Areeba Ansariمراٹھی اداکارہ گریجا اوک نے بی بی سی ہندی سے بات کی کہ کس طرح ان کی تصاویر میں اے آئی کے ذریعے ردوبدل کی گئی۔
’مجھے ایک تصویر بھیجی گئی جس میں میرا چہرہ چھوٹے چھوٹے کپڑے پہنی ایک خاتون کے دھڑ پر چسپاں کیا گیا تھا، اس عورت کے پاس چھوٹے کپڑے پہنا ایک آدمی بیٹھا تھا، جس کے دھڑ پر میرے 12 سالہ بیٹے کا چہرہ لگا ہوا تھا۔ یہ بہت برا تھا، مجھے غصے آیا۔‘
یہ کہنا تھا مراٹھی اداکارہ گریجا اوک کا جو ایک پوڈ کاسٹ کے وائرل ہونے کے بعد انٹرنیٹ پر بے پناہ مشہور ہو گئی تھیں۔ یہاں تک کہ لوگ انھیں ’نیشنل کرش‘ کہہ کر پکارنے لگے۔
لیکن اس کے بعد جس انداز میں ان کی تصاویر کا غلط استعمال کیا گیا اس نے انھیں حیران کر دیا تھا۔
ممبئی میں بی بی سی ہندی کو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے اس بارے میں تفصیل سے بات کی ہے۔
مذکورہ تصویر موصول ہونے کے بعد گریجا نے دسمبر 2025 میں اوشیوارا پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر درج کروائی، جس کے بعد کئی تصاویر اور ویڈیوز ہٹا دی گئیں۔
ایف آئی آر تعزیرات ہند کی دفعہ 79 (عورت کی عزت کو مجروح کرنا)، 356 (2) (ہتک عزت) اور آئی ٹی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کی گئی تھی۔
گریجا اوک نے کہا کہ ’اے آئی نامی یہ ٹول کسی کے ہاتھ میں بھی ہو سکتا ہے اور یہ بہت خوفناک ہے۔‘
گریجا کی کہانیAreeba Ansariگریجا اوک نے کہا کہ 'اے آئی نامی یہ ٹول کسی کے ہاتھ میں بھی ہو سکتا ہے اور یہ بہت خوفناک ہے۔'
گریجا مراٹھی سنیما کی معروف اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ’تارے زمین پر‘، ’شور ان دی سٹی‘ اور ’جوان‘ جیسیمشہور ہندی فلموں میں بھی کام کر چکی ہیں۔
ہماری ان سے ممبئی کے کارٹر روڈ پر ملاقات ہوئے، جہاں لوگ ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے رک رہے تھے اور گریجا مسکرا کر ان کے ساتھ تصویریں بنوا رہی تھیں۔
گریجا نومبر 2025 میں سوربھ دویدی کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ سیریز میں آنے کے بعد انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی تھیں۔ نیلی ساڑھی میں ملبوس، گریجا نے اتنے اعتماد کے ساتھ بات کی کہ وہ لوگوں کو بھا گئیں۔
لیکن جہاں ایک طرف گریجا کے مداح تھے، وہیں دوسری طرف کچھ افراد ایسے بھی تھے جنھوں نے ان کی تصاویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے انھیں پوسٹ کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ شاید انٹرنیٹ پر بیٹھے کچھ لوگوں کو ایک نیا چہرہ دکھ گیا تھا جس پر انھوں نے اے آئی یا مصنوعی ذہانت کے ٹول استعمال کرنے کا سوچا۔
وہ بتاتی ہیں ’کچھ تصاویر ایسی ہیں جن میں میں نے ساڑھی پہنی ہوئی ہے اور وہ بکنی میں بدل دی گئی ہے یا میرا ٹاپ ہے ہی نہیں۔ لوگ ایسی تصاویر میں اینی میشن بھی ڈالتے ہیں، جیسے میں آگے جھک کر اپنی زبان نکال رہی ہوں یا اچانک کوئی آدمی فریم میں آتا ہے اور ہم کس کرنے لگ جاتے ہیں۔‘
گریجا نے زیادہ تر ایسے مواد کو نظر انداز کر دیا۔
تاہم جب انھیں اے آئی کی مدد سے ان کے بیٹے کے ساتھ بنائی گئی تصویر موصول ہوئی تو انھوں نے ممبئی کے اوشیوارا پولیس سٹیشن میں شکایت درج کرائی، جس کے بعد ان کی تصاویر کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا۔
