انڈین آرمی چیف کی پاکستان کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکی: اس طرح کا خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، پاکستانی فوج کا جواب

بی بی سی اردو  |  May 17, 2026

Getty Images

پاکستان کی فوج نے انڈین آرمی چیف کی جانب سے پاکستان کو عالمی جغرافیے سے ہٹانے کی دھمکی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک خود مختار جوہری ہمسایہ ملک کو جغرافیے سے حذف کرنے کی دھمکی دینا ’علمی صلاحیتوں کا دیوالیہ پن اور جنگی جنون‘ کا اظہار ہے۔

اتوار کو پاکستان فوج کے ترجمان ادارے ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس طرح کا جغرافیائی خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، کیونکہ ایک جوہری ریاست کو کسی دوسری جوہری ریاست کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی زبان بولنے کے بجائے تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘

سنیچر کو انڈین فوج کے سالانہ سول، ملٹری مباحثے ’سینا سمواد 2026‘ میں اظہارِِ خیال کرتے ہوئے انڈین آرمی چیفسے پوچھا گیا کہ اگر پاکستان نے کچھ ایسا کیا کہ ہمیں دوبارہ ’آپریشن سندور‘ کرنا پڑا تو ہم پاکستان کو کیسا جواب دیں گے؟

اس پر انڈین آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی نے کہا کہ ’اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی اور انڈیا مخالف سرگرمیوں سے باز نہ آیا تو اسے فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا وہ جغرافیے اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔‘

پاکستان فوج کے ردِعمل میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا چکا ہے جبکہ یہ ایک اعلانیہ جوہری قوت اور جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا انمٹ کا حصہ ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’لہذا انڈین فوج کے سربراہ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ انڈیا کی قیادت آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود نہ تو پاکستان کے تصور سے ہم آہنگ ہو سکی ہے اور نہ ہی اس نے کوئی سبق سیکھا ہے۔‘

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انڈیا میں پائی جانے والی اسی ذہنیت کی وجہ سے جنوبی ایشیا بار بار جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ دہلی کا جارحانہ انداز پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی اور مایوسی پر مبنی ہے جسے معرکہ حق کے دوران پاکستان نے نقاب کیا۔ ‘

Getty Images

گذشتہ برس اپریل میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان کے اندر مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ انڈیا نے اسے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا۔

اس کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ لڑائی کا آغاز ہوا تھا جس میں فضائی جھڑپوں اور ایک دوسرے کی تنصیبات پر میزائل حملوں کے دعوے کیے گئے تھے۔

ایک برس کے دوران دونوں ممالک کی سول اور فوجی قیادت اس چار روزہ لڑائی میں کامیابی کے دعوے کرتی رہی ہے۔ پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ اس لڑائی میں اس انڈیا کے جدید لڑاکا طیارے رفال سمیت چھ سے زائد جہاز گرائے گئے۔ دوسری جانب انڈیا کا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے علاوہ اس کی متعدد فوجی تنصیبات اور ایئر بیسز کو نشانہ بنایا گیا۔

ایسے میں انڈیا کی جانب سے مستقبل میں دوبارہ تصادم یا آپریشن سندور کے تسلسل کے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان بھی ان بیانات پر مکمل تیار رہنے کا عزم ظاہر کرتا رہا ہے۔

چار روزہ تنازع کے بعد انڈیا اور پاکستان کے تعلقات: ’بہترین ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ صورتحال مزید خراب نہ ہو‘’سب کا مالک ایک ہے‘: انڈین آرمی چیف کے ’نماز کے وقت‘ پاکستان میں حملے سے گریز کے بیان پر تنقید انڈین ایئر چیف کا مئی کی لڑائی کے دوران چھ پاکستانی طیارے مار گرانے کا دعویٰ، پاکستان کی تردید’آپریشن ابھی بند نہیں ہوا‘: پہلگام حملے کی برسی سے قبل انڈین وزیر دفاع کی دھمکی اور خواجہ آصف کا جوابانڈین آرمی چیف نے مزید کیا کہا؟

