Getty Images
اگرچہ ایرانی قیادت کی جانب سے سرکاری سطح پر دو ہفتے کی جنگ بندی اور اسلام آباد میں امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستانی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے، تاہم عوامی سطح پر عام ایرانیوں کے جذبات اور رائے حکومتی مؤقف سے قدرے مختلف دکھائی دیتی ہے۔
حالیہ سفارتی پیش رفت میں پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست اور اس کے بعد پاکستان کے ثالثی کردار کو نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ ایرانی عوام اس پورے عمل، پاکستان کے کردار اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
بی بی سی نیوز اردو نے اس حوالے سے ایران میں مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے بات کی۔ ان کی پاکستان کے ثالثی کردار پر عمومی طور پر رائے مثبت دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ان آرا میں مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل پر عدم اعتماد اور خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق گہری تشویش کی جھلک بھی ملتی ہے۔
کچھ ایرانی شہری پاکستان کو ایک برادر اور قریبی ہمسایہ قرار دیتے ہوئے اس کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک پاکستان کی غیرجانبداری اور اس کی عالمی طاقتوں کے ساتھ وابستگی اس کے ثالثی کردار پر سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اسلام آباد مذاکرات سے لوگوں کو امیدیں بھی ہیں اور خدشات بھی۔۔۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ مذاکرات واقعی کسی پائیدار اور دیرپا نتیجے تک پہنچ سکیں گے یا نہیں؟
ایران میں پاکستان اور اس کے سفارتی کردار کے بارے میں رائے کیا ہے؟
44 سالہ علی رضا کومیلی ایک میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں۔
بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ایرانی عوام مجموعی طور پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں، لیکن امریکہ اور اسرائیل کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق ایرانی عوام سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں ملک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حق میں نہیں۔
علی رضا کومیلی نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کچھ ایرانیوں کو خدشہ ہے کہ پاکستان میں موجود ایرانی ٹیم پر حملہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں پاکستان پر اعتماد نہیں بلکہ امریکہ اور خاص طور پر اسرائیل کے بارے میں خدشات ہیں، کیونکہ ان کے مطابق وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی نہیں چاہتے۔
ان کے مطابق ماضی میں بھی سیزفائر کے دوران ایران پر حملے کیے گئے، جس کی وجہ سے ایرانی عوام ان فریقین پر اعتماد نہیں کرتے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس اسرائیل نے 13 جون کو اس وقت اچانک یران میں درجنوں ایرانی جوہری اور عسکری اہداف پر حملے کر دیے تھے جب امریکہ اور ایران جوہری مذاکرات کر رہے تھے۔ اس حملے سے صرف دو دن پہلے، صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو حملہ کرنے سے پہلے ٹھوس مذاکرات کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیں گے۔
رواں سال فروری میں عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جینیوا میں ایک بار پھر جوہری مذاکرات شروع ہوئے۔
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں سے محض دو روز قبل جینیوا میں مذاکرات کا تیسرا دور ہوا۔ عمان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے دوران مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور آنے والے ہفتے میں مذاکرات کا ایک اور دور ہو گا۔
جب ان سے پاکستان کے وزیرِ اعظم کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سیزفائر میں توسیع کی درخواست اور پاکستان کی قیادت کی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی میں توسیع کے متعلق ان کی رائے پوچھی گئی تو علی رضا نے کہا کہ ان کے خیال میں ہم ’ایرانی عوام اس کو اس طرح نہیں دیکھتے۔‘
اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایرانی عوام کا خیال ہے کہ خطے میں ایران کے امریکہ اور توانائی کے مراکز پر حملوں، آبنائے ہرمز پر ممکنہ دباؤ یا کارروائیوں نے امریکہ کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔‘ ان کے مطابق ایرانی اسی وجہ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ بندی بیرونی سفارت کاری کے بجائے زمینی حقائق اور طاقت کے توازن کے باعث ممکن ہوئی۔
پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر علی رضا کومیلی نے کہا کہ ایران پاکستان کی ثالثی کو مثبت سمجھتا ہے اور اس کی تعریف کرتا ہے، لیکن ان کے مطابق اصل اہمیت براہِ راست مذاکرات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر مذاکرات شروع نہ ہوں تو پاکستان کا کردار مکمل طور پر مؤثر نہیں ہو سکتا۔
عالمی میڈیا، وفود کی آمد اور سخت ترین سکیورٹی کے درمیان پاکستان کا دارالحکومت کیا منظر پیش کر رہا ہے؟اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود میں کون سی اہم شخصیات شامل ہیں؟وینس اور قالیباف نے بداعتمادی پر قابو پا لیا تو نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے مذاکراتی وفود کے طیاروں کی براہ راست ٹریکنگ اور ’میناب 168‘ کی نشستوں پر رکھے سکول بیگ اور بچوں کی وائرل تصاویر’پاکستان کا سعودی عرب اور امریکہ پر انحصار اس کی غیرجانبداری پر سوال اٹھاتا ہے‘
