AFP via Getty Imagesآشا بھوسلے کی عمر 92 برس تھی
معروف گلوکارہ آشا بھوسلے اتوار کے روز انتقال کر گئیں۔ ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بی بی سی کو اس کی تصدیق کی ہے۔
سنیچر کے روز دل کا دورہ پڑنے پر آشا بھوسلے کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ان کا جسم تو چلا گیا، لیکن ان کی آواز ہمیشہ کے لیے ہمارے درمیان موجود رہے گی۔
وقت بدلا، منظر بدلے، کتنی ہی نئی نسلیں اس دنیا میں آئیں، کتنی ہی ہیروئنز پردہ سکرین پر آئیں اور اپنا دور گزار کر چلی گئیں، لیکن آشا بھوسلے کی آواز ہمیشہ جوان رہی۔ آشا بھوسلے کی طویل اور مشکل جدوجہد کبھی بھی اس آواز کو تھکا نہ پائی۔
آشا بھوسلے میں گلوکاری کی غیر معمولی صلاحیت تھی، لیکن اس کے باوجود انھیں ’دوسری‘ پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا، کیونکہ ان کی اپنی عظیم اور لیجنڈری بڑی بہن، لتا منگیشکر، انڈیا کی فلم انڈسٹری میں نمبر ون تھیں۔
انڈیا میں پس پردہ گلوکاری کے افق پر لتا کا سورج چمک رہا تھا، جب آشا نے اس سورج کے سامنے اپنی آواز کا شعلہ جلانے پر اصرار کیا۔
ان دنوں یہ تقریباً ناممکن تھا۔ لیکن اپنی ثابت قدمی اور بے مثال صلاحیت کے ساتھ آشا بھوسلے لتا منگیشکر کے سائے سے باہر نکلیں اور موسیقی کے آسمان پر جگمائیں۔
جدوجہد کا آغازAFP via Getty Imagesسن 2008 میں آشا بھوسلے (بائیں) اور لتا منگیشکر، ہریدیناتھ منگیشکر (درمیان) کی 72ویں سالگرہ کے موقع پر ممبئی میں منعقدہ ایک پروگرام میں
موسیقی سے آشا کا تعلق ان کے پیدا ہوتے ہی قائم ہو گیا تھا۔ ان کے والد دیناناتھ منگیشکر کلاسیکی موسیقی کے سکالر اور مراٹھی تھیٹر کی معزز شخصیت تھے۔
ان کے پانچوں بچوں، لتا، مینا، آشا، اوشا اور بیٹے ہریدیناتھ نے بچپن سے ہی اپنے گھر میں موسیقی کو گونجتے سنا۔
اپنے بچپن کے دنوں میں لتا اور چھوٹی بہن آشا کبھی ایک دوسرے سے الگ نہ ہوتیں، آشا اپنی بڑی بہن کے پیچھے سائے کی طرح چلتی رہتیں۔
لیکن آشا جب صرف نو سال کی تھی تو والد کا سایہ ان کے سر سے ہٹ گیا۔ اپنے والد کی وفات کی وجہ سے منگیشکر خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا۔
روزگار کی تلاش میں خاندان سنہ 1945 میں بمبئی چلا گیا۔
یہاں، 14 سالہ لتا نے پورے خاندان کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی اور فلمی دنیا کے مشکل راستوں پر اپنی جدوجہد شروع کی۔
جلد ہی آشا بھی ان کی جدوجہد میں شامل ہو گئیں۔
لسوڑی شاہ کا نصرت، نصرت فتح علی خان کیسے بنامہدی حسن: موٹر مکینک سے شہنشاہ غزل بننے کا سفربڑے غلام علی خان: کلاسیکی موسیقی کے عظیم فنکار پاکستان چھوڑ کر انڈیا کیوں چلے گئے تھے’پاکستان آئیڈل جیتنے والے گمنام ہو جاتے ہیں‘: ساحر علی بگا کو ٹیلنٹ شوز اور انڈین گانوں سے اعتراض کیوںپہلے قدم اور کامیابی کی چھپن چھپائی
