Getty Images
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سلہٹ میں ہونے والے دوسرے اور آخریٹیسٹ میچ میں چوتھے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے سات وکٹوں کے نقصان پر 316 رنز بنا لیے ہیں اور میچ جیتنے کے لیے ابھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو 121 رنز جبکہ بنگلہ دیش کو تین وکٹیں درکار ہیں۔
منگل کے روز چوتھے دن کے کھیل کا آغاز پاکستانی اوپنر اذان اویس اور عبد اللہ فضل نے کیا مگر 27 کے مجموعی سکور پر عبد اللہ فضل چھ رنز بنا کر ناہید رانا کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے، اُن کے بعد اذان اویس بھی 41 کے مجموعی سکور پر 21 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔
دو وکٹ کے نقصان کے بعد بابر اعظم اور کپتان شان مسعود نے اچھی شراکت قائم کی تاہم بابر اعظم 52 گیندوں پر 47 رنز بنا کر تیج الاسلام کا شکار بن گئے جبکہ شان مسعود 71 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
شان مسعود کے آؤٹ ہو جانے کے بعد سلمان علی آغآ اور محمد رضوان نے اچھی بیٹنگ کی تاہم شان کو بھی تیج الاسلام نے ہی آؤٹ کیا انھوں نے 71 رنز بنائے تھے۔
منگل کے روز جب چوتھ دن کے کھیل کا اختتام ہوا تو وکٹ پر محمد رضوان 75 جبکہ ساجد خان آٹھ رنز کے ساتھ موجود تھے۔
Getty Imagesمشفق الرحیم نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 14ویں سنچری مکمل کی
ٹیسٹ میچ میں اب بھی بنگلہ دیش کی ٹیم ایک مضبوط پوزیشن میں دیکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ روز جب پاکستان کی اننگز کا آغاز ہوا تو دوسرے اوور کے بعد ہی کم روشنی کے باعث ایمائرز نے کھیل روک دیا تھا۔
یاد رہے کہ ڈھاکہ میں سیریز کا پہلا میچ جیتنے کے بعد بنگلہ دیش کو سیریز میں ایک صفر کی ناقابلِ شکست برتری حاصل ہے۔
پیر کو سلہٹ میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن بنگلہ دیش کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 390 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تو پہلی اننگز کی 46 رنز کی برتری کی بدولت وہ مہمان ٹیم کو ایک ایسا ہدف دینے میں کامیاب رہی جس کا حصول آسان نہیں دکھائی دے رہا۔
دوسری اننگز میں بنگلہ دیش کی جانب سے مشفق الرحیم 137 رنز کی اننگز کھیل کر ٹاپ سکورر رہے جبکہ ان کے علاوہ پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے لٹن داس کے علاوہ اوپنر محمود الحسن جوائے نے نصف سنچریاں بنائیں۔
یہ مشفق الرحیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں 14ویں سنچری تھی۔
پاکستان کے لیے شاہین آفریدی کی جگہ ٹیم میں جگہ بنانے والے خرم شہزاد سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے اس اننگز میں بھی چار وکٹیں لیں اور میچ میں کل آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
ان کے علاوہ سپنر ساجد خان نے تین، حسن علی نے دو جبکہ محمد عباس نے ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
Getty Imagesپاکستان کی پہلی اننگز میں بابر اعظم کے سوا کوئی بھی بلے باز وکٹ پر زیادہ دیر رکنے اور بڑی شراکت قائم کرنے میں ناکام رہا تھا
