AFP via Getty Imagesجماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان
بنگلہ دیش کے 13 ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں جماعت اسلامی نے جتنی نشستیں ایک جماعت کے طور پر حاصل کی ہیں، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں حاصل کی تھیں۔
جماعت اسلامی پر یہ الزام رہا ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کی آزادی کی کھلی مخالفت کی اور اس کے بعض رہنما پاکستانی فوج کے معاون کے طور پر مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث رہے۔ لیکن اسی تاریخ کے ساتھ اس بار جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں مرکزی اپوزیشن جماعت کی نشست سنبھالنے جا رہی ہے۔
جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں جماعت اسلامی پہلی بار آزاد بنگلہ دیش کی تاریخ میں دارالحکومت ڈھاکہ سے کوئی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی۔
مجموعی طور پر اس انتخاب میں جماعت اسلامی کے امیدواروں نے 68 پارلیمانی نشستیں جیتی ہیں جبکہ اتحادیوں کی نشستیں ملا کر جماعت اسلامی کے زیر قیادت اتحاد کُل 77 نشستوں کے ساتھ مرکزی حزب اختلاف کے طور پر پارلیمنٹ میں بیٹھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس انتخاب کا نتیجہ بنگلہ دیش کی پارلیمانی سیاست میں جماعت اسلامی کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ان کے مطابق انتخاب کے لیے واضح حکمت عملی، مشکل ماحول میں مؤثر تنظیمی سرگرمیوں کا تسلسل اور کئی حلقوں میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے باغی امیدواروں کی موجودگی نے جماعت اسلامی کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نشستیں دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ساتھ ہی بہت سے مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس بار انتخابات میں عوامی لیگ کی غیر موجودگی نے بھی کچھ حلقوں میں جماعت اسلامی کو فائدہ پہنچایا۔
اس تحریر میں ہم نے بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کی تاریخ کا جائزہ لیا ہے۔
Mamun Hossain/Drik/Getty Imagesجماعت اسلامی نے ایک جماعت کے طور پر 68 نشستیں جیتی ہیں، جو ان کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہےاقتدارکی جدوجہد
جماعت کی سیاست پر نظر رکھنے والے اور روزنامہ نیا دیگانتا کے مدیر صلاح الدین محمد بابر کا کہنا ہے کہ جماعت کی قیادت، تنظیمی نیٹ ورک اور واضح حکمت عملی نے اس قدر نشستیں جیتنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
انھوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا: ’اس کا سہرا جماعت کے امیر کے سر بندھتا ہے۔ انھوں نے جماعت کو ایک نئی زندگی دی اور اسے تمام مذاہب اور پیشوں سے وابستہ لوگوں پر مشتمل ایک مکمل سیاسی جماعت میں تبدیل کیا۔ طویل عرصے تک مخاصمانہ ماحول میں رہ کر بھی انتخاب میں جماعت اسلامی کی کامیابی کی بنیاد اس کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہے۔‘
بابر کے مطابق اس مرتبہ ڈھاکہ میں پہلی بار نشست جیتنے کے ساتھ ساتھ ڈھاکہ کے نام نہاد ایلیٹ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی جماعت کی مضبوط موجودگی سامنے آئی ہے۔
درحقیقت گلشن بانانی کو بھی بہت سے لوگ ایلیٹ علاقہ کہتے ہیں۔ اسی علاقے کے حلقے ڈھاکہ 17 سے بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے جماعت اسلامی کے امیدوار کو پانچ ہزار سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔
سیاسی تجزیہ کار اور محقق محی الدین احمد کا کہنا ہے کہ جماعت کا تنظیمی کام اور زیر زمین رہ کر بھی نوجوانوں میں اپنی جگہ بنانے کی حکمتِ عملی، ان کی نشستوں میں اضافے کا سبب بنی۔
انھوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا: ’عوامی لیگ موجود نہیں تھی، لہٰذا اس کے کچھ حامیوں نے شاید مختلف مقامات پر جماعت اسلامی کو بطور متبادل ووٹ دیا ہو۔ تاہم جماعت نے پورے ملک میں اپنے تنظیمی ڈھانچے کو فعال رکھا۔ نوجوانوں میں ان کے مقام نے بھی انتخابات میں بہتر نتائج دینے میں مدد دی۔‘
جب جماعت اسلامی پر پابندی لگی
