ایران اور امریکہ نے چھ فروری کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں نئے مذاکرات کا آغاز کیا ہے اور یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کا خطرہ اب بھی اس خطے پر منڈلا رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ امریکی فوجی دستے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے جا رہے ہیں اور دونوں اطراف سے ہونے والی بیان بازی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار بھی کیا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ’بُری چیزیں‘ پیش آ سکتی ہیں۔
اگرچہ ابھی مذاکرات کے فریم ورک کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بات چیت کا محور صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہ رہے، بلکہ اس دوران بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں ایران کی پراکسیوں اور ایرانی عوام کے ساتھ حکومت کا برتاؤ بھی اس میں شامل ہو۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات کو متعدد بار مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں واپسی کے لیے تیار ہے بشرطیکہ یہ بات چیت ’برابری کی بنیاد‘ پر کی جائے۔
ایران ایک ایسے وقت میں اس نئے سفارتی عمل کے لیے راضی ہوا ہے، جب اسے داخلی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔
BBCامریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے 28 جنوری کو کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت آٹھ یا نو فوجی اڈوں پر 30 سے 40 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، 'جو سب کے سب ہزاروں ایرانی خودکش ڈرونز اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی زد میں ہیں۔'
ایران میں قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور مہنگائی میں اضافے کے سبب بڑے پیمانے پر پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے، جو کہ ایران کی حالیہ تاریخ کے سب سے خونریز کریک ڈاؤن پر ختم ہوئے۔
عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹیکر کی قیادت میں ہونے والی یہ بات چیت فوجی تصادم سے بچاؤ کی ضمانت نہیں ہے۔
اس سے قبل تہران اور واشنگٹن نے اپریل اور مئی 2025 میں عمان کی ثالثی میں مذاکرات کے پانچ ادوار میں حصہ لیا تھا، لیکن چھٹا دور اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے آغاز کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔
تناؤ کا شکار خطہ اور سفارتکاری
ایرانی قیادت نے اس وقت سفارت کاری پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے اور اس کی طرف سے خبردار بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ کا ایران پر حملہ پورے خطے میں جنگ بھڑکا سکتا ہے۔
انھوں نے علاقائی طاقتوں کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کسی بھی فوجی حملے سے باز رکھیں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود کا استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے، جس کے امریکہ کے پاس آپشنز محدود ہو گئے ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی ٹکراؤ کی صورت میں امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈوں اور سازوسامان کو جائز ہدف سمجھے گا اور یہ دھمکی عراق، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، اردن اور شام پر ممکنہ حملوں کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔
امریکہ کے ساتھ پچھلے تنازعات میں ایران نے علامتی اور نپا تُلا ردِعمل دے کر کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔
گذشتہ برس ایران اور اسرائیل جنگ کے دوران امریکی حملوں کے بعد تہران نے قطر میں امریکہ کی العدید ایئر بیس پر حملے کے اپنے ارادے سے واشنگٹن کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔
جنوری 2020 میں بھی اس نے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں عین الاسد بیس پر حملے سے قبل امریکیوں کو مطلع کیا تھا۔
لیکن موجودہ حالات میں ممکن ہے کہ ایران کسی بھی امریکی حملے کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ’ایران میں نئی قیادت‘ تلاش کی جائے۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایسے فوجی اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جو نہ صرف دوبارہ احتجاج کو بھڑکا سکتے تھے بلکہ ایرانی قیادت کے خاتمے کی راہ بھی ہموار کر سکتے تھے۔