سہلٹ ٹیسٹ میں پاکستان کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا اور پاکستانی بولر سکور116 رنز تک پہنچنے تک چھ بنگلہ دیشی بلے بازوں کو پویلین بھیجنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم اس موقع پر لٹن داس نے 126 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالا تھا اور میزبان ٹیم 278 رنزکا مجموعہ بنانے میں کامیاب رہی تھی۔
اس کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز میں بابر اعظم کے سوا کوئی بھی بلے باز وکٹ پر زیادہ دیر رکنے اور بڑی شراکت قائم کرنے میں ناکام رہا تھا۔ بابر اعظم نے 68 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔
ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ بنگلہ دیش پہلی اننگز میں بڑی سبقت لینے میں کامیاب رہے گا لیکن لوئر آرڈر میں ساجد خان نے 28 گیندوں پر چار چھکوں کی مدد سے 38 رنز کی اننگز کھیل کر سکور 232 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
بنگلہ دیش کی طرف سے ناہید رانا اور تیج الاسلام نے تین، تین جبکہ مہدی حسین میراج اور تسکین احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔
Getty Imagesسوشل میڈیا پر بلے باز تنقید کی زد میں
سوشل میڈیا پر صارفین پاکستانی بلے بازوں سے ناخوش نظر آتے ہیں اور ٹیم پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔
کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر اننگز کے آخر میں ساجد خان نے چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 28 گیندوں پر 38 رنز نہ بنائے ہوتے تو بنگلہ دیش کو پاکستان پر مزید رنز کی برتری حاصل ہو سکتی تھی۔
پہلی انگز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بننے والے محمد رضوان، سلمان علی آغا اور شان مسعود نے دوسری انگز میں اچھا پرفارم کیا۔
شان مسعود اور سلمان علی آغا دونوں نے دوسری انگز میں 71، 71 رنز بنائے جبکہ محمد رضوان 75 رنز کے ساتھ اب بھی وکٹ پر موجود ہیں۔
تاہم سعود شکیل کو دوسری انگز میں بھی اچھی کارکردگی نہ دکھانے کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔
انضمام نامی ایک ایکس صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’سعود شکیل ایک بار پھر دباؤ میں ناکام ہو گئے اور سب سے غلط وقت پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’جب پاکستان کو رنز اور مضبوط شراکت کی ضرورت تھی، وہ ایک اور مایوس کن اننگز کھیل کر آؤٹ ہو گئے۔ اب پاکستان سخت مشکل میں ہے۔‘
عمران صدیقی نامی ایکس صارف نے تو سعود شکیل کی بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں انگز کے بعد ایک جائزہ پیش کر دیا انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’سعود شکیل نے اپنے پہلے 16 ٹیسٹ میچوں میں 55 کی اوسط سے رنز بنائے تھے، لیکن اپنے آخری سات ٹیسٹ میچوں میں ان کی اوسط صرف 21 رہی ہے۔ آخر اُن کی پرفارمنس کو کیا ہوا ہے وہ کیوں اچھی انگز نہیں کھیل پا رہے؟‘
دانش نامی ایک ایکس صارف نے محمد رضوان اور سلمان علی آغا کے درمیان 50 رنز سے زیادہ کی شراکت داری کی تعریف۔
فیضان لاکھانی نے ایکس پر لکھا کہ ’آج محمد رضوان ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ حالیہ دنوں میں ہونے والی اپنی غلطیوں اور تنقید کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ ان کی اننگز میں جذبہ، ذمہ داری اور اعتماد نظر آیا۔ اگر اس مرحلے پر سلمان آغا آؤٹ نہ ہوتے تو شاید پاکستان کی امیدیں کچھ دیر اور برقرار رہتیں۔‘