جببنگلہ دیش آزاد ہوا اور سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تو ملک میں جماعت اسلامی کا تنظیمی وجود بظاہر ختم ہو گیا۔ سنہ 1972 کے آئین میں سیاسی مقصد کے لیے مذہب کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی۔
اس صورت حال میں جماعت اسلامی کے کئی رہنما اُس وقت کی دیگر فعال سیاسی جماعتوں میں شامل ہو گئے۔ موجودہ سیکریٹری جنرل میاں گولام پروار اور لطیف الرحمان سمیت کئی دوسرے لوگ چھترا لیگ یا جے ایس ڈی میں شامل ہو گئے۔
جماعت کی ویب سائٹ کے مطابق موجودہ امیر شفیق الرحمان بھی اُس زمانے میں جے ایس ڈی چھترا لیگ میں فعال تھے۔
تاہم سنہ 1975 میں بنگلہ دیش کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعد جماعت اسلامی کے لیے صورت حال بدل گئی۔
تین مئی 1976 کو اُس وقت کے صدر اے ایس ایم سائم نے ایک آرڈیننس جاری کیا جس کے ذریعے مذہب پر مبنی سیاست پر عائد پابندی ہٹا لی گئی۔
اس کے باوجود 1971 کی جنگ کے دوران جنگی جرائم اور آزادی کی مخالفت کے معاملات پر عوامی غصے کو مد نظر رکھتے ہوئے، جماعت اسلامی کے خفیہ طور پر سرگرم رہنماؤں نے جماعت کے نام سے سیاست شروع نہ کی۔
سنہ 1976 میں جماعت اسلامی نے اسلامی جمہوری لیگ (آئی ڈی ایل) کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں شروع کیں۔
بظاہر اسی انتخاب کے ذریعے جماعت اسلامی کے رہنما پہلی بار پارلیمان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، اگرچہ ایک مختلف شناخت کے ساتھ۔
جماعت اسلامی کی ویب سائٹ کے مطابق سنہ 1979 کے پارلیمانی انتخابات میں آئی ڈی ایل کے پلیٹ فارم سے جماعت اسلامی کے چھ ارکان پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔
جماعت اسلامی کے وہ رہنما جو پاکستان چلے گئے
مئی 1979 میں جماعت اسلامی کے نام سے ہی ایک اجلاس بلایا گیا جس کی صدارت جماعت کے ایک رہنما عباس علی خان نے کی۔
اسی اجلاس میں پہلی بار غلام اعظم کی ایک تقریر پڑھ کر سنائی گئی۔ غلام اعظم کو بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کا مخالف سمجھا جاتا ہے۔
اس اجلاس میں ایک نیا دستور منظور کیا گیا اور اسی کی بنیاد پر 27 مئی 1979 کو چار نکاتی پروگرام کے ساتھ جماعت اسلامی نے آزاد بنگلہ دیش میں اپنی اعلانیہ سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
غلام اعظم بنگلہ دیش کی آزادی سے پہلے مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے امیر تھے۔ 22 نومبر 1971 کو وہ ڈھاکہ چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔
بعد ازاں سنہ 1978 میں وہ پاکستانی پاسپورٹ پر اپنی بیمار والدہ کی عیادت کے لیے ڈھاکہ آئے اور پھر واپس نہیں گئے۔
تاہم بنگلہ دیش میں غلام اعظم پہلی بار سنہ 1981 میں عوام کے سامنے آئے۔ اگرچہ جماعت کے رہنماؤں نے بعد میں انکشاف کیا کہ جماعت اسلامی سنہ 1979 سے ان کی رہنمائی میں کام کر رہی تھی۔
جماعت اسلامی کے مرحوم رہنما اے کے ایم نذیر احمد کی کتاب ’سیاست میں جماعت اسلامی‘ میں لکھا ہے: ’سنہ 1978 میں وطن واپس آنے کے بعد سے پروفیسر غلام اعظم بارہا جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوتے رہے۔ لیکن چونکہ ان کے پاس شہریت نہیں تھی، اس لیے سیاسی میدان میں ان کی نمائندگی قائم مقام امیر عباس علی خان کرتے تھے۔‘
مئی 1981 میں ضیا الرحمان کے قتل کے بعد ایک اور فوجی حکمران جنرل ارشاد اقتدار میں آئے۔ ایک وقت میں جب مختلف سیاسی جماعتوں نے ارشاد کے خلاف تحریک شروع کی تو جماعتِ اسلامی بھی اس میں شامل ہو گئی۔
تحریک سے نمٹنے کے لیے جب ارشاد نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے تو جماعتِ اسلامی کو بھی مدعو کیا گیا۔
ارشاد حکومت کے تحت پہلا پارلیمانی انتخاب سنہ 1986 میں ہوا۔ جماعت کی ویب سائٹ کے مطابق اس انتخاب میں جماعت اسلامی کے 10 ارکان منتخب ہوئے تھے۔ بعد ازاں سنہ 1988 کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے حصہ نہیں لیا۔
حکومت سازی اور سزائے موت
جنرل ارشاد کی حکومت ختم ہونے کے بعد سنہ 1991 کے پارلیمانی انتخابات میں جماعت اسلامی نے 18 نشستیں حاصل کیں۔ اس انتخابات میں بی این پی نے اکثریت حاصل کی تھی مگر حکومت بنانے کے لیے اسے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار تھی۔
