Getty Imagesمئی 2025 کو ریاض میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے رہنماؤں کی ایک تصویر
کئی دہائیوں تک خلیجی ممالک میں امریکہ کی سکیورٹی کو ’یقینی‘ اور ایک ’حقیقت‘ سمجھا جاتا رہا، تاہم ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران پیش آئے واقعات اس صورتحال کو بدل سکتے ہیں۔
حالیہ جنگ کے دوران خصوصاً اس وقت کہ جب ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں اور خلیجی ممالک میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے باعث دفاعی چیلنجز اپنے عروج پر تھے، ان عرب ممالک نے نہ صرف اپنی سمت میں آنے والے میزائلوں پر نظر رکھی بلکہ واشنگٹن کے ردِعمل کو بھی بغور دیکھا۔
یہ سب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ، خلیجی رہنماؤں اور حکام کے مطابق، وہ خود کو ایک ایسی جنگی صورتحال میں موجود پا رہے تھے کہ جس کے بارے میں اُن سے قطعی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔
تو کیا اس بحران نے واشنگٹن اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان سکیورٹی معاہدوں کی کمزوریوں کو ظاہر کیا ہے؟ اور کیا یہ جنگ ان ممالک کا امریکی فوجی طاقت پر انحصار کم کر دے گی یا اس کے برعکس اسے مزید مضبوط بنائے گی؟
خلیج تعاون کونسل کے تمام ممالک کا واشنگٹن کے ساتھ سکیورٹی تعاون اب بھی موجود ہے۔ امریکہ سعودی عرب، قطر، بحرین اور کویت کو ’اہم غیر نیٹو اتحادی‘ قرار دیتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کو ’اہم دفاعی شراکت دار‘ کہا جاتا ہے۔
خلیجِ فارس کے خطے میں امریکی دلچسپی کا عملی طور پر آغاز دوسری عالمی جنگ کے بعد اس وقت ہوا تھا جب امریکہ نے بتدریج برطانیہ کی جگہ اس خطے میں مرکزی بیرونی طاقت کے طور پر لینا شروع کی۔
واشنگٹن نے گذشتہ دہائیوں میں خلیجِ فارس میں جو سکیورٹی نظام قائم کیا، وہ دو بنیادی عوامل پر مبنی تھا: پہلا ایک جانب تو اس خطے کی جغرافیائی اہمیت اور وسیع تیل کے ذخائر، اور دوسری جانب سوویت اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کا سٹریٹجک ہدف۔
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے سے دو سال پہلے ہی اُس وقت کے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے آنے والے دور میں تیل اور خلیجِ فارس کے خطے کی اہمیت کا اندازہ لگا لیا تھا۔
سنہ 1943 میں انھوں نے کہا تھا کہ ’سعودی عرب کا دفاع، امریکہ کے دفاع کے لیے نہایت اہم ہے۔‘
Getty Imagesشاہ عبدالعزیز اور امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کے درمیان ملاقات کو اکثر ریاض اور واشنگٹن کے درمیان ’خصوصی تعلقات‘ کا آغاز قرار دیا جاتا ہے
یہ بیان انھوں نے سعودی عرب کو فوجی اور اقتصادی امداد فراہم کرنے اور اس ملک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت کو جواز دینے کے تناظر میں پیش کیا تھا۔
سنہ 1945 میں فرینکلن روزویلٹ نے مصر کی نہرِ سویز میں واقع ’گریٹ بٹر لیک‘ کے پانیوں میں امریکی جنگی جہاز ’یو ایس ایس کوئنسی‘ پر شاہ عبدالعزیز آل سعود سے ملاقات کی۔ اگرچہ اس ملاقات کے سرکاری ریکارڈ میں تیل کا ذکر نہیں ملتا تاہم عام طور پر اسے دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی تعلقات‘ کے آغاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اور کتاب ’پرشین گلف سکیورٹی اینڈ دی امریکن ملٹری: ریجیم سروائیول اینڈ دی پولیٹکس آف ملیٹری بیسز‘ کے مصنف جیفری ایف گرش نے بی بی سی عربی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر امریکہ کے پاس ’دنیا میں سب سے وسیع اور مضبوط فوجی اڈوں اور لاجسٹک یعنی رسد اور ترسیل کی سہولیات کا جال موجود تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اُس دور میں امریکی فوجی پالیسی اور بیانیہ خاص طور پر خلیج فارس کے خطے پر مرکوز تھا۔‘
