ایران جنگ کے تناظر میں اُبھرتے نئے عالمی نظام کی ایک جھلک، جہاں چند ممالک کو محض ’تفریح کے لیے‘ نشانہ بنایا جا سکتا ہے

بی بی سی اردو  |  Mar 18, 2026

BBC

عین ممکن ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو اُبھرتے ہوئے نئے عالمی نظام (ورلڈ آرڈر) کے تحت لڑی جانے والی ابتدائی بڑی جنگوں میں شمار کیا جائے۔ یعنی ایک ایسے نئے عالمی نظام کے تحت لڑی جانے والے جنگ جس میں وہ اصول اپنی اثر پزیری کھوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو گذشتہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی رویوں کو منظم کرتے رہے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد کے بیشتر عرصے میں جنگ اور سفارتکاری باضابطہ طور پر ایک ایسے ڈھانچے کے اندر آپریٹ کرتی رہی جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کے زیر اثر تشکیل پایا تھا۔

حتیٰ کہ جب جنگ کے دوران بھی ان عالمی اصولوں کو توڑا گیا یا اپنے مقاصد کے لیے انھیں استعمال کیا گیا، تب بھی حکومتیں عموماً اپنی کارروائیوں کو اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے جواز دینے کی کوشش کرتی تھیں۔

ایران جنگ کی تازہ ترین تفصیلات بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر

فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عموماً قانونی دلائل، سفارتی مشاورت یا بین الاقوامی اتحادوں کی تشکیل بھی شامل ہوتی تھی۔

مگر ایران جنگ میں یہ تمام عوامل محدود کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بین الاقوامی فریم ورک سے ہم آہنگ نظر آنے کے بجائے حالیہ سٹریٹجک فیصلے فوجی، سیاسی یا سکیورٹی کلکیولیشنز (حساب) سے متاثر نظر آتے ہیں۔

ایران کے لیے ایسے حالات میں کام کرنا بالکل نیا نہیں ہے۔ کئی دہائیوں سے یہ ملک وسیع بین الاقوامی پابندیوں اور سیاسی تنہائی میں زندگی گزار رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے ایسے نیٹ ورکس اور معاشی طریقہ کار تیار کیے ہیں جو بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کو بائی پاس کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

دنیا کی جانب سے کسی ایک ملک پر عائد اتنی وسیع پابندیوں کا شکار ہونے کے باوجود، ایران نے اپنا تیل برآمد کرنا اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

اس سٹریٹجک ثقافت کے اندر رہتے ہوئے کشیدگی کو اکثر ناپ تول کر بڑھایا جاتا ہے۔ ماضی کے بحرانوں میں ایران کا ردعمل عام طور پر اپنے مخالفین اور دشمنوں کے لیے تصادم کی قیمت بڑھانے کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے، اور ان بحرانوں میں ایران کی کوشش رہی کہ اس کی کارروائیوں کے تناظر میں ایک وسیع تر علاقائی جنگ نہ بھڑکے۔

ماضی کی کشیدگیوں میں ایران کا بڑا مقصد اکثر یہ رہا ہے کہ مخالفین پر معاشی یا سیاسی دباؤ بڑھایا جائے، اور اس حد تک بڑھایا جائے کہ بیرونی قوتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

BBCجنیوا میں ریڈ کراس کی عمارت پر نصب سائن

دوسری جانب اسرائیل بھی ایسے ماحول میں کام کرنے کا عادی ہے جہاں بین الاقوامی معاہدے اس کے لیے فوری آپریشنل حد میں تبدیل نہیں ہوتے۔ اسرائیلی فوجی نظریہ طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ جب اسرائیلی قیادت کو کسی جانب سے سنگین خطرہ محسوس ہو تو برق رفتار اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ پیشگی حملے اور زبردست طاقت کا استعمال اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

حالیہ برسوں میں غزہ کی جنگ جیسے تنازعات میں اسرائیل کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو بین الاقوامی قانونی فورمز، بشمول عالمی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت، میں بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی دورانیے میں اسرائیل مسلسل یہ حساب لگاتا رہا ہے کہ اس کی سلامتی کی ترجیحات اس کی جانب سے کی گئی کسی بھی فوجی کارروائی کو جواز بخشتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسے امریکہ کی مضبوط سٹریٹجک حمایت حاصل ہے۔

