ایران جنگ پر شرطیں: جب علی خامنہ ای کی ہلاکت کی پیش گوئی سے کچھ افراد نے ہزاروں ڈالر کمائے

بی بی سی اردو  |  Mar 22, 2026

Getty Imagesاس پلیٹ فارم پر کوئی بھی شخص معمولی تجربے کے ساتھ شیئرز خرید کر شرط لگا سکتا ہے

ایرانی رہنما علی خامنہ ای کی ہلاکت سے چند گھنٹے پہلے سینکڑوں افراد نے ایک آن لائن پلیٹ فارم پر اس بات پر شرط لگائی تھی کہ وہ اسی دن قتل ہو جائیں گے۔

یہ پولی مارکیٹ نامی بیٹنگ پلیٹ فارم پر کی جانے والینمایاں ترین پیش گوئیوں میں سے ایک تھی، جس پر 130 ملین ڈالر سے زیادہ رقم لگائی گئی اور کچھ افراد نے اس سے ہزاروں ڈالر کمائے۔

امریکہ میں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے سیاسی واقعات پر سٹے بازی کی مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہ مارکیٹس کیا ہوتی ہیں اور یہ تنازع کی وجہ کیوں بنتی ہیں؟آئیے اس بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم بیٹنگ پلیٹ فارمز کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

یہ آن لائن پلیٹ فارمز ہوتے ہیں جہاں کوئی بھی فرد ایک سوال کرتا ہے اور اُس پر شرط لگائی جاتی ہے اور دیگر صارفین کسی خاص پیشگوئی کا انتخاب کر کے اس پر مخصوص تعداد میں شیئرز خرید کر شرط لگاتے ہیں۔

روایتی سٹے بازی کے برعکس، جس میں جیتنے والا کمپنی سے رقم حاصل کرتا ہے پولی مارکیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر نفع اور نقصان کا انحصار شیئرز کی قیمت میں تبدیلی پر ہوتا ہے، جو شرط لگانے کے آغاز سے لے کر ٹریڈنگ بند ہونے یا شیئرز فروخت کرنے کے وقت تک ہوتی ہے۔

حصص یعنی شیئرز کی قیمت طلب اور رسد کے مطابق ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے اور جب ٹریڈنگ بند ہو جاتی ہے تو جیتنے والے شیئرز رکھنے والوں کو ان کی لگائی گئی رقم کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رقم ملتی ہے، جو شیئر کی قیمت میں تبدیلی پر مبنی ہوتی ہے۔

یہ عمل کئی شعبوں میں ہوتا ہے جن میں خاص طور پر کھیل، سائنس اور معیشت شامل ہیں۔

بیٹنگ پلیٹ فارمز کا تصور بذاتِ خود نیا نہیں ہے، ان میں سے کچھ گذشتہ 25 برسوں سے موجود ہیں اور سیاسی واقعات پر شرط لگانا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔

لیکن نئی بات یہ ہے کہ کچھ پلیٹ فارمز کا استعمال اب زیادہ آسان ہو گیا ہے، جو زیادہ لوگوں کو شرط لگانے کی ترغیب دیتا ہے۔

کوئی بھی شخص معمولی تجربے کے ساتھ شیئرز خرید کر شرط لگا سکتا ہے اور ہاں یا نہ میں جواب دے سکتا ہے، برخلاف اُن روایتی شرطوں کے جو زیادہ مالی تجربے اور شرط کے موضوع کی گہری سمجھ کے بغیر نہیں لگائی جا سکتی تھیں۔

Getty Imagesایرانی رہنما علی خامنہ ای کی ہلاکت سے چند گھنٹے پہلے سینکڑوں افراد نے ایک آن لائن پلیٹ فارم پر اس بات پر شرط لگائی تھی کہ وہ اسی دن قتل ہو جائیں گےسیاسی شرطوں کی مارکیٹ

بلومبرگ کے مطابق خامنہ ای کی ہلاکت کے دن ایران سے متعلق سیاسی شرطوں نے پولی مارکیٹ پلیٹ فارم پر 400 ملین ڈالر سے زیادہ کی کمائی کی، جو ایک روز قبل کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ تھی۔

کچھ لوگوں نے امریکا کی افواج کے ایران میں داخلے یا جنگ بندی کی تاریخ اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کب تک بند رکھا جائے گا، پر بھی شرط لگائی۔

یہ معاملہ تو اس حد تک پہنچ گیا کہ کچھ لوگوں نے تو ایران پر جوہری حملے کی پیش گوئی بھی کر دی، جس کے بعد پلیٹ فارم نے یہ شرط ہٹا دی۔

ایک صارف نے 28 فروری کو ایران سے متعلق شرطوں سے آدھے ملین ڈالر سے زیادہ کمائے، جب انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق متعدد پیشگوئیوں پر شرط لگائی۔

ہم نے ان شرط لگانے والوں میں سے ایک سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن قانونی پابندیوں کی وجہ سے ہم کسی تک پہنچ نہیں سکے۔

جنوری میں ایک اور شرط لگانے والے نے شخص وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو ہٹانے پر شرط لگا کر 30 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری سے چار لاکھ ڈالر سے زیادہ جیتے تھے۔

