حیات شیرپاؤ: ٹیپ ریکارڈر میں چھپا بم اور وہ ہائی پروفائل قتل جس کے ملزم ’افغانستان فرار ہو گئے‘

بی بی سی اردو  |  Feb 09, 2026

حیات شیرپاؤ کی برسی کے موقع پر جب سوشل میڈیا پر ایک صارف نے یہ تصویر شیئر کی تو ان کے بھائی آفتاب شیرپاو نے لکھا کہ ’یہ وہ آخری تصویر تھی جس میں وہ زندہ تھے، پشاور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کی۔‘

آٹھ فروری 1975 کو شمال مغربیسرحدی صوبہ (خیبرپختون خوا)کے بادلوں سے ڈھکے دارالحکومت پشاورمیں شام ہو رہی تھی۔

پیپلزپارٹی کے بانی رہنما اور سینیئر وزیر حیات محمد خان شیرپاؤ پشاور یونیورسٹی میں ہسٹری سوسائٹی کیتقریبِ حلف برداری کے بعد چائے پینے کے لیے جا رہے تھے۔

اچانک سوسائٹی کے ایک عہدیدار نے انھیں مخاطب کر کے چندے کا مطالبہ کیا اور شکوہ کیا کہ اس کا اعلان تقریر میں کیوں نہیں کیا گیا۔

مہمانِ خصوصی واپس سٹیج پر آ کر چند وضاحتی جملے ہیکہہ پائے تھے کہ ایک خوفناک دھماکا ہوا۔

انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز کی خبر تھی کہ یونیورسٹی ہال میں بھگدڑ تھی جب شدید زخمی شیرپاؤ کو ٹوٹتی سانسوں میں ہسپتال لے جایا گیا۔ شام 5:25 پر ان کی موت کا اعلان کیا گیا۔

انھیں مارنے کے لیے استعمال کیا گیا مبینہ بم لگا ٹیپ ریکارڈر، پشتون قوم پرست رہنما جمعہ خان صوفی کے مطابق، 7 فروری 1975 کو بھی نصب کیا گیا تھا لیکن تب دھماکا نہ کیا جا سکا۔

جمعہ خان نے اپنی یادداشتیں ’فریبِ ناتمام‘ (پشتو میں ’د درمسال خٹی‘) کے نام سے قلم بند کیں۔

جمعہ خانلکھتے ہیں کہ ’انور باچااور امجد باچانے ایک ٹیپ ریکارڈ میں بم نصب کیا تھا۔انھیں 7 فروری کو ٹیکنیکل کالج پشاور میں ایک تقریب، جس میں شیر پاؤ شریک تھے، میں بم دھماکا کرنا تھا۔ لیکن اس دنمنصوبے پر عمل درآمدنہ ہو سکا۔‘

’ٹیکنیکل کالج پشاورکی تقریب سے اگلے روز پشاوریونیورسٹی میں انور اور امجد نے اپنا ٹیپ ریکارڈر روسٹرم پر مائیک کے ساتھ بظاہر اس غرض سے رکھا کہ شیرپاؤ کی تقریر ریکارڈ ہو۔ جب شیر پاؤ تقریر اور سوال و جواب کے لیے روسٹرم پر آئے تو ایک زور دار دھماکا ہوا، حیات محمد خان شیرپاؤ دھماکے کی نذر ہو گئے اور کئی دیگر افراد شدید زخمی ہوئے اور مرے بھی۔‘

جمعہ خان کے مطابق ’بارش ہو رہی تھی جب امجد اور انور کو چارسدہ جاتے ہوئے پولیس نے شک کی بنیاد پر حراست میں لے لیا۔ بُلا خان (حبیب اللہ خان) کو خبر ہوئی تو وہ پولیس کے پاس آئے، اسے ڈرایا دھمکایا اور دونوں کو اپنا مہمان ظاہر کرتے ہوئے رہا کروا لیا اوراگلے روز انھیں اور اپنے بھائی معزاللہ خان کو لے کر براستہ مہمند ایجنسی افغانستان چلے گئے۔‘

جمعہ خان نے لکھا ہے کہ اس سے پہلےبھی حیات شیر پاؤ پر ایک سے زائد مرتبہ حملے کی کوششیں ہوئیں۔

’ایک مرتبہ سوات میں جلسے میں بم سے بھرا ایک بریف کیس سٹیج کے ساتھ رکھاگیا۔ تاہم بم فیوز کے تار الگ ہونے کی وجہ سے پھٹ نہ سکا۔‘

’ایک نوکر اس بریف کیسکو اپنے گھر لے گیا کہ اس میں رقم ہو گی۔ لیکن کھولنے پر بم نصبدیکھا تو اپنے مالک کواطلاع دی جن کے حکم سے بریف کیس ضائع کردیا گیا۔‘