38 سالہ فرحاد رضائی ایک صحافی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان ثالثی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے مگر ان کے مطابق پاکستان کا دیگر فریقین سعودی عرب اور امریکہ پر انحصار اس کی غیرجانبداری پر سوال اٹھاتے ہیں۔
بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان ’مثبت کردار ادا کر سکتا ہے‘ اور خطے میں مذاکرات کی سہولت کاری میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی ثالثی بعض بیرونی اثرات کے باعث پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان ماضی میں بعض معاملات میں دیگر فریقین خصوصاً سعودی عرب پر انحصار کرتا رہا ہے، جبکہ اس کے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے بھی مضبوط تعلقات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعلقات بعض اوقات فائدہ مند ہوتے ہیں مگر اسی وجہ سے ایرانی پاکستان کی غیرجانبداری کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انھوں نے کہا یہاں ایک بڑا ’لیکن‘ موجود ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کی پوزیشن پر ابہام ہے، اسے مکمل طور پر خودمختار ثالث نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور ’میں نہیں جانتا کہ اس وقت امن مذاکرات یا امن عمل جو وہاں چل رہا ہے، اس میں پاکستان کی اصل پوزیشن کیا ہے۔ کیا یہ خود مختار پوزیشن ہے یا نہیں؟ یا ابھی بھی کوئی تیسرا فریق اس سارے عمل پر اثر انداز ہے۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ‘ ہوا جس کے تحت 'کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘ اس معاہدے کے متعلق کچھ مبصرین کا خیال تھا کہ یہ سٹریٹجک معاہدہ طاقت کے علاقائی توازن میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
فرہاد کا کہنا ہے کہ پاکستان اگر واقعی چاہے تو مثبت کردار ادا کر سکتا ہے اور ان کے مطابق ایک مثبت بات یہ ہے کہ آرمی چیف اس عمل کا حصہ ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی فوج کا کردار ایک نسبتاً مستحکم عنصر ہو سکتا ہے۔
Reutersامریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ۔
پریسا رضائی ایران میں آئی پی آئی ایس (IPIS) سے واسبتہ ایک ریسرچر ہیں۔
بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ایران میں زیادہ تر لوگ پاکستان کو ایک قریبی اور برادر ملک سمجھتے ہیں۔ ’ہمارے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ ہم پاکستان کو صرف ایک ہمسایہ نہیں بلکہ ایک دوست اور بھائی کی طرح دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خطے کا امن سب کے لیے ضروری ہے۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کی حالیہ سفارتی کوششوں کو ہم ایرانی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ اس بات کی اچھی مثال ہے کہ خطے کے ممالک خود مل کر اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ایران کی ’ہمسائیگی پالیسی‘ بھی یہی کہتی ہے کہ ہمسایہ ممالک کا امن اور ترقی سب کے فائدے میں ہے۔
پریسا کا ماننا ہے کہ ہم ایرانی پاکستان کی دوستی اور سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے تو دیکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہمیں اپنی طاقت پر بھی اعتماد ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ جب ہمسایہ ممالک مل کر کام کرتے ہیں تو باہر کی طاقتوں کے اثر کو کم کیا جا سکتا ہے۔
Getty Imagesعلی رضا کومیلی نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کچھ ایرانیوں کو خدشہ ہے کہ پاکستان میں موجود ایرانی ٹیم پر حملہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں پاکستان پر اعتماد نہیں بلکہ امریکہ اور خاص طور پر اسرائیل کے بارے میں خدشات ہیںاسلام آباد میں مذاکرات سے جڑی امیدیں اور خدشات
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے علی رضا کومیلی سمجھتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان کی میزبانی کو سراہا جا رہا ہے، لیکن انھیں یقین نہیں کہ یہ عمل کسی حتمی نتیجے تک پہنچ سکے گا۔
علی رضا کے مطابق ایرانی عوام کا ماننا ہے کہ پاکستان، مصر یا ترکی جیسے ممالک امریکہ پر فیصلہ کن اثر ڈالنے کی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
پریسا رضائی بتاتی ہیں کہ بطور ایرانی، مجھے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے امید ہے کہ بات چیت اصولوں پر مبنی ہوگی اور ہماری قومی طاقت کو بھی مدِنظر رکھا جائے گا۔ ہم ایرانی ہمیشہ یہ ثابت کرتے آئے ہیں کہ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم پرامن بات چیت اور منصفانہ حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کے خیال میں ان مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا انتخاب ایک اہم اور مثبت قدم ہے۔ ’یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے خطے کے ممالک خود بھی بڑے تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہر بار مغربی طاقتوں پر انحصار ضروری نہیں۔‘
وہ اس عمل میں پاکستان کے غیر جانبدار اور برادرانہ کردار کو بہت اہم سمجھتی ہیں۔