’سنہ 1949 تک ظہران، جرمنی میں قائم ہوائی اڈوں کے بعد امریکہ کا بیرونِ مُلک سب سے فعال فضائی اڈہ بن چکا تھا، جو جنگ کے بعد کے دور میں امریکی عالمی کارروائیوں اور رابطے کے لیے نہایت اہم تھا۔‘
مصنف جیفری ایف گرش کے مطابق اس دور میں امریکہ کی جانب سے عسکری اور معاشی امداد کے وعدوں نے فوجی اڈوں کے معاہدوں پر دستخط کو یقینی بنانے میں مدد دی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ سعودی عرب کی جانب سے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی طلب کو پورا کرنے پر آمادہ تھا، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اگر اس نے انکار کیا تو سعودی عرب ہتھیار حاصل کرنے کے لیے سوویت یونین کا رُخ کر سکتا ہے۔‘
ان کے بقول جنگ کے بعد والے عشرے میں سعودی عرب میں امریکی فوجی موجودگی سے متعلق معاہدوں میں توسیع کی بنیادی وجہ بیرونی اور علاقائی سکیورٹی خدشات ہی رہے حالانکہ سعودی عرب کے اندر واشنگٹن کے ساتھ اتحاد کی مخالفت بھی موجود تھی۔
یہ مخالفت ’امریکہ کی اسرائیل کی حمایت اور فلسطین کی تقسیم کے باعث‘ پیدا ہوئی تھی۔
Getty Imagesایرانی انقلاب نے ایران کے شاہ اور واشنگٹن کے قریبی اتحادی محمد رضا پہلوی کی بادشاہت کا تختہ الٹ دیا تھا
دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے لے کر 1980 کی دہائی تک امریکہ کا دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ فوجی تعاون جاری رہا، اگرچہ یہ محدود پیمانے پر تھا۔ یہ تعاون مختلف شکلوں میں ظاہر ہوا جن میں سکیورٹی معاہدے، فوجی تربیت اور مقامی اڈوں پر امریکی افواج کی میزبانی شامل تھے۔
مثال کے طور پر سنہ 1971 میں بحرین کے ساتھ واشنگٹن کے معاہدے کے تحت امریکہ کو سابق برطانوی بحری تنصیبات استعمال کرتے ہوئے جُفیر میں بندرگاہ قائم کرنے کی اجازت ملی۔
1960 کی دہائی کے اواخر اور 1970 کی دہائی کے آغاز میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے خلیج فارس کے حوالے سے ایک پالیسی اپنائی جس میں ایران اور سعودی عرب کو علاقائی سلامتی اور استحکام کے ’ٹوین پلر‘ یعنی ’دو ستون‘ قرار دیا گیا اور انھیں امریکی تیل کے مفادات کا محافظ سمجھا گیا۔
واشنگٹن کے نزدیک یہ مفادات سرد جنگ کے دوران سوویت یونین پر برتری کے لیے نہایت اہم تھے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں امریکہ نے ان دونوں ممالک کو اسلحہ فراہم کیا اور ان کی افواج کو وسیع پیمانے پر فوجی تربیت دی۔
سنہ 1973 کی خلیج جنگ کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی، جب عرب پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) نے اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک خصوصاً امریکہ، کو تیل کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی۔
سنہ 1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب نے اس ’ٹوین پلر‘ یا ’دو اہم ستون‘ والی پالیسی کا خاتمہ کر دیا، جب ایران کے بادشاہ محمد رضا پہلوی، جو واشنگٹن کے قریبی اتحادی تھے اقتدار سے ہٹا دیے گئے۔ اسی سال سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا۔
خطے میں ان دو پیش رفتوں نے خلیج فارس میں سوویت اثر و رسوخ کے خدشات کو بڑھا دیا جس کے جواب میں امریکہ نے خطے میں اپنے تیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے جدید فوجی ڈھانچہ قائم کرنا شروع کیا۔
سنہ 1980 میں اُس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے اعلان کیا کہ ’کسی بھی غیر ملکی طاقت کی جانب سے خلیج فارس یا اس خطے پر قبضہ کرنے کی کوشش کا فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ ہر انداز میں مقابلہ کیا جائے گا۔‘
