متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے ’خفیہ دورے‘ کی تردید کیوں کی اور اسرائیل کے اعلان میں سعودی عرب کے لیے کیا پیغام چھپا ہے؟

بی بی سی اردو  |  May 18, 2026

AFP via Getty Images

حال ہی میں جب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا تو شاید اس سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ دو ہی گھنٹے بعد متحدہ عرب امارت کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایسا کوئی دورہ نہیں ہوا۔

اسرائیل کے سرکاری بیان کا حوالہ دیے بغیر متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ’غیر مصدقہ معلومات شائع نہ کریں۔‘ وزارت خارجہ کے بیان میں متحدہ عرب امارات نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ابراہیم معاہدے کے فریم ورک کے اندر بنائے گئے ہیں اور یہ رازداری یا خفیہ معاہدوں پر مبنی نہیں۔

اماراتی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر عبدالخالق عبداللہ نے بھی اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایسا کوئی دورہ ہوا ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کا یہ خفیہ دورہ جس کی بات نیتن یاہو کر رہے ہیں وہ ان کے اپنے تخیل کی ایک تصویر ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’نیتن یاہو اس کو صرف اور صرف انتخابی مقاصد کے لیے فروغ دے رہے ہیں۔ ایک ایسا سفر جس کی متحدہ عرب امارات نے ایک سرکاری بیان میں واضح طور پر تردید کی ہے۔‘

اس کے برعکس، زیو اگمون، جو پہلے اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان تھے، نے اس سفر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سفر میں نیتن یاہو کے ساتھ تھے ۔

انہوں نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایک ایسے شخص کے طور پر جو امارات سے واقف ہے، وہاں ایک طویل عرصے سے مقیم ہے، اور اس تاریخی سفر پر وزیر اعظم کے ساتھ گیا، جو کہ اب تک مکمل طور پر خفیہ تھا، میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ ابوظہبی میں وزیر اعظم کا شاہی استقبال کیا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’شیخ بن زاید نے وزیراعظم کے لیے بہت احترام کا مظاہرہ کیا اور ذاتی طور پر ان کے ساتھ گاڑی میں ہوائی جہاز سے محل تک گئے۔‘ زیو اگمون نے اپنی پوسٹ جاری رکھتے ہوئے لکھا: ’آئندہ نسلیں یاد رکھیں گی کہ وزیراعظم نے اس غیر معمولی سفر میں کیا حاصل کیا۔‘

اسرائیل کے اعلان اور متحدہ عرب امارات کی تردید کے درمیان وقفہ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات نے بھی توجہ مبذول کروائی جنھیں ابوظہبی پر بلاواسطہ تنقید سمجھا جا سکتا ہے ۔

یاد رہے کہ اسرائیلی میڈیا نے جنگ کے دوران اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ادارے شباک اور موساد کے سربراہان کے یو اے ای کے دوروں کی بھی اطلاع دی۔

لیکن ایسے میں سوال یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کی تردید کیوں کی؟ ساتھ ہی یہ سوال بھی اہم ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے یہ بیان جاری کیوں کیا؟

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار مهند توتنجی کے مطابق اسرائیل کے اندر اس سفر کو سیاسی اور سلامتی کی صورتحال کی ایک مختلف تصویر پیش کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اپنی رپورٹ میں، مهند توتنجی نے اس سفر کے سرکاری اعلان کی وجوہات اور وقت پر بات کی، خاص طور پر ایسی صورت حال میں جب اسرائیل میں، اس طرح کے دوروں کی تفصیلات عام طور پر سب سے پہلے سیاسی اور سیکیورٹی رپورٹرز کے ذریعے میڈیا پر آ جاتی ہیں، اور وزیراعظم کا دفتر براہ راست اور سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کرتا۔

بی بی سی کے یروشلم کے نامہ نگار نے جیک نیریا سے بات کی، جو اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے ایک سابق افسر اور سابق اسرائیلی وزیر اعظم یتزاک رابن کے سیاسی مشیر ہیں، جو اب یروشلم میں مرکز برائے خارجہ اور سلامتی کے امور کے محقق ہیں۔

