Getty Images
اتوار کی صبح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ 21 گھنٹے تک مذاکرات کے بعد بنا کسی معاہدے کے نور خان ایئر بیس سے واپس روانہ ہوئے تو کئی سوالات چھوڑ گئے۔
کیا مذاکرات ختم ہو گئے یا ابھی بات چیت جاری رہے گی؟ جنگ بندی کا مستقبل کیا ہو گا؟ امریکہ کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا؟
جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل ایک مختصر پریس کانفرنس کی جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ایران سے کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ تاہم تجزیہ کاروں کی رائے میں اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت ناصرف تاریخی رہی بلکہ یہ جاری رہنے کا قوی امکان موجود ہے۔
بات چیت پر ایران کا کیا موقف ہے اور پاکستان نے کس امید کا اظہار کیا ہے، اس سے پہلے امریکی نائب صدر کی پریس کانفرنس کے چند اہم نکات جاننا ضروری ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی وفد سے بات چیت ہوئی، ’یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ امریکہ کے مقابلے میں ایران کے لیے زیادہ بری خبر ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسی جگہ نہیں پہنچ پائے جہاں ایران ہماری شرائط تسلیم کرتا۔‘
جب ان سے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوری اور دیرپا مرکزی مقصد ہے۔‘
جے ڈی وینس نے بتایا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران ان کی تقریباً ایک درجن سے زیادہ مواقع پر ٹرمپ سے بات ہوئی۔
تاہم جاتے جاتے جے ڈی وینس نے یہ کہا کہ ’ہم ایک بہت سادہ تجویز چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین آفر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ایران اسے مانتا ہے۔‘
اس جملے سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو پیشکش کی گئی ہے اور اب اس پر جواب کا انتظار کیا جائے گا۔
جب جے ڈی وینس سے سوال کیا گیا کہ ایران نے کون سی شرائط ماننے سے انکار کیا تو امریکی نائب صدر نے جواب دیا کہ ’میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا کیوں کہ 21 گھنٹے تک بند کمرے میں بات چیت کے بعد میں عوامی سطح پر مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔‘
تاہم ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں کہ ہم کن معاملات پر لچک دکھا سکتے ہیں اور کن باتوں پر نہیں۔ اور یہ چیز ہم نے بہت کھل کر ان کے سامنے رکھی ہے، انھوں نے ہماری شرائط تسلیم نہیں کیں۔‘
جے ڈی وینس نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ بھی ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بہت بہترین میزبان تھے اور مذاکرات میں جو بھی کمی رہی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی ’جنھوں نے بہترین کام کیا اور واقعی کوشش کی کہ ایران اور ہمارے درمیان موجود خلا کو دور کریں اور کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوں۔‘
دو یا تین اہم معاملات کے علاوہ بہت سے موضوعات پر ’مفاہمت‘ ہو گئی تھی: ایران
امریکی نائب صدر کی جانب سے مذاکرات ’بے نتیجہ قرار دیے جانے کے بعد ایران کا مؤقف بھی آیا۔
جے ڈی وینس کی پریس کانفرنس کے بعد جاری بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمائیل بقائی نے کہا کہ بہت سے موضوعات پر ’مفاہمت‘ ہو گئی تھی تاہم دو یا تین اہم معاملات پر دونوں فریقوں میں اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس کے باعث بالآخر مذاکرات کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
انھوں نے کہا: ’یہ مذاکرات 40 دن کی مسلط کردہ جنگ کے بعد ہوئے اور بداعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں انجام پائے۔ فطری بات ہے کہ ابتدا ہی سے کسی ایک نشست میں معاہدے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی۔ کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی۔‘
اسماعیل بقائی کے مطابق ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز سمیت چند نئے موضوعات بھی شامل کیے گئے اور ہر موضوع کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا: ’سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی اور یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔‘
بی بی سی فارسی کے مطابق جے ڈی وینس کی پاکستان سے روانگی کے بعد ایرانی وفد بھی روانہ ہو گیا۔