امریکی امور کے بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پالیسی بعد میں رونالڈ ریگن اور جارج ایچ ڈبلیو بش کے ادوار میں بھی جاری رہی۔
امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ: ایک تنازع اور کامیابی کے دو متضاد دعوے’تین دن گزر گئے، ابھی تک کوئی کنواں نہیں پھٹا‘: کیا ایران میں تیل کے کنویں واقعی بند ہونے کے قریب ہیں؟
سنہ 1981 میں ایران عراق جنگ کے دوران خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا قیام عمل میں آیا جس نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے درمیان مشترکہ سکیورٹی کا ایک فریم ورک فراہم کیا۔
اگرچہ اس کونسل کا مقصد دفاعی تعاون کو مربوط کرنا تھا تاہم اس کی کارکردگی اور افادیت محدود رہی اور بالآخر خطے میں خطرات کے مقابلے کے لیے امریکی ضمانتیں ہی بنیادی رکاوٹ بن گئیں۔
1980 کی دہائی میں عراق اور خلیج فارس کے ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا جو سنہ 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کا باعث بنا۔
سنہ 1990 اور سنہ 1991 کے سال امریکی پالیسی میں ’کارٹر ڈاکٹرائن‘ کے نفاذ کا عروج سمجھے جاتے ہیں۔ خلیج جنگ کے دوران امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے ’آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ‘ اور ’آپریشن ڈیزرٹ سٹورم‘ شروع کیے جن کا اعلان کردہ مقصد سعودی عرب کا دفاع اور کویت کو آزاد کرانا تھا۔
اس جنگ نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں امریکہ کی بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی کی بنیاد رکھی جو 1990 کی دہائی کے دوران عراق پر نو فلائی زون نافذ کرنے کے لیے جاری رہی۔ اس موجودگی کو اس بات کے مظہر کے طور پر دیکھا گیا کہ امریکہ خلیجی ممالک کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ خطے کی سلامتی کا اہم ضامن بن چکا ہے۔
واشنگٹن میں کونسل آن مڈل ایسٹ پالیسی کے سینیئر فیلو سلطان عامر نے بی بی سی عربی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’1980 کی دہائی میں خلیج فارس کی سکیورٹی ترتیب عراق کی جانب سے کویت جیسے زمینی حملے کو روکنے کے لیے کافی نہیں تھیں۔
ان کے مطابق ’امریکی سکیورٹی، واشنگٹن کے ساتھ فوجی تعاون اور خطے میں امریکی اڈوں کی موجودگی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ ممالک کسی بھی زمینی حملے یا دیگر فوجی خطرے سے محفوظ رہیں۔‘
چین کی ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریاں جو پابندی کا شکار ایرانی تیل خرید کر منافع کماتی ہیںایرانی حملے، مصری فضائیہ اور اسرائیل: متحدہ عرب امارات کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کیوں خراب ہوئے؟
سنہ 2003 میں عراق پر امریکی حملہ اور صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ بھی خلیج فارس میں امریکہ کے کردار کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد امریکہ ایک سکیورٹی فراہم کرنے والی اور توازن قائم رکھنے والی طاقت سے ایک قابض قوت میں تبدیل ہو گیا۔
خلیج فارس کے عرب ممالک نے بدستور اپنی سلامتی کے ضامن کے طور پر امریکہ پر انحصار جاری رکھا جبکہ امریکہ نے بھی خطے میں اپنی موجودگی کو وسیع کیا اور بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں اپنے فوجی اڈوں کو مضبوط بنایا۔
اسی دوران صدام حسین کو اقتدار سے ہٹائے جانے نے ایران کے سب سے بڑے حریف کو میدان سے ہٹا دیا، جس کے بعد تہران کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔ اس صورتحال نے جی سی سی ممالک کے خدشات میں مزید اضافہ کیا۔