مسٹر نیریا نے بی بی سی کو بتایا: ’نیتن یاہو کے سفر کی خبروں کا اجرا بنیادی طور پر اندرونی اسرائیلی سیاست اور موجودہ انتخابی ماحول میں کیا گیا تھا۔‘

Bloomberg via Getty Imagesنتن یاہو کے ’خفیہ‘ دورۂ امارات کا اسرائیلی دعویٰ، یو اے ای کی تردید: اسرائیل سے تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابل معافی ہے، ایراندفاعی تعاون کا معاہدہ اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری: نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات کے دورے میں کیا کچھ ہوا؟جارحانہ بیانات، ’وسیع فوجی تیاریاں‘ اور محسن نقوی کا ’غیر اعلانیہ دورہِ ایران‘: کیا امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ کر رہا ہے؟کیا متحدہ عرب امارات پر حملوں نے اسلام آباد کی مشکلات بڑھا دیں؟

انھوں نے دورے کے باضابطہ اعلان کا مقصد اسرائیلی وزیر اعظم کی متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں پیش رفت کو ظاہر کرنے کی کوشش قرار دیا۔

جیک نیریا نے مزید کہا کہ ’یہ اعلان ان اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے کہ آئرن ڈوم سسٹم ایران کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران متحدہ عرب امارات کے دفاع میں شامل تھے۔‘ ان کا خیال ہے کہ ’نیتن یاہو کا دفتر وزیراعظم کے سیکورٹی اور سیاسی کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ میڈیا میں حماس، حزب اللہ اور ایران کے بارے میں ان کی پالیسیوں کی ناکامی کا تذکرہ ہو رہا ہے۔‘

متحدہ عرب امارات کی تردید کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’ابوظہبی شاید اسرائیل کے ساتھ اپنے سیکورٹی تعلقات کو عوامی سطح پر اجاگر نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ اس سے ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

چند روز قبل تل ابیب یونیورسٹی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے Axios ویب سائٹ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کی تصدیق کی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے آئرن ڈوم سسٹم یو اے ای بھیجا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے بھی یہ خبر دی تھی کہ متحدہ عرب امارات کی فضائیہ نے اپریل کے اوائل میں ایران کی ایک آئل ریفائنری پر حملہ کیا تھا۔ اس رپورٹ کی متحدہ عرب امارات نے ابھی تک تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

امارات نے نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید کیوں کی؟

کنگز کالج لندن میں سیکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کا خیال ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کی تردید قابل فہم ہے، کیونکہ اس انکشاف سے نیتن یاہو کو ابوظہبی سے زیادہ فائدہ ہوگا۔‘

مسٹر کریگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’متحدہ عرب امارات کا مسئلہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا نہیں ہے، کیونکہ ابراہیم معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات ہیں۔‘

’بلکہ، مسئلہ یہ تھا کہ نیتن یاہو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا سفر کیا، ملک کے صدر سے ملاقات کی اور سیکورٹی تعلقات میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔‘

AFP via Getty Images

ان کے مطابق، ’اس طرح کا بیانیہ متحدہ عرب امارات کو ایک آزاد علاقائی اداکار کے طور پر نہیں، بلکہ ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کے چھپے ہوئے پارٹنر کے طور پر پیش کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ابوظہبی نہیں چاہتا کہ نیتن یاہو متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کی تعریف اسرائیل کے بیانیے اور حالات کی بنیاد پر کریں، خاص طور پر اگر اس دورے کا اعلان کرنے کا مقصد اپنے سیاسی بیانیے کو بچانا ہے۔‘

مسٹر کریگ کا خیال ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کی تردید ملک کی سیاسی ساکھ کے لیے ایک قسم کی حفاظتی ڈھال کا بھی کام کرتی ہے۔‘

ان کے مطابق، ’امارات اسرائیل کے ساتھ تعاون سے عملی طور پر فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، بشمول ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، میزائل ڈیفنس اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا، لیکن جنگ کے وقت نیتن یاہو کے اتحادی کے طور پر خود کو پیش کیے بغیر۔‘