رشمیکا مندانا کی وائرل ویڈیو: ڈیپ فیک کیا ہے اور اس کی شناخت کیسے کی جا سکتی ہے؟ڈیپ فیک: جب ایک ’دوست‘ نے ساتھ گزرے ہر لمحے کو پورن میں بدل دیاڈیپ فیک پورن: ’جب طلبا میری طرف دیکھتے ہیں تو میں سوچتی ہوں کہ کہیں انھوں نے میری تصویر تو نہیں دیکھ لی‘ڈیپ فیک، اے آئی اور ’شخصی حقوق‘: وہ رجحان جس سے بالی وڈ کے بڑے نام بھی پریشان ہیںاے آئی کا غلط استعمالReuters
جہاں ایک طرف آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہے وہیں ہم سب ہی اس کے غلط استعمال کے نشانے پر ہیں۔
ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ اے آئی کو قابل اعتراض اور فحش ویڈیوز بنانے اور پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خواتین اور بچے خاص طور پر ایسی کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کام کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈیپ فیکس جیسے ٹولز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں تمل ناڈو میں لڑکیوں کی جعلی ویڈیو بنانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
اس کیس میں ایک طالب علم نے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے کچھ طالبات کی تصاویر میں ردوبدل کیا اور انھیں آن لائن پوسٹ کیا۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے 20 سالہ طالب علم کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ انتقام کی خاطر ایسی ویڈیوز بناتے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ آسام میں سامنے آیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک خاتون کے سابق بوائے فرینڈ نے ان سے بدلہ لینے کے لیے اے آئی ٹولز کی مدد سے ان کی تصاویر میں ردوبدل کیا اور ان فحش تصاویر کو آن لائن پوسٹ کر دیا۔ مذکورہ ملزم نے ان تصاویرکی اشاعتسے لاکھوں روپے بھی کمائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل ایسی ایپس بھی عام ہو گئی ہیں جنھیں ’نیوڈیفیکیشن ایپس‘ کہا جاتا ہے۔ ان ایپس کی مدد سے تصاویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے ان میں موجود کسی بھی شخص کو برہنہ دکھایا جا سکتا ہے۔
Getty Images
انڈین وزارت داخلہ کی جانب سے ایوانِ بالا یا راجیہ سبھا کو بتایا گیا ہے کہ 2025 میں نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر خواتین کے خلاف جرائم کے 76,657 معاملے درج کیے گئے، جب کہ 2024 میں ایسے کیسز کی تعداد 48,335 تھی۔
غیر سرکاری تنظیم رتی فاؤنڈیشن کی شریک بانی اوما سبرامنیم کے مطابق یہ غلط رجحان چھوٹے شہروں کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں میں بھی پھیلتا جا رہا ہے اور ان شہروں کی لڑکیاں ڈیپ فیک کا شکار ہو رہی ہیں۔
یہ تنظیم آن لائن صنفی تشدد کا سامنا کرنے والی لڑکیوں کی مدد کے لیے کام کرتی ہے۔
اوما سبرامنیم کا کہنا ہے کہ 2024 سے 2025 کے درمیان ان کی ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی دس میں سے ایک کال اے آئی سے بنائے گئے مواد کے متعلق تھی۔
وارانسی میں بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کی فحش تصاویر وائرل کی گئی تھیں۔