انڈین فوج کے سالانہ سول، ملٹری مباحثے ’سینا سمواد 2026‘ میں انڈین فوج کے سربراہ اندرونی اور بیرونی خطرات اور مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی پر عوام کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈین فوج کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ فوج اور شہریوں کے درمیان ہم آہنگی مستقبل کی فوجی کارروائیوں اور قومی تیاریوں میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی نے پاکستان پر دہشت گردوں اور جہادی تنظیموں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہائیوں سے انھیں پناہ دے رہا اور جب انڈیا اس پر کوئی ردِعمل دیتا ہے تو وہ اس سے مکر جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان انڈین فوجی سربراہان اور سول قیادت کے اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

جنرل اُپندر دویدی کا کہنا تھا کہ جدید جنگ اور قومی سلامتی کی منصوبہ بندی کے بارے میں پوری قوم کا ایک نقطہ نظر ہونا چاہیے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب انڈین آرمی چیف نے آپریشن سندور سے متعلق بات کی ہو۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ ایک پوڈ کاسٹ میں انڈین آرمی چیف نے کہا تھا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈین فوج نے نماز کے دوران حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ ’آپریشن کے دوران ایک موقع پر ہم اپنے اہداف کو تباہ کرنے کے وقت کا تعین کر رہے تھے۔‘ ان کا کہنا ہے حملے کا وقت دو بجے، چار بجے یا کوئی بھی بھی وقت ہو سکتا تھا۔

’لیکن ہم نے یہ یقینی بنایا کہ ہم اس وقت عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر حملہ نہ کریں جب وہاں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں کیونکہ سب کا خدا ایک ہی ہے۔‘

Getty Imagesپاکستان اور انڈیا کے رہنماؤں کے جارحانہ بیانات

ایک سال کے دوران اس معاملے پر دونوں ممالک کی سول اور فوجی قیادت کے لہجوں میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے اور انڈین فوج کے سربراہ کا یہ بیان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گذشتہ ماہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ’آپریشن (سندور) ابھی بند نہیں ہوا۔۔۔ پاکستان کی طرف سے کسی قسم کی ناپاک حرکت ہوئی تو ہماری فوج اس کا منھ توڑ جواب دے گی جو وہ کبھی بھول نہیں پائیں گے۔‘

انڈین وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ پہلگام حملے میں 26 شہریوں کی ہلاکت کے ذریعے انڈیا کے ’سماجی تانے بانے اور اتحاد پر حملہ کیا گیا تھا۔‘

اس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان امن اور علاقائی استحکام چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔

گذشتہ برس انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ’آج شاید سندھ کی سرزمین انڈیا کا حصہ نہیں ہے، لیکن تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ انڈیا کا حصہ رہے گا۔ اور جہاں تک زمین کی بات ہے تو سرحدیں بدل سکتی ہیں۔ کیا پتا کل کو سندھ پھر سے انڈیا میں واپس آ جائے۔‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ انڈیا کے لیے بہتر ہو گا کہ وہ اپنے ملک میں کمزور اور اقلیتی برادریوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے، اُن عناصر کا احتساب کرے جو اُن کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں اور مذہبی تعصب اور تاریخی طور پر مسخ ہونے کی بنیاد پر کی جانے والی ناانصافیوں کو ختم کرے۔

جے شنکر کے بیان پر انڈیا اور پاکستان دونوں میں مایوسی: ’ہماری سفارتی ناکامی نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک کو ثالث بنا دیا‘’کیا پتا کل کو سندھ پھر سے انڈیا کا حصہ بن جائے‘: پاکستان کی انڈین وزیرِ دفاع کے بیان کی مذمت، ’تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی‘کشیدگی کے سائے میں انڈیا اور پاکستان کے ’رابطے‘: سخت گیر بیانیے کے درمیان مذاکرات کی باتوں کا سرحد پار خیرمقدمپاکستان کے فتح تھری کروز میزائل کا موازنہ انڈین براہموس سے کیوں کیا جا رہا ہے؟دعوے، الزامات، طنز اور مستقبل کے لیے تنبیہ: پاکستان اور انڈیا کے عسکری حکام کی گھنٹوں طویل پریس کانفرنسوں کا احوالراکٹ فورس، سٹیلتھ طیارے، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی: پاکستان اور انڈیا کی دفاعی حکمت عملی میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More