’پوائنٹ بلینک شاٹ‘: وزیر اعلیٰ آسام کی وائرل اے آئی ویڈیو پر تنقید، ’جیل جانے کو تیار ہوں مگر ہمیشہ بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف رہوں گا‘

بی بی سی اردو  |  Feb 09, 2026

Getty Imagesوزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما نے کہا ہے کہ اے آئی ویڈیو کے معاملے پر ’میں جیل جانے کو تیار ہیں لیکن میں بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف ہوں اور ہمیشہ اُن کے خلاف رہوں گا‘

انڈیا کی ریاست آسام میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ایک ایسی متنازع اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی گئی ویڈیو پوسٹ کیے جانے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے جس میں ریاست کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما کو ایک بندوق کی مدد سے دو ایسے افراد کا نشانہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے جنھوں نے سروں پر ٹوپیاں پہن رکھی ہیں جبکہ ایک شخص کی داڑھی ہے۔

آسام بی جے پی کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی اس اے آئی ویڈیو کا عنوان ’پوائنٹ بلینک شاٹ‘ تھا اور اس پر انگریزی میں لکھا گیا تھا کہ ’کوئی رحم نہیں کیا جائے گا۔‘

سوشل میڈیا پر اس اے آئی ویڈیو کے خلاف سامنے آنے والے شدید ردعمل کے پیش نظر بی جے پی آسام نے معذرت یا کوئی جواز دیے بغیر اسے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ ہیمنٹ بسوا شرما نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وضاحت دی ہے کہ انھوں نے نہ تو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ اس ویڈیو کو دیکھا اور نہ ہی اس ویڈیو کو ان کے کسی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا۔

تاہم اس وضاحت کے باوجود مجلس اتحاد المسلیمن کے صدر اسد الدین اویسی نے حیدرآباد میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف درخواست جمع کروائی گئی ہے۔

اس درخواست پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ شرما نے کہا ہے کہ ’میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ اور میں کیا کر سکتا ہوں؟ مجھے کسی ویڈیو کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ اگر انھوں (پولیس) نے میرے خلاف مقدمہ درج کیا ہے تو مجھے گرفتار کر لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں، میں بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف ہوں اور ہمیشہ اُن کے خلاف رہوں گا۔‘

یاد رہے کہ آسام میں اپریل 2026 کے اوائل میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اسی تناظر میں بی جے پی آسام کے آفیشل اکاؤنٹ سے یہ اے آئی ویڈیو شیئر کیے جانے کا معاملہ کافی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے ’یہ (اے آئی) ویڈیو اقلیتوں کے پوائنٹ بلینک قتل کے لیے اکسا رہی ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن اور نفرت انگیز ہے اور اسے محضنفرت کا ایک پیغام نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘

آسام کی علاقائی جماعت ترنمول کانگریس نے بھی اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’یہ (اے آئی) ویڈیو قتل عام کے لیے کھلا سگنل ہے۔ الیکشن کمیشن کو خاموش تماشائی نہیں بنا رہنا چاہیے۔ اسے ایک مخصوص (مسلم) برادری کے خلاف اس کھلے نفرت انگیز اشتہار کا نوٹس لینا چاہیے۔‘

Getty Imagesوزیر اعلیٰ شرما کے ’مسلم مخالف‘ بیانات پر بی جے پی کی مرکزی قیادت عموماً کوئی ردعمل نہیں دیتی ہے

اس ویڈیو کے خلاف ایک سابق پولیس افسر ڈاکٹر اجے کمار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ عدالت عظمیٰ کو اس سنگین واقعے کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ویڈیو بذات خود غیر قانونی سرگرمیوں کے قانون کے تحت واضحطور پر ایک جرم ہے۔ اس لیے آسام کے وزیر اعلی اور بی جے پی آسام کے ایکس اکاؤنٹ کو چلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔‘

دوسری جانب مجلس اتحاد المسلیمن کے صدر اسد الدین اویسی نے حیدرآباد میں آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما کے خلاف ایف آئی درج کروائی ہے اور اُن کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’میں نے ہیمنت بسوا کی پرتشدد ویڈیو جس میں وہ مسلمانوں کو گولی مارتے ہوئے دکھائے گئے ہیں، کے خلاف مجرمانہ دفعات کی شکایت درج کرائی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہقتل اور تشدد کے لیے بھڑکانے والی نفرت انگیز تقریریں اور ویڈیوز اب روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔‘

’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘: بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں ’انڈیا مخالف جذبات‘ کیوں بڑھ رہے ہیں؟انڈیا نے اپنے سفارتکاروں کے اہلخانہ کو بنگلہ دیش سے واپس بُلا لیا: ’اگر وہ ہمیں پاکستان کے زمرے میں رکھنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کا فیصلہ ہے‘ضیا الرحمان: جب فوجی افسروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے بنگلہ دیش کے سابق صدر کی لاش قبر سے نکالی گئی بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات میں ’تاریخی بحران‘ شدید تر کیوں ہو رہا ہے؟

انڈیا میں سوشل میڈیا پر بھی حکمراں جماعت کے ایکس ہینڈل سے اس نوعیت کی اے ائی ویڈیو شیئر کیے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ایک صارف روچیرا شرما نے لکھا ہے کہ ’بی جے پی (آسام) نے شدید ردعمل کے بعد یہ ویڈیو تو اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ تو کر دی ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ ریاست آسام میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ شرما ریاست میں بسنے والے بنگالی مسلمانوں کے خلاف متنازع بیانات دیتے آئے ہیں۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ وہ بنگلہ دیش سے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر آسام آ کر بسنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، تاہم اس کا مقصد انڈین مسلمانوں کو نشانہ بنانا نہیں۔

تاہم اپوزیشن کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ شرما بنگلہ دیش کا نام لے کر دراصل آسام کے لاکھوں بنگالی مسلمانوں کو ہدف بناتے ہیں۔ آسام میں کانگریس رہنما پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ ’جیسے ہی ریاست میں الیکشن آتا ہے، ہیمنت بسوا مسلمانوں اور پاکستان کی بات کرنے لگتے ہیں۔‘

کچھ دنوں پہلے ہیمنت بسوا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک متنازع اور نفرت پر مبنی بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ ’اگر کوئی میاں ( بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے لیے آسام میں استعمال ہونے والا ہتک آمیز نام) آٹو ڈرائیور منزل پر پہنچ کر پانچ روپے مانگے تو اسے چار ہی روپے دو، تاکہ اُس کا نقصان ہو۔‘

انھوں نے اسی طرح کے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ ’بنگالی مسلمان یہاں کیوں ووٹ دیں گے، وہ بنگلہ دیش میں جا کر ووٹ دیں۔‘ تاہم بعدازاں انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی مراد غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن سے ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ کے اس نوعیت کے متنازع بیانات وقت کے ساتھ شدت اختیار کر رہے ہیں اور ’نفرت اور تشدد کو ہوا دینے‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔

تاہم اپوزیشن کی جانب سے دی گئی متعدد درخواستوں کے باوجود ابھی تک اُن کے خلاف کسی نوعیت کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے جبکہ بی جے پی کی مرکزی قیادت بھی اس نوعیت کے تنازعات اور بیانات پر خاموش نظر آتی ہے۔

ایسے ہی ایک متنازع بیان میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے اپوزیشن کانگریس کے رہنما اور اپنے سیاسی حریف گورو گوگئی اور اُن کی برطانوی نژاد اہلیہ کو ’پاکستان کا ایجنٹ‘ قرار دیا تھا۔ وزیر اعلی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ انھوں نے وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ وہ ان دونوں کی جانچ پڑتال کرے۔