سنہ 1948 میں آشا نے فلم ’چنریا‘ کے ذریعے پس پردہ موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا۔ انھوں نے اپنا پہلا گانا ’ساون آیا رے‘ گیتا دت اور شمشاد بیگم کے ساتھ گایا۔ صرف ایک سال بعد، سنہ 1949 میں انھیں فلم ’رات کی رانی‘ میں اپنا پہلا سولو گانا ملا۔
یہ وہ سال تھا جو بڑی بہن لتا منگیشکر کی زندگی کا ’موڑ‘ ثابت ہوا۔ فلم ’محل‘ کے گیت ’آئے گا آنے والا‘ نے راتوں رات لتا کو کامیابی کی چوٹی تک پہنچا دیا اور پھر انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
سنہ 1950 کی دہائی میں لتا کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتی گئیں۔ وہ نوشاد، رام چندر، شنکر جے کشن اور ایس ڈی برمن جیسے لیجنڈری موسیقاروں کی پہلی پسند بن گئیں۔
لتا کا مقام اور آشا کی جدوجہد
انڈیا کی پس پردہ موسیقی پر لتا کی اجارہ داری قائم ہو رہی تھی، جبکہ سخت محنت کے باوجود آشا کو وہ مقام نہیں مل رہا تھا۔ اُس دور میں آشا کو زیادہ تر بی گریڈ یا کم بجٹ فلموں میں مواقع ملے۔ وہ اے آر قریشی، سجاد حسین اور سردار ملک جیسے موسیقاروں کے ساتھ کام کر رہی تھیں، لیکن بڑے موسیقار اور مرکزی فلم ساز ادارے ان سے دور تھے۔
آشا بھوسلے کی سوانح عمری لکھنے والے فلمی مؤرخ راجو بھارتن ان کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں: ’میں نے آشا بھوسلے کو کام کے لیے جدوجہد کرتے دیکھا ہے۔ اگر پروڈیوسرز لتا کو کاسٹ نہ کر سکتے تو ان کا اگلا انتخاب گیتا دت یا شمشاد بیگم ہوتیں۔ آشا کا نام تو اس فہرست میں شامل ہی نہیں تھا۔ تو انھیں جو بھی گیت گانے کے لیے ملتا، وہ گا دیتیں۔ ان کے ساتھ ایک مسئلہ ان کی ’مراٹھی ملی ہندی‘ اور تلفظ تھا۔ انھوں نے اپنی اردو کو بہتر بنانے میں اتنا کام نہیں کیا جتنا لتا نے کیا۔ اس کے علاوہ، ان کی ذاتی زندگی اور شادی شدہ زندگی بھی اتار چڑھاؤ سے بھری ہوئی تھی۔‘
جس ذاتی واقعہ کا راجو بھارتن نے ذکر کیا، وہ اُس وقت پیش آیا جب آشا صرف 16 سال کی تھیں۔ انھوں نے 31 سالہ گنپت راؤ بھوسلے کے ساتھ بھاگ کر شادی کر لی۔ خاندان کی خواہشات کے خلاف اٹھایا گیا یہ قدم دونوں بہنوں کے تعلقات میں ایسی دراڑیں پیدا کر گیا جو کئی سال تک بھر نہ پائیں۔
لتا منگیشکر کو لگا کہ یہ رشتہ ان کی چھوٹی بہن کے لیے اچھا نہیں ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں آشا بھوسلے نے اعتراف کیا: ’لتا دیدی اس شادی کے سخت خلاف تھیں۔ ایک وقت تھا جب ہمارے رشتے میں بہت تلخی آ گئی اور کئی سال تک ہماری بات چیت بند رہی۔‘
ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے آشا بھوسلے نے کہا: ’وہ ایک قدامت پسند خاندان تھا جو ’گانے والی‘ بہو کو پسند نہیں کرتا تھا۔ میرے شوہر بہت بد مزاج تھے، شاید انھیں دوسروں کو تکلیف دینا پسند تھا۔ لیکن باہر کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا۔‘