AFP via Getty Imagesپاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے فرہاد رضائی نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی اور مذہبی و علاقائی تعلقات کے باعث ایک اہم ثالث بن سکتا ہے، کیونکہ یہ ایک ہمسایہ اور اسلامی ملک ہے۔
پریسا کو توقع ہے کہ ان مذاکرات میں دوسرا فریق حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم کسی کمزوری کی حالت میں بات نہیں کر رہے بلکہ ایک مضبوط اور پُراعتماد پوزیشن سے مذاکرات میں شریک ہیں۔ ’میری رائے میں اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ دباؤ، دھمکی اور فوجی حل جیسے طریقوں کو ترک کرے۔‘
انھیں امید ہے کہ یہ مذاکرات باہمی احترام، عدم مداخلت اور ایرانی خودمختاری کے مکمل اعتراف کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے۔
پریسا کہتی ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے مثبت کردار کی بدولت دوسرا فریق ایران کی حقیقی طاقت اور استحکام کو سمجھے گا، جس سے خطے میں ایک پائیدار اور دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔‘
’چین اس عمل کا حصہ ہے تو شاید اسلام آباد مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نکل آئے‘
پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے فرہاد رضائی نے چین کی شمولیت کا ذکر کیا (جو ایران کے لیے بھروسہ مند ملک ہے) اور امید ظاہر کی ’چین اس عمل کا حصہ ہے تو شاید اسلام آباد مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نکل آئے‘ مگر ساتھ ہی امریکہ اور ایران کے درمیان گہرے عدم اعتماد کو اصل رکاوٹ قرار دیا۔
گذشتہ ماہ کے آخر میں پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد جاری کردہ پانچ نکاتی مشترکہ اعلامیے میں ایران اور امریکہ کے درمیان فوری جنگ بندی، مذاکرات کے آغاز، شہری انفراسٹرکچر اور اہم تنصیبات کے تحفظ اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں کی سکیورٹی پر زور دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد تہران سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق چین نے پاکستان کی درخواست پر اپنے قریبی اتحادی ایران کو راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
فرہاد رضائی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’بہت بڑا خلا‘ موجود ہے جو دہائیوں پر محیط تنازعات اور ناکام مذاکرات کا نتیجہ ہے۔
فرہاد امریکہ، ایران مذاکرات کے دوران دوبار ایران پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکہ نے باور کروایا ہے کہ اس کے لیے اسرائیل سے بڑھ کر کوئی نہیں۔
وہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور فوجی رہنماؤں کی اسرائیل کے ہاتھوں ہلاکت کی یادہانی کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے دونوں جنگوں میں تین ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کیا اور ہمارے انفراسٹرکچر پر حملہ کیا۔
ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ دو ہفتوں کی مجوزہ ٹائم لائن بہت مختصر ہے کیونکہ یہ مسئلہ تقریباً نصف صدی پر محیط ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا امریکہ ’نیک نیتی‘ کا مظاہرہ کرتا ہے یا یہ سب ایک دھوکہ ہے۔
فرہاد وزیرِاعظم شہباز شریف کی ایکس پوسٹ میں جنگ بندی کی شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ ہے۔ ’لیکن پھر آگے کیا ہوا؟ لبنان پر حملہ ہوا۔‘
ان کا ماننا ہے کہ بطور ثالث پاکستان کو یہ مؤقف رکھنا چاہیے تھا کہ آپ نے ڈیل قبول کی ہے تو تمام فریق اس پر قائم رہیں۔ ’کم از کم آپ کے وزیرِاعظم یہ ٹوئیٹ کر سکتے تھے کہ مسٹر ٹرمپ، آپ نے پہلے ہی لبنان کو جنگ بندی کا حصہ تسلیم کیا ہے، اس پر قائم رہیں۔‘
فرہاد خطے میں بڑھتی امریکی فوجی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے کہ علاقے میں بہت سے فوجی طیارے آ رہے ہیں اور پوری دنیا نے سنا اور پڑھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایرانیوں کے خلاف بہت سخت الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ انھوں نے پوری تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔۔۔ صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے۔
پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی اور مذہبی و علاقائی تعلقات کے باعث ایک اہم ثالث بن سکتا ہے، کیونکہ یہ ایک ہمسایہ اور اسلامی ملک ہے۔
تاہم فرہاد نے زور دیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان مکمل طور پر غیرجانبدار رہ سکتا ہے یا نہیں۔
ان کے مطابق پاکستان اب تک مثبت کردار ادا کرتا دکھائی دیا ہے، لیکن مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ دیکھتے ہیں، ہمیں انتظار کرنا چاہیے کہ کیا ہوتا ہے۔
ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ اور نیتن یاہو کی خواہش: ’مشرق وسطیٰ میں تبدیلیوں کا سلسلہ ابھی تھما نہیں‘کیا امریکہ نے ایران جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں؟’اچھے کی امید رکھیں‘: اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں پاکستان کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟ترکی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے پاکستان کی مدد کیسے کی؟’پاکستان کی درخواست پر‘ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر کیسے اور کن شرائط پر تیار ہوئے؟