’چند روز قندوز میں گزارنے کے بعد یہ لوگ کابل پہنچ کر ہمارے پاس آگئے۔‘

’دوسری طرف پاکستان میں پولیس کودوشیروانیاں ملیں اور ان کے ذریعے وہ پہلے ان کے درزیاور پھر ان کے مالکوں کی پہچان تک پہنچ گئی۔ یعنی انور باچا اور امجد باچا کے نام منظر عام پر آگئے۔‘

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو 9 فروری کو رات دیر سے امریکہکے دورےسے ہنگامی طورپراسلام آباد واپس آئے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق، نیویارک میں شیرپاؤ کی موت کی خبر سننے کے فوراً بعد بھٹو نے صحافیوں سے کہا: ’بدقسمتی سے دہشت گردی سیاسی سرگرمی کا انداز بن چکی ہے اور افغانستان کا اس میں ہاتھ ہے۔‘

حکومتِ پاکستان نے 10 فروری کو اعلان کیا کہ نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور پارٹی کی جائیداد اور فنڈز ضبط کر لیے گئے ہیں۔ نیپ کے بیشتر قومی اور صوبائی رہنما 9 فروری کی رات دفاعِ پاکستان کے قوانین کے تحت گرفتار کر لیے گئے۔

’پاکستان اِن1975: دی ہائڈرا آف اپوزیشن‘ میں رچرڈ ایس وہیلر لکھتے ہیں کہ 1970 کے انتخابات میں بلوچستان اور سرحدمیں پیپلز پارٹی کو تقریباً کوئی حمایت نہ ملی تھی ، جہاں نیپمضبوط تھی۔ 1972 میں دونوں صوبوں میں نیپ، جمعیت علمائے اسلام اور آزاد ارکان پر مشتمل مخلوط حکومتیں بنیں، مگر فروری 1973 میں انھیں برطرف کر دیا گیا۔‘

’مرکزی حکومت کے تابع حکومتیں قائم کرنے کی کوشش بلوچستان میں مسلح مزاحمت اور بغاوت میں بدل گئی، جبکہ سرحد میں بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا، جنہیں اپوزیشن نے اشتعال انگیز عناصر کی کارروائیاں قرار دیا۔ حکومت 1974 تکنیپ کے ملوث ہونے کا واضح ثبوت پیش نہ کر سکی۔‘

جمعہ خان صوفی لکھتے ہیں کہ ’جب شیرپاؤ قتل کیخبر نشر ہوئی توافغان صدر سردار داؤد نے فوری طور پر اجمل خٹک سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ یہ کام آپ لوگوں نے کیا ہے؟‘

’اجمل خٹک نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بالکل مکر گئے۔‘

حیات شیرپاؤ نے 1971میں صوبہسرحد کی گورنری سنبھالی تھی اور صوبائی اسمبلی کی بحالی کی نگرانی کی۔

امریکی سی آئی اے کی 19 فروری 1975 کی ڈی کلاسیفائیڈ (غیرخفیہ کی گئی) رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے حیات محمد خان شیرپاؤ کے قتل کا الزام افغانستان اور افغان حمایت یافتہ نیشنل عوامی پارٹی پر عائد کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’کابل نیشنل عوامی پارٹی کے بعض ارکان کو پناہ دیتا تھا مگر یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ افغان حکومت پاکستانی تخریب کاروں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہی تھی۔‘

17 فروری 1975 کو صوبہ سرحد میں براہِ راست مرکزی حکومت نافذ کر دی گئی۔

گورنر راج نافذ کرتے ہوئے وفاقی حکومتکے جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا گیا کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت کیا گیا کیونکہ ’ایک ہمسایہ غیر ملکی طاقت صوبے میں معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے میں سرگرم ہے اور یہ صورت حال صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو چکی ہے۔‘

تھانے میں پڑا سر، ادھ جلا شناختی کارڈ اور گرل فرینڈ کو کال: جب مشرف پر حملے میں ملوث شخص فضائیہ کی وردی میں فرار ہو گیاجب پاکستان کو تخریبی کارروائی میں مطلوب ملزم نے صدام حسین کے خلاف فوجی بغاوت کینظریہ پاکستان کی مخالفت کا الزام: حیدرآباد سازش کیس کی حقیقت کیا تھی؟پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو کس نے قتل کروایا؟