’40 جنگیں دیکھنے کے باوجود 2025 سب سے پریشان کن سال کیوں لگا‘خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے اس جوڑے کی کہانی جو دوسری بار 10 لاکھ پاؤنڈز کی لاٹری جیت گیابیٹی کی ’میٹھا کھانے کی خواہش‘ جس نے والدین کو کروڑوں کی لاٹری جتوا دیامریکہ میں میگا ملینز لاٹری میں ایک ارب دس کروڑ ڈالر کا جیک پوٹ جیت لیا گیاشرطیں تنازع کیوں پیدا کرتی ہیں؟

خامنہ ای کی ہلاکت پر شرطیں لگانے کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ اس وقت کے شروع کے لمحوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ان پر حملے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔

اس وقت اُن کے قتل کے امکان پر ’ہاں‘ میں شرط لگانے والوں کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہو گیا، جبکہ پچھلے دن یہ صرف تقریباً ایک فیصد تھا۔

شرط لگانے کے اس انداز نے شفافیت کے حوالے سے کئی مسائل کو جنم دیا ہے۔

پولی مارکیٹ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس تاریخ پر خامنہ ای کو اقتدار سے ہٹانے کے معاملے میں غیر یقینی صورتحال موجود ہو ’تو یہ مارکیٹ کھلی رہ سکتی ہے جب تک کہ قابل اعتماد رپورٹس دستیاب نہ ہوں جو معاملے کو حتمی طور پر طے کر سکیں۔‘

اسی دوران بہت سے صارفین مختلف ناموں سے شرط لگاتے ہیں جس کی وجہ سے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامیہ کے قریبی افراد یا فیصلہ ساز حلقے حساس معلومات کا استعمال کر کے شرط لگا رہے ہیں۔

امریکی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز ایک قانون پر غور کر رہا ہے جو وفاقی ملازمین اور کانگریس کے ارکان کو پابند کرے گا کہ وہ غیر عوامی معلومات کا استعمال آن لائن پیش گوئی کی مارکیٹوں میں شرط لگانے کے لیے نہ کریں، خاص طور پر اس کے بعد جب وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو ہٹانے پر لگنے والی شرطوں نے وسیع تنازع پیدا کیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے حال ہی میں دو افراد پر پولی مارکیٹ پر شرط لگانے کے لیے خفیہ معلومات استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اسی طرح ناروے کے حکام نے بھی وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا کے نوبل امن انعام جیتنے کی پیش گوئی پر شرط کے حوالے سے تفتیش شروع کی، جس سے ایک شرط لگانے والے نے 50 ہزار ڈالر سے زیادہ کا نفع حاصل کیا تھا۔

Reutersایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے 28 فروری کو شروع ہوئے تھےجنگوں پر شرط لگانا

دوسری طرف بہت سے لوگ جنگوں پر شرط لگانے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایسے تنازعات ہیں جن میں بے شمار جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

عمومی طور پر امریکی قانون ایسی شرطیں لگانے سے منع کرتا ہے جو عوامی مفاد کے خلاف ہوں اور جنگ پر شرط لگانا امریکی ریاستوں کے قوانین اور دیگر انتظامی ضوابط کے تحت ممنوع ہے۔

اسی وجہ سے یہ شرطیں صرف بین الاقوامی پلیٹ فارم پولی مارکیٹ پر دستیاب تھیں، جو پاناما میں ایک ادارے کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

دوسری جانب پولی مارکیٹ نے خامنہ ای کی ہلاکت پر شرط کے صفحے پر ایک نوٹ شائع کیا جس میں کہا گیا کہ پیش گوئی کی مارکیٹس کی اہمیت اس میں ہے کہ یہ عوامی عقل کے ذریعے درست پیشگوئیاں فراہم کرتی ہیں۔ پلیٹ فارم نے مزید کہا کہ یہ پیشگوئیاں ’ایسے مشکل وقتوں میں انتہائی قیمتی‘ ہو جاتی ہیں جیسے موجودہ حالات ہیں۔

پلیٹ فارم نے بتایا کہ اس نے درجنوں سوالات وصول کیے اور براہِ راست حملوں سے متاثرہ افراد سے بات کی اور یہ محسوس کیا کہ ’پیش گوئی کی مارکیٹس انھیں ایسے جوابات دے سکتی ہیں جو نہ تو ٹی وی خبریں اور نہ ہی ایکس پلیٹ فارم فراہم کر سکتے ہیں۔‘

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق آن لائن شرطوں کی مارکیٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور ان معاہدوں میں زیادہ تر سرمایہ کار چھوٹے شرط لگانے والے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خامنہ ای کی ہلاکت پر شرط لگانے والوں میں زیادہ تر نے ایک ہزار ڈالر سے کم رقم لگائی۔

اس کے باوجود اس مارکیٹ کے پھیلنے اور یورپ اور دیگر بڑے شہروں میں اس کے فروغ کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔

’40 جنگیں دیکھنے کے باوجود 2025 سب سے پریشان کن سال کیوں لگا‘امریکہ میں میگا ملینز لاٹری میں ایک ارب دس کروڑ ڈالر کا جیک پوٹ جیت لیا گیابیٹی کی ’میٹھا کھانے کی خواہش‘ جس نے والدین کو کروڑوں کی لاٹری جتوا دیخیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے اس جوڑے کی کہانی جو دوسری بار 10 لاکھ پاؤنڈز کی لاٹری جیت گیاایران جنگ کس کے لیے منافع بخش اور کس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More