پہلے اور دوسرے بچے کی پیدائش سے قبل خواتین کے دماغوں میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Feb 25, 2026

Getty Imagesبرین سکینز میں دوسرے حمل کے وقت عورتوں کے دماغوں میں توجہ کو مرکوز رکھنے سے متعلق نیٹ ورکس میں زیادہ تبدیلیاں دیکھی گئیں

سائنسدانوں کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ دوسرے بچے کے حمل کے دوران ماؤں کے دماغوں میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو انھیں کسی معاملے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میڈیکل سینٹر (یو ایم سی) کے محققین نے اس سے قبل دریافت کیا تھا کہ پہلے حمل کے دوران بھی خواتین کے دماغوں میں بعض تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو انھیں ماں بننے کے لیے تیار کرتی ہیں۔

تاہم اب ان کی نئی تحقیق کے نتائج ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کر سکتے ہیں کہ بعض خواتین ماں بننے کے دوران ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار کیوں ہوتی ہیں۔

Getty Imagesمحققین کو معلوم ہوا کہ دماغ میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ماؤں کو ایک سے زیادہ بچوں کی دیکھ بھال میں مدد دیتے ہیں

اپنی زندگی کے دوران اکثر خواتین حمل سے گزرتی ہیں۔ 2023 تک کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر شرح پیدائش 2.3 فی خاتون ہے۔

یو ایم سی کی کی پریگنینسی برین لیب کے محققین کو پہلے یہ معلوم ہوا تھا کہ جب ایک عورت پہلی بار حاملہ ہوتی ہے تو اس کے دماغ کا وہ حصہ جو خود شناسی اور اپنے بچوں کے احساسات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے، تبدیل ہوتا ہے۔ یوں ان کا دماغ انھیں بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں مدد دیتا ہے۔

حالیہ تحقیق میں انھوں نے 110 خواتین کا جائزہ لیا۔ کچھ پہلی بار مائیں بنیں، کچھ نے اپنا دوسرا بچہ پیدا کیا اور ایک تیسرا گروپ بے اولاد تھا۔

عورتوں کے حمل سے پہلے اور بعد میں لیے گئے دماغی سکینز کے ذریعے تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ دوسرے حمل والی عورتوں کے دماغوں میں توجہ کو مرکوز کرنے اور حواس پر ردِعمل دینے سے متعلق نیٹ ورکس میں زیادہ تبدیلیاں تھیں۔

محقق مِلو سٹراتھوف کہتی ہیں کہ ’یہ تبدیلی کئی بچوں کی دیکھ بھال کرتے وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے۔‘

اس تحقیق نے ان عورتوں میں دماغی تبدیلیوں کے بارے میں کوئی نتیجہ نہیں نکالا جن کے اسقاط حمل ہوئے۔ لیکن محققین کہتے ہیں کہ ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ بنیادی دماغی تبدیلیاں حمل کے آخری مرحلے میں ہوتی ہیں۔

کیا بچے کی پیدائش کے بعد ماں کی عمر کم ہو جاتی ہے؟ مردہ عورت کی بچہ دانی کے ذریعے پیدائش کا ’معجزہ‘مائیں گاجر کھائیں تو رحم میں بچے ’مسکراتے ہیں‘، گوبھی کھائیں تو ’تیوریاں چڑھا لیتے ہیں‘تین افراد کے ڈی این اے سے بچہ پیدا کرنے کی تکنیک جو بچے کو مہلک وراثتی بیماری سے پاک کر دیتی ہےذہنی صحت کے مسائل

تحقیق نے پہلی اور دوسری حمل میں دماغی تبدیلیوں اور ماؤں میں ذہنی صحت کے مسائل کے درمیان ایک تعلق بھی پایا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 10 فیصد حاملہ عورتیں اور 13 فیصد عورتیں جو ابھی بچے کو جنم دے چکی ہیں، ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔

یو ایم سی کی تحقیق کے مطابق عورتوں کے دماغ کے اوپری حصے سیریبرم کی بیرونی تہہ میں تبدیلیوں کا حمل کے دوران یا بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن سے تعلق ہوتا ہے۔

پہلی بار ماں بننے والی خواتین میں یہ تبدیلیاں زیادہ نمایاں طور پر بچے کی پیدائش کے بعد کی ذہنی صحت سے منسلک تھیں۔ لیکن دوسری بار ماؤں میں یہ تبدیلیاں دوران حمل ذہنی صحت سے منسلک رہیں۔

پریگنینسی برین لیب کی سربراہ ایلسلین ہوکزیما کہتی ہیں کہ ’اس سے ہم نے پہلی بار یہ دکھایا ہے کہ دماغ نہ صرف پہلے بلکہ دوسرے حمل کے دوران بھی بدلتا ہے۔‘

’پہلے اور دوسرے حمل کے دوران دماغ دونوں ملتے جلتے اور منفرد طریقوں سے تبدیل ہوتا ہے۔ ہر حمل عورت کے دماغ پر ایک منفرد نشان چھوڑتا ہے۔‘

اگرچہ اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم مصنفین کہتے ہیں کہ یہ نتائج ماؤں کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتے ہیں۔ اس سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ کچھ عورتوں میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کیسے اور کیوں ہوتا ہے۔

ہوکزیما کہتی ہیں کہ ’یہ سمجھنا اہم ہے کہ دماغ ماں بننے کے ساتھ کیسے خود کو ڈھالتا ہے۔‘

کیا بچے کی پیدائش کے بعد ماں کی عمر کم ہو جاتی ہے؟ مردہ عورت کی بچہ دانی کے ذریعے پیدائش کا ’معجزہ‘تین افراد کے ڈی این اے سے بچہ پیدا کرنے کی تکنیک جو بچے کو مہلک وراثتی بیماری سے پاک کر دیتی ہےچھ سالہ بیٹی کو ’فروخت کرنے والی‘ ماں کو عمر قید: ’والدہ نے کہا وہ اپنا ہر بچہ 1100 ڈالر میں فروخت کرنا چاہتی ہیں‘مائیں گاجر کھائیں تو رحم میں بچے ’مسکراتے ہیں‘، گوبھی کھائیں تو ’تیوریاں چڑھا لیتے ہیں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More