’جلد ہی تمہاری باری آئے گی، بس امید قائم رکھو‘: حمل نہ ٹھہرنے کے مسئلے سے دوچار خواتین سے کون سی باتیں نہیں کرنی چاہییں؟

بی بی سی اردو  |  Apr 05, 2026

Getty Images

وکی لیونز تیسری مرتبہ مِس کیرج یعنی حمل کے ضائع ہونے کے اگلے ہی دن اپنی ملازمت پر واپس آ گئیں۔ وہ ایک کمپنی میں بطور ریسیپشنسٹ کام کرتی ہیں۔

ملازمت پر واپسی کے بعد اُن کے دو مینیجرز نے ایسے تبصرے کیے جو وکی کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھے۔ اُن کے دفتر کے یہ دو افراد تھے وکی کے حمل ضائع ہونے کے بارے میں جانتے تھے۔

ایک خاتون مینیجر نے کہا کہ ابتدائی ایام کے دوران وکی کا حمل ضائع ہوا، جبکہ ایک مرد مینیجر نے کہا کہ وہ اب’ریسیپشنسٹ کے طور پر کام کرنے کے لیے مناسب نظر نہیں آ رہی۔‘

بیلفاسٹ سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ وکی کا کہنا ہے کہ ’میں صدمے کی حالت میں تھی۔‘

ان باتوں کو سُننے کے بعد انھوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔

گذشتہ برسوں میں دوستوں اور خاندان والوں نے وکی کو حاملہ ہونے میں مدد دینے کے لیے نیک نیتی پر مبنی کُچھ مشورے تو دیے مگر ’غلط‘، جیسے کہ ’جلد ہی تمہاری باری آئے گی‘، ’بس امید قائم رکھو‘، یا ان سے ملتے جُلتے دیگر مشورے۔

وکی کہتی ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے کہ وہ سب اپنی طرف سے تسلی دینے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، لیکن ایک ایسے وقت میں کہ جب آپ خود مشکل سے گزر رہے ہوتے ہیں میں چاہتی ہوں کہ لوگ ایسی باتیں نہ کریں کیونکہ یہ تکلیف دیتی ہیں۔‘

تکلیف دہ تبصرے

حمل کے ضائع ہونے اور بانجھ پن کی مشکلات کے بارے میں تکلیف دہ باتوں کا سامنا کرنے والوں میں وکی اکیلی نہیں ہیں۔

مانچسٹر کی 33 سالہ ’کے‘ نے ’ویمنز آور‘ کے پروگرام ’گائڈ ٹو لائف‘ میں بتایا کہ ’لوگوں کی طرف سی بہت نامناسب باتیں سننے کو ملتی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ زیادہ تر غلط تبصرے جان بوجھ کر نہیں کیے جاتے، لیکن پھر بھی وہ بےحسی پر مبنی محسوس ہوتے ہیں۔

’کے‘ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’میرے ایک بہت قریبی شخص نے مجھے آئی وی ایف شروع کرنے سے پہلے بٹھایا اور کہا کہ ’بہت سی خواتین کا حمل ضائع ہوتا ہے اس لیے تمہیں تیار رہنا چاہیے اور اس بارے میں زیادہ جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔‘

BBC'کے' نے 'ویمنز آور' کے پروگرام 'گائڈ ٹو لائف' میں بتایا کہ 'لوگوں کی طرف سی بہت نامناسب باتیں سننے کو ملتی ہیں'

این ایچ ایس کے مطابق تقریباً ہر سات میں سے ایک جوڑے کو حملٹھہرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برطانیہ میں سنہ 2023 کے دوران 50,000 سے زائد مریضوں نے آئی وی ایف کے مراحل سے گزرے کا فیصلہ کیا، جس میں انڈوں کو لیبارٹری میں ٹریٹ کیا جاتا ہے اور پھر بننے والے ایمبریو کو خاتون کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔

لیکن جو لوگ بانجھ پن کا سامنا کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر دوستوں، خاندان اور ساتھیوں سے بات کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

گلاسگو کی 26 سالہ کلوی کیونا، جو این ایچ ایس کی آئی وی ایف ویٹنگ لسٹ میں شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں یہ ایک حد تک ممنوع موضوع ہے۔‘

’میں نے حاملہ ہونے کی کوشش میں کچّے انڈے سے بال دھوئے‘: خواتین کی صحت اور انٹرنیٹ پر موجود گمراہ کن معلوماتمچھلی کے سپرم، ماہواری کا خون اور پرندوں کا فضلہ: جلد کو نرم اور تروتازہ رکھنے کے نِت نئے رجحانات سے متعلق سائنس کیا کہتی ہے؟جوا کھیلنے کی عادی خاتون جنھوں نے کپڑے بیچ کر 40 ہزار پاؤنڈ کا قرض اتارا کیا واقعی تناؤ آپ کی جلد کو متاثر کر سکتا ہے؟

