Getty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے باوجود ان کا ملک حزب اللہ کے خلاف ’جہاں بھی ضروری ہوا‘ کارروائیاں جاری رکھے گا۔
اسرائیل پہلے ہی یہ موقف اختیار کر چکا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی تاہم ایران کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا تسلسل اس معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کے مترادف ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی جنگ بندی لبنان پر لاگو ہونے کا بیان دیا تھا تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسے ’غلط فہمی‘ سے تشبیہ دی۔
نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارا پیغام بالکل واضح ہے، جو کوئی بھی اسرائیلی شہریوں کے خلاف کارروائی کرے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم حزب اللہ کے خلاف جہاں بھی ضرورت پڑی حملے جاری رکھیں گے، یہاں تک کہ ہم شمالی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے مکمل سلامتی بحال نہ کر دیں۔‘
امریکہ-اسرائیل کی ایران جنگ سے متعلق تازہ اطلاعات
نیتن یاہو کے یہ بیانات اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کے سیکریٹری اور بھتیجے علی یوسف حرشی کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
خیال رہے کہ پاکستان سفارتی طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی تجویز دیتا ہے۔
اسرائیل بلومبرگ نے اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن سے پوچھا تھا کہ اسرائیل پاکستان میں اپنا وفد کیوں نہیں بھیج رہا۔ اس پر ڈینی ڈینن نے کہا کہ اسرائیل اسلام آباد مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا لیکن ’ہم امریکہ پر اعتبار کرتے ہیں۔‘
جنگ بندی پر اسرائیل میں اٹھتی آوازیں
انڈیا میں اسرائیل کے سفیر رووین آزار نے جمعرات کو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ بندی میں پاکستان کے ’ثالثی کے کردار‘ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پاکستان کو ’ایک قابلِ اعتماد ملک نہیں سمجھتا۔‘
خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے رووین آزار کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ملک نہیں سمجھتے۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ نے بعض وجوہات کی بنا پر پاکستان کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
دوسری جانب اسرائیل کی اپوزیشن کے رہنما یائر لاپڈ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کو ایک سیاسی المیہ قرار دیا ہے۔
بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں۔ نیتن یاہو نے ہمیں ایک ایسا ملک بنا دیا ہے جو قومی سلامتی جیسے اہم معاملات پر فون پر ہدایات لیتا ہے۔'
یائر لاپڈ نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو اسرائیل کو ایک بحران سے دوسرے بحران کی طرف لے جا رہے ہیں اور گذشتہ تین برسوں سے اسرائیلی عوام ’ان کی ناکامیوں کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اگرچہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم یروشلم میں اعلیٰ حکام واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے انگریزی زبان کے نمایاں اخبار ہاریٹز نے لکھا ہے کہ یتن یاہو کے اتحادیوں نے بدھ کی رات جنگ بندی کے اعلان سے پہلے ہی امریکی انتظامیہ کو یہ پیغام دے دیا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے کو قبول کریں گے۔
اس کے باوجود اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ ان کے بعض اہم تحفظات حتمی معاہدے کا حصہ نہیں بن پائیں گے۔ اخبار کے مطابق اسرائیل نے اس وقت ایران میں اپنی فوجی کارروائیاں روک دی ہیں تاہم لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہاریٹز کے مطابق اسرائیل سے براہِ راست جڑے چار اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں۔ پہلا مسئلہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے، جہاں افزودہ یورینیئم کے مستقبل پر کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آئی۔
اس کے علاوہ ایران کی جانب سے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ترک کرنے کا بھی کوئی وعدہ سامنے نہیں آیا، جسے نیتن یاہو ایک ’وجودی خطرہ‘ قرار دے چکے ہیں اور جو گذشتہ ایک ماہ کے دوران اسرائیلی فضائیہ کی کارروائیوں کا مرکزی ہدف رہا ہے۔
پاکستان کی ثالثی پر انڈیا کی خاموشی: ’مودی پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے تھے، مگر خود تنہا ہو گئے‘جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت پر ’غلط فہمی‘ کا تنازع کیا ہے؟’قابلِ قبول‘ وینس اور پاسدارانِ انقلاب کا ’سیاسی چہرہ‘ قالیباف: ایران اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیمیں اور بات چیت سے جڑی اُمیدیں’پتھر کے دور‘ سے ’مشرق وسطیٰ کے سنہرے دور‘ تک: جنگ بندی کا مطلب وقتی مہلت ہے، جو شاید دیرپا نہ ہونیتن یاہو پر ہونے والی تنقید اور دوبارہ جنگ کا خطرہ