محدود فضائی حملہ، سائبر کارروائیاں اور جواب کا ڈر: ایران کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کیا قدم اٹھا سکتے ہیں؟امریکہ سے تعلقات بگڑنے کا خوف اور مسلم دُنیا میں ساکھ کا مسئلہ: ایران کے معاملے پر اسلامی ممالک تقسیم کیوں ہیں؟صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے معاملے پر پیچھے کیوں ہٹے؟ایران پر ممکنہ حملہ ماضی سے کیسے مختلف ہو گا اور امریکہ کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟
ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کو جنگ کا اعلان سمجھا جائے گا۔
اس مؤقف کو تہران کی ایک ایسی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ڈھانچے پر امریکہ کو حملوں سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک ایسا ممکنہ حملہ جس کی جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے حمایت کی ہے اور جو ملک میں دوبارہ احتجاجی مظاہروں کو بھڑکا سکتا ہے۔
اگر سفارتی عمل ایک بار پھر ناکام ہوا تو کیا ہو گا؟
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے 28 جنوری کو کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت آٹھ یا نو فوجی اڈوں پر 30 سے 40 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، ’جو سب کے سب ہزاروں ایرانی خودکش ڈرونز اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی زد میں ہیں۔‘
Getty Imagesگذشتہ برس ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران تہران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کے متعدد حملے کیے تھے، جن میں سے کچھ نے اسرائیل کے جدید دفاعی نظام کو بھی چکمہ دیا تھا۔بیلسٹک میزائل حملے
ایک اندازے کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً دو ہزار بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جن میں مختصر اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے وہ میزائل بھی شامل ہیں جو خطے میں اس کے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
گذشتہ برس ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران تہران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کے متعدد حملے کیے تھے، جن میں سے کچھ نے اسرائیل کے جدید دفاعی نظام کو بھی چکمہ دیا تھا۔
امریکہ کے پاس خطے میں اینٹی میزائل نظام موجود ہے لیکن کسی ممکنہ تصادم کی صورت میں اسے اسرائیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع علاقے کا دفاع کرنا پڑے گا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد اپنی میزائل صلاحیتوں کو دوبارہ مضبوط کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق روس اور چین نے بھی گذشتہ جون سے ایران کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں مدد کی ہے۔
سپیڈ بوٹس اور ڈرون حملے
ایران کی فوج قطعی طور پر بھی امریکی عسکری ٹیکنالوجی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس سبب ایران جنگ کا نیا طریقہ کار اختیار کر سکتا ہے: سپیڈ بوٹس اور ڈرونز کا بڑے پیمانے پر استعمال تاکہ دشمن کے دفاعی نظام اور سینسرز کو ناکارہ بنایا جا سکے۔
اس حکمتِ عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خلیجِ فارس میں ایرانی سپیڈ بوٹس اور شاہد-136 ڈرونز کا استعمال کیا جا سکتا ہے، یہ وہی ڈرونز ہیں جنھیں روس نے مبینہ طور پر یوکرین کی جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا آؤٹ لیٹس سمیت متعدد میڈیا اداروں نے اس حکمتِ عملی کے استعمال پر زور دیا ہے۔
ایرانی فوج نے 29 جنوری کو یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اسے ایک ہزار ’سٹریٹجک ڈرونز‘ موصول ہو گئے ہیں۔
پراکسی گروہوں کا استعمال
دہائیوں سے ایران نے اپنے اتحادی عسکری گروہوں کے ایک علاقائی نیٹ ورک ’مزاحمت کے محور‘ کو اسلحہ اور دیگر مدد فراہم کی ہے۔ اس نیٹ ورک میں عراق کے متعدد گروہ، لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔
گذشتہ دو برسوں میں اسرائیل نے ان گروہوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں تہران کی اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کے استعمال کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
تاہم صلاحیتیں محدود ہونے کے باوجود بھی امریکی مفادات پر ان گروہوں کے حملے ایک حقیقی خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
Getty Imagesایرانی فوج نے 29 جنوری کو یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اسے ایک ہزار 'سٹریٹجک ڈرونز' موصول ہو گئے ہیں۔
ان گروہوں نے گذشتہ برس ایران اور اسرائیل جنگ سے خود کو دور رکھا تھا لیکن اگر امریکہ کی طرف سے ایران کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو شاید اس بار صورتحال میں تبدیلی دیکھنے میں آئے۔
اب تک پاپولر موبلآئزیشن فورس، کتائب حزب اللہ اور البدر نامی گروہوں نے ایران کے دفاع کا اعلان کیا ہے۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو مسلح تنظیم درست وقت پر حملوں کی اور اس جنگ میں اپنی دخل اندازی کی نوعیت پر فیصلہ کرے گی۔
تاہم عراق اور لبنان میں ان گروہوں پر خود کو غیرمسلح کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
تاہم یمن میں حوثی شاید ایران کی حمایت میں بحیرہِ احمر میں امریکی بحری جہازوں پر حملے کرنا شروع کر دیں۔ 26 جنوری کو اس گروہ کی جانب سے ایک جلتے ہوئے جہاز کی ویڈیو شیئر کی گئی تھی اور لکھا گیا تھا: ’جلد آ رہا ہے۔‘
لیکن یہ بھی امکان ہے کہ وہ ایران کے دفاع کا فیصلہ نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے اور امریکہ درمیان گذشتہ برس ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
Getty Imagesآبنائے ہرمز کو بند کرنا زیرِ سمندر بارودی سرنگوں، کروز میزائلوں، ساحلی دفاعی نظام اور تیز رفتار کشتیوں کے استعمال سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش
یہ دھمکی ایران کے سیاسی اور عسکری حکام کی جانب سے برسوں سے مغرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دہرائی جاتی رہی ہے۔
خلیجِ فارس کی آبنائے ہرمز ایک ایسا سٹریٹجک مقام ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کو تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کو بند کرنا زیرِ سمندر بارودی سرنگوں، کروز میزائلوں، ساحلی دفاعی نظام اور تیز رفتار کشتیوں کے استعمال سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم ایسا اقدام ایران کا آخری حربہ ہوگا کیونکہ اس سے نہ صرف اس کی اپنی تجارت، خصوصاً اپنے سب سے بڑے خریدار چین کو تیل کی برآمدات، بری طرح متاثر ہوں گی بلکہ خلیجی ریاستوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ وہی ریاستیں جنھوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران تہران کے خلاف فوجی کارروائی کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے حالیہ بیانات میں اس دھمکی کا زیادہ ذکر نہیں آیا ہے۔
BBCایران بھی واشنگٹن کو اتنا نقصان ضرور پہنچا سکتا ہے، جس سے امریکہ مذاکرات کو ہی ترجیج دینا ضروری سمجھے۔
ایران اور امریکہ دونوں ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاملے کا سفارتی حل چاہتے ہیں، تاہم دونوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہے۔
تاہم اگر واشنگٹن طاقت کا استعمال کرتا ہے تو شاید ایران اپنی بقا کے لیے امریکہ کے ان مطالبات پر بھی غور کرنا شروع کر دے جس پر اب تک انھوں نے کوئی توجہ نہیں دی ہے۔
دوسری جانب ایران بھی واشنگٹن کو اتنا نقصان ضرور پہنچا سکتا ہے، جس سے امریکہ مذاکرات کو ہی ترجیج دینا ضروری سمجھے۔
امریکہ، ایران مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت: ’اسلام آباد چاہے گا کہ فوجی کارروائی کا خطرہ ٹل جائے‘ایران پر ممکنہ حملہ ماضی سے کیسے مختلف ہو گا اور امریکہ کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟تہران میں نئی حکومت یا ’وینزویلا ماڈل‘، امریکی حملے کی صورت میں سات ممکنہ نتائجصدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے معاملے پر پیچھے کیوں ہٹے؟انقلاب ایران اور دو ہنگامہ خیز ہفتوں کی کہانی: آیت اللہ خمینی کے امریکہ سے خفیہ روابط اور ’وعدوں‘ کی رودادمحدود فضائی حملہ، سائبر کارروائیاں اور جواب کا ڈر: ایران کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کیا قدم اٹھا سکتے ہیں؟