ابتدا میں کلوی اپنے دوستوں اور خاندان کو یہ بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی تھیں کہ وہ بانجھ پن کے مسئلے سے گزر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس میں ایک شرمندگی کا احساس ہوتا ہے، کیونکہ یہ وہ کام ہے جو آپ کے جسم کو کرنا چاہیے، اس لیے آپ خود کوناکام محسوس کرتے ہیں۔‘

’آپ سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا آپ واقعی خاتون ہیں؟‘

لندن میں مقیم پاکستانی نژاد برطانوی خاتون آسیہ داؤدکہتی ہیں کہ ’کچھ جنوبی ایشیائی کمیونٹیز میں وہ خواتین جو شادی کے فوراً بعد حاملہ نہیں ہوتیں، انھیں ’بہت سے تبصروں‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

آسیہ کہتی ہیں کہ ’آپ سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا آپ واقعی خاتون ہیں؟‘

اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’رشتہ دار اکثر خاتون یا بیوی کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں کہ وہ اپنے کیریئر پر زیادہ توجہ دے رہی ہے یا اس نے کم عمری میں شادی نہیں کی۔‘

جب آسیہ کو حاملہ ہونے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں، تو وہ دوستوں اور خاندان سے دور ہو گئیں کیونکہ وہ مسلسل نا پسندیدہ قسم کے تبصروں سے تنگ آ چکی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں باہر نہیں جاتی تھی، میری کوئی سماجی زندگی نہیں تھی۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ مدد مانگنا ’ممنوع‘ سمجھا جاتا ہے اور اسے ’کمزوری کی علامت‘ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں تولیدی سائنس کی پروفیسر جوائس ہارپر کہتی ہیں کہ ’اپنے تجربات کے بارے میں لوگوں سے بات کرنا اہم ہے کیونکہ بانجھ پن اور اس کے علاج کا جذبات پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔‘

انھوں نے ’ویمنز آور‘ کو بتایا کہ ’خود علاج ایک جذباتی اتار چڑھاؤ سے بھرا سفر ہوتا ہے اور پھر وہ دن جب آپ کو ماہواری آتی ہے یا جب آپ کا ایمبریو ٹرانسفر ہوتا ہے، ایسے بہت سے مواقع آتے ہیں جب یہ واقعی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘

ikat photography / Sam Chandlerمیری پرنس اور جوائس ہارپر نے ’وومنز آور‘ سے بات کرتے ہوئے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ جب آپ بانجھ پن کا سامنا کر رہے ہوں تو ایک مضبوط سپورٹ نیٹ ورک کا ہونا کتنا ضروری ہے۔

خواتین کی رہنمائی کرنے والی کلینیکل ماہرِ نفسیات ڈاکٹر میری پرنس کہتی ہیں کہ ’جن لوگوں سے آپ اپنے دل کی بات کرتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ آپ کے خاندان یا وہی دوست ہوں جن سے آپ عموماً باتیں شیئر کرتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ممکن ہے کہ آپ کی آئی وی ایف سپورٹ ٹیم ان لوگوں سے مختلف ہو جو عام طور پر آپ کی مدد کرتے ہیں۔‘

پرنس کے مطابق برطانیہ کے کلینکس میں اولاد پیدا کرنے سے متعلق ہونے والے علاج سے گزرنے والے افراد کو کاؤنسلرز تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور وہ سب کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتی ہیں۔

بی بی سی نیوز سے بات کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ دوستوں اور خاندان والوں کو چاہیے کہ وہ بانجھ پن کا سامنا کرنے والے فرد سے پوچھیں کہ انھیں کس قسم کی مدد درکار ہے کیونکہ یہ ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتی ہے۔

کلوی کہتی ہیں کہ ’بے ساختہ حال احوال پوچھنا، اپائنٹمنٹس کی تاریخیں یاد رکھنا اور علاج کے بارے میں خود معلومات حاصل کرنا اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ اس شخص کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘

دوستوں اور خاندان کی جانب سے حاصل ہونے والا ’شاندار‘ تعاون

جنوبی ویلز کی 29 سالہ ایلینا مورس کہتی ہیں کہ انھیں اپنے حمل کے ٹھہرنے کے عمل کے دوران دوستوں اور خاندان کی طرف سے ’شاندار‘ حمایت اور تعاون ملا۔

