پُرکشش دکھائی دینے کے لیے چہرے پر ہتھوڑوں سے ضربیں لگانا اور ’بھیڑیے جیسی‘ آنکھیں بنانا: لُکس میکسنگ کی انوکھی دنیا

بی بی سی اردو  |  Mar 16, 2026

مارون سوچ رہے ہیں کہ وہ کس قدر پُر کشش ہیں؛ وہ اپنے آپ کو 10 میں سے سات نمبر دیتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے تھوڑی مزید محنت سے مزید بہتری آ سکتی ہے۔

مارون کہتے ہیں کہ ’میں اپنی جلد سے خوش نہیں ہوں، آنکھوں کے نیچے سوجن ہے اور میرے جبڑے کی بناوٹ بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر میں یہ سب ٹھیک کر لوں تو 10 میں سے نو نمبر بنیں گے۔‘

26 سالہ مارون ایک پُر جوش ’لُکس میکسر (خود کو زیادہ سے زیادہ پُر کشش بنانا)‘ ہیں۔ ان کا دن صبح سویرے جم میں سخت ورزش سے شروع ہوتا ہے اور پھر گھر آ کر یہ کام کرنا ان کا معمول ہے: پہلے وہ گرم اور پھر برف جیسے ٹھنڈے پانی سے نہاتے ہیں، اس کے بعد اپنا چہرہ صاف کرتے ہیں اور اس پر جما ہوا کھیرا رگڑتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے سوجن اور مہاسے کم ہوں گے اور جلد چمک اٹھے گی۔

پھر وہ جبڑے اور چہرے کی دیگر ورزشیں کرتے ہیں، جن کی ویڈیوز وہ اکثر ٹک ٹاک پر اپنے 35 ہزار فالوورز کے لیے پوسٹ کرتے ہیں۔

’یہ زائیگو پُش ہے،‘ انگوٹھوں سے گالوں کی ہڈیوں کو نیچے سے دبا کر کانوں تک لے جاتے ہوئے مارون نے مجھے بتایا۔

پھر شہادت کی انگلیوں سے کنپٹیاں دباتے اور آنکھوں کو سکیڑتے ہوئے مارون نے بتایا کہ یہ ’ہنٹر سکوئیز‘ ہے۔ ان کے مطابق اس سے ان کی آنکھیں ’بھیڑیے جیسی‘ ہو جائیں گی۔

اپنا روزمرہ کا یہ معمول بتاتے ہوئے مارون ہنس پڑے، ’لوگ کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ یہ آدمی آخر کر کیا رہا ہے؟‘

مارون پُر اعتماد ہیں کہ اس معمول سے انھیں اپنی ظاہری ساخت اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں مدد مل رہی ہے؛ دبے ہوئے گال، ترشا ہوا چہرہ، نوکیلی آنکھیں، اور نمایاں جبڑا۔

وہ وضاحت کرتے ہیں چہرے کی ایسی ساخت مردانہ خوبصورتی کی ’معراج‘ ہے۔

مارون کا کہنا ہے کہ وہ صبح سے شام تک ایک بڑھئی کا کام کرتے تھے اور اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تھے۔ اب وہ آن لائن کاروبار کر رہے ہیں۔

’لُکس میکسنگ‘ کی آن لائن دنیا میں خوش آمدید، جہاں نوجوان مردوں کی ایک بڑھتی تعداد ایسی ظاہری ساخت حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے جو مثالی چہرے اور مثالی جسم کے اُن کے تصور پر پوری اتر سکے۔ ان نوجوانوں کے نزدیک مثالی چہرے اور جسم کا مطلب ہے مثالی زندگی۔

یہ مرد روزانہ مختلف قسم کی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں؛ جم میں جا کر ورزش کرنے اور اپنی جلد کا خیال رکھنے (اسے سافٹ میکسنگ کہا جاتا ہے) سے لے کر مسل بنانے والے ہارمون لینے تک۔

سافٹ میکسنگ کے دوسرے سرے پر ہارڈ میکسنگ ہے۔ اس میں نوجوان ’ہڈیوں پر جان بوجھ کر ضربیں‘ لگاتے ہیں یا جبڑے کی سرجری کراتے ہیں تاکہ چہرے کو اپنی مرضی کی شکل دے سکیں۔