اینڈریاس کریگ نے کہا کہ ’نیتن یاہو کی سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے حساس علاقائی رابطوں کو استعمال کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’نیتن یاہو یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ الگ تھلگ نہیں ہیں، عرب رہنما ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہتے ہیں، اور یہ کہ وہ بحرانوں کے درمیان بھی سیکورٹی سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

Anadolu via Getty Images

مسٹر کریگ کا خیال ہے کہ ’اس سفر کا اعلان کر کے، نیتن یاہو نے ظاہر کیا کہ اگر ان کے ذاتی مفادات کی ضرورت ہے تو وہ دوسروں کی قربانی دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘

واضح رہے کہ اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات اس سال اکتوبر میں ہونے والے ہیں، لیکن اسرائیلی اپوزیشن کنیسٹ کو تحلیل کرنے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کے لیے ایک قانون پاس کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تنازع الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دینے والے ایک قانون کو پاس کرنے میں ناکامی پر پیدا ہوا ہے۔

اینڈریاس کریگ نے یہ بھی کہا کہ ’جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کے ساتھ خصوصی تعلقات پر اصرار کرتے ہوئے، نیتن یاہو عرب ممالک کے درمیان دراڑ پیدا کرنے، ابوظہبی پر دباؤ ڈالنے اور سعودی عرب کو یہ پیغام بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کچھ عرب حکومتیں پس پردہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہیں۔‘

ان کے مطابق، ’یہ طرز عمل عرب دنیا کے لیے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی حکمت عملی کا حصہ ہے، ایک ایسی حکمت عملی جس کا مقصد عرب حکومتوں اور ان کی رائے عامہ کے ساتھ ساتھ خلیجی ریاستوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا ہے، تاکہ اس تاثر کو تقویت دی جا سکے کہ کچھ عرب حکومتیں عوامی اعلانات کے برخلاف خفیہ طور پر اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہیں۔‘

مسٹر کریگ نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے میں سب سے اہم نکتہ متحدہ عرب امارات کی دوٹوک تردید ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابوظہبی نہ صرف شرمندہ ہے بلکہ پریشان بھی ہے، اور اماراتی حکام کو لگتا ہے کہ نیتن یاہو نے اس مبینہ سفر کا سیاسی فائدہ اٹھا کر سرخ لکیر عبور کی ہے۔‘

یو اے ای کی جانب سے نیتن یاہو کے سفر کی تردید کا یہ تجزیہ سوشل نیٹ ورک ایکس پر متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم کے سیاسی مشیر انور گرگاش کے فکر انگیز موقف سے مطابقت رکھتا ہے۔

گرگاش نے لکھا ہے کہ ’ایران اور خلیج فارس کے عرب ممالک کے تعلقات ایک ایسے خطے میں تنازعات اور تصادم پر مبنی نہیں ہو سکتے جہاں اقوام کے درمیان گہرے جغرافیائی اور تاریخی تعلقات ہوں۔‘

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متحدہ عرب امارات طاقت اور عزم کے ساتھ اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا لیکن وہ سیاسی حل کو ترجیح دیتا ہے۔

انڈین آرمی چیف کی پاکستان کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکی: اس طرح کا خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، پاکستانی فوج کا جوابجارحانہ بیانات، ’وسیع فوجی تیاریاں‘ اور محسن نقوی کا ’غیر اعلانیہ دورہِ ایران‘: کیا امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ کر رہا ہے؟دفاعی تعاون کا معاہدہ اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری: نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات کے دورے میں کیا کچھ ہوا؟نتن یاہو کے ’خفیہ‘ دورۂ امارات کا اسرائیلی دعویٰ، یو اے ای کی تردید: اسرائیل سے تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابل معافی ہے، ایرانکیا متحدہ عرب امارات پر حملوں نے اسلام آباد کی مشکلات بڑھا دیں؟اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کی تیاری، تہران کی شرط اور پاکستان کا پسِ پردہ کردار
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More