20 فروری کو کابل، افغانستان، سے ایک ڈی کلاسیفائیڈ (غیرخفیہ کیے گئے) مراسلےمیں امریکی سفارت خانے نے لکھا کہ ایک شخص جس نے خود کو جلاوطن نیشنل عوامی پارٹی کا رہنما اجمل خٹک ظاہر کیا، 19 فروری کو سفارت خانے آیا اور شیرپاؤ کے قتل میں کسی بھی قسم کے کردار کی سختی سے تردید کی اور عدم تشدد سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔

’اجمل خٹک نے بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی پر فریب کاری اور سیاسی جرائم کی ایک طویل تاریخ کا الزام لگایا، اور خاص طور پر وزیر داخلہ عبدالقیوم خان پر شدید تنقید کی، یہاں تک کہ وہ انھیں شیرپاؤ کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ٹھہراتے رہ گئے۔‘

دو اپریل کوصوبہ سرحد کی حکومت نے اعلان کیا کہ حیات محمد خان شیرپاؤ کے قتل میں ملوث بیشتر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پاکستان ٹائمز نے ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ کی بنیاد پر خبر شائع کی کہ ’شیرپاؤ کو ایک ایسے گروہ نے قتل کیا جو ایک سابق پیپلز پارٹی رہنما ،نثار محمد خان، ولی خان کےبیٹے، اسفندیار ولی اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تین ارکان ،میاں احمد فاروق، انور بادشاہ اور امجد علی پر مشتمل تھا۔‘

خبر کے مطابق ’اس گروہ نے تین ماہ سے زائد عرصے تک سازش کی اور بالآخر 8 فروری کو ایک مہلک بم دھماکے کے ذریعے اپنے منصوبے میں کامیاب ہوا۔ نثار محمد خان پر الزام ہے کہ انھوں نے شیرپاؤ سے سیاسی اختلافات کی بنیاد پر اس سازش کی منصوبہ بندی کی، جبکہ انور بادشاہ اور امجد علی پر الزام ہے کہ انھوں نے وہ ٹیپ ریکارڈر رکھا جس میں بم نصب تھا۔‘

سرکاری بیان کے مطابق اس گروہ نے 7 فروری کو بھی اسی نوعیت کی ایک طلبہ یونین کے عہدے داروں کی تقریبِ حلف برداری کے موقع پر قتل کا منصوبہ بنایا تھا، مگر جب انھوں نے سٹیج پر شیرپاؤ کے ساتھ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر (افراسیاب خٹک) کو بھی بیٹھے دیکھا تو اس منصوبے سے باز آ گئے۔

’نثار، اسفندیار اور احمد فاروق کو گرفتار کر کے ان سے اعترافی بیانات حاصل کر لیے گئے ہیں، جبکہ انور بادشاہ اور امجد علی ایک ہمسایہ ملک فرار ہو گئے ہیں۔‘

31 جولائی کو پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہنواز خان کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹربیونل نے نثار محمد خان، اسفندیار ولی اور احمد فاروق کودھماکا مواد ایکٹ کے تحت 10 سال سخت قید کی سزا دی گئی، جبکہ اسفندیار ولی اور احمد فاروق کو پاکستان کے دفاع کے قوانین کی شق 43 کے تحت 7 سال اضافی قید بھیسنائی گئی۔

BBCجمعہ خان نے اپنی یادداشتیں ’فریبِ ناتمام‘ (پشتو میں ’درمسال خٹی‘) کے نام سے قلم بند کیں

30 اکتوبر 1975 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیپ پر پابندی کو جائز قرار دیا۔اس کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر جسٹس اسلم ریاض کی سربراہی میں ایک 4 رکنی ٹریبونل تشکیل دیا گیا۔ اس ٹریبونل کیکارروائی کے لیے سندھ کا شہر حیدرآباد منتخب کیا گیا۔

حیدرآباد سازش کیس میں 54 ملزمان نامزد تھے جن میں نیپ کی پوری سینٹرل کمیٹی شامل تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے نیپ کے پشاور کنونشن میں جو قرارداد پاس کی تھی وہ بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔

حیدرآباد ٹربیونل میں مقدمے کا آغاز 10 مئی 1976 کو ہوا اور استغاثہ نے 455 گواہوں کی فہرست پیش کی، مگر 18 ماہ میں صرف 22 گواہ پیش کیے گئے۔ ولی خان نے اس سست روی پر مقدمے کا بائیکاٹ کیا اور طنزیہ خط لکھا کہ ’اس رفتار سے فیصلہ آنے میں 50 سال لگیں گے، لہٰذا سب کے لیے آبِ حیات کا بندوبست کیا جائے۔‘