مارون کے مطابق اگر آپ ظاہری خوبصورتی کے اس معیار تک نہیں پہنچتے اور اپنی شکل و صورت میں تبدیلی لانے کی کوشش بھی نہیں کر رہے تو خطرہ ہے کہ آپ ’سب تھری‘ درجے پر جا گریں گے۔ یعنی ایسے فرد بن جائیں گے جو زیادہ خوش شکل نہیں ہے۔

وہ چہرہ جانچنے والی موبائل فون ایپلی کیشن استعمال کرتے ہیں، یہ ان کی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد تجاویز دیتی ہے کہ چہرے کے کون سے حصوں پر مزید کام کی ضرورت ہے۔ ایپ سٹورز پر ہزاروں افراد نے ایسی ایپلی کیشنز پر تبصرے کر رکھے ہیں۔

کچھ لوگوں کے لیے ’لُکس میکسنگ‘ نے ایک اصول وضع کر دیا ہے کہ ایک ’کامیاب مرد‘ کیسا نظر آتا ہے اور کیسے بنا جا سکتا ہے۔

14 سالہ لڑکی کی پلاسٹک سرجری کے بعد موت اور والدین کی گرفتاری جس پر میکسیکو میں نئے خدشات جنم لے رہے ہیںوہ کاسمیٹک سرجری جس کا استعمال عورتوں سے زیادہ مرد کر رہے ہیں’خوبصورت‘ نظر آنے کے لیے کاسمیٹک سرجری: ’مجھے لگا تھا کہ شاید چہرے پر بال آنا کم ہو جائیں گے‘’مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوتی تھی‘: خواتین کی زیادہ بڑی چھاتیاں صحت کو کیسے متاثر کر سکتی ہیں؟

نمایاں جبڑوں والے 20 سالہ بریڈن پیٹرز عرف کلیویکولر بڑے انفلوئنسرز میں سے ایک ہیں اور لُکس میکسنگ کی اصطلاح میں ’گیگا چیڈ‘ دس بٹا دس کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

بول چال کے لیے اپنے ہی وضح کردہ الفاظ میں وہ خود سے ملنے والے ہر شخص کو ’موگ‘ کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے کام میں اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے دیگر سب کی موجودگی ماند پڑ جاتی ہے۔

کلیویکولر دیگر چیزوں کے علاوہ 14 سال کی عمر سے ٹیسٹوسٹیرون لینے اور چہرے کی ساخت تبدیل کرنے کے لیے ہتھوڑے سے جبڑے پر ضربیں لگانے کو اپنی موجودہ شکل و صورت کی وجہ بتاتے ہیں۔

صحت کے ماہرین نے ایسے کسی اقدام کی تجاویز نہیں دے رکھیں۔

جس طرح کا مواد وہ اور دیگر انفلوئنسرز بناتے ہیں، اس سے ایک وقت میں غیر مقبول رہنے والی لُکس میکسنگ اب خاصی مقبول ہو چکی ہے۔

لیکن کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ لُکس میکسنگ ایک شیطانی دنیا کا دروازہ ہے۔

یہ اصطلاح پہلے پہل ایسے نوجوانوں کے آن لائن فورمز پر سامنے آئی تھی جو جنسی تعلق کے لیے کوئی ساتھی تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان کی گفتگو اکثر عورت دشمن بیانیے پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرد کے جنسی تعلقات میں کمی کی ذمہ دار عورتیں ہیں۔

اس رویے کو انسیل کلچر کہا جاتا ہے۔

Victor VIRGILE/Gamma-Rapho via Getty Imagesکلاویکولر فروری 2026 میں نیویارک فیشن ویک میں

صحافی میٹ شیا مردوں کے خواتین دشمنی سے منسلک تصورات پر دستاویزی فلمیں بنا چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ خواتین کے خلاف تعصب رکھنے والے انفلوئنسر اینڈریو ٹیٹ (جن کا وہ انٹرویو بھی کر چکے ہیں)، کلیویکولر اور اسی طرح کے دیگر مرد انفلوئنسرز ایک ہی سوچ رکھتے ہیں اور اسی کو بنیاد بنا کر پیسہ کماتے ہیں۔