اس کے جواب میں کانگریس اُن کے خلاف شدید نوعیت کی بدعنوانی کا الزام لگاتی رہی ہے۔

Getty Imagesوزیر اعلیٰ شرما ماضی میں کانگریس رہنما گورو گوگئی اور اُن کی برطانوی نژاد اہلیہ کو ’پاکستان کا ایجنٹ‘ قرار دے چکے ہیں

یاد رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے بعد آسام میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 34 فیصد ہے، جن میں اکثریت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی ہے۔

آسام میں تقسیم برصغیر سے قبل ہی سے متحدہ بنگال بشمول موجودہ بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں سے بنگالی مسلمان اور ہندو آسام میں آباد ہوتے رہے ہیں۔ بیشتر مسلمان کھیتی باڑی یا چھوٹی موٹی مزدوری کرتے ہیں۔ آسام کے مسلمان تعلیم میں دوسری برادریوں کی نسبت کافی پیچھے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ آسام میں بسنے والے مسلمانوں نے یہاں کی زبان اور ثقافت کو بہت حد تک اپنا لیا ہے اور رفتہ رفتہ اب وہ تعلیم کی طرف بھی راغب ہو رہے ہیں۔

بی جے پی اور دائیں بازو کیہندو نواز جماعتیں اور دانشور نصف صدی سے یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ آسام میں لاکھوں بنگلہ دیشی مسلمان غیر قانونی طور پر آباد ہیں۔

آسام میں مسلمانوں کی مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی آبادی بھی بحث کا موضوع رہتی ہے۔

دائیں بازو کی جماعتیں یہاں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ بھی قرار دیتی ہیں اور یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو گذشتہ نصف صدی سے آسام کی سیاست کا محور رہا ہے۔

یاد رہے کہ آسام میں بسنے والوں کی شہریت کے حتمی تعین کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ریاست کے تمام تین کروڑ 30 لاکھ باشندوں سے دستاویزی ثبوت مانگے گئے تھے۔

سبھی دستاویزات کی جانچ کے بعد اگست 2019 میں شہریوں کی حتمی فہرست جاری کی گئی جس کے مطابق تقریباً 19 لاکھ باشندے ایسے تھے جن کے کاغذات میں کچھ کمی رہ گئی تھی اور انھیں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے مزید دستاویزات جمع کروانے کی ہدایات کی گئی تھیں۔

تاہم آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما نے اس حتمی رپورٹ کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔

ریاست میں بنگالی مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز واقعات کا پیش آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس نوعیت کے ایک بڑے واقعے میں فروری 1983 میں ریاست کے ضلع ناگاؤں میں نیلی کے مقام پر مقامی قبائلیوں کی جانب سے کیے گئے حملوں میں تقریباً دو سے تین ہزار بنگالی مسلمان قتل کیے گئے تھے۔

آسام محتلف قبائل اور درجنوں نسلی گروہوں کی آبادیوں پر مشتمل ریاست ہے۔ ریاست کے کئی سماجی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جیسے جیسے بنگالی مسلمان آسام میں ایک بڑی آبادی کے طور پر ابھرنے لگے ویسے ویسے قبائلیوں اور چھوٹے نسلی گروہوں میں عدم تحفظ اور اپنی تہذیب اور تقافت، رسم ورواج خطرے میں آنے کا احساس بڑھنے لگا اور سیاسی جماعتوں نے انھی معاملات کو مزید ہوا دی۔

’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘: بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں ’انڈیا مخالف جذبات‘ کیوں بڑھ رہے ہیں؟’ہم پہلے گولی نہیں چلائیں گے‘: سابق انڈین آرمی چیف کی غیر شائع شدہ کتاب کا اقتباس جسے پارلیمان میں پڑھنے سے روکا گیاگولڈن ٹیمپل میں کُلّی کرنے پر گرفتاری: ’میں نے وضو کیا اور غلطی سے منھ سے نکلا پانی تالاب میں جا گرا‘’آٹھ سال سے بالی ووڈ میں کام نہیں ملا‘: اے آر رحمان کے شکوے نے فلم انڈسٹری میں فرقہ واریت پر بحث چھیڑ دی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More