Getty Imagesکچی مرغی میں ’کیمپائلوبیکٹر‘ اور ’سالمونیلا‘ نامی بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں۔
کیا مرغی کو پکانے سے پہلے دھونا چاہیے یا نہیں یہ وہ سوال ہے کہ جب بھی ہوتا ہے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیتا ہے۔
مغربی دنیا میں رائج سرکاری فوڈ سیفٹی ہدایات بالکل واضح ہیں اور وہ یہ کہ ’مرغی کو نہ دھوئیں کیونکہ اس سے نقصان دہ بیکٹیریا پیدا ہوتے اور پھر پھیلتے ہیں۔‘
لیکن دنیا کے کئی حصوں میں یہ ایک پرانی ثقافتی روایت ہے جو صفائی اور خیال رکھنے کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔
جیسے کہ جمیکن ٹی وی شیف اور مصنف اپریل جیکسن جو جان بوجھ کر اپنی ویڈیوز میں مرغی دھونے کے کلپس شامل کرتی ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ ایک ’ہاٹ ٹاپک‘ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ کہیں گے کہ مجھے مرغی کو کٹورے یا سنک میں نہیں دھونا چاہیے، کچھ وہ اسے گندا اور نا مناسب رویہ قرار دیتے ہیں۔‘
دوسری طرف کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ بغیر دھوئے مرغی پکانا اور کھانا صحت مند عمل نہیں ہے۔
کانٹینٹ کریئیٹر فدوا ہلیلی جنھوں نے مراکش سے تعلق رکھنے والی اپنی والدہ کا دس مرحلوں پر مشتمل مرغی دھونے کا طریقہ ٹک ٹاک پر دکھایا کہتی ہیں کہ انھیں ایسے تبصرے پڑھنے میں مزہ آتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ لکھتے ہیں کہ اسی لیے آپ دوسروں کے گھروں میں نہیں کھاتے یا دفتر میں سب کے ساتھ کھانے میں شریک نہیں ہوتے۔‘
یہ عدم اعتماد ایشیا، کیریبین، جنوبی امریکہ، افریقہ اور کچھ بحیرہ روم کی ثقافتوں میں پایا جاتا ہے۔
لیکن سائنس کیا کہتی ہے؟ بی بی سی نے اس کا جواب جاننے کے لیے ایک فوڈ سائنس لیبارٹری کا رخ کیا۔
Fadwa Hililiاگر آپ چکن یا مرغی کو پکا بھی لیں تب بھی آپ بیمار ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ نے دوسری غذا کو اُن سطحوں پر رکھا ہوا تھا جو آلودہ ہو چکی ہوں۔مرغی کو دھونا کیوں اتنا خطرناک ہے؟
کچی مرغی میں ’کیمپائلوبیکٹر‘ اور ’سالمونیلا‘ نامی بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ریڈنگ میں فوڈ مائیکروبیالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کیمون اینڈریاس کاراتزاس کہتے ہیں کہ ’جب آپ اپنے کچن میں مرغی کو دھوتے ہیں تو اس سے نہایت باریک پانی کے قطرے یعنی چھینٹے بنتے ہیں جو بیماری پھیلا سکتے ہیں۔‘
یہ قطرے نظر نہ آنے والے بیکٹیریا کو بڑی مقدار میں سنک، باورچی خانے کی سطحوں اور قریبی کھانے پر پھیلا سکتے ہیں۔
اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کاراتزاس نے ایک تجربہ کیا۔ انھوں نے کچی مرغی پر ایک کیمیائی مادہ لگایا جس کی مدد سے بیکٹیریا کو الٹرا وائلٹ روشنی میں دیکھا جا سکتا تھا۔ پھر انھوں نے مرغی کو نلکے کے نیچے دس سیکنڈ سے بھی کم وقت کے لیے دھویا۔ چکن پر پڑنے والا پانی اچھل کر سنک کے اردگرد پھیل گیا۔