اسی سال امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس سے اپنے طیاروں اور زیادہ تر فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے اور خلیج فارس میں اپنے فضائی آپریشنز کا مرکز قطر کے العدید ایئر بیس منتقل کر رہا ہے۔
اس اقدام کو اس وقت مبصرین نے سعودی عرب میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف اندرونی دباؤ کم کرنے کی کوشش قرار دیا اگرچہ اس تبدیلی سے دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون متاثر نہیں ہوا۔
Getty Imagesامریکی میرینز سنہ 2003 میں عراق پر حملے سے قبل، کویت میں جابر ایئر بیس پر فوجی اڈے کی تیاری میں مصروف ہیں
آئندہ برسوں کے دوران امریکہ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے ساتھ متعدد فوجی، دفاعی اور اقتصادی معاہدے کیے جن میں جدید اسلحہ کی فروخت اور تربیتی پروگرام بھی شامل تھے۔
مثال کے طور پر گذشتہ سال سعودی عرب نے امریکہ میں سرمایہ کاری کے لیے تقریباً 600 ارب ڈالر کے وعدے کیے، جنھیں بعد میں وائٹ ہاؤس نے بڑھا کر ایک کھرب ڈالر تک پہنچانے کا اعلان کیا۔ اس رقم میں 142 ارب ڈالر کا اسلحہ خریداری کا معاہدہ بھی شامل ہے جسے ’تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ معاہدہ‘ قرار دیا گیا۔
تاہم حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنے بین الاقوامی تعلقات کو متنوع بنانے کی محدود کوششیں بھی کی ہیں، جن میں چین اور یورپی ممالک کے ساتھ روابط شامل ہیں۔ یہ روابط زیادہ تر اقتصادی اور سفارتی نوعیت کے رہے جبکہ عسکری اور سکیورٹی شعبوں میں ان کا دائرہ نسبتاً محدود رہا۔
کچھ اہم واقعات کے بیک وقت وقوع پذیر ہونے سے خلیجی ممالک میں یہ بنیادی سوال اٹھنے لگا کہ آیا واشنگٹن پر انحصار ایک پائیدار حکمتِ عملی رہ سکتا ہے یا نہیں؟
مثال کے طور پر سنہ 2019 میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں پر امریکہ کے محدود ردعمل نے مایوسی کو جنم دیا۔
سلطان عامر کے مطابق ’ایران کو نشانہ بنانے کے بجائے واشنگٹن نے سعودی عرب کو صرف چند فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے پر اکتفا کیا۔‘ ان کے بقول اس واقعے نے ریاض پر واضح کر دیا کہ تیل کی تنصیبات کے تحفظ یا ایرانی حملوں کے مقابلے میں امریکی عزم زیادہ مضبوط اور قابلِ اعتماد نہیں۔‘
ان کے مطابق اسی صورتحال نے سعودی عرب کو ایک نئی علاقائی پالیسی اپنانے پر آمادہ کیا جس کے نتیجے میں بیجنگ میں ایران کے ساتھ مفاہمت، علاقائی تعاون میں اضافہ اور اتحاد میں تنوع پیدا ہوا تاہم امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گئے۔
متحدہ عرب امارات کو بھی سنہ 2022 میں ابو ظہبی ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملوں کے بعد اسی نوعیت کی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، جب امریکہ نے صرف مذمتی بیان تک خود کو محدود رکھا۔
اسی طرح سنہ 2025 میں قطر کو ایران اور بعد ازاں اسرائیل کی جانب سے پیش آنے والے حملوں نے بھی امریکہ کے ساتھ طویل المدتی تعلقات کی افادیت پر بحث کو مزید تیز کر دیا۔
خلیج میں غصہ اور بے چینیGetty Images
28 فروری کو ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ جنگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی، جن کا ملک امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کر رہا تھا، نے اعلان کیا تھا کہ بات چیت میں ’نمایاں اور غیر معمولی پیش رفت‘ ہو چکی ہے اور معاہدہ ’دسترس‘ میں ہے۔