’پہلے ہی بتا دیں میری ضرورت ہے یا نہیں:‘ کوہلی کی 2027 کا ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش اور شکوہپاکستان سپر لیگ میں حیدرآباد کنگزمین کے تاریخی کم بیک اور راولپنڈیز کی ناکامی کی پیچھے چھپی کہانی’کسی پر الزام تراشی نہیں کروں گا، خود ذمہ داری قبول کروں گا‘: بنگلہ دیش کے خلاف تیسری شکست اور شان مسعود کی پریس کانفرنساذان اویس ڈیبو پر سنچری بنانے والے 14ویں پاکستانی کرکٹر: ’اُمید ہے پی سی بی اس ٹیلنٹ کو سنبھالے گا‘
حسن زاہد نامی ایک ایکس صارف نے سلمان کے لیے لکھی کہ ’پاکستان کے لیے یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کے پاس سلمان آغا جیسے مشکل وقت میں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی موجود ہیں، خاص طور پر طویل فارمیٹس میں۔‘
تاہم پہلی انگز میں ساجد خان کی تعریف کرتے ہوئے احمد نامی صارف نے لکھا کہ سپنر کی بیٹنگ نے پاکستان کو کسی حد تک ریسکیو کیا۔
’تاہم باقی تمام بلے بازوں نے اوسط درجے کی کرکٹ کھیلی، غلط شاٹس کا انتخاب کیا۔ سوچیے اگر بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہو جاتے تو پاکستان 150 رنز تک بھی نہیں پہنچتا۔‘
سابق ٹیسٹ کرکٹ فیصل اقبال نے پاکستان کھلاڑیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’سینیئرز اتنی زیادہ کرکٹ کھیل چکے ہیں اور پھر بھی دباؤ کی صوتحال میں ناکارہ ہو جاتے ہیں اور اپنی وکٹس گنوا دیتے ہیں۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ بابر اعظم نے دیگر سینیئر کھلاڑیوں کے مقابلے میں اچھی اننگز کھیلی۔ مرزا وقار نے مزید لکھا کہ ’اس ٹیسٹ میچ کے بعد شان مسعود کو ریٹائرمنٹ پر غور کرنا چاہیے، سلمان علی آغا کی تکنیک ٹھیک نہیں ہے اور وہ 20، 30 رنز کو 50، 60 رنز میں تبدیل نہیں کر پا رہے۔‘
محمد رضوان اور لٹن داس کے درمیان ہونے والی لفظی جنگ
میچ میں ایک مقام پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر لٹن داس کے درمیان سخت جُملوں کا تبادلہ اُس وقت ہوا کہ جب محمد رضوان نے میچ کے دوران ہی سکرین کے سامنے کھڑے ایک گراؤنڈ سٹاف کے رکن کو ہٹ جانے کا اشارہ کیا۔
جس پر لٹن داس نے اردو میں رضوان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیا کر رہے ہو؟‘ جس پر رضوان نے کہا کہ ’وہ دیکھو، وہ دیکھو، وہ سامنے کھڑا ہے۔‘ اس کے جواب میں لٹن داس نے کہا کہ ’ادھر کیا دیکھ رہے ہو؟ یہاں بیٹنگ کرو۔‘ اس پر محمد رضوان غصے میں آگئے اور انھوں نے لٹن داس کو کہا کہ ’یہ تمہارا کام ہے، میرا کام ہے یا امپائر کا؟' جس کے جواب میں لٹن داس نے کہا کہ '50 ہو گئی ہے بس اب ایکٹنگ شروع ہو جائے گی۔‘
جس کے بعد امپائر نے دونوں کھلاڑیوں کے درمیان بیچ بچاؤ کروایا اور میچ دوبارہ شروع ہوا۔
عالمی مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت: انڈیا کو وضاحتی میمو کیوں جاری کرنا پڑا؟قیمتی گھوڑا، ڈربی میں ایک کروڑ انعام اور پُرخطر کھیل: لاہور ریس کلب کے ایک چیمپیئن جوکی کی کہانیکوچ سے مکالمہ اور پھر پی ایس ایل میں رنز کے انبار: بابر اعظم کی فارم میں واپسی کی کہانی صابن کی ٹکیہ سے بھی ہلکے جوتے جنھوں نے میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑنے میں مدد دی’آٹھ لاکھ روپے کا ایک رن‘: پی ایس ایل کی نیلامی میں کروڑوں روپے میں فروخت ہونے والے کرکٹرز کی کارکردگی کیسے رہی؟