اس معاملے سے جڑے وکیل راگھو اوستھی کا کہنا ہے کہ جب بھی متاثرہ انفلوئنسر سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹ کرتیں تو اس کا اے سے تیار کردہ فحش مواد وائرل کر دیا جاتا۔
Areeba Ansariاوما سبرامنیم کی تنظیم آن لائن صنفی تشدد کا سامنا کرنے والی لڑکیوں کے ساتھ کام کرتی ہے۔
راگھو اوستھی نے بی بی سی ہندی کو بتایا، ’ہمیں اس معاملے میں پولیس یا ضلعی عدالت سے کوئی راحت نہیں ملی۔ اس کے بعد، ہم نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی اور حکم امتناعی کا مطالبہ کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکم امتناعی کے تحت نہ صرف ان تصاویر ہٹانے کی ہدایت کی گئی جس کے لنکس فراہم کیے گئے تھے بلکہ عدالت نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہر جگہ سے ایسی تصاویر ہٹانے کی بھی ہدایت کی۔
راگھو اوستھی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں تصویر ہٹانے کے لیے کافی قانونی جدوجہد کرنی پڑی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ہر کسی کے پاس ایسی جنگ لڑنے کی ہمت اور وسائل نہیں ہوتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ مواد اکثر خواتین کے بارے میں منفی یا دقیانوسی خیالات کو فروغ دیتا ہے جیسے کہ یہ خیال کہ خواتین آگے بڑھنے کے لیے اپنے جسم کا استعمال کرتی ہیں۔
سینٹر فار سوشل ریسرچ انڈیا کی جیوتی وڈھیرا کا کہنا ہے، ’جن سماجی مسائل کے خلاف ہم اتنے سالوں سے جدوجہد کر رہے ہیں، اب انھیں ایک بار پھر تقویت بخشی جا رہی ہے۔
’مواد اس بات کو فروغ دے رہا ہے کہ کس طرح اچھی جلد یا ایک مخصوص جسمانی ساخت کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بہت کم عمر لڑکیوں اور بچوں کا آن لائن جنسی استحصال کیا جا رہا ہے۔‘
’گھبرائیں نہیں اور شواہد جمع کریں‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے بارے میں کسی نے ایسا کوئی مواد پوسٹ کیا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ سوچیں کہ آپ قانون سے کیسے مدد لے سکتے ہیں۔
اوما سبرامنیم اس طرح کے معاملات میں ثبوت اکٹھا کرنے کی اہمیت کی وضاحت کرتی ہیں اور آپ شکایت کیسے درج کر سکتے ہیں۔
وہ وضاحت کرتی ہیں کہ جیسے ہی آپ کوئی ڈیپ فیک یا فحش پوسٹ دیکھیں، اس کا سکرین شاٹ لیں اور تمام لنکس جمع کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ انسٹاگرام یا واٹس ایپ جیسے کسی پلیٹ فارم پر ایسی پوسٹ دیکھتے ہیں تو آپ خود اس پلیٹ فارم پر رپورٹ درج کر سکتے ہیں۔
اس کے مجاز اتھارٹی سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔
ڈیپ فیک، اے آئی اور ’شخصی حقوق‘: وہ رجحان جس سے بالی وڈ کے بڑے نام بھی پریشان ہیںڈیپ فیک پورن کے ’زندگی کو ہلا دینے والے‘ اثرات جو ہمیشہ کے لیے صدمہ بن جاتے ہیں’ڈرائنگ رومز سے برہنہ جسموں تک سب دیکھنا پڑتا ہے‘: میٹا نے سمارٹ گلاسز کے مواد کا جائزہ لینے والی کمپنی کا معاہدہ کیوں منسوخ کیا؟ڈیپ فیک ویڈیوز کیا ہیں اور کیسے پہچانی جائیں؟’یہ کسی کے بھی کپڑے اتار سکتی ہیں‘: ایپل نے بی بی سی کی تحقیقات کے بعد ’برہنہ تصاویر‘ بنانے والی ایپس ہٹا دیںفحش ویب سائٹ کا لنک اور ڈیپ فیک: ’پورن سائٹ پر میری جعلی فحش تصاویر اور ویڈیو ڈالنے والا میرا ہی دوست تھا‘ان لوگوں کی کہانی جو ’بریک اپ‘ اور رومانوی تعلقات کے لیے مصنوعی ذہانت کی رہنمائی حاصل کرتے ہیں