تب جماعت اسلامی کی حمایت سے بی این پی نے حکومت بنائی اور یوں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان غیر رسمی معاہدے کے نتیجے میں غلام احمد کی شہریت بھی بحال کی جانی تھی۔
لیکن اسی دوران جب جنگی مجرموں کے خلاف مقدمات چلانے کی عوامی تحریک زور پکڑ گئی تو مارچ 1992 میں غلام اعظم کو گرفتار کر لیا گیا، اس الزام میں کہ وہ ’غیر ملکی شہری ہوتے ہوئے ایک سیاسی جماعت کے سربراہ بنے۔‘
اس وقت شہریت کے معاملے پر جماعت نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ تاہم حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ بعد میں جب سپریم کورٹ اپیل ڈویژن نے غلام اعظم کو شہریت واپس دلائی تو وہ 16 ماہ قید کاٹنے کے بعد رہا ہوئے۔
اسی دوران جب عوامی لیگ سمیت اپوزیشن جماعتوں نے تحریک چلائی کہ نگران حکومت کے تحت انتخابات کرائے جائیں تو جماعت اسلامی بھی علیحدہ طور پر اس تحریک میں شامل ہوئی۔
15 فروری 1996 کو بی این پی حکومت کے تحت ہونے والے انتخابات کا عوامی لیگ اور جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کیا۔
ایک وقت ایسا آیا کہ پارلیمان میں نگران حکومت کا بل منظور ہونے کے بعد خالدہ ضیا کی قیادت والی بی این پی حکومت کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔
جون 1996 میں نگران حکومت کے تحت ہوئے انتخابات میں جماعت اسلامی صرف تین نشستیں حاصل کر سکی۔
اس کے بعد جماعت دوبارہ بی این پی کے ساتھ مل کر عوامی لیگ حکومت کی مخالفت میں تحریک کا حصہ بنی۔
جب سنہ 2001 کے انتخابات میں چار جماعتی انتخاب بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا تو جماعت اسلامی کو پہلی بار حکومت میں شریک ہونے کا موقع ملا۔
اُس وقت جماعت کے دو سینئر رہنما مطیع الرحمان نظامی اور علی احسان محمد مجاہد، خالدہ ضیا کی قیادت والی حکومت میں وزیر بنے۔ بعد میں جب عوامی لیگ کی حکومت آئی تو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات میں دونوں کو سزائے موت دی گئی۔
’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘: بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں ’انڈیا مخالف جذبات‘ کیوں بڑھ رہے ہیں؟بنگلہ دیش میں نوجوانوں کے انقلاب کے بعد پہلے عام انتخابات: جین زی کا خواب اب بھی ادھورا کیوں؟ضیا الرحمان: جب فوجی افسروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے بنگلہ دیش کے سابق صدر کی لاش قبر سے نکالی گئی ’پاکستان کی دوست‘ خالدہ ضیا کی وفات: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کون تھیں؟BBCانتخابات میں جماعت اسلامی کی خواتین کارکن بھی سرگرم رہیںبحران کے بعد نام کی تبدیلی
بی این پی کی قیادت والے چار جماعتی اتحاد کی حکومت کے آخری دور میں، نگران حکومت کے سربراہ کے نام پر سیاسی بحران تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔ تب جنوری 2007 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت اقتدار میں آئی۔
اس حکومت کے تحت دسمبر 2008 میں ہونے والے انتخابات میں جماعت اسلامی صرف دو نشستیں حاصل کر سکی۔ اسی سال الیکشن کمیشن سے رجسٹریشن حاصل کرنے کے لیے جماعت نے اپنا نام جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے بدل کر ’بنگلہ دیش جماعت اسلامی‘ رکھ لیا۔
اس انتخاب میں عوامی لیگ کے برسر اقتدار آنے کے بعد جنگی مجرموں کے مقدمات سمیت مختلف حکومتی اقدامات نے جماعت اسلامی کو کونے میں کھڑا کر دیا۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگرچہ جماعت مختلف ادوار میں ریاستی سرپرستی سے لے کر شدید مخالفت تک کے حالات سے گزرتی رہی، مگر 1979 میں سرگرمیوں کے آغاز کے 40 سال بعد جنگی جرائم کے مقدمات کے تناظر میں یہ جماعت انتہائی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اور بالآخر سنہ 2013 میں رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد فعال سیاست سے باہر ہو گئی۔
دسمبر 2013 میں جماعت کے رہنما عبدالقادر ملا کو انسانیت مخالف جرائم کے مقدمے میں پھانسی دی گئی۔ اس سے قبل بھی جنگی جرائم کے مقدمات کے دوران جماعت کے کئی اہم رہنما گرفتار کیے گئے تھے، جس سے جماعت پر شدید دباؤ پڑا۔