امریکہ اس نظام کے اندر ایک مختلف حیثیت رکھتا ہے۔ واشنگٹن سنہ 1945 کے بعد سامنے آنے والے عالمی نظام کا محض حصہ نہیں ہے بلکہ اس نے اسے ڈیزائن کرنے اور قائم رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سامنے آنے والے عسکری اتحادوں، بننے والے عالمی اداروں اور قانونی اصولوں کے نیٹ ورکس نے اکثر عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔

گذشتہ دہائیوں میں امریکہ جس موقع پر اس نظام کو کھلے عام نظرانداز کرنے کے قریب آیا، وہ سنہ 2003 میں عراق پر امریکی حملہ تھا۔ اس وقت بھی واشنگٹن نے عراق میں فوجی مداخلت کو ایک وسیع تر اتحاد کی کوشش کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس ضمن میں بنائے گئے نام نہاد ’اتحاد‘ میں برطانیہ، آسٹریلیا اور پولینڈ جیسے امریکی اتحادی شامل تھے، ساتھ ہی درجنوں دیگر حکومتیں مختلف سطحوں پر اس معاملے میں امریکہ کو حمایت فراہم کر رہی تھیں۔ اگرچہ عراق جنگ کے قانونی جواز پر شدید اختلاف رہا مگر پھر بھی امریکہ نے اس کارروائی کو کثیرالجہتی تناظر میں رکھنے کی کوشش کی۔

BBCایران کا جزیرہ خارگ جو حال ہی میں امریکی حملوں کا نشانہ بنا ہے

تاہم موجودہ (ایران، اسرائیل اور امریکہ) تصادم میں بین الاقوامی قانونی جواز پر زور تمام فریقوں کی جانب سے کم مرکزی دکھائی دیتا ہے اور اعلیٰ حکام کے بیانات میں ایک مختلف لہجہ اپنایا گیا ہے۔

مثال کے طور پر گذشتہ سنیچر (14 مارچ) کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حملوں کے ایک نئے سلسلے کے تحت ایران کے خارگ جزیرے کے بڑے حصے کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو مزید بتایا کہ ’ہم محض تفریح کے لیے اسے (جزیرہ خارگ) مزید کئی مرتبہ نشانہ بنائیں۔‘ اس نوعیت کے بیانات ایسے سفارتی انداز کو ظاہر نہیں کرتے ہیں، جو روایتی طور پر بڑی امریکی فوجی کارروائیوں کے موقع پر نظر آتا تھا۔

اس نئے انداز اور ڈھنگ میں معاشی ذرائع کو بھی زیادہ جارحانہ طور پر اپنی پالیسیوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ محصولات یعنی ٹیرف، تجارتی پابندیاں اور مالی اقدامات نہ صرف مخالفین بلکہ دیرینہ شراکت داروں پر بھی لاگو کیے گئے ہیں۔

واشنگٹن کی جانب سےیورپی حکومتوں، بشمول برطانیہ اور نیٹو اتحادی ممالک، کو دفاعی اخراجات، مائیگریشن کی پالیسی، تجارتی طریقوں اور روس کے ساتھ تعلقات جیسے مسائل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردار’اگر وہ زندہ ہیں تو ہم انھیں مار دیں گے‘: نیتن یاہو کی ویڈیو میں ’چھ انگلیاں‘، موت کی افواہیں اور تہران کی دھمکی

ایسی پالیسیاں قلیل مدت میں مؤثر دکھائی دے سکتی ہیں تاہم ان پالیسیوں کے طویل مدتی اثرات کم واضح ہیں۔ اگر اصولوں پر مبنی نظام کے بنیادی معمار ہی اِن اصولوں پر کم زور دینا شروع کر دیں تو دیگر حکومتیں بھی خود کو ان اصولوں کا کم پابند محسوس کر سکتی ہیں۔

ماضی میں ہونے والی تصادم میں ایران کے رویے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ کیسے اس کی قیادت نے ان حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کیا۔ ماضی کے بحرانوں کے دوران، بشمول 2025 میں ایران، اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران، تہران نے فوجی ردعمل دیتے ہوئے بھی بڑی حد تک اپنی سٹریٹجک ریڈ لائنز کا خیال رکھا۔ اگرچہ یہ 12 روزہ تنازع بین الاقوامی قانونی ڈھانچے سے انحراف پر مبنی تھا، مگر ایران کی جانب سے جوابی اقدام پھر بھی ناپ تول کر اٹھایا گیا۔