تاہم اس کے بعد خلیجی ممالک خود کو اچانک ایک ایسی جنگ میں گھرا ہوا پا رہے تھے جس نے ایران کے ساتھ ان کے تعلقات کو، برسوں کی کوششوں کے باوجود ایک بار پھر بحران کا شکار کر دیا۔ یہ وہ تعلقات تھے جنھیں انھوں نے مشکل سے بحال کیا تھا اور سفارتی سطح پر بھی حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے تھے۔
ایرانی حملوں کے نتیجے میں خلیجی عرب ممالک کی معیشتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، خاص طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ سیاحت، ہوابازی، سرمایہ کاری اور ڈیٹا سینٹرز کے شعبوں میں علاقائی مرکز کے طور پر سعودی عرب، امارات اور قطر کی حیثیت بھی خطرے میں پڑ گئی۔
برطانوی جریدے دی اکنامسٹ میں 18 مارچ کو شائع ایک مضمون میں بدر البوسعیدی نے واشنگٹن پر ’اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھونے‘ کا الزام عائد کیا اور اس جنگ کو ’تباہی‘ قرار دیا۔
اماراتی ارب پتی خلف الحبتور کی ایکس پر کی گئی اور بعد ازاں ڈیلیٹ ہونے والی پوسٹس کو بھی خلیجی اشرافیہ کے غصے اور خدشات کا اظہار سمجھا گیا۔
انھوں نے لکھا کہ ’ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمیں کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ بھی کہ کس نے اس پورے خطے کو ہمارے جیسے اتحادیوں سے مشاورت کیے بغیر اس خطرناک کشیدگی میں دھکیل دیا۔۔۔ ہمیں کسی کی ضرورت نہیں جو مشرق وسطیٰ آ کر ہمیں بچانے کا دعویٰ کرے۔۔۔ ہم ایران کے خطرے سے انکار نہیں کرتے، لیکن یہ ایک گندا کھیل ہے جس میں بڑی طاقتیں ہمارے خطے کی قیمت پر لڑ رہی ہیں۔۔۔ ہم دوسروں کے مفادات کے لیے اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔‘
قطری ماہر نائف بن نہار نے بھی امریکی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی منڈی پر اثرات کے خوف سے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ مؤخر کیا، حالانکہ خلیجی ممالک کئی ہفتوں سے ایرانی حملوں کی زد میں تھے اور اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کر چکے تھے۔‘
سعودی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ ترکی فیصل نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ نیتن یاہو کی جنگ ہے۔۔۔ اور واضح ہے کہ انھوں نے کسی نہ کسی طرح صدر (ٹرمپ) کو اپنے مؤقف کی حمایت پر آمادہ کر لیا ہے۔‘
جنگ کے آغاز سے خلیجی ممالک میں یہ احساس پایا گیا کہ امریکی حمایت ان کو لاحق خطرات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ سلطان عامر کے مطابق عوامی سطح پر دو بڑے خدشات پائے جاتے ہیں جن میں سے پہلا یہ خوف کہ امریکہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں خلیجی مفادات کو نظر انداز کر سکتا ہے۔
اور دوسرا یہ اندیشہ کہ واشنگٹن کے مزید فیصلے انھیں ایسی جنگ میں مزید خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں جس میں ان کی رائے اور مرضی شامل نہیں تھی۔‘
تاہم ایران کی نسبتاً کم لاگت والے ڈرون اور میزائل حملوں نے خلیجی ممالک کے مہنگے دفاعی نظاموں کو بھی چیلنج کیا۔
ان حملوں نے ڈی سالینیشن پلانٹس، تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بنایا اور نمایاں نقصان پہنچایا جس سے ان ممالک میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا اور سکیورٹی نظام کی کمزوریاں نمایاں ہوئیں۔
نئے اتحاد اور خطرات کم کرنے کی حکمتِ عملیGetty Images
حالیہ برسوں میں عرب خلیجی ممالک نے اپنی اقتصادی اور تکنیکی شراکتوں میں تنوع پیدا کرنا شروع کیا ہے جس میں چین، انڈیا، روس، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک شامل ہیں۔ یہ رجحان دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں تک بھی پھیلا ہے اگرچہ نسبتاً محدود پیمانے پر۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے مارچ کے اواخر میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے خلیجِ فارس کے دورے کے موقع پر یوکرین کے ساتھ معاہدے کیے۔
