’بلا شبہ آج انھوں نے جانیں بچائیں۔‘
عبداللہ کے لیے یہ الفاظ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں پولیس سربراہ سکاٹ وال کے ہیں۔
سوموار کے روز سان ڈیاگو کی جس مسجد کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، امین عبداللہ اسی مسجد میں سکیورٹی گارڈ تھے اور حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
مسجد پر دو افراد کی فائرنگ سے عبد اللہ سمیت تین افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عبداللہ بہادری کا مظاہرہ نہ کرتے تو حملہ مزید سنگین ہو سکتا تھا۔
پولیس کے مطابق نو عمر حملہ آوروں نے بعد میں خودکشی کر لی تھی، تاہم ان کی شناخت ابھی تک سامنے نہیں لائی گئی ہے۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز سان ڈیاگو (کیئر) کی ترجمان تزہین نظام نے بی بی سی کو بتایا کہ امین عبداللہ آٹھ بچوں کے باپ تھے۔ انھوں نے ہلاک ہونے والے دیگر افراد کے نام منصور کازیحہ اور نادر عواد بتائے۔
سان ڈیاگو پولیس کے سربراہ سکاٹ وال نے ایک نیوز کانفرنس میں عبداللہ کے اقدامات کو دلیرانہ قرار دیا۔
پولیس نے منگل کو بتایا کہ جیسے ہی مشتبہ افراد مسجد کے داخلی دروازے سے عبداللہ کے پاس سے گزرے، انھوں نے فائرنگ شروع کر دی اور عبداللہ نے جوابی فائرنگ کی۔
وال نے بریفنگ میں کہا کے عبداللہ نے لاک ڈاؤن کے اقدامات بھی نافذ کیے اور متعدد جانیں بچانے کا سہرا انھی کو جاتا ہے، ان میں مرکز سے منسلک سکول کے 140 بچوں کی زندگیاں بھی شامل ہیں۔
وال کے مطابق عبداللہ کے ردعمل نے ’بلا شبہ‘ حملہ آوروں کو فراد ہونے پر مجبور کیا۔
عبداللہ کو جاننے والے افراد نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ وہ برادری کا خیال رکھتے تھے۔ سوشل میڈیا پر بھی کئی افراد نے لکھا کہ ’وہ سب سے اچھے انسان تھے جن سے آپ کبھی ملیں گے۔‘
مسجد نے انھیں ایک بہادر شخص قرار دیا ’جس نے دوسروں کی حفاظت کے لیے خود کو خطرے میں ڈالا، جو اپنے آخری لمحات میں بھی ہماری برادری کے تحفظ سے نہ رکے۔‘
EPA
کیئر کی ترجمان تزہین نظام نے بی بی سی کو بتایا: ’سب امین سے محبت کرتے تھے، وہ روزانہ یہاں کھڑے ہوتے، ہمیشہ مسکراتے، سب کو خوش آمدید کہتے، سکول آنے والے بچوں کا بھی استقبال کرتے۔
’وہ ایک روشن چراغ تھے۔ وہ ایک حقیقی ہیرو، ایک شہید ہیں۔‘
عبداللہ کے خاندان کے ایک دوست نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ عبداللہ مسجد میں معروف تھے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے وہاں کام کر رہے تھے۔
خبر رساں ادارے کو شیخ عثمان ابن فاروق نے بتایا: ’وہ معصوم لوگوں کا دفاع کرنا چاہتے تھے اسی لیے انھوں نے سکیورٹی گارڈ بننے کا فیصلہ کیا۔‘
سام حمیدہ کی مسجد کے ذریعے ہی عبداللہ سے واقفیت تھی۔ انھوں نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کو بتایا کہ سکیورٹی گارڈ کو ان کی مہربانی کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔
حمیدہ نے کہا: ’کوئی بھی شخص آتا تو عبداللہ اسے خوش آمدید کہتے، اس کی خیریت دریافت کرتے۔ چاہے وہ سڑک سے آنے والا بے گھر شخص ہو، کوئی بچہ یا پھر بزرگ۔‘
ان کی بیٹی حوا عبداللہ نے اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ کہا کہ ان کے والد ’چاہتے تھے کہ ہماری برادری ایک ہو کر کھڑی ہو۔ یہی وہ ورثہ ہے جو وہ چھوڑ گئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم سب بہتر انسان بنیں، اس بات سے قطع نظر کہ ہم کون ہیں اور ہماری شناخت کیا ہے۔‘
کیئر سان ڈیاگو کے مطابق حملہ آوروں کا نشانہ بننے والے کازیحہ مسجد کے احاطے اور اس سے وابستہ دکان کی دیکھ بھال میں مدد کرتے تھے، جبکہ عواد کی اہلیہ اسلامی مرکز سے منسلک سکول میں پڑھاتی ہیں۔
تینوں مقتولین کے لیے ایک آن لائن فنڈ ریزنگ مہم نے مقامی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر تک 29 لاکھ ڈالرز سے زیادہ رقم جمع کر لی ہے۔
فائرنگ کا واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟EPA
یہ فائرنگ پیر کو دوپہر کے قریب اس وقت شروع ہوئی جب مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک کی والدہ نے پولیس کو اطلاع دی کہ ان کا بیٹا ایک دوست کے ساتھ گھر سے چلا گیا ہے اور ممکنہ طور پر خودکشی کا ارادہ رکھتا ہے۔
چند گھنٹوں بعد، جب پولیس ان دونوں نو عمر افراد کی تلاش میں تھی، حکام کو اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو کے باہر گولیوں سے زخمی تین افراد ملے، جن میں عبداللہ بھی شامل تھے۔
کچھ ہی دیر بعد پولیس کو دونوں مشتبہ افراد مسجد سے چند بلاکس کے فاصلے پر ایک گاڑی میں مردہ حالت میں ملے۔ ان کی موت خود کو پہنچائے گئے زخموں سے ہوئی تھی۔