شیا کے مطابق، یہ لوگ نوجوان مردوں کو پہلے یہ باور کراتے ہیں کہ وہ کسی قابل نہیں اور پھر ’خود کو حل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔‘

وہ کورسز بیچتے ہیں جن میں سکھایا جاتا ہے کہ اپنی جنسی کشش (سیکشوئل مارکیٹ ویلیو یا ایس ایم وی) کیسے بڑھائی جائے۔ یہ بنیادی طور پر وہ پیمانہ ہے کہ ان کے معیار کے مطابق آپ کتنے پُر کشش ہیں۔

شیا وضاحت کرتے ہیں کہ ایس ایم وی جتنی زیادہ ہو اس بات کا امکان اتنا ہی بڑھ جاتا ہے کہ کوئی عورت آپ سے جنسی تعلق قائم کرے گی۔

ایک حد تک لُکس میکسنگ وہ سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر زیادہ پُر کشش بنا جا سکتا ہے۔ ان کی منطق کے مطابق، اگر اس کے باوجود کوئی عورت آپ میں دلچسپی نہیں لیتی تو یا تو آپ نے خود کو بہتر بنانے کی اتنی کوشش نہیں کی جتنی کرنی چاہیے تھی یا پھر غلطی عورت کی ہی ہے۔

شیا کہتے ہیں کہ ’یہی وہ مقام ہے جہاں معاملہ خطرناک رخ اختیار کر لیتا ہے۔‘

آن لائن سکرولنگ سے واضح ہوتا ہے کہ ہر لُکس میکسر اس سوچ کا پیروکار نہیں۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ وہ عورت دشمن نظریات سے متفق نہیں۔

لینڈر نے بھی بات کرنے سے پہلے شرط رکھی کہ ان کا نام انسیل کلچر سے نہ جوڑا جائے۔ مارون کی طرح وہ بھی خود کو ’سافٹ میکسر‘ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنی ظاہری شکل میں بہتری لا کر وہ خود کو بہتر محسوس کرنا چاہتے ہیں۔

سنہ 2023 میں ایک محبت کی ناکامی کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا پر لُکس میکسننگ کے بارے میں تحقیق شروع کی اور ایک معمول بنایا۔ ہفتے میں پانچ بار جم جانے کے علاوہ وہ باقاعدگی سے برف جیسے ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھوتے ہیں تاکہ ’سوجن کم ہو‘۔ اور وہ پشت کے بل سونے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگرچہ وہ خود کو مارون کی طرح ایک سے دس کے پیمانے پر نہیں دیکھتے، لیانڈر اپنے موجودہ ظاہری حالت سے تقریباً 80ۙ فیصد خوشی محسوس کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ وہ ’گھمنڈی‘ ہیں لیکنوہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ’روایتی طور پر پرکشش‘ نہیں ہیں، تو سافٹ میکسنگ زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔

ٹام تھیبے ظاہری حسن کے لحاظ سے خود کو کم تر نہیں سمجھتے۔ وہ ہمیشہ فٹنس اور اچھا دکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے، لیکن صرف اس وقت ظاہری دیکھ بھال (لُکس میکسنگ) میں شامل ہوئے جب 21 سال کی عمر میں ان کے بال گرنے لگے۔

اب 23 سالہ ٹام کہتے ہیں ’اس نے واقعی میری خود اعتمادی پر اثر ڈالا، ایسا لگتا تھا کہ یہ کنٹرول سے باہر ہے اور ظاہر ہے،= یہ آپ کو زیادہ عمر رسیدہ بھی دکھاتا ہے، جو کوئی نہیں چاہتا۔‘

@tom.thebeٹام تھیبے ظاہری حسن کے لحاظ سے خود کو کم تر نہیں سمجھتے

انھوں نے مختلف ادویات کے بارے میں تحقیق کی اور بال جھڑنے کے علاج کے لیے فیناسٹیرائیڈ اور مینوکسیڈل کا استعمال شروع کیا۔ دونوں ادویات برطانیہ میں ڈاکٹر کے نسخے پر مل جاتی ہیں۔ ٹام کو محسوس ہوتا ہے کہ ان دواؤں سے نمایاں فائدہ ہوا، اور یہاں سے انھوں نے لُکس میکسنگ کی دنیا میں قدم رکھا۔