پانچ جولائی 1977 کے مارشل لا کے بعد جنرل ضیاء الحق نے حیدرآباد جیل کا دورہ کیا اور ولی خان و دیگر بلوچ رہنماؤں سے ملاقات کی۔ جلد ہی 15 رہنماؤں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ سردار عطا اللہ مینگل کو علاج کے لیے امریکا بھیجا گیا اور ولی خان کو سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کیا گیا۔

یکم جنوری 1978 کو جنرل ضیاء الحق نے ٹربیونل ختم کر دیا اور عام معافی کے تحت تمام قیدی رہا کر دیے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد قومی اتحاد، مکالمے اور ماضی کی تلخیوں کو بھلانا تھا۔

یہ سب ہوا لیکن حیات شیر پاؤ کا قتلپراسرار ہی رہا۔

خود بھٹو پر بھی اس کا الزام لگا۔

اپنی کتا ب ’اے جرنی ٹو ڈِس الیونمنٹ‘ میں شیر باز خان مزاریلکھتے ہیں کہ ’ایک نظریہ جسے آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا تھا یہ تھا کہ یہ قتل خود شیرپاؤ کے اپنے قائد، ذوالفقار علی بھٹو کی براہِ راست ہدایت پر کیا گیا۔‘

بھٹو کے ساتھی اور وزیر رفیع رضا اپنی کتاب ’ذوالفقارعلی بھٹو اینڈ پاکستان، 1967–1977‘ میں لکھتے ہیں کہ ’شیر پاؤ کی موت میرے لیے ذاتی صدمہ تھی، کیونکہ وہ میرے نہایت قریبی اور عزیز دوست اور ساتھی تھے۔‘

'میں نے ان کی شہادت سے پہلے کے دو دن ان کے گھر پشاور میں گزارے تھے، اور قتل کی رات انھیں اسلام آباد میں میرے ساتھ کھانا کھانا تھا۔ وزیر اعظم نے مجھے صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے پشاور بھیجا تھا، کیونکہ وہ درست طور پر کام نہیں کر رہی تھی۔ انھیں میری اور شیرپاؤ کی دوستی کا علم تھا، اور انھوں نے مجھے ایک خفیہ نوٹ دیا تھا جس میں لکھا تھا کہ خود شیرپاؤ صوبے میں بم دھماکے کروا رہے ہیں۔‘

’جب میں نے اس معاملے پر شیرپاؤ سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ انھیں ان رپورٹس کا علم ہے۔‘

رفیع رضا نےلکھا کہ چند دن بعد شیرپاؤ کی موت نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ میری پہلی اور آخری شدید تلخ کلامی کو جنم دیا۔ ’میں نے کہا: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ مجھ پر کیا گزری ہوگی، جب آپ نے مجھے ایک دن پہلے یہ کہنے کو کہا کہ وہ بم دھماکوں میں ملوث ہے، اور اگلے ہی دن وہ خود ایک دھماکے میں مارا گیا۔‘

ادھر اقتدارسے معزولی کے بعد بھٹو پر نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ چلا، ہائی کورٹ سے سزائے موت کے بعد 18 دسمبر 1978 کو جب وہ سپریم کورٹکے سامنے پیش ہوئے تو مسلسل چار دن تک عدالت سے خطاب کرتے رہے۔

اپنے بیان میں انھوں نے اس بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ ’شیرپاؤ میرے لیے بیٹے کی مانند تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ شیرپاؤ کے قتل میں میرا ہاتھ ہے۔ آفتاب (شیرپاؤ) ایک با اصول شخص ہیں۔ اگر ان کے بھائی کو ذوالفقار علی بھٹو نے قتل کروایا ہوتا تو آفتاب شیرپاؤ نہ پاکستان پیپلز پارٹی میں رہتے اور نہ ہی اس سے تعاون کرتے۔ شیرپاؤ ان کے بھائی تھے۔ ملک کے لیے مارے گئے۔ وہ میری پارٹی کے رکن تھے۔‘

’مجھ پر کتنے قاتلانہ حملے کیے گئے؟ کیا میں نے وہ بھی خود کروائے تھے؟‘

تھانے میں پڑا سر، ادھ جلا شناختی کارڈ اور گرل فرینڈ کو کال: جب مشرف پر حملے میں ملوث شخص فضائیہ کی وردی میں فرار ہو گیاجب پاکستان کو تخریبی کارروائی میں مطلوب ملزم نے صدام حسین کے خلاف فوجی بغاوت کینظریہ پاکستان کی مخالفت کا الزام: حیدرآباد سازش کیس کی حقیقت کیا تھی؟جوگرز جن کے ذریعے بےنظیر بھٹو پر خودکش حملہ کرنے والے کا پتا چلاپاکستان کے پہلے وزیراعظم کو کس نے قتل کروایا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More