انسانی آنکھ سے عام طور پر تو یہ صرف پانی کے قطرے لگتے تھے جنھیں آسانی سے صاف کیا جا سکتا ہے لیکن الٹرا وائلٹ روشنی میں جراثیم واضح طور پر دیکھائی دیے۔ بیکٹیریا والے قطرے کاؤنٹر پر، پروفیسر کے لیب میں پہنے جانے والے کوٹ پر، کیمرے اور سب سے اہم سلاد پتوں اور گاجر پر جا گرے، جنھیں کچا ہی کھایا جانا تھا یعنی سلاد کے طور پر۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ چکن یا مرغی کو پکا بھی لیں تب بھی آپ بیمار ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ نے دوسری غذا کو اُن سطحوں پر رکھا ہوا تھا جو آلودہ ہو چکی ہوں۔
کاراتزاس کہتے ہیں کہ ’یہی سب سے عام طریقہ ہے جس سے ہمیں سالمونیلا اور کیمپائلوبیکٹر سے بیماری لگتی ہے، آپ کسی ایسی چیز کو جسے آپ کچا کھانے والے ہوں اُن جراثیم سے آلودہ کر دیتے ہیں جو کسی ایسی چیز سے آئے ہوں جسے بعد میں پکایا جانا ہے۔‘
BBCانسانی آنکھ سے عام طور پر تو یہ صرف پانی کے قطرے لگتے تھے جنھیں آسانی سے صاف کیا جا سکتا ہے لیکن الٹرا وائلٹ روشنی میں جراثیم واضح طور پر دیکھائی دیے۔کیمپائلوبیکٹر اتنا خطرناک کیوں ہے؟
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کیمپائلوبیکٹر دنیا بھر میں اسہالی بیماریوں کی چار بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور گیسٹرواینٹرائٹس یعنی معدہ اور آنتوں کی سوزش کا سبب بنے والا سب سے عام بیکٹیریا ہے جو زیادہ تر چھوٹے بچوں میں اسہال اور قے کا باعث بنتا ہے۔
یہ سالمونیلا سے زیادہ خطرناک ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ویکسینیشن پروگرامز کی بدولت مرغیوں میں سالمونیلا کی سطح کم ہو چکی ہے لیکن کیمپائلوبیکٹر کے خلاف کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔
دونوں بیکٹیریا قدرتی طور پر مرغیوں کی آنتوں میں پائے جاتے ہیں۔ ذبح اور پروسیسنگ کے دوران آنتوں کا مواد گوشت کی سطح کو آلودہ کر سکتا ہے۔
دنیا کے مقبول ترین گوشت چکن کے بارے میں کیا غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں؟گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے ’حلال میٹ ایکسپورٹ پالیسی‘ کا اعلان: کیا پاکستان یورپ کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر پائے گا؟دنیا میں سب سے زیادہ گوشت خور لوگ کون ہیں؟جعلی حلال گوشت کی فروخت پر سزا: کارپوریٹ دھوکے اور ’حساس جرم‘ کی کہانی
کاراتزاس کہتے ہیں کہ ’آپ کو ہمیشہ مرغی کو اس طرح سمجھنا چاہیے جیسے اس میں کیمپائلوبیکٹر اور سالمونیلا موجود ہوں۔ دنیا بھر میں زیادہ تر مرغیاں فری رینج ہوتی ہیں۔ انھیں کسی سخت اور محدود نظام کے تحت نہیں پالا جاتا، اس لیے ان میں سالمونیلا اور کیمپائلوبیکٹر زیادہ ہوتے ہیں۔‘
کیمپائلوبیکٹر کی وہ مقدار جو انفیکشن کا باعث بنتی ہے بہت کم ہوتی ہے صرف ایک قطرے میں تقریباً 10 کھرب کیمپائلوبیکٹر ہو سکتے ہیں جو زمین پر موجود انسانوں کی تعداد سے ہزار گنا زیادہ ہیں۔
کاراتزاس مزید کہتے ہیں ’اگر کیمپائلوبیکٹر کا یا مرغی کے رس کا صرف ایک چھوٹا سا قطرہ بھی کسی چیز پر لگ جائے تو وہی آپ کو بہت آسانی سے بیمار کرنے کے لیے کافی ہے۔‘