اسرائیلی چینل کے اے این کی سفارتی نامہ نگار گیلی کوہن کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے ’ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے‘ ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی نئی قیادت پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت موقف اختیار کر رہی ہے۔
چینل 12 کے صحافی یووال سادے نے لکھا ہے کہ ’ناکامی کا احساس پایا جاتا ہے یا یوں کہیے کہ ایک بڑے موقع کے ضائع ہونے کا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جو جنگ ایک تاریخی کامیابی کے طور پر شروع ہوئی تھی وہ اب محض اطمینان کی سانس کے ساتھ ختم ہو رہی ہے۔‘
ادھر نیتن یاہو نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’جب آپ نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، چاہے آپ بم شیلٹروں اور محفوظ کمروں میں ہی کیوں نہ ہوں، ہم نے مل کر ایک بڑی فتح حاصل کی۔ ہمارے جنگجو محاذِ جنگ پر تھے اور آپ محاذِ داخلی پر۔‘
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی قوم نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ایسی کامیابیاں جو کچھ عرصہ پہلے تک ناممکن دکھائی دیتی تھیں۔ ایران پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے اور اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط۔ اب تک اس مہم کا یہی نتیجہ ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے کچھ اہداف اب بھی باقی ہیں۔ ہم انھیں یا تو مذاکرات کے ذریعے حاصل کریں گے یا پھر دوبارہ لڑائی کا آغاز کر کے۔‘
Getty Imagesخطے میں نئے اتحاد پر تشویش
اخبار ہاریٹز میں شائع اپنے کالم میں ایلاد گیلادی لکھتے ہیں کہ ایران جنگ خطے کو ازسر نو تبدیل کر سکتی ہے جس میں امریکہ کی اہمیت کم ہو سکتی ہے اور ترکی کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ’خلیجی ریاستیں واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات سے دستبردار نہیں ہو رہیں تاہم وہ ایسا نظام چاہتی ہیں جس میں امریکہ ایک شراکت دار ہو، واحد سہارا نہیں۔ ممکن ہے کہ اسرائیل اس نظام سے باہر ہی رہے۔‘
اسرائیل کے معروف انگریزی اخبار یروشلم پوسٹ کے مدیر زویکا کلائن نے 9 اپریل کو اپنے تبصرے میں لکھا کہ موجودہ صورتحال کا درست تاریخی موازنہ 2003 کے عراق نہیں بلکہ سرد جنگ سے کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے برلن کی دیوار خود نہیں گرائی بلکہ اسے برقرار رکھنا ناممکن بنا دیا۔ ’مسلسل دباؤ نے سوویت یونین کو عدم استحکام کا شکار کیا اور مشرقی یورپ کے عوام نے باقی کام خود کر لیا۔‘
زویکا کلائن لکھتے ہیں کہ ٹرمپ اور یاہو نے ایران کے معاملے میں بھی یہی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ ’اسلامی نظام کی طاقت کے ذرائع کو کمزور کیا گیا اور ایران کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام پر چھوڑ دیا گیا۔‘
یروشلم پوسٹ میں شائع تحریر میں سیتھ جے فرینٹزمین لکھتے ہیں کہ ’دوحہ، انقرہ اور اسلام آباد اس تنازع میں اسرائیل کے کردار پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ (یہ اتحاد) اس بات پر تشویش ظاہر کرتا ہے کہ یہودی ریاست نے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔‘
’ایسے میں اسلام آباد اپنی سفارتی حیثیت کو بلند کرنے اور کسی امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہے گا۔ تاہم اس حکمتِ عملی کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔‘
ان کی رائے ہے کہ ’اگر یہ معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے تو پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور یہ ایک ایسے ملک کے لیے باعثِ تشویش ہو گا جو وقار اور عزت کے معاملات کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اسلام آباد یہ نہیں چاہے گا کہ اس کے ساتھ دھوکہ کیا جائے۔‘
فروری میں یروشلم میں کانفرنس آف پریزیڈنٹس آف میجر امریکن جیوش آرگنائزیشنز سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ خطے میں ایک نیا اتحاد ابھر رہا ہے جس میں ترکی، قطر، اخوان المسلمون اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والا پاکستان شامل ہیں۔
نفتالی بینیٹ کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد اسرائیل کے خلاف دشمنی کو ہوا دے رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کے دوران بنیٹ نے خبردار کیا تھا کہ ترکی اسرائیل کے لیے ایک نیا خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اسرائیلی حکومت اس خطرے سے پوری طرح باخبر نہیں۔
جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت پر ’غلط فہمی‘ کا تنازع کیا ہے؟’قابلِ قبول‘ وینس اور پاسدارانِ انقلاب کا ’سیاسی چہرہ‘ قالیباف: ایران اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیمیں اور بات چیت سے جڑی اُمیدیں’مثبت اشارے اور جامع حل کی تلاش‘: چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سات روزہ مذاکرات میں کیا ہوا؟’پتھر کے دور‘ سے ’مشرق وسطیٰ کے سنہرے دور‘ تک: جنگ بندی کا مطلب وقتی مہلت ہے، جو شاید دیرپا نہ ہوپاکستان کی ثالثی پر انڈیا کی خاموشی: ’مودی پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے تھے، مگر خود تنہا ہو گئے‘