50 برس تک سزا سے بچتی رہیںاٹلی میں ’پاکستانی اور افغان‘ تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری سیکس کے نتیجے میں خاتون ہلاک، ملزم شوہر چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میںسات سالہ بچی کا پڑوسی کے ہاتھوں مبینہ ریپ اور قتل: ’کٹا سر باتھ روم سے جبکہ جسم کے باقی حصے چارپائی کے نیچے سے برآمد ہوئے‘بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کرنے والا مجرم جو سزا سے بچنے کے لیے معذور ہونے کا ڈرامہ کرتا رہا