انفیکشن کی علامات کیا ہیں؟
سرکاری ادارے فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی کے مطابق صرف برطانیہ میں ہی ہر سال دو لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ افراد اس انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔
علامات عموماً انفیکشن کے دو سے پانچ دن بعد ظاہر ہوتی ہیں اور ان میں سب سے عام اسہال ہے جو اکثر خون آلود ہوتا ہے۔ دیگر علامات میں پیٹ درد، بخار، سر درد، متلی اور قے شامل ہیں۔
60 سال سے زائد عمر کے افراد اور بچے شدید بیماری کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں اور کچھ لوگوں میں علامات شدید یا طویل ہو سکتی ہیں جن کے لیے اینٹی بایوٹک علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بعض کیسز میں یہ انفیکشن بعد میں دیگر بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے جیسے آنتوں کی دائمی تکلیف، گٹھیا اور نایاب صورتوں میں فالج کی ایک قسم جسے گیان بری سنڈروم کہا جاتا ہے۔
لیکن لوگ عموماً معدے کی بیماری کو چکن تیار کرنے سے جوڑ کر نہیں دیکھتے۔ ماہرین کے مطابق بہت سے انفیکشنز کی باقاعدہ تشخیص ہی نہیں ہو پاتی اور اعداد و شمار میں صرف وہی کیسز شامل ہوتے ہیں جن میں مریض اتنا بیمار ہوا ہو کہ اس نے طبی مدد حاصل کی ہو اور ٹیسٹ کے لیے نمونہ دیا ہو۔
کاراتزاس کہتے ہیں کہ ’ہم صرف وہ دیکھ رہے ہیں کہ جو دیکھائی دے رہا ہے اور ممکن ہے کہ اصل کیسز اس سے دس گنا زیادہ ہوں۔‘
BBCاگر آپ چکن یا مرغی کو پکا بھی لیں تب بھی آپ بیمار ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ نے دوسری غذا کو اُن سطحوں پر رکھا ہوا تھا جو آلودہ ہو چکی ہوں۔لوگ اب بھی مرغی کو کیوں دھوتے ہیں؟
سنہ 2024 میں سائنسی جریدے فوڈ کنٹرول میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا کے آٹھ ممالک میں 96 فیصد افراد چکن کو دھوتے ہیں۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ 39 سے 70 فیصد صارفین نے بھی اعتراف کیا کہ وہ چکن دھوتے ہیں۔
مغربی دنیا کے بیشتر حصوں میں مرغی کو انتہائی منظم اور سخت نگرانی والے صنعتی حالات میں تیار کیا جاتا ہے اور پہلے ہی صاف حالت میں فروخت کیا جاتا ہے۔ تاہم دنیا کے کئی علاقوں میں گوشت مقامی سطح پر ذبح کیا جاتا ہے، بعض اوقات کھلی منڈیوں میں جہاں صاف بہتے پانی اور حفظانِ صحت کی مناسب سطحوں تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں مرغی کو دھونا ایک ضروری عمل سمجھا جاتا ہے۔
لیکن بعض لوگوں کے لیے یہ معاملہ صرف صفائی تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق شناخت، پرورش اور اپنے گھر یا ملک سے جڑی یادوں اور احساسات سے بھی ہوتا ہے۔
BBCعالمی ادارہِ صحت کے مطابق چکن کو فریج کے نچلے شیلف میں رکھیں، کچا چکن نہ دھوئیں، تیاری کے بعد ہاتھ اور برتن صاف کریں اور بیکٹیریا کے خاتمے کے لیے چکن اچھی طرح پکائیں۔
جب شیف جیکسن پہلی بار برطانیہ منتقل ہوئیں اور انھوں نے مرغی کی پیکنگ پر یہ انتباہ دیکھا کہ کچی مرغی کو نہ دھویا جائے تو وہ اتنی حیران ہوئیں کہ انھوں نے اس کی تصویر اپنے خاندان کو جمیکا بھیج دی۔