اب جم کی باقاعدہ ورزش اور اچھی سکن کیئر روٹین کے ساتھ ساتھ وہ پیپٹائیڈز کے انجیکشن بھی لیتے ہیں۔ پیپٹائیڈز وہ پروٹین ہیں جو ہمارا جسم قدرتی طور پر بناتا ہے اور ہماری جلد کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گذشتہ چند ماہ میں پیپٹائیڈز سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوئے اور بہت سے انفلوئنسرز کے فریج انھی سے بھر گئے۔

وہ جِلد اور بالوں کی بہتری کے لیے ایک دوا لیتے ہیں اور رنگت کو گہرا کرنے کے لیے دوسری۔

پیپٹائڈز استعمال کرنے کی ابھی تک باضابطہ اجازت نہیں دی گئی ہے۔ زیادہ تر انھیں انسانوں کے بجائے جانوروں پر آزمایا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے انھیں محفوظ یا مؤثر نہیں سمجھا جا سکتا۔

برطانیہ کی میڈیسنز اینڈ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی (ایم ایچ آر اے) نے لوگوں کو ان سے اجتناب کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

مانچسٹر میں رہنے والے ٹام اس سے متاثر نہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر خود کو بہتر بنانے کے مشورے دیتے ہیں اور اپنا کوچنگ بزنس شروع کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں لیکن وہ خود کو بہت شدید لُکس میکسر نہیں سمجھتے۔

ان کے مطابق ’مسئلہ تب بنتا ہے جب 18 سال کے کچے ذہن والے نوجوان ایسے افراد کو دیکھتے ہیں جو لُکس میکسنگ کے لیے چہرے کی ہڈیوں پر ضربیں لگا رہے ہیں تو اس سے ان میں اپنی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں منفی تصورات جنم لیتے ہیں۔‘

پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کی محقق آندا سولیا انسیل کلچر کے معاشرے پر پڑنے والے اثرات پر تحقیق کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ لُکس میکسننگ کو ایک وسیع تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ ایک طرف اس میں صحت کا خیال رکھنے اور فٹ رہنے جیسی مثبت بات ہے ’لیکن مسئلہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب یہی زندگی کا واحد کام بن جائے اور آپ صرف بہتر نظر آنے کے لیے اپنی صحت کو خطرے میں ڈالنے لگیں۔‘

سولیا کے مطابق، نوجوانوں کی سوشل میڈیا فیڈز پر نظر آنے والا مواد، جسے الگورتھم نے بھی بڑھاوا دیا ہوتا ہے، انھیں بتاتا ہے کہ لُکس میکسنگ کرا لیں ورنہ ’آپ کا مذاق اڑایا جائے گا۔‘

اور ظاہری شکل بہتر بنانے کے لیے اس قدر محنت کرنے کے باوجود اگر مردوں کو یہی محسوس ہو کہ خواتین ان میں دلچسپی نہیں لے رہیں، تو سولیا سوال کرتی ہیں کہ ’کیا پھر وہ عورتوں سے نفرت کرنے لگیں گے اور خود کو پسند نہ کرنے پر عورتوں کو ہی قصور وار سمجھیں گے؟‘

سولیا کے مطابق اسی مقام پر پہنچ کر شاید کچھ مردوں کو احساس ہو کہ لُکس میکسننگ ان کے لیے نہیں ہے۔

لیکن مارون، لینڈر اور ٹام کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس رجحان کے پیچھے مرد کا محرک جتنا یہ ہے دوسرے اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں، اتنا ہی محرک یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو کیسے دیکھتا ہے۔

’مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوتی تھی‘: خواتین کی زیادہ بڑی چھاتیاں صحت کو کیسے متاثر کر سکتی ہیں؟وہ کاسمیٹک سرجری جس کا استعمال عورتوں سے زیادہ مرد کر رہے ہیں’خوبصورت‘ نظر آنے کے لیے کاسمیٹک سرجری: ’مجھے لگا تھا کہ شاید چہرے پر بال آنا کم ہو جائیں گے‘14 سالہ لڑکی کی پلاسٹک سرجری کے بعد موت اور والدین کی گرفتاری جس پر میکسیکو میں نئے خدشات جنم لے رہے ہیںخوبصورت نظر آئیں مگر احتیاط سے۔۔۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More