امریکی اور ایرانی وفد کی آمد سے مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہنے کے اعلان تک، اسلام آباد میں کیا ہوتا رہا؟’ہم دوست نہیں بھائی ہیں‘: ایرانی عوام کی پاکستان سے امیدیں مگر امریکہ پر عدم اعتمادامریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات سے سخت گیر ایرانی ناخوش کیوں ہیں؟ترکی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے پاکستان کی مدد کیسے کی؟پاکستان نے کیا کہا؟Getty Imagesپاکستان کو امریکہ اور ایران سے ’مثبت جذبے‘ کا مظاہرہ کرتے رہنے کی امید
امریکی نائب صدر کی پریس کانفرنس کے تقریباً دو گھنٹے بعد پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کی اور امید ظاہر کی کہ ’دونوں فریق خطے میں اور اس سے باہر پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے مثبت جذبے کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔‘
وزیر خارجہ نے امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے پاکستان کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل پر مثبت رد عمل دیا اور اسلام آباد میں امن مذاکرات کے انعقاد کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت قبول کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ فریقین کے درمیان ’مشکل اور تعمیری مذاکرات‘ کے کئی دور ہوئے جس میں انھوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ معاونت کی۔
وزیر خارجہ نے دونوں فریقوں کا شکریہ ادا کیا کہ ’انھوں نے جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کی کوششوں اور اس کے ثالثی کردار کو سراہا۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا: ’ضروری ہے کہ تمام فریق جنگ بندی کے حوالے سے اپنے عزم کی پاسداری جاری رکھیں۔‘
تجزیہ کاروں کے سوالات اور خدشات
مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہ جانے کی خبر سامنے آنے کے بعد تجزیہ کاروں نے سوالات اٹھائے ہیں اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔
تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو اسے جنگ سے نکلنے میں مدد دے، جس کی وجہ مقامی سیاست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینئر افراد پر مشتمل گروپ کا پاکستان آنا ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ سنجیدہ تھا۔
مائیکل کوگلمین کی رائے ہے کہ امریکی نائب صدر کے بیان کے باوجود بات چیت ابھی شاید ختم نہیں ہوئی اور مزید بات چیت ہو سکتی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ اب یہ پاکستان میں ہی ہو گی یا کہیں اور۔
پیٹر شکف نے سوال اٹھایا کہ امریکی وفد کسی معاہدے کے بغیر واپس روانہ ہو چکا ہے تو اب کیا ہو گا؟
انھوں نے لکھا کہ ٹرمپ یقیناً ’ایرانی تہذیب کو مٹانے‘ کی دھمکی پر عملدرآمد نہیں کریں گے تو امریکہ اب کیا کرے گا؟ ’ایسا لگتا ہے کہ ہم پہلے سے زیادہ کمزور مذاکراتی پوزیشن میں ہیں اور یہ بات ایران جانتا ہے۔‘
سابق افغان سفارت کار اشرف حیدری نے سوشل میڈیا پر رائے دی کہ اسلام آباد مذاکرات نے اپنا ابتدائی مقصد حاصل کر لیا ہے یعنی ’دونوں فریق آمنے سامنے بیٹھے اور اپنی پوزیشن واضح کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں نے اپنی ریڈ لائنز واضح کیں، دونوں کو یہ علم ہو گیا ہے کہ ان کا فریق کن معاملات پر لچک دکھا سکتا ہے اور یہ بھی کہ کن معاملات پر انھیں لچک دکھانا ہو گی۔‘
اشرف حیدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں فریق واپس جا کر اپنے مؤقف کا جائزہ لیں گے اور امید ہے کہ مذاکرات جاری رہیں گے۔
اشرف حیدری کا کہنا تھا کہ ’اسے ایک عمل کے طور پر دیکھنا چاہیے نا کہ ڈرامائی قسط کے طور پر۔‘
صحافی رضا رومی نے سوشل میڈیا پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مذاکرات ناکام ہونے سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے، توانائی بحران بڑھ سکتا ہے اور عالمی منڈی میں افراط زر اور معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
اور اسی لیے، ان کی رائے میں مذاکرات جاری رہیں گے۔
رضا رومی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے خاموشی سے ایک سٹریٹیجک فتح حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور ایران کو ایک سفارتی مقام پر اکھٹا کرنا ہی ایک کامیابی ہے۔‘
انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی (ایشین نیوز انٹرنیشنل) کو رائے دیتے ہوئے خارجہ امور کے ماہر رابندر سچدیو نے امریکہ ایران مذاکرات بے نتیجہ رہنے کو بد قسمتی قرار دیا۔