مس کیرج کے بعد جو لوگ ایلینا سے ملنے آئے وہ ان کے لیے کھانا اور پھول لائے۔ انھیں اور ان کے شوہر کو ریستوران کے واؤچرز دیے گئے ’تاکہ وہ کچھ وقت کے لیے سکون حاصل کر سکیں۔‘

ان کے والدین اور شوہر نے مدرز ڈے پر بھی انھیں پھول دیے۔

لیکن اس طرح کے بڑے اقدامات ہی نہیں بلکہ ایلینا کہتی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بہت معنی رکھتی ہیں، جیسا کہ لوگوں کا انھیں یہ کہنا کہ وہ ان کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

’یہ جان کر اچھا لگتا ہے کہ آپ کو بھلایا نہیں گیا۔‘

Chloe Cavanagh / Elena Morrisکلوی کیوناگ اور ایلینا مورس کا کہنا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اشارے، جیسے حال احوال پوچھنے والے پیغامات، یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ آپ ان کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

جب کسی دوست یا رشتہ دار کو حمل ٹھہر جاتا ہے تو یہ بانجھ پن کا سامنا کرنے والے شخص کے لیے ایک شدید جذباتی وقت ہوتا ہے۔

ڈاکٹر پرنس کہتی ہیں کہ انھوں نے ایسے لوگوں سے بات کی ہے جو اپنے قریبی افراد کی حمل کی خبروں پر ’شدید پریشانی‘ محسوس کرتے ہیں۔

ایلینا نے اپنے دوستوں اور خاندان کی دیگر خواتین سے یہ کہہ رکھا ہے کہ وہ اپنے حملے کے ٹھہر جانے سے متعلق خبر انھیں ٹیکسٹ میسج کے ذریعے دیں، تاکہ انھیں ’سمجھنے میں آسانی ہو اور وہ جب تیار ہوں تب جواب دے سکے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ سامنے بیٹھ کر بتانے سے بعض لوگوں کو ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ انھیں ’بہت زیادہ خوشی کا اظہار کرنا ہے‘ جبکہ ’حقیقت میں اس لمحے آپ صرف رونا چاہتے ہیں۔‘

جب کلوی کی ایک قریبی دوست حاملہ ہوئیں تو انھوں نے اپنی تمام دوستوں کو انفرادی طور پر میسج کر کے یہ اچھی خبر سُنائی۔

کلوی کہتی ہیں کہ ’مجھے یہ بالکل پسند نہیں کہ لوگ مجھے اس لیے نہ بتائیں کہ وہ سمجھتے ہیں میں اداس ہو جاؤں گی۔‘

آسیہ کہتی ہیں کہ نوجوان لوگ بانجھ پن اور مس کیرج یا حمل کے ضائع ہونے سے جڑی سماجی بدنامی کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

لوگوں کو اپنے تجربات شیئر کرنے کی ترغیب دینے کے لیے انھوں نے گذشتہ سال پہلی جنوبی ایشیائی ’بیبی لاس اویئرنیس ویک‘ کا آغاز کیا، جس میں خواتین اور فلاحی اداروں کے کارکنان کی گفتگو شامل تھی۔

ایلینا کہتی ہیں کہ اپنے بانجھ پن کے تجربے کے بارے میں دوستوں اور خاندان سے بات ’راحت‘ کا باعث بنی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کس مُشکل وقت سے گزر رہے ہیں، تو وہ غیر ارادی طور پر ایسی باتیں یا کام کر سکتے ہیں جو آپ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ہم واقعی خوش ہیں کہ ہم نے کھل کر بات کی اور ہم اسے بدلنا نہیں چاہیں گے۔‘

’دیکھتے ہیں پہلے کون سی سیکشن کرتا ہے‘: لاہور کے سرکاری ہسپتال میں زچگی کی ویڈیو بنانے پر چار ڈاکٹر معطلکیا واقعی تناؤ آپ کی جلد کو متاثر کر سکتا ہے؟جوا کھیلنے کی عادی خاتون جنھوں نے کپڑے بیچ کر 40 ہزار پاؤنڈ کا قرض اتارا مچھلی کے سپرم، ماہواری کا خون اور پرندوں کا فضلہ: جلد کو نرم اور تروتازہ رکھنے کے نِت نئے رجحانات سے متعلق سائنس کیا کہتی ہے؟’میں نے حاملہ ہونے کی کوشش میں کچّے انڈے سے بال دھوئے‘: خواتین کی صحت اور انٹرنیٹ پر موجود گمراہ کن معلومات
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More