دباؤ والے ان ہنگامہ خیز برسوں میں آشا کا کیریئر زیادہ ترقی نہیں کر رہا تھا۔ جبکہ لتا اس دوران کامیابی کی چوٹی پر پہنچ چکی تھیں۔
او پی نئیر اور ایس ڈی برمن کے ساتھ
آشا کے کیریئر کو ابتدائی شہرت بمل رائے کی پرینیتا (1953) اور راج کپور کی بوٹ پالش (1954) کے گانوں سے ملی۔
لیکن ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ تب آیا جب ان کی ملاقات موسیقار او پی نئیر سے ہوئی۔ نئیر کا خیال تھا کہ وہ لتا کے بغیر بھی سپر ہٹ میوزک بنا سکتے ہیں۔ لتا نے بھی ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔
نئیر کی ابتدائی پسند گیتا دت تھیں، لیکن جلد ہی آشا بھوسلے نے اپنی جگہ بنا لی۔ اُڑیں جب جب زلفیں تیری جیسے گانوں نے آشا کو پہلی بار کسی فلم میں معروف اداکارہ کی آواز دی۔
اسی سال (1957)، موسیقار ایس ڈی برمن اور لتا منگیشکر کے درمیان اختلافات نے آشا کے لیے کامیابی کے نئے دروازے کھولے۔
اگلے پانچ سال تک، جب ایس ڈی برمن نے لتا کے ساتھ کام نہیں کیا، آشا ان کے کیمپ میں مرکزی گلوکارہ بن کر ابھریں۔ فلمی حلقوں اور جرائد میں خوب چرچا تھا کہ لتا اس بات پر اپنی بہن سے سخت ناراض ہیں۔ لیکن ان پانچ برسوں کے دوران آشا نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ایس ڈی برمن، کشور کمار، آشا بھوسلے اور مجروح سلطان پوری نے رومانوی گانوں کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ حال کیسا ہے جناب کا (چلتی کا نام گاڑی)، چھوڑ دو آنچل جیسے گانے آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
نئی شناخت
او پی نئیر اور ایس ڈی برمن کا دور آشا کے لیے ایک سنہرا دور تھا لیکن اس چمک کے نیچے ایک ذاتی اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
1960 میں، آشا کی شادی ختم ہوئی۔ اس ہنگامے کے درمیان، موسیقار او پی نئیر کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربت نے فلمی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ چونکہ لتا اور نئیر نے راستے جدا کر لیے تھے، آشا کی نئیر سے قربت نے دونوں بہنوں کے درمیان تلخی کو مزید گہرا کر دیا۔
لیکن پھر بھی یہ آشا کے کیریئر کا بہترین مرحلہ ثابت ہوا۔ او پی نئیر کے ساتھ اس دور میں آشا بھوسلے نے 60 فلموں میں 324 گانے گائے، یعنی اوسطاً فی فلم پانچ سے زیادہ گانے۔
آشا بھوسلے کی سوانح عمری میں راجو بھارتن لکھتے ہیں کہ 1950 اور 60 کی دہائیوں میں موسیقی کی دنیا پر لتا کا دبدبہ ایسا تھا کہ وہ ایک گانے کے لیے 500 روپے وصول کرتی تھیں، جب کہ آشا کو صرف 100-150 روپے۔
لتا کو یہ انتخاب کرنے کی آزادی تھی کہ وہ کیا گاتی ہیں اور کس کے لیے، لیکن آشا کو ایسا کوئی اختیار نہیں تھا۔ اس امتیازی سلوک نے آشا کو متاثر تو کیا لیکن انھوں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور خود کو ثابت کرنے کا عزم کیا۔