وال نے کہا کہ اس فائرنگ کی تحقیقات نفرت پر مبنی جرم کے طور پر کی جا رہی ہیں، اور یہ کہ اس میں ’نفرت انگیز بیان بازی‘ شامل تھی۔
اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو کے ڈائیریکٹر امام طہٰ حسنی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا: ’عبادت کی جگہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔ یہ مرکز عبادت کی جگہ ہے، میدان جنگ نہیں۔‘
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے ایک بیان میں کہا کہ ایسا مرکز ’جہاں خاندان اور بچے جمع ہو کر امن اور بھائی چارے سے عبادت کرتے ہیں‘ وہاں پُر تشدد حملے پر وہ ’شدید صدمے میں‘ ہیں۔
نیوزم نے مزید کہا کہ ریاست ’مذہبی برادریوں کے خلاف دہشت یا دھمکی کے اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔‘
’جس عمارت سے گولی چلائی گئی اس میں پولیس اہلکار تعینات تھے‘: سخت سکیورٹی کے باوجود ٹرمپ پر حملہ کیسے ممکن ہوا؟ٹرمپ کے قتل کی کوشش کا الزام: واشنگٹن میں حملہ آور کی چار سیکنڈ میں سکیورٹی حصار عبور کرنے کی نئی ڈرامائی فوٹیج جاری’حساس ریسرچ سے منسلک دس امریکی سائنسدانوں‘ کی اموات اور گمشدگی سے جڑے سازشی نظریات کی حقیقت کیا ہے؟سیاحوں کی بڑی تعداد امریکہ جانے سے کیوں کترا رہی ہے؟حملہ آوروں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟Anadolu via Getty Images
حکام نے ابھی تک مبینہ حملہ آوروں کے نام جاری نہیں کیے، اگرچہ کچھ امریکی میڈیا نے ان کے نام بتائے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان کی عمریں 17 اور 18 سال ہیں۔
حکام نے منگل کو بتایا کہ انھوں نے مشتبہ افراد سے منسلک تین رہائش گاہوں کی تلاشی کے دوران 30 سے زائد ہتھیار اور ایک تیر کمان بھی ضبط کیے۔ نوجوانوں کا حربی سامان اور موبائل فون بھی قبضے میں لیے گئے۔
ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ مارک ریمیلی کے مطابق ان ہتھیاروں میں پستول، رائفلز اور شاٹ گنز شامل ہیں اور یہ مشتبہ افراد میں سے ایک کے والدین کے نام پر رجسٹرڈ تھے۔
ریمیلی نے کہا کہ وفاقی تفتیش کاروں کو مشتبہ افراد سے ایسا تحریری مواد بھی ملا ہے جس میں مذہبی اور نسلی عقائد کا خاکہ درج کیا گیا تھا اور لکھا گیا تھا کہ دنیا کیسی ہونی چاہیے۔
ریمیلی نے بتایا: ’یہ افراد اس بات میں امتیاز نہیں کرتے تھے کہ وہ کس سے نفرت کرتے ہیں۔‘
ریمیلی کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ کیا مسجد یا سکول فائرنگ کا مخصوص ہدف تھے۔
تفتیش کاروں کو ایک منشور بھی ملا ہے لیکن اس دستاویز کی مزید تفصیلات شیئر نہیں کی گئیں۔
حکام کے مطابق دونوں مشتبہ افراد آن لائن مواد کی وجہ سے انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئے تھے، تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔ انھوں نے بتایا کہ دونوں مشتبہ افراد کی ملاقات آن لائن ہوئی اور بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ وہ دونوں سان ڈیاگو کے علاقے میں رہتے ہیں۔
سان ڈیاگو کے میئر ٹوڈ گلوریا نے مزید کہا کہ یہ مشتبہ حملہ آور ’ہمارے شہر کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ ہماری نمائندی یہ تین مسلمان مرد کرتے ہیں۔‘
منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس فائرنگ کو ’قابل مذمت‘ قرار دیا اور امریکیوں کو متاثرہ افراد کے لیے دعا کرنے کی تلقین کی۔
انھوں نے کہا: ’ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ملک میں ایسا ہو، اور خدا ان لوگوں کی روحوں کو سکون دے جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔‘
وینس نے یہ بھی کہا کہ ان کی اہلیہ، اوشا وینس، جو سان ڈیاگو میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں، ’یقینی طور پر‘ ایسے لوگوں کو جانتی ہوں گی جو اس مسجد میں آتے تھے۔
وینس نے کہا: ’سیاسی تشدد، خواہ وہ کہیں سے بھی آئے، امریکہ میں ناقابل قبول ہے۔ آئیے ایک دوسرے سے بات کریں، اختلاف ہونے پر ایک دوسرے پر گولیاں نہ چلائیں۔‘
نائب صدر نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا اصول ہے جس سے صدر بھی متفق ہیں۔
پیر کو اس فائرنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک ’خوفناک صورتحال‘ قرار دیا تھا۔
'چھوٹی سی سبیکا شیخ کے بڑے بڑے خواب تھے'مشتبہ حملہ آور کی مبینہ تحریریں اور نئے انکشافات: وائٹ ہاؤس عشائیے میں فائرنگ کرنے والے شخص کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد ’ڈرامہ رچانے‘ اور ’ڈیپ سٹیٹ‘ سے جڑے سازشی نظریات کیوں گردش کرنے لگے؟ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ اور گرفتار پاکستانی شہری کی عدالت میں پیشی: ’میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا‘ٹرمپ کے حامی چارلی کرک کا قتل: پولیس 33 گھنٹوں میں ملزم تک کیسے پہنچی؟