ان معاہدوں کے تحت کئیو نے ان ممالک کو جنگی ڈرونز، الیکٹرانک جنگی ٹیکنالوجی اور اینٹی ڈرون سسٹم فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سے قبل زیلنسکی اعلان کر چکے تھے کہ یوکرین متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، کویت اور اردن کو ایرانی ڈرونز کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
ادھر خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس نے دو اسرائیلی اور ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ خبر دی کہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز میں ہی اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو ’آئرن ڈوم‘ فضائی دفاعی نظام اور اسے چلانے کے لیے اہلکار بھی فراہم کیے۔
یہ سوال اب اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا یہ تنازع خلیجی ممالک کو امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر نظرثانی پر مجبور کرے گا یا ان کا واشنگٹن پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔
کنگز کالج لندن کے شعبہ سکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ’میرا خیال ہے کہ یہ تنازع امریکہ سے مکمل دوری کے بجائے زیادہ سخت اور مشروط انحصار کا باعث بنے گا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’خلیجی ممالک سٹریٹیجک معاملات میں علیحدگی کی جانب نہیں بڑھ رہے بلکہ اسی تعلق کو زیادہ محتاط اور حقیقت پسندانہ انداز میں برقرار رکھ رہے ہیں۔‘
’سعودی عرب میں اس وقت اس جنگ کو یوں دیکھا جا رہا ہے کہ انھیں ایک طرف امریکہ پر انحصار جاری رکھنا ہے، لیکن دوسری جانب سٹریٹیجک خودمختاری بھی بڑھانی ہے۔‘
ان کے بقول اس میں اپنے ذخائر میں اضافہ، داخلی استحکام کو مضبوط بنانا، قومی دفاعی صنعت کو فروغ دینا، نئے اور جدید فضائی دفاعی نظام تیار کرنا اور خلیجی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانا شامل ہے، تاہم یہ سب کچھ امریکہ کی رہنمائی میں رہتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔
آخر میں اُن کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ جنگ قلیل مدت میں خلیجی ممالک کے امریکہ پر انحصار کو بڑھا دے گی، لیکن اسی کے ساتھ اس پر اعتماد کو کمزور بھی کرے گی۔‘
Reutersیوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے گزشتہ ماہ خلیج فارس کے اپنے دورے کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ فوجی معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی تصویر اوپر دی گئی ہے۔
سلطان عامر کا بھی ماننا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی فوجی شراکتوں میں تنوع لاتے رہیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں خلیجی ممالک امریکہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک کو اس کی جگہ نہیں لائیں گے بلکہ وہ اس شراکت کو برقرار رکھتے ہوئے دیگر وسائل اور شراکت داروں کے ذریعے اپنے سکیورٹی نظام کو مضبوط اور متنوع بنانا چاہتے ہیں۔‘
فریقین کے درمیان مکمل علیحدگی کے امکانات کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کے حملوں نے بعض خلیجی ممالک میں امریکی سکیورٹی کی ضرورت کے احساس کو مزید تقویت دی ہے۔
جیفری گرش کے مطابق ’اکثر خلیجی ممالک ایران کے خلاف امریکی فوجی موجودگی کو ایک اہم دفاعی رکاوٹ سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ موجودہ بحران میں بھی۔ اسی لیے بحرین اور قطر جیسے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کو جائز سمجھا جاتا ہے۔‘