پنچم اور آشا
ایس ڈی برمن کے ساتھ کام کرتے ہوئے آشا نے آر ڈی برمن (پنچم) سے ملاقات کی جو ابھی قدم جمانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ان کا پہلا پیشہ ورانہ تعاون 1966 میں ناصر حسین کی فلم تیسری منزل سے شروع ہوا جس نے ہندی فلمی موسیقی کو بدل دیا۔ ایک طرف اے میرے سونا رے کی رومانوی مٹھاس تھی اور دوسری طرف اے حسینہ زلفوں والی کی طوفانی تال جس میں اپنی سانسوں پر آشا کے جادوئی کنٹرول نے سب کو مسحور کر دیا۔
پیا تو اب تو آ جا (کارواں) اور دم مارو دم (ہرے راما ہرے کرشنا) نے آشا کو ایک کیبرے کوئین کے طور پر معروف کیا۔
جب آشا ’امراؤ جان‘ بنیں
تب تک ہندی فلموں میں غزل کو صرف لتا منگیشکر کا ہی فن سمجھا جاتا تھا۔ مظفر علی کی امراؤ جان کے لیے موسیقار خیام نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا اور آشا بھوسلے کا انتخاب کیا لیکن ایک سخت شرط کے ساتھ کہ ہمیں گانوں میں آشا نہیں چاہیے۔
انھوں نے اصرار کیا کہ آشا کلاسیکی انداز اپنائیں۔ آٹھ دن کی سخت مشق کے بعد جب ریکارڈنگ شروع ہوئی تو ایک لمحہ ایسا آیا جب آشا کی ہمت ٹوٹنے لگی، انھیں لگا کہ وہ گانا نہیں گا سکیں گی۔
لیکن جب ریکارڈنگ مکمل ہوئی اور آشا نے خود سنا تو وہ دنگ رہ گئیں۔ دل چیز کیا ہے، آنکھوں کی مستی میں جیسی لازوال غزلوں نے دنیا کے سامنے آشا کی آواز کا ایک مخملی اور حساس پہلو ظاہر کیا جو اب تک نامعلوم تھا۔
خیام اور آشا بھوسلے دونوں کو امراؤ جان کے لیے قومی ایوارڈ ملے۔
وقت کے پہیے گھومتے رہے، موسیقی کے آلات بدلتے رہے، لیکن آشا کی آواز کی توانائی کبھی کم نہیں ہوئی۔
بعد کے برسوں میں اے آر رحمان کے ساتھ رنگیلا، لگان اور تال جیسی فلموں میں انھوں نےثابت کر دیا کہ عمر ان کی دھنیں محدود نہیں کر سکتی۔
جہاں اپنے دور کے بہت سے مشہور گلوکار موسیقی اور ری مکس کی بدلتی ہوئی نوعیت سے ناخوش تھے، آشا نے پورے دل سے نئے دور کو قبول کیا اور خود اپنے پرانے گانوں کا ایک ری مکس البم جاری کیا اور نئی نسل کو اس جادوئی موسیقی سے متعارف کرایا۔
آشا بھوسلے کا سفر کانٹوں سے بھرا ہوا تھا، اپنی بہن کے بڑے سائے سے آزاد ہونے کی جدوجہد، لیکن آخر کار، اس کا عزم غالب رہا۔
اس نے دنیا کو دکھایا کہ وہ ایک مکمل فنکار ہیں، ایسی آواز جو کل بھی جوان تھی اور جس کا چنچل پن ہر نسل کی روح کو چھوتا رہے گا۔
منگیشکر خاندان کے سربراہ جنھوں نے شرابی گرو کی شاگردی ٹھکرا دیسلامت علی خان نے لتا منگیشکر کی شادی کی پیشکش کیوں ٹھکرائیبُلّھا: شان کی پنجابی فلم میں 12 سال بعد واپسی، ’سرحدوں کے محافظ ابھی تک صرف جنگی ساز و سامان پر بھروسہ کرتے ہیں‘’کپل شرما جتنے وسائل ملیں تو شاید اس سے بہتر شو کر سکتا ہوں‘: تابش ہاشمی نے اپنی پہلی فلم کے ڈائیلاگز کی تیاری کیسے کی؟’شوبز سے پہلے والے نعمان اعجاز کو کہوں گا اس میدان میں نہ آنا‘