BBCایرانی میزائل و ڈرون حملوں سے متاثرہ ممالک

جب گذشتہ تنازعے میں ایران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے 'العدید ایئر بیس' پر میزائل داغے تھے تو حملے سے قبل غیر رسمی انتباہات قطر اور امریکی حکام کو دیے گئے تھے۔ اسی طرح کے اشارے اس سے پہلے عراق میں امریکی اہداف پر ایرانی حملوں کے دوران بھی دیکھے گئے تھے۔ خاطر خواہ نقصان اٹھانے کے باوجود، تہران کا جوابی اقدام اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ کشیدگی وسیع پیمانے پر نہ بڑھے اور علاقائی جنگ کی صورت اختیار نہ کرے۔

تاہم موجودہ جنگ میں یہ صورتحال کمزور دکھائی دیتی ہیں۔ امریکہ، اسرائیل کے ابتدائی حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد، ایران نے پورے جزیرہ نما عرب میں امریکی تنصیبات پر حملے کیے، جن میں فوجی اڈے اور شہری اہداف و ڈھانچے دونوں شامل تھے۔ اسی دوران ایران نے دنیا کے سب سے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو مؤثر طور پر متاثر کیا ہے۔

اور اس نوعیت کے ایرانی اقدامات کے نتائج فوری سامنے آئے۔ تیل و گیس کی عالمی منڈیوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے تیل و گیس کی عالمی سپلائی چین کو دباؤ کا شکار کیا۔بین الاقوامی کاروبار اور حکومتوں کے لیے یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح ایک علاقائی تنازع تیزی سے عالمی سطح پر معیشت کو جھٹکے پہنچا سکتا ہے۔

دیگر بڑی طاقتیں ان واقعات سے اپنے نتائج اخذ کر رہی ہیں۔ روس کو عالمی سطح پر تیل و گیس کی بلند قیمتوں سے فائدہ ہو سکتا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے ماسکو پر پابندیوں کا دباؤ بھی کم ہوا ہے اس کے برعکس کے یورپی یونین نے اس کی مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب چین غالباً قریب سے دیکھ رہا ہے کہ اس حالیہ تنازع کے نتیجے میں بین الاقوامی اصول کس حد تک بدل سکتے ہیں اور کس سمت میں جا سکتے ہیں۔

BBCآبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی صورتحال، ایران جنگ سے قبل اور اس کے دوران

حالیہ ایران تنازعے کے پس منظر میں حالات جو رُخ اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں اس پر یورپ محدود اثر رکھتا دکھائی دیتا ہے۔ سفارتی کوششوں کے باوجود، یورپی یونین اور برطانیہ زیادہ تر خود کو حالات کو دیکھنے والے کے طور پر پاتے ہیں، نہ کہ انھیں تشکیل دینے والے کے طور پر۔

مشرقِ وسطی میں اس جنگ سے پیدا ہونے والا سوال وسیع تر ہے۔ یہ سوال اس بین الاقوامی نظام کی پائیداری سے متعلق ہے جس نے سنہ 1945 سے عالمی تعلقات اور سیاست کو تشکیل دیا ہے۔ اگرچہ یہ نظام کبھی بھی عالمگیر سطح پر قبول نہیں کیا گیا اور اکثر اس پر اعتراض کیا گیا، پھر بھی اس نے ایک ایسا ڈھانچہ فراہم کیا جس کے اندر رہتے ہوئے طاقت استعمال کی جاتی رہی ہے۔

اور اگر یہ ڈھانچہ مزید کمزور ہوتا رہا، تو نتیجہ ایک ایسا بین الاقوامی ماحول ہو سکتا ہے جہاں ریاستیں ردعمل دکھانے میں مشترکہ عالمی اصولوں پر کم اور اپنی صلاحیت پر زیادہ انحصار کریں۔ ایسے منظرنامے میں، وہ ممالک بھی جو ابتدا میں اس نظام کے معمار تھے، اس کی زوال پذیری کے ایسے نتائج کا سامنا کر سکتے ہیں جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردار’اگر وہ زندہ ہیں تو ہم انھیں مار دیں گے‘: نیتن یاہو کی ویڈیو میں ’چھ انگلیاں‘، موت کی افواہیں اور تہران کی دھمکیامریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ترکی کو کس بات کا خوف ہے؟پاکستانی آئل ٹینکر ’کراچی‘ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے لمبا راستہ کیوں چنا؟ٹرمپ کی مشکل، تہران کی سٹریٹجی اور ’مشرق وسطیٰ کا غصہ‘: اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کی جلدی کیوں نہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More