Getty Images
پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے باوجود اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اُمید ظاہر کی ہے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے۔ اسحاق ڈارکا مزید کہنا تھا کہ اُنھوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ فریقین کے درمیان ہونے والے ’مشکل اور تعمیری مذاکرات‘ کے کئی دور کے دوران فریقین کی معاونت کی۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد نے بھی مذاکرات کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کو اچھا میزبان قرار دیا۔
دونوں ممالک کے درمیان جنگ رکوانے اور اسلام آباد میں مذاکرات کی میز سجانے کو ہی بہت سے حلقے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے تھے، جس سے پاکستان کا عالمی سطح پر قد کاٹھ بڑھا ہے۔ لیکن حتمی معاہدہ نہ ہونے پراسلام آباد میں مایوسی بھی ہے۔
پاکستان کو اسلام آباد مذاکرات سے کیا حاصل ہوا اور کیا یہ اب بھی فریقین کے درمیان امن معاہدہ کروانا کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو پھر پاکستان کے لیے آگے کا کیا راستہ کیا ہو گا؟ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے مختلف ماہرین سے بات کی ہے۔
Getty Images
مشرقِ وسطیٰ اُمور کے ماہر اور پنجاب یونیورسٹی پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق حسنات کہتے ہیں کہ ان مذاکرات کو بے نتیجہ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ اس نوعیت کے مذاکرات بہت وقت لیتے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ فریقین نے یہ نہیں کہا کہ یہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں، بلکہ دونوں اپنی کچھ شرائط پر سمجھوتہ نہیں کر پا رہے۔
خیال رہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے کے باعث تاحال جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ مذاکرات ’بد اعتمادی کے ماحول‘ میں شروع ہوئے تھے اور ایک نشست میں معاہدہ طے پائے جانے کا امکان کم تھا۔
ڈاکٹر فاروق حسنات کہتے ہیں کہ پاکستان نے اس سارے تنازع میں خود کو ایک غیر جانب دار فریق کے طور پر ثابت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں فریقوں نے اسلام آباد آنے پر رضا مندی ظاہر کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ گو کہ معاہدہ نہیں ہوا، لیکن دونوں فریق یہ تصدیق کر رہے ہیں کہ کچھ معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہی کامیابی بہت بڑی ہے کہ اس نے دو ایسے فریقوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا، جنھوں نے 1979 کے بعد براہ راست مذاکرات نہیں کیے تھے۔
Getty Images’فریقین کو آمنے سامنے بٹھانا ہی پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے‘
سینیئر سیاست دان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ان تاریخی مذاکراتی عمل کے جاری رہنے کے لیے امریکہ اور ایران نے ایک کھڑکی کھلی رکھی ہے اور یہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ہی ہوا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی تین گنا اہمیت ہے۔
اُن کے بقول 21 گھنٹے تک مذاکرات جاری رہنے کا یہ مطلب ہے کہ فریقین نے بہت تفصیل سے بات چیت کی ہے اور اس میں دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین بھی شامل تھے۔
مشاہد حسین سید کا مزید کہنا تھا کہ دوسری اہم بات ان مذاکرات میں اعلی سطح کے رہنماؤں کی شرکت ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف شریک ہوئے۔
مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ فریقین کی جانب سے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دینا، اس بات کی عکاسی ہے کہ پاکستان نے امن معاہدے کی کوششوں کی کتنی سنجیدہ کوششیں کیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ اسلام آباد مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوا، تاہم یہ مذاکرات ختم بھی نہیں ہوئے جو ایک اچھی علامت ہے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کردار جس کی دونوں فریق تعریف کر رہے ہیں، وہ برقرار رہے گا۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اگر مذاکرات کا اگلا دور ہوتا ہے تو وہ پاکستان میں ہوں گے یا نہیں۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ مذاکرات کے بعد پاکستان کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوا ہے، کیونکہ پاکستان 21 گھنٹے تک جاری رہنے والےپیچیدہ مذاکرات میں شامل رہا ہے اور مذاکرات کے کسی اگلے دور میں دونوں فریق پاکستان سے ہی رجوع کریں گے۔
اُن کے بقول اس وقت کوئی ایسا ملک نہیں ہے، جو پاکستان کی جگہ لے سکے۔
امریکہ کی ’فائنل آفر‘، تہران کا جواب اور پاکستان کی امید: اسلام آباد مذاکرات ختم ہونے پر ایران نے کیا کہا اور اب کیا ہو گا؟ امریکی اور ایرانی وفد کی آمد سے مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہنے کے اعلان تک، اسلام آباد میں کیا ہوتا رہا؟ترکی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے پاکستان کی مدد کیسے کی؟’پاکستان کی درخواست پر‘ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر کیسے اور کن شرائط پر تیار ہوئے؟
مشاہد حسین سید بھی ڈاکٹر فاروق حسنات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں فریقوں کو آمنے سامنے بٹھانا پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔
اُن کے بقول مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہ ہونے کے باوجود دونوں فریقوں کے بیانات متوازن اور نپے تلے تھے، لہٰذا محتاط رہتے ہوئے اُمید رکھی جا سکتی ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین کہتے ہیں کہ پاکستان نے اُس وقت قدم اُٹھایا جب دُنیا کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