متحدہ عرب امارات کے سابق وزیر مملکت اور صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے 17 مارچ کو بلومبرگ نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں نے انھیں اسرائیل اور امریکہ کے مزید قریب کر دیا ہے۔‘
ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ امریکہ کا کوئی واضح اور مؤثر متبادل موجود نہیں۔
اینڈریاس کریگ کے مطابق چین اور روس جیسے ممالک ’اہم سیاسی کھلاڑی ضرور ہیں، لیکن جب خلیجی دارالحکومتوں کو فوری فضائی دفاع، انٹیلیجنس تعاون اور مسلسل و قابلِ اعتماد دفاعی رکاوٹ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ امریکہ کے متبادل کے طور پر سامنے نہیں آتے۔‘
ان کے بقول ’شراکتوں میں تنوع کی کوششیں جاری ہیں مگر وہ صلاحیتوں، جغرافیے اور وقت کی پابندیوں کی وجہ سے اب بھی محدود ہیں۔‘
سلطان عامر کا کہنا ہے کہ ’امریکہ سے حاصل کردہ فضائی دفاعی نظام، جسے ایران کے میزائل حملوں کے خلاف استعمال کیا گیا ’90 فیصد سے زائد حملوں کو روکنے میں کامیاب رہا اور میرا خیال ہے کہ یہ رجحان جاری رہے گا۔‘
تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’خلیجی ممالک کم لاگت اور زیادہ مؤثر نظام، جیسے یوکرین کے ہتھیار یا دیگر متبادل بھی شامل کر سکتے ہیں تاکہ اس نوعیت کے خطرات کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔‘
ان کے مطابق ’مشترکہ فوجی تعاون اور فوجی اڈوں کے نیٹ ورک کو تبدیل کرنا یا اس کی جگہ لینا آسان نہیں، کیونکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو 30 سے 40 برس میں تشکیل پایا ہے اور اس پر بھاری وسائل خرچ کیے گئے ہیں، جبکہ امریکی فوجی ٹیکنالوجی کا ابھی تک کوئی حقیقی متبادل موجود نہیں۔‘
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ خلیجی ممالک امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے ایک جیسا مؤقف نہیں رکھتے۔ سلطان عامر کے مطابق ’کچھ ممالک کے پاس امریکہ کے علاوہ متبادل موجود ہیں، جبکہ کچھ کے پاس ایسا نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ امکان موجود ہے کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات مزید مضبوط کرے، جبکہ سعودی عرب ترکی اور پاکستان کے ساتھ علاقائی روابط کو پہلے سے زیادہ وسعت دے۔‘
حالیہ بحران نے جہاں توقعات اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتے فرق کو واضح کیا ہے وہیں اس نے امریکہ اور خلیجی ممالک کے سکیورٹی اتحاد کی کمزوریوں یا کم از کم اس کی حدود کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔
اب خلیجی ممالک کے سامنے بنیادی اور اہم ترین چیلنج یہ ہے کہ وہ امریکی سکیورٹی کے سائے کے نیچے رہیں یا اس پر اپنے انحصار کو کس طرح منظم کریں اور مختلف شراکتوں اور اقدامات کے ذریعے مستقبل کے خطرات کو کس حد تک کم کر سکتے ہیں۔
امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ: ایک تنازع اور کامیابی کے دو متضاد دعوے’تین دن گزر گئے، ابھی تک کوئی کنواں نہیں پھٹا‘: کیا ایران میں تیل کے کنویں واقعی بند ہونے کے قریب ہیں؟چین کی ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریاں جو پابندی کا شکار ایرانی تیل خرید کر منافع کماتی ہیںایرانی حملے، مصری فضائیہ اور اسرائیل: متحدہ عرب امارات کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کیوں خراب ہوئے؟کیا شام کے تجویز کردہ ’فور سیز اور فور پلس ون‘ منصوبے آبنائے ہرمز کے متبادل ہو سکتے ہیں؟آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: کیا ماضی میں ایسے اقدامات کسی ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکے ہیں؟