اسی سال عدالت نے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن اس بنا پر غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دی کہ یہ آئین مخالف ہے۔ جماعت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔
اس کے بعد مسلسل تین انتخابات میں جماعت اسلامی نے حصہ نہیں لیا۔ سنہ 2018 میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے بی این پی کے انتخابی نشان پر انتخاب لڑا۔
انسانیت کے خلاف جرائم کی سزا کاٹنے والے غلام اعظم اکتوبر 2014 میں وفات پا گئے۔ اسی نوعیت کے مقدمات میں سنہ 2015 میں جماعت کے سیکریٹری جنرل علی احسان محمد مجاہد اور امیر مطیع الرحمان نظامی کو بھی پھانسی دی گئی۔
نومبر 2023 میں سپریم کورٹ نے بھی جماعت کا رجسٹریشن ختم کرنے کا ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
بعد ازاں، اگست 2024 میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد جب عبوری حکومت اقتدار میں آئی تو عدالت کے حکم پر جماعت اسلامی کو دوبارہ رجسٹریشن مل گئی۔
Getty Imagesسنہ 1971 کی جنگ میں جماعت اسلامی کے کردار پر بات کی جاتی ہےچار مرتبہ پابندی کی تاریخ
عوامی لیگ حکومت کے آخری دور میں، 31 جولائی 2024 کو جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی گئی۔ اس طرح آزاد بنگلہ دیش میں یہ دوسری بار ہوا کہ جماعت پر پابندی لگائی گئی۔ اس سے قبل سنہ 1971 کی جنگ کے بعد حکومت نے مذہبی بنیاد پر سیاست کرنے والی جماعتوں پر پابندی عائد کی تھی۔
جماعت اسلامی کا بطور ایک تنظیم سفر بنیادی طور پر برطانوی دور حکومت میں شروع ہوا تھا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 26 اگست 1941 کو لاہور کے اسلامیہ پارک میں ’جماعت اسلامی ہند‘ کے نام سے اس تنظیم کی بنیاد رکھی۔ تاہم اگلے ہی سال اس کا مرکزی دفتر لاہور سے انڈیا کے پٹھانکوٹ منتقل کیا گیا۔
اگرچہ تنظیم کے قیام میں مذہب کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اُس زمانے میں انڈیا میں کمیونزم مخالف قوت کے طور پر اس جماعت کو بنایا گیا اور اسے برطانوی حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔
سنہ 1945 میں غیر منقسم انڈیا میں جماعت کا پہلا کنونشن ہوا اور دو سال بعد انڈیا کی تقسیم تک یہ جماعت قیام پاکستان کی مخالفت کرتی رہی۔
سنہ 1948 میں جب جماعت نے اسلامی دستور کے مطالبے پر مہم شروع کی تو پاکستان حکومت نے سید مودودی کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا۔ اسی سال سابقہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں بھی جماعت کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ دو سال بعد مودودی جیل سے رہا کیے گئے۔
سنہ 1958 میں پاکستان کے اُس وقت کے فوجی حکمران ایوب خان نے دیگر تمام جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی پر بھی پابندی لگا دی۔
جنوری 1964 میں جماعت پر دوبارہ پابندی عائد کی گئی۔ مودودی، غلام اعظم سمیت کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ اسی سال کے آخر میں جماعت پر سے پابندی ہٹا لی گئی۔ سنہ 1970 کے انتخابات میں جماعت نے 151 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے اور چار نشستیں حاصل کیں۔
جب سنہ 1971 کی جنگ شروع ہوئی تو جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالفت کی اور متحدہ پاکستان کے حق میں کھڑی ہوئی۔ اس وقت پاکستانی حکام کے تعاون سے ایک امن کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔
اسی قیادت کے تحت رضاکار، البدر اور الشمس جیسی ملیشیا فورسز قائم ہوئیں، جنھیں جنگی جرائم میں مدد کرنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
’ہم دوبارہ لڑنا نہیں چاہتے‘: بنگلہ دیش کے انتخابات میں کامیابی کے بعد طارق رحمان کو درپیش چیلنجزبنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی اور طلبا رہنماؤں پر مشتمل سیاسی جماعت ’این سی پی‘ کا اتحاد انڈیا کے لیے باعث تشویش کیوں؟مشرقی پاکستان سے آخری پرواز: سرینڈر سے انکار کرنے والے پاکستانی فوجی اور ڈھاکہ سے فرار کی کہانیبنگلہ دیش کی طاقتور وزیراعظم سے سزا یافتہ مجرم تک: شیخ حسینہ کے سیاسی سفر کی کہانیبنگلہ دیش پاکستان کی جانب سے ماضی میں مانگی گئی ’معافی‘ کو ناکافی کیوں سمجھتا ہے؟