ان کے خیال میں امریکہ اور ایران دونوں نے ہی سخت مؤقف اختیار کر رکھا تھا۔ رابندر سچدیو نے کہا: ’دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فوج کی جانب سے بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود، ایران امریکی مطالبات کے آگے جھکنے پر آمادہ نہیں ہوا۔‘
رابندر کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام پر خودمختاری چاہتا ہے اور آبنائے ہرمز پر اپنے اختیار پر بھی اصرار کرتا ہے اور اسی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں ڈیوڈ سینگر نے لکھا: ’یہ سوچنا شروع سے ہی مشکل تھا کہ نائب صدر وینس ایک ہی مذاکراتی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔‘
ڈیوڈ سینگر کے مطابق ایران کے ساتھ 2015 کا جو معاہدہ ہوا، وہ طے پانے میں تقریباً دو سال لگے تھے۔ اگرچہ آج حالات مختلف ہیں، آج دونوں ملک عملاً حالتِ جنگ میں ہیں۔
ڈیوڈ سینگر نے لکھا: ’مسائل کی پیچیدگی، ایران کی قومی شناخت میں جوہری پروگرام کی مرکزی حیثیت، اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی بحث، یہ سب اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مذاکرات کا عمل طویل ہو گا۔‘
امریکی ٹی وی چینل سی این این کے نامہ نگار اور مدیر برائے سفارتی امور نک رابرٹسن نے سیرینا ہوٹل اسلام آباد کے اُس مقام سے ویڈیو بنائی جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس کی تھی۔
پریس کانفرنس میں جے ڈی وینس کی جانب سے امریکہ کی ’حتمی اور بہترین‘ پیشکش کا حوالہ دیتے ہوئے نک رابرٹسن نے کہا: ’گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان سوالات کے جوابات دے، جو وہ اس طویل مذاکراتی دورکے دوران دینے میں ناکام رہا۔‘
نک رابرٹسن کے مطابق ایران کا خیال ہے کہ ’پتے اب بھی اس کے ہاتھ میں ہیں‘ اور وہ اب بھی آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر سکتا ہے اور اسے ہی اپنی ’اصل برتری‘ سمجھتا ہے۔
سب سے اہم سوال: آگے کیا ہو گا؟
بی بی سی کے نامہ نگار برائے ورلڈ نیوز جو ووڈ لکھتے ہیں کہ کیونکہ دونوں فریق مذاکرات سے قبل ہی اپنی فتح کا دعویٰ کر رہے تھے، ایسے میں معاہدہ ہونا پہلے ہی مشکل دکھائی دے رہا تھا۔
’آخرکار یہ ناممکن ثابت ہوا۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے واپس چلے گئے۔‘
اب اہم سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟
گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی 'تہذیب کو تباہ کرنے' کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض کچھ وقت ہی رہتا تھا کہامریکی صدر نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔
جو ووڈ لکھتے ہیں کہ یہ تو واضح نہیں کہ مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع ہوں گے یا نہیں لیکن اس کے امکانات بلاشبہ بڑھ گئے ہیں۔
’جہاں تک آبنائے ہرمز کا تعلق ہے جسے ایران نے بند کر رکھا تھا اس کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کی بحالی کا امکان فی الحال ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ خلیج میں دو امریکی جنگی جہازوں کی آمد اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ امریکہ شاید کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
جو ووڈ مزید لکھتے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی مستقل یقین دہانی نہ دینے کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ایران ہمیشہ اس بات سے انکار کرتا آیا ہے کہ وہ یہ 'سب سے بڑا دفاعی ہتھیار' حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران دو جنگوں نے ایران میں جوہری ہتھیار بنانے کے حامیوں کے موقف کو تقویت ضرور بخشی ہو گی۔
’امریکہ اور ایران کے درمیان یہ براہِ راست مذاکرات یقیناً تاریخی تھے… مگر شاید انھیں سفارت کاری کی ناکامی کے طور پر یاد رکھا جائے۔‘
’پاکستان کی درخواست پر‘ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر کیسے اور کن شرائط پر تیار ہوئے؟اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود میں کون سی اہم شخصیات شامل ہیں؟ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟’ناکامی کے امکانات سے بھرپور‘: ایرانی یورینیم قبضے میں لینے کا ممکنہ امریکی منصوبہ اِتنا خطرناک کیوں ہے؟کیا امریکہ نے ایران جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں؟