ایکس پر اپنی پوسٹ میں طلعت حسین کا کہنا تھا کہ افراتفری کے دوران ایک جنگ کو روک کر پاکستان نے ثالث کے طور پر اپنے کردار کو عالمی سطح پر منوایا اور ثابت کیا کہ پائیدار امن صرف بات چیت کے ذریعے آتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے 28 فروری کو امریکہ اور ایران کے درمیان ٹوٹنے والا مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ جوڑ دیا۔ سفارتکاری ایک میراتھون ریس کی طرح ہے۔
مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ اب بال امریکہ کے کورٹ میں ہے اور اب یہ صدر ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ خود کو ایران جنگ کی ’دلدل‘ سے نکالتے ہیں یا نیتن یاہو جیسے جنگی جنون میں مبتلا رہنماؤں کی باتوں میں آتے ہیں۔
اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے سینیئر فیلو مائیکل کگلمین کہتے ہیں کہ امریکہ اندرونی سیاسی حالات کی وجہ سے ایک ایسا معاہدہ چاہتا تھا جس کے ذریعے وہ اس جنگ سے نکل سکے۔
ایکس پر اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ نائب صدر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد بھیجنا امریکی عزم کا اظہار تھے۔
اُن کے بقول نائب صدر وینس کی نیوز کانفرنس کے باوجود یہ ابھی ختم نہیں ہوا، ابھی مزید بات چیت ہو سکتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ مذاکرات پاکستان میں ہوں گے یا کسی اور جگہ پر۔
Getty Imagesاگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو پاکستان کہاں کھڑا ہو گا؟
سنیچر کو سعودی وزارت دفاع نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کی طرف سے سنیچر کو ایکس پر جاری تفصیلات کے مطابق ’یہ تعیناتی دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پانے والے مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عسکری ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، عملی تیاری کے معیار کو بلند کرنا، اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں تعاون فراہم کرنا ہے۔‘
ڈاکٹر فاروق حسنات کہتے ہیں کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو پاکستان کو مشکل صورتحال کا سامنا ہو گا۔ اُن کے بقول اگر امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے، تو پھر ایران بھی خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر حملے کرے گا۔
وہ کہتے ہیں اب تک ایران نے سعودی عرب پر بہت کم حملے کیے ہیں، تاہم اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی اور ایران نے سعودی عرب پر بھی حملے کیے تو پھر پاکستان پر دباؤ بڑھے گا۔
اُن کے بقول سعودی عرب اور ایران کے درمیان اگر براہ راست لڑائی شروع ہوئی تو ممکن ہے کہ یمن کے حوثی سعودی عرب پر حملے شروع کر دیں۔
ڈاکٹر فاروق حسنات کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کی فوج یمن کے حوثی باغیوں کی کارروائیاں روکے گی، لہٰذا پاکستان کی لڑائی براہ راست ایران سے نہیں ہو گی۔
Getty Images
یاد رہے کہ سنہ 2015 میں سعودی عرب نے یمن پر حملے سے پہلے پاکستان سے اپنی فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی جس کو پارلیمنٹ کی ایک قراد داد پیش ہونے کے بعد مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس دوران پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں سرد مہری بھی پیدا ہو گئی تھی۔
فاروق حسنات کہتے ہیں کہ گذشتہ برس سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے کی بھی پارلیمنٹ سے منظوری نہیں لی گئی تھی اور اب مزید فوج بھیجنے سے پہلے بھی پارلیمان سے منظوری نہیں لی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ کسی تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ ایران ہمسایہ ملک ہے اور اگر پاکستان کو کسی مرحلے میں فریق بننا پڑا تو اس پر پارلیمان کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے چاہییں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سنہ 2018 میں پاکستان کی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے فوج کے مزید دستوں کو مشاورتی اور تربیتی مشن پر سعودی عرب میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پر اُس وقت پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے حکومت سے وضاحت طلب کی تھی۔
اُس وقت پاکستانی فوج نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب میں 1180 پاکستانی فوجی پہلے سے تعینات ہیں جو سنہ 1982 میں ہوئے ایک باہمی معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیجے گئے تھے۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ نو ماہ پہلے ہوا تھا اور اس کے بارے میں سب کو پتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے باوجود فریقین نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا، کیونکہ دونوں فریق اب مزید لڑائی نہیں چاہتے۔ لہٰذا فوری طور پر ایسا نہیں لگتا کہ دوبارہ جنگ شروع ہو گی اور ایران، سعودی عرب کو نشانہ بنائے گا۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات جس نوعیت کے ہو چکے ہیں، اس میں ایران بھی ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھائے گا جو پاکستان کو اس تنازع میں شامل ہونے پر مجبور کرے۔
امریکی اور ایرانی وفد کی آمد سے مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہنے کے اعلان تک، اسلام آباد میں کیا ہوتا رہا؟امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ بڑے اختلافات کیا ہیں؟’ہم دوست نہیں بھائی ہیں‘: ایرانی عوام کی پاکستان سے امیدیں مگر امریکہ پر عدم اعتمادآبنائے ہرمز ایران کے لیے ’جوہری بم‘ سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیارکیا امریکہ نے ایران جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں؟