وہ کہتی ہیں کہ وہ سائنسی بات سمجھتی ہیں لیکن ’جب ہم مرغی دھوتے ہیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پانی بہت گدلا ہو جاتا ہے۔‘
وہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’یہ بہت مٹی والا لگتا ہے اور ہم ایسی چیز کھانا نہیں چاہتے۔‘
بہت سے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اصل مسئلہ چکن دھونے کا طریقہ ہے۔ بی بی سی سے بات کرنے والے دونوں شیف چکن کو ایک برتن میں دھوتے ہیں اکثر سرکے یا لیموں کے ساتھ اور اس کے بعد اردگرد کی جگہ کو اچھی طرح صاف اور جراثیم کش محلول سے دھوتے ہیں۔
ہیلیلی کہتی ہیں کہ ’میری والدہ سنک کو گرم پانی اور صابن سے مکمل طور پر صاف کرتی ہیں اور اس کے بعد اینٹی بیکٹیریل سپرے بھی کرتی ہیں۔‘
جو لوگ مرغی دھونے کے حق میں مضبوط رائے رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مرغی کو نہ دھونے کا عمومی مشورہ فوڈ سیفٹی ہدایات میں پائی جانے والی ایک بڑی بے ربطی کا حصہ ہے۔
جیکسن کہتی ہیں کہ ’مثال کے طور پر جب آپ ایک چوپنگ بورڈ دھوتے ہیں جس پر چکن رکھا گیا ہو تو وہاں بھی وہی خطرہ موجود ہوتا ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’فرانسیسی کھانوں میں پکانے سے پہلے چکن کو نمکین پانی میں بھگویا جاتا ہے جسے برائن کرنا کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ چکن کو نمک ملے پانی میں بھگوتے ہیں اور میں نے کبھی کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن یہ عمل بنیادی طور پر وہی ہے۔‘
BBCبی بی سی سے بات کرنے والے دونوں شیف چکن کو ایک برتن میں دھوتے ہیں اکثر سرکے یا لیموں کے ساتھ اور اس کے بعد اردگرد کی جگہ کو اچھی طرح صاف اور جراثیم کش محلول سے دھوتے ہیں۔
اگرچہ کاراتزاس اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مرغی کو ایک برتن میں دھونا نسبتاً زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے لیکن ان کے مطابق اس میں پھر بھی خطرہ موجود رہتا ہے اور لیموں یا سرکے سے دھونا بیکٹیریا کی زیادہ مقدار کو قابلِ اعتماد طریقے سے کم نہیں کرتا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بیکٹیریا کو مارنے کا واحد طریقہ اسے پکانا ہے اور زیادہ تر چکن پہلے ہی اس کمپنی کی طرف سے دھویا جا چکا ہوتا ہے جو اسے آپ کو فروخت کرتی ہے۔ اس لیے اسے دوبارہ دھونے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔‘
دنیا میں سب سے زیادہ گوشت خور لوگ کون ہیں؟جعلی حلال گوشت کی فروخت پر سزا: کارپوریٹ دھوکے اور ’حساس جرم‘ کی کہانیگوشت خوری سے تیزابیت، جوڑوں میں درد اور دیگر طبی مسائل سے کیسے بچا جائے؟گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے ’حلال میٹ ایکسپورٹ پالیسی‘ کا اعلان: کیا پاکستان یورپ کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر پائے گا؟دنیا کے مقبول ترین گوشت چکن